Baaghi TV

Tag: سعودی ولی عہد

  • وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنے وفد کے ارکان کا تعارف کرایا وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ولی عہد سے اپنے وفد کے ارکان کا تعارف کرایا۔


    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیردفاع خواجہ آصف ،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیراطلاعات مریم اورنگزیب ملاقات میں موجود تھے-


    ذرائع کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا اس کے علاوہ اقتصادی وتجارتی روابط بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی بات چیت ایجنڈے میں شامل تھے۔


    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    سعودی ولی عہد کا وزیراعظم کو فون ،دورہ سعودی کی دعوت دے دی

    وزیراعظم شہبازشریف کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فون کیا ہے

    محمد بن سلمان نے شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے مبارکباد پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا ہے

    وزیر اعظم شہباز شریف نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ان کی دور اندیش قیادت میں مملکت کی نمایاں ترقی کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی رشتوں کو یاد کرتے ہوئے جو گزشتہ سات دہائیوں سے ان کے اسٹریٹجک تعلقات کی علامت رہے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دوطرفہ اور بین الاقوامی فورمز پر تاریخی اور مسلسل حمایت اور تعاون پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا جبکہ ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان ہر وقت مملکت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ سعودی ولی عہد نے وزیراعظم شہباز شریف کو جلد از جلد مملکت کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔ ولی عہد کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    استعفوں کے بعد اگلا لائحہ عمل، شیخ رشید نے بڑا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

    قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں،ڈپٹی سپیکر

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی توہین،قوم غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے،عمران خان

    جمعیت علما اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے کیا سعودی قیادت کا شکریہ ادا

  • سعودی عرب اور برطانیہ میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کا سمجھوتہ

    سعودی عرب اور برطانیہ میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کا سمجھوتہ

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جانسن نے یوکرین میں جاری جنگ سمیت تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے الریاض میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اوراسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پردستخط کیے ۔

    سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد اور جانسن نے یوکرین میں جاری جنگ سمیت تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پرگفتگو کی ۔

    ملاقات میں سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان،برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندربن سلطان سمیت سعودی حکام اور برطانیہ کے الریاض میں سفیر نیل کرمپٹن سمیت برطانوی حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کو سرکاری دورے پر الریاض پہنچے تو ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الریاض ریجن کے ڈپٹی گورنرشہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن اور مملکت میں برطانیہ کے سفیر نیل کرمپٹن اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔


    قبل ازیں بورس جانسن نے ابوظبی میں یو اے ای کے حقیقی حکمران شیخ محمد بن زاید سے یوکرین جنگ کے تناظر میں توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام پرتبادلہ خیال کیا تھا۔ان کے دورے کا مقصد یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی تیل اور گیس کی برآمدات پرامریکا اور یورپ کی پابندیوں کے نفاذ کےبعد تیل کے عرب برآمد کنندگان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔

  • سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان متوقع لیکن کب؟

    سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان متوقع لیکن کب؟

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان متوقع طور پر مارچ میں پاکستان کے دورے پر پہنچیں گے،ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح وفد بھی پاکستان آئے گا۔

    باغی ٹی وی : ایکسپریس ٹربیون نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہزادہ محمد اپنے دورے کے دوران یوم پاکستان پر ہونے والی پریڈ کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔وہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے-

    رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد متوقع طور پر 22مارچ کو پاکستان پہنچیں گے اور اگلے روز 23مارچ کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔پریڈ میں سعودی افواج کا ایک دستہ بھی خصوصی شرکت کرے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد کے دورے کے حوالے سے دونوں ممالک کے حکام باہم رابطے میں ہیں۔

    واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا گزشتہ 3سال میں یہ دوسرا دورہ پاکستان ہو گا 22مارچ کو پاکستان اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کرنے جا رہا ہے ان وزرائے خارجہ کو بھی پاکستان ڈے پریڈ میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

    آخری بار اس نے پاکستان کا سفر فروری 2019 میں ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں پلوامہ حملے کے چند دن بعد کیا تھا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اگست 2018 میں حکومت بنانے کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مالیاتی بیل آؤٹ پیکج میں توسیع کی تھی تاکہ اس کی مدد کے لیے زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

    لیکن چند ماہ بعد، ستمبر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم عمران کے ترک صدر اور ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ساتھ شامل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک غیر معمولی رکاوٹ آ گئی۔

    تاہم جو چیز تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بنی وہ وزیراعظم کا کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ تھا۔ سعودی نے اس وقت کے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے اس اقدام کو ریاض کی زیر قیادت اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متوازی اسلامی بلاک کے قیام کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ پاکستان بالآخر سربراہی اجلاس سے دستبردار ہو گیا لیکن نقصان پہلے ہی ہو چکا تھا۔

    ایک موقع پر تعلقات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ پاکستان کو وقت سے پہلے سعودی قرض واپس کرنا پڑا جو کہ پاک سعودی تعلقات میں ایک نادر مثال ہے۔ ریاض نے ماضی میں پاکستان کی مالی مدد کی تھی لیکن اسلام آباد سے کبھی بھی رقم واپس کرنے کے لیے نہیں کہا کیونکہ اس نے یا تو سہولت فراہم کی یا اسے گرانٹ میں تبدیل کر دیا۔

    لیکن صدر جو بائیڈن کی جیت نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایک بار پھر اکٹھا کیا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس نئے امریکی صدر نے سعودی ولی عہد سے دوری برقرار رکھی۔ اس نے یمن میں جنگ کے لیے بازو کی حمایت بھی واپس لے لی۔ بائیڈن نے ابھی تک سعودی ولی عہد یا وزیر اعظم عمران سے بات نہیں کی۔

    دونوں ممالک کے درمیان برف بالآخر اس وقت پگھل گئی جب گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس دورے کے نتیجے میں 4.2 بلین ڈالر کا ایک اور سعودی بیل آؤٹ پیکج، 3 بلین ڈالر کی نقد امداد جبکہ باقی تیل کی سہولت موخر ادائیگی پر تھی۔

    پاکستان اور سعودی عرب نے اسلام آباد میں افغانستان پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کے انعقاد کے لیے بھی تعاون کیا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں سنگین انسانی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کے عوام کی مدد کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کے بینر تلے ٹرسٹ فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔

    پاکستان 22 مارچ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی باقاعدہ کانفرنس کی میزبانی بھی کرنے والا ہے۔ توقع ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کو بھی یوم پاکستان کی پریڈ دیکھنے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کابینہ ارکان سمیت اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ 23 فروری سے روس کا 2 روزہ دورہ کریں گے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان 23 فروری کو 2 روزہ دورہ پر روس جائیں گے عمران خان 23 فروری کی شام کو ماسکو پہنچیں گے روس کے نائب وزیر خارجہ وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کریں گے ، ماسکو آمد پر انہیں گارڈ آف آنر دیا جائے گا –

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات کریں گے دو طرفہ کانفرنس اس دورے کے اہم نکات میں سے ہے، پاکستان اور روس کے درمیان باہمی وقار اور اعتماد پر مبنی دو طرفہ تعلقات موجود ہیں دو طرفہ سمٹ میں دونوں ملکوں کے رہنما افغانستان کی صورت حال، اسلاموفوبیا سمیت باہمی اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے وزیر اعظم کے دورہ روس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مذید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن کے دورہ مسقط کے موقع پر سعودی عرب اور عمان کے درمیان متعدد شعبوں میں 13 معاہدے طے پائے ہیں جن کی لاگت 10 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : دورہ مسقط کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں مسقط میں شاہی محل میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پرسعودی عرب کا شاہی ترانہ بجایا گیا اورمعزز مہمان کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی سعودی ولی عہد سوموارکی شام عمانی دارالحکومت مسقط پہنچے تھے جہاں سلطان ہیثم بن طارق نے ان کا خیرمقدم کیا انھوں نے مسقط میں سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    سعودی عرب کی کمپنیوں نے عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی اور عمان کے نجی شعبے کی ملکیت میں متعدد کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پرکام کے لیے مفاہمت کی تیرہ یادداشتوں پر دست خط کیے تھے۔

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    عرب نیوز نے عمان کے سرکاری ٹی وی چینل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدے مکمل طور پر سلطنت عمان کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے کمپنیوں کے ساتھ طے پائے ہیں عمان میں عالمی توانائی کی کمپنی ’او کیو گروپ‘ نے تین معاہدوں پر دستخط کیے ہیں وہ دونوں ممالک کے درمیان بحیرہ عرب پر فری زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ان میں سے ایک معاہدہ سعودی عرب کی پیٹرو کیمیکل، قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کے شعبے سے منسلک کمپنی ’اے سی ڈبلیو اے پاور‘ کے ساتھ طے پایا ہے تیل کے ذخیرے سے متعلق دوسرا معاہدہ سعودی آرامکو کے ساتھ ہوا ہے جبکہ تیسرا معاہدہ عمان کے دقم پیٹرو کیمیکل کمپلکس منصوبے کی ترقی کے لیے سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن (سابک) کے ساتھ طے پایا ہے۔

    عمان کے یتی ساحل کی ترقی کے لیے عمران گروپ نے سعودی دارالارکان ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کمپنی کے ساتھ یادداشت پر دستخط کیے ہیں فشریز کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے عمان محکمہ فشریز اور سعودی عرب کے نیشنل ایکواکلچر گروپ نقوا کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے۔

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    سٹاک ایکسچینچ کے شعبے میں تعاون کے لیے سعودی تداول گروپ اور مسقط سکیوریٹیز مارکیٹ کے درمیان تعاون کے لیے یادداشت پر دستخط کیے ہیں عمان کے لاجسٹک گروپ ’اسیاد‘ نے سعودی ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹک کمپنی ’البحری‘ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ کان کنی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے منرلز ڈیویلپمنٹ عمان اور سعودی معادن فاسفیٹ کپمنی کے درمیان بھی معاہدہ طے پایا ہے۔

    عمان نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی نیشنل کمپنیز انٹرپرنیورشپ پروگرام کے سربراہ بدر البدر نے کہا ہے کہ ان معاہدوں کی سرمایہ کاری کی کُل لاگت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

    جبکہ سعودی عرب اورعمان نے منگل کے روز دونوں خلیجی ہمسایوں کے درمیان پہلی براہ راست زمینی گذرگاہ بھی کھول دی ہےدونوں ملکوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اورایک بیان میں کہا ہے کہ 725 کلومیٹرطویل عمانی، سعودی شاہراہ کا افتتاح دونوں ممالک کے شہریوں کی ہموار نقل و حرکت اور سپلائی چین کو مربوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

    متحدہ عرب امارات میں دفتری اوقات کار میں کمی ، ہفتہ اور اتوار کو باضابطہ ویک اینڈ مان لیا

    سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ مملکت کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ(پی آئی ایف) عمان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اس ضمن میں سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پرمختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے سمجھوتے طے پائے ہیں۔

    العربیہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں اوپیک + کی کوششوں کی تعریف کی گئی جو تیل کی منڈیوں میں استحکام اور توازن کا باعث بنی۔ مملکت 2030 اور عمان کے وژن 2040 کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔

    سعودی وزیر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس انجینیر صالح الجاسر نے العربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ زمینی سڑک صحرا ربع الخالی سے گذرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کے لیے ایک نئی سہولت ملےگی۔ ۔یہ سفری نقل و حرکت کو بھی آسان بنانے میں مددے گی اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسافت کو 800 کلومیٹر تک کم کردے گی۔

    بیجنگ ونٹر اولمپکس 2022،امریکہ کا سفارتی بائیکاٹ کا اعلان

    الجاسر نے کہا کہ زمینی راستے کا مملکت اور سلطنت عمان کے درمیان علاقائی تجارتی نقل و حرکت پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک اور عرب دنیا کے ساتھ مشترکہ ورکنگ ریلیشن شپ کو بڑھانے کے لیے مملکت کی قیادت کی خواہش کا اعادہ کیا سعودی عرب اور عمان کے درمیان سڑک ان علاقوں میں ترقی کرے گی جن سے یہ گذرے گی۔ افراد اور سپلائی چین میں بھی مدد دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حرکت اور شراکت داری میں اضافہ کرے گی۔

    عمانی سرمایہ کاروں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سلطنت عمان کے دورے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

    اس سے قبل پچھلے دو مہینوں میں سعودی عرب نے یو اے ای میں غیر ملکی کمپنیوں کو پیشکش کی وہ بغیر کسی تیسرے فریق کے سعودی عرب میں علاقائی مرکز اور شاخیں کھولیں سعودی عرب کی جانب سے مقرر کردہ مدت ختم ہونے سے قبل بڑی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے مراکز کھولنے کے لیے پہنچ گئی ہیں، جو کہ سعودی عرب کے اندر اپنی مصنوعات درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اشیا اور ان کی کھپت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

    بڑی کمپنی نے 900 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا

    کیا جلد ہی ایک دن آئے گا کہ البطح کسٹمز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرحد بن جائے گی؟بڑی کمپنیوں نے امارات سے سعودی عرب کی جانب رخ کر لیا ہے سعودی عرب متحدہ عرب امارات کو اوپیک میں ایک بڑے تنازع سے لے کر اماراتی پروازوں پر پابندی لگانے کے لیے امارات پر نئے تجارتی محصولات تک اتار رہا ہے۔

    سعودی اماراتی ہوابازی کا شعبہ امارات کا مصروف ترین شعبہ تھا جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت حجم کے لحاظ سے سعودی چینی تجارت کے بعد دوسرے نمبر پر ہےسعودی عرب اب ٹرانزٹ ہب کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک اور بڑی قومی ایئر لائن شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور اس طرح دبئی، ابوظہبی اور قطر کو چیلنج کر رہا ہے۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب نے خواتین کو سفر کرنے اور گاڑی چلانے کی اجازت دے دی، سینما گھر وغیرہ کھول دیے گئے، سعودیوں کو مستقبل میں یو اے ای جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    سعودی عرب کا پاکستانی عمرہ زائرین کے لئے بڑا اعلان

    سعودی عرب نے ایک قانون بھی پاس کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بڑی عالمی کمپنی جیسے بوئنگ، گولڈمین سیکس، مائیکروسافٹ یا کوئی اور جو سعودی عرب کی طرف سے خرچ کیے گئے کھربوں سے کاروبار کرنا چاہتی ہے، اس کا علاقائی ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی کمپنی نہیں ہوگی۔ سب سے بڑی 5,000 کمپنیوں کو انٹرنیشنل سے نوازا گیا۔

    سعودی عرب میں درجنوں پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں، لیکن اس ہفتے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی اس لڑائی سے، بہت سے لوگ صرف دبئی کو بند کرنے میں خوش ہوں گے (زیادہ لاگت اور بہت کم کاروبار کی وجہ سے) اور مکمل طور پر سعودی عرب منتقل ہو جائیں گے امارات کو پہنچنے والا نقصان وحشیانہ ہوگا۔

    متحدہ عرب امارات کے پاس کاروبار، کوویڈ یا ان سعودی مسائل سے ضائع ہونے والی آمدنی حاصل کرنے کے لیے گولڈن ویزا رکھنے والوں سمیت تمام رہائشیوں پر انکم ٹیکس عائد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

    جیسا کہ گولڈن ویزا ہولڈرز نے متحدہ عرب امارات سے اپنی محبت کا اعلان کیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکس قانون میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ اس محبت کا اظہار کیا جائے۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں