سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات 2 ماہ میں بحال ہو جائیں گے۔
باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ کہ سفارتی تعلقات کی بحالی کا سعودیہ اور ایران معاہدہ مفاہمت کی دونوں ممالک کی مشترکہ خواہشات کی تصدیق کرتا ہے دونوں ممالک رابطے اور بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنےکے خواہاں ہیں-
تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے مابین دوسرے تمام اختلافات ختم ہو گئےہیں ایران کی جوہری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث ہے، خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سےپاک کرنےکے مطالبے کو دہراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ذمے داریوں کو پورا کرے، ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کےساتھ تعاون بڑھائےچین کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مثبت تعلقات ہیں چین کی ثالثی میں معاہدہ، مشترکہ سلامتی، تعلقات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا-
واضح رہے کہ ریاض اور تہران نے گذشتہ جمعہ کو بیجنگ میں 2016ء سے منقطع تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور دو ماہ کے اندر دونوں سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔
سعودی وزیر نے کہا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے جلد ملاقات کے منتظر ہیں ہم اگلے دو ماہ کے دوران باہمی سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور مستقبل میں سفیروں کا تبادلہ ہمارے لیے معمول کی بات ہے۔
کیف اور ماسکو کے اپنے حالیہ دورے اور یوکرین روس جنگ کو روکنے کے لیےسعودی ثالثی کے بارے میں گفتگو کے بارے میں شہزادہ فیصل نے تصدیق کی کہ سعودی عرب ایک سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
سعودی عرب یوکرین جنگ روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کشیدگی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا جس نے دونوں ممالک اور یورپ کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔