Baaghi TV

Tag: سعودی وزیرخارجہ

  • آرمی چیف سے سعودی وزیرخارجہ کی ملاقات

    آرمی چیف سے سعودی وزیرخارجہ کی ملاقات

    اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑہانے کے لئے پالیسیوں پر بات کی گئی، معزز مہمان نے دونوں اقوام کے تعلقات کی تزویراتی نوعیت پر زور دیا،ملاقات میں سعودی وزیرخارجہ کے وفد کے اراکین بھی شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے جاری دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بہت سے شعبوں میں تعاون کو سراہا ، جبکہ آرمی چیف نے بھی پاکستان اورسعودی عرب کے مثالی تعلقات کوسراہا،آرمی چیف کی سعودی وفدکوہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی جبکہ آ رمی چیف کی دونوں ملکوں کےعوام میں بھائی چارے کی تعریف بھی کی ۔

  • ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    میونخ: سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے 4 ادوار میں ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود مذاکرات جاری رکھیں گے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کےمطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2016 سےتعلقات منقطع ہیں دونوں ملکوں نے تعلقات کی بحالی کے لیے گذشتہ سال عراق کی میزبانی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا میونخ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے چار ادوار میں ناکامی کے باوجود پانچویں دور میں شریک ہوں گے۔

    تاہم سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ بحال ہوا تو اس اقدام کو علاقائی خدشات دور کرنےکے لیے یہ’’نقطہ آغاز ہونا چاہیے نہ کہ اختتامی نقطہ‘‘ الریاض ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے حتمی طور معاملات طے پانے کے لیے ایران کو ہمسایہ ممالک بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ خواہش کا اظہار کرنا ہوگا انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک نیاطریقہ کار تلاش کرلیا جائے گا۔

    اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے شکوہ کیا کہ اب تک ایران کی جانب سے ان نکات پر ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ جو دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران حوثیوں کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے پرزوں کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیار بھی مہیا کرتارہا ہے جبکہ ایران اور حوثی گروپ دونوں اس الزام کی تردید کرتے ہیں انھوں نے یمن میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں تعطل کا شکار امن کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس تنازع کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے لیکن اس کے باوجود ہم پرعزم ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی دھماکہ خیز مواد سےبھری کشتی تباہ کردی

    میونخ میں کانفرنس سےا یران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بھی خطاب کیا، انھوں نے بھی اس خواہش کا اعادہ کیا کہ ایران جتنا ممکن ہو اتنی جلدی ایک اچھے معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم ایسا تب ہی ممکن ہے جب دوسرا فریق بھی سیاسی فیصلہ کرے ۔

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا امریکا فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے۔

    قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی سربراہی کرنے والے رابرٹ مالے نے ایران سے 4 امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جسے ایران نے امریکا میں قید اپنے شہریوں سے مشروط کیا تھا۔

    قبل ازیں جرمن چانسلر اولف شولز نے بھی اس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے حکمرانوں کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ابھی خود پر پابندیاں ہٹانے کے لیے ایران کے پاس کچھ وقت بچا ہے تاہم جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسئلہ فلسطین: اسرائیل کا اقوام متحدہ سے تعاون نہ کرنے کا اعلان

    خیال رہے سعودی عرب شیعہ ایران کی یمن کی جنگ اورلبنان کے علاوہ خطے بھر میں مداخلت پر نالاں ہے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت نے بیروت کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کونقصان پہنچایا ہے اور سعودی عرب کے علاوہ یواے ای کے بھی لبنان کے ساھ تعلقات سردمہری کاشکار ہیں ۔

    رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے صدرابراہیم رئیسی نے کہا تھا کہ اگرالریاض باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے ماحول میں مذاکرات کے انعقاد پر آمادہ ہے تو تہران مزید بات چیت کوتیار ہے۔

    واضح رہے کہ 2019ء میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔سعودی عرب نے ایران پراس حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ تہران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ یمن بحران پر اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے جہاں سعودی عرب سمیت عرب اتحاد ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف لڑ رہا ہے۔

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط

  • سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف  سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا

    سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا

    راولپنڈی:سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کو بڑھتے سلامتی اور انسانی بحران سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

     

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس کے غیر معمولی اجلاس بلانے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا

     

    آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کو بڑھتے ہوئے سلامتی اور انسانی بحران سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان سعودی عرب کیساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، مملکت کا اسلامی دنیا میں اہم مقام ہے۔

     

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل جنوبی ایشیا میں استحکام کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

     

    ملاقات کے دوران سعودی وفد نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کوششوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

  • بھارت کو کشمیر یوں پر مظالم سے روکیں ، شاہ محمود قریشی کا سعودی وزیرخارجہ کو فون

    بھارت کو کشمیر یوں پر مظالم سے روکیں ، شاہ محمود قریشی کا سعودی وزیرخارجہ کو فون

    اسلام آباد ۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حقوق کے لیے مسلم ممالک سے رابطے تیز کردیئے ، شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب سے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو روکنے کے حوالے سے بات چیت کی ، سعودی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں گھمبیر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطہ میں قیام امن کیلئے روابط کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق یہ اتفاق رائے جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور ان کے سعودی ہم منصب ڈاکٹر ابراہیم بن عبدالعزیز العساف کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران پایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزراءخارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان نے 5 اگست کو غیر قانونی یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے اور جبراً مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے درپے ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیرخارجہ کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 25 روز سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو عید اور نماز جمعہ کی ادائیگی تک نہیں کرنے دی گئی اور مساجد کو مقفل کر دیا گیا۔

    پاکستانی وزیرخارجہ نے بتایا کہ بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے یکسر منافی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو بھارتی بربریت سے بچانے کےلئے عالمی برادری کو اپنا مو¿ثر کردار ادا کرنا ہو گا۔

    دفتر خارجہ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو اس سلسلہ میں مختلف ممالک کے وزراءخارجہ سے ہونے والے حالیہ روابط اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، صدر سیکورٹی کونسل اور سیکرٹری جنرل او آئی سی کو لکھے گئے خطوط کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

    سعودی وزیر خارجہ نے اس گھمبیر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطہ میں قیام امن کیلئے روابط کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔