Baaghi TV

Tag: سعید غنی

  • ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،سعید غنی

    ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دنیا بھر کو درپیش ہے، ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے-

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی،نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہونے والے دوسرے پاکستان انٹرنیشنل کجھور فیسٹول سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کیا اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کی،تقریب سے سی سی او ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی محمد فیض احمد، قونصل جنرل یو اے ای ڈاکٹر بخیت العتیق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ کجھور فیسٹول کا افتتاح کرنا میرے لیے باعث افتخار ہے، کجھور فیسٹول ہمارے خلیجی ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کا ثبوت بھی ہے،سندھ کے کئی علاقوں میں بہترین کجھور پیدا کی جاتی ہے اور ہمارے یہاں کجھور سے بے شمار چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ کجھور کی صعنت کو کئی مسائل کا سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، حکومت نے کجھور سے دیگر مصنوعات کے ریسرچ سینٹر بنائے ہیں کجھور فیسٹول کا مقصد دیگر ممالک میں کجھور کی ایکسپورٹ کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، عطا اللہ تارڑ

    سعید غنی نے کہا کہ میں متحدہ عرب امارات حکومت، سفیر اور قونصل جنرل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس فیسٹیول کے انعقاد سے سندھ اور پاکستان بھر کے کسانوں کو رابطے بڑھانے کے موقع فراہم کئے ہیں، جس سے پاکستان کے نہ صرف کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بھی بڑھیں گے، سندھ حکومت اس ایکسپو کی معاونت کیلئے موجود ہے۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دنیا بھر کو درپیش ہے مختلف بین الاقوامی ریسرچرز یہاں آئے ہوئے ہیں بین الاقوامی ماہرین سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے طریقہ ہائے کار سیکھیں گےپوری دنیا نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے اقوامِ متحدہ نے بھی اس کی مذمت کی ہے آج اسرائیل پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے اب تمام مسلمان ممالک ممکنہ طور پر کوئی پالیسی مرتب کریں گے۔

    جرمنی:اسلام مخالف ریلی میں چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو عمر قید کی سزا

  • 1991ء کا معاہدہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہے،سعید غنی

    1991ء کا معاہدہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہے،سعید غنی

    کراچی: وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ کا پانی کا جھگڑا آج کا نہیں 150 سال سے چل رہا ہے۔

    کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےسعید غنی نے کہا کہ 1991ء کا معاہدہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہے، پنجاب اور سندھ کا پانی کا جھگڑا آج کا نہیں 150 سال سے چل رہا ہے پھر بھی کہتے ہیں اس پر ہی عمل کر لو، پنجاب میں پانی کی کمی ہے، 12 لاکھ ایکڑ زمین کیسے آباد کریں گے،کراچی میں جیسی دہشت گردی ہوتی تھی ویسی شاید ہی کہیں ہوئی ہو گی، کراچی کا ماضی دہشت گردی سے متعلق بہت خوفناک ہے، کچھ سال پہلے شہر کے بدترین حالات تھے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوگوں کو شناخت کر کے مارا جاتا تھا، شہر میں جو دہشت گردی ہوئی وہ دنیا کے کم شہر ہوں گے جہاں ہوئی ہو گی، نفرتوں کی سیاست کے نقصانات آج تک بھگت رہے ہیں ہماری کامیابی یہ ہو گی کہ جب عہدے سے ہٹایا جائے تو ہم سے بہتر لوگ عہدے پر آئیں، ہمیں نظم و ضبط پیدا کرنا ہو گا۔

    چوہدری شجاعت حسین ایک بار پھر پارٹی صدر بن گئے

    سندھ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، مراد علی شاہ

    پی ایس ایل10: زلمی کا گلیڈی ایٹرز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

  • دریائے سندھ پر 6 نہریں نہیں بننے دیں گے،سعید غنی

    دریائے سندھ پر 6 نہریں نہیں بننے دیں گے،سعید غنی

    وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی نے واضح کر دیا ہے کہ دریائے سندھ پر 6 نہریں نہیں بننے دیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سعید غنی نے شاہراہِ بھٹو کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملیر ایکسپریس وے پر قائد آباد انٹرسیکشن اپریل تک مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کا کام دسمبر 2025ء تک مکمل ہو جائے گا، اس منصوبے کی لاگت 54 بلین ہے، اس کو اسی لاگت میں مکمل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے پاس احتجاج کے علاوہ بھی راستے ہوتے ہیں، نہروں کا معاملہ سندھ کا نہیں، پنجاب کے لوگوں کے لئے بھی مسئلہ ہے۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پنجاب میں بھی پانی کی قلت ہے، جو پانی انھیں چاہئے وہ میسر نہیں ہے، یہ کون سے پنجاب کا پانی نکالیں گے اور کہاں لے جائیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ فارمنگ الگ چیز ہے اور کینالز الگ ہیں، کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بنانے والے بھی ذہین لوگ ہوں گے، دریائے سندھ سے نہریں نکالنے سے زرعی زمینیں تباہ ہوں گی، پینے کے پانی کی بھی کمی ہو گی۔ وفاقی وزراء سندھ حکومت کے ساتھ مل کر معاملہ حل کریں، ہم نے کوشش کی کہ شہر کی جماعتوں سے رابطہ کریں، کسی منصوبے پر اتفاق نہیں تو اس کو نہ بنایا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال شہر میں ٹریفک کے مسائل پہلے سے کم ہیں، ڈالمیا والا واقعہ ٹارگٹڈ ہے، سندھ حکومت اور پولیس اس پر کام کر رہی ہے۔

    وزیرِ بلدیات نے کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کراچی پر کتنا پیسہ لگتا ہے، یہ سوال سندھ حکومت سے نہیں وفاق سے ہونا چاہئے، یہ نہیں کہتے کہ سارا پیسہ کراچی میں لگا دیں، مگر کچھ خیال کریں، کینالز کا منصوبہ پنجاب حکومت کا ہے اور آیا ایس آئی ایف سی سے ہے۔ گورنر کی پارٹی وفاق میں ہے وہ مہربانی کریں کہ وفاق کو کہیں کہ کراچی پر پیسہ لگائیں، وفاق کو کراچی بہت حصہ دیتا ہے اور مطالبہ سندھ حکومت سے ہو رہا ہے۔

    نیدرلینڈ میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کیخلاف ریلی،بلوچ علیحدگی پسندوں کی حقیقت عیاں

  • عوام کو اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے،سعید غنی

    عوام کو اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت عوام کو سستی اور اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت بعد ازاں نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم اور اسکیم 45 تیسر ٹائون میں جاری ترقیاتی کاموں کے دورے کے دوران کیا۔اس موقع پر ڈی جی ایم ڈی اے سعید جمانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر لئیق احمد، سیکرٹری ایم ڈی اے وقاص سومرو، سپریڈینٹ انجنئیر شیراز میرانی و دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو ایم ڈی اے کی سستے مکانات کی اسکیم ایم ڈی اے ہومز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور ایم ڈی اے کے تحت ناردن بائی پاس پر ایم ڈی اے ہومز کے تحت بنائے جانے والے 4 ہزار مکانات کی اسکیم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی نے ڈی جی ایم ڈی اے سعید جمانی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ہائوسنگ لئیق احمد کے ہمراہ لنک روڈ پر نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم اور ناردن بائی باس سیکٹر 6، اسکیم 45 تیسر ٹائون پر 4000 سستے گھروں کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

    صوبائی وزیر سعید غنی کو بتایا گیا کہ تیسر ٹائون میں 80 اور 120 گز جبکہ نیو ملیر ہائوسنگ اسکیم میں 100 اور 200 گز کے یونٹس قائم کئے جائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس سستے مکانات کی اسکیم ایم ڈی اے ہومز کے تحت 4 ہزار گھروں کو تعمیر کرکے 5 سالہ اقساط پر دئیے جائیں گے اور یہ اسکیم شہریوں کو سستی اور اچھی رہائش کی فراہمی کیلئے بنائی گئی ہے۔سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور پارٹی منشور کے تحت عوام کو سستی اور بہتر رہائش کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے اور جلد ہی ایم ڈی اے کے تحت ان دونوں اسکیموں میں 4000 رہائشی یونٹس کی اسکیموں کا آغاز کردیا جائے گا۔

    سعید غنی نے کہا کہ اس وقت کراچی سمیت سندھ بھر میں عوام کو سستی اور بہتر رہائش کی فراہمی اور سیلاب و بارشوں سے متاثرہ لاکھوں افراد کو مفت گھروں کی فراہمی جیسے منصوبے جاری ہیں اور ہماری موجودہ حکومت شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور اب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت روٹی، کپڑا اور مکان کے منثور پر دن رات عمل پیرا ہے۔

    حاملہ خاتون کو بہنوئی نے زیادتی کے بعد قتل کردیا

    کراچی،شادی ودیگر تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد

    ایرانی گورنر کا لاہور میں بڑا اعلان

    لاہور، شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم 11 بند

    کراچی ، لوٹ مارکی وارداتوں میں ملوث ڈاکووں کا 5 رکنی گینگ گرفتار

  • کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے فور پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی میں معزز رکن کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا سعید غنی نے کہا کہ معزز ممبر کے حلقہ انتخاب شاہ فیصل کالونی چونکہ ٹیل پر ہے اس لئے وہاں پانی کی فراہمی دیگر علاقوں کی نسبت کم اور دیر سے ہوتی ہے البتہ ان کو دو ذرائع سے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے اور اس میں جو مسائل تھے اس کا سدباب کردیا گیا ہے۔اس منصوبے کے تین حصوں پر علیحدہ علیحدہ کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے دوسرے حصہ کے لئے 7000 ارب روپے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے اس لئے دینے کا اعلان کردیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ معزز ممبر نے کے فور منصوبے سے متعلق سوال کیا ہے تو اس کے تین حصوں کا کام ایک ساتھ چل رہا ہے، جس میں کینچھر سے کراچی کے لئے واپڈا کام کررہا ہے جو 55 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور یہ دسمبر 2025 تک مکمل ہوجائے گا، دوسرا فیز یوٹیلیٹی کی شفٹنگ کا ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار کئے بغیر 7000 ارب روپے جاری کئے ہیں اور یہ کام بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ اس کا تیسرا مرحلہ 50 میگاواٹ کے پاور اسٹیشن کی تعمیر کا ہے جو 16 ارب روپے کی لاگت کا ہے، اس پر بھی حیسکو نے کام شروع کردیا ہے اور انشا اللہ اگر کوئی رکاوٹ نہیں آئی تو یہ بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا، جس کے بعد ٹیسٹنگ کا مرحلہ ہوگا اور جون 2026 تک یہ منصوبہ مکمل کرکے کراچی کو پانی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سعید غنی نے 2025ءمیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کادعویٰ کر دیا، کہا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خا ن جیل سے رہا ہوجائیں گے تاہم ان کا سیاست میں کردار ختم ہو جائیگا.

    نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ اپنا بیڑہ خود غرق کرتے ہیں۔ملک میں سیاسی عدم استحکام کم ہوچکا ہے ۔نئے سال سے ہمیں اچھی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔ امید ہے نیا سال مجموعی طور پر پاکستان کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے معاشی طور پر نیا سال بہتر ثابت ہوگا۔سیاسی عدم استحکام میں کمی آچکی ہے اور یہ نئے سال میں مکمل ختم ہوجائے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماء منظور وسان نے اپنی پیش گوئی میں بتایا تھا کہ نئے سال میں بہت سی تبدیلیاں ہوں گی۔کچھ نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سب چھوڑ کر چلے جائیں گے اور وہ اکیلے مار کھائیں گے۔نئے سال میں اداروں میں بھی گرما گرمی چلے گی۔پنی پیش گوئیوں کے حوالے سے مشہور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ءنے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2025ءدیگر سالوں سے مختلف اور خطرناک ہو گا۔اس سال کئی انوکھے واقعات ہوں گے۔قبل ازیں بھی منظور وسان کا کہنا تھا کہ باتیں ہونی چاہئیں پر باتوں کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ صرف آپ کو ریلیز کیا جائے۔ہم نہیں چاہتے کہ جمہوریت کو نقصان ہو ہم نہیں چاہتے کہ باتیں نہ ہوں۔ باتوں سے ریلیف نہیں ملے گا عدالت اور کیسز پر فیصلہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جو پہلے کہتا تھا ہم کوئی غلام ہیں اب امریکا کو مداخلت کرنے کیلئے اپیل کر رہا تھے۔ ہم بھی غلام نہیں کہ کس کے کہنے پر تمہیں ریلیف دیں گے کیسز تو چلیں گے۔رہنماءپیپلزپارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ باتیں بھی ہوتی رہیں کیسز بھی چلتے رہیں اور عدالت حق کا فاصلہ کرے گی۔ہم کسی چور دروازے سے نہیں آتے ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کاکہناتھا کہ آئندہ وزیراعظم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر آ بھی گئے تو مشکلات میں گھرے رہیں گے۔انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھاکہ حالات بتا رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔رہنماءپیپلزپارٹی نے بانی پی ٹی آئی کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ عمران خان کیلئے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں۔پی ٹی آئی دھرنوں سے گریز کریں اور پارٹی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ مجھے سیاستدانوں کیلئے اچھے دن نظر نہیں آ رہے تھے۔منظور وسان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ ماہ اسمبلی میں اہم فیصلے ہونے اور کچھ تبدیلیوں کا امکان تھا۔

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے ثمرات، 700ملین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری

  • کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو۔ کے فور منصوبے سے کراچی کے پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انہوں خیالات کا اظہار انہوں نےکراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کا اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم، سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن صلاح الدین، چیف آپریٹنگ آفیسر کے ڈبلیو ایس سی اسد اللہ خان موجود تھے۔ اجلاس میں کے فور منصوبے کی اوگمینٹیشن سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہونا چاہیے کہ کے فور منصوبہ جو اس وقت کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں اہم اہمیت کا حامل ہے اس کو جلد از جلد پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کراچی کے پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

  • پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے، سعید غنی

    پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے، سعید غنی

    صوبائی وزرا سعید غنی اور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایسے ممالک سے مدد مل رہی ہے جو پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

    3 روزہ پاک واٹر اینڈ انرجی ایکسپو 2024 کا افتتاح کرتے ہوئے سندھ کے وزرا کا مزید کہنا تھا کہ معزز عدلیہ کو پی ٹی آئی کے فورن فنڈنگ کیس کو جو سالہا سال سے التوا کا شکار ہے اس کو دیکھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی میں ایک انتشاری ٹولہ شامل ہے، ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی والے پرامن رہ کر سیاست کریں۔پی ٹی آئی جس طرح ملک میں بے لگام چل رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی کہانی تو ضرور ہے۔ 8 ویں پاک واٹر اینڈ انرجی نمائش کی کامیابی کی علامت یہ ہے کہ اس کا انعقاد سالانہ ہورہا ہے۔اس موقع پر منتظم ڈائریکٹر پرائم ایونٹ کامران عباسی، اختر شاہین رند و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزرا نے نمائش میں لگائے گئے 150 سے زائد ملکی و غیر ملکی اسٹالز کا دورہ کیا اور ان سے ان ہے اسٹالز پر موجود مصنوعات پر بریفنگ لی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ نمائش ہمیشہ سے کامیاب رہی ہے اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس نمائش کا حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں میں اس نمائش کے ذریعے کاروبار کو بھی فروخت ملا ہے۔سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ 8 سالوں سے اس نمائش کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اس نمائش میں پانی کو بچانے اور قابل استعمال بنانے کے لیے آگاہی بھی دی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس نمائش کی کامیابی کی علامت یہ ہے کہ اس کا انعقاد سالانہ ہورہا ہے اور بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں تو نمائش کو مزید کامیابیاں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انرجی اور پانی دو اہم سیکٹروں پر مشتمل یہ نمائش ہے جبکہ انرجی اور پانی کو محفوظ کرنے کے لئے دنیا بھر نے نت نئے طریقے ایجاد کرلئے ہیں۔
    سعید غنی نے کہا کہ گو کہ عام آدمی اس نمائش کو اہمیت نہیں دیتا لیکن اگر دیکھا جائے تو اس میں لگائے گئے اسٹالز سے عام آدمی بھی اپنے گھر کو مستفید کرسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو باہر ممالک سے فنڈنگ ہورہی ہے اور اس تحریک کو وہی فنڈنگ کر رہے جو پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس سب کے سامنے ہیں، سمجھ سے بالاتر ہے کہ معزز عدلیہ میں فارن فنڈنگ مسئلے کو کیوں اتنا سادہ اور معمولی لے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انتشاری ٹولے ملک کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور یہ تحریک پاکستان کو ترقی سے روکنا چاہتی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ایک انتشاری ٹولہ شامل ہے، ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی والے پرامن رہ کر سیاست کرے لیکن بدقسمتی سے انتشاری ٹولے کا وتیرہ انارکی پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد والا ڈرامہ ایک سازش کا حصہ تھا۔احتجاج میں لوگ مرے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسلام آباد دھرنے میں انتشاری ٹولے کی بڑی تعداد خیبر پختون خواہ سے آئی تھی۔ جبکہ اس دھرنے میں بیرون ممالک کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل رہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انتشاری ٹولہ کہتا رہا تین سو لوگ مارے گئے بعد میں وہ محض بارہ افراد ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بشری بی بی صاحبہ اور گنڈاپور کیسے جانتے تھے کہ ربڑ کی بلٹ پروف گولیاں چلیں گی اور وہ اس سے پہلے سب کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی جانب لیکر جانا ہے، ہر ایک کو پاکستان کی معیشت کی بحالی کا سوچنا چاہیے اور ہمیں انتشاری سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے یا نہیں اس کے میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں البتہ پی ٹی آئی جس طرح ملک میں بے لگام چل رہی ہے اس سے لگتا ہے کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی کہانی تو ضرور ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے ممالک سے مدد مل رہی ہے جو پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ پی ٹی آئی کا فورن فنڈنگ کیس ہمیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطرناک بات ہے کہ سیاسی جماعت فورن فنڈنگ لے رہی تھی لیکن ہماری معزز عدلیہ کو یہ سنگین اشیو نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کونسی طاقت ہے جو امریکہ کی کانگریس میں خطوط جمع کرواتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایسی قوتیں ضرور ہیں جو آج بھی پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہی ہے۔چھ کنال بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس پر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت سے ناراضگی بنتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت کی آپسی ناراضگی کوئی میاں بیوی کی طرح کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا میں جب یہ معاملہ آیا تو اس پر سندھ نے بھرپور اپنے تحفظات کا اظہار کیا اس کے بعد یہ ایکنک میں جب معاملہ آیا تو ایکنیک نے اس کی مشروط منظوری دی ہے اور اس میں لکھا ہے کہ سی سی آئی میں اس معاملہ پر سندھ کے تحفظات کو دیکھا جانا چاہیے۔
    ابھی یہ معاملہ سی سی آئی میں آنا ہے اور اس میں بھی سندھ اپنا بھرپور دفاع کرے گا، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ منظور ہوگیا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ قبل ازیں صوبائی وزرا کو منتظم ڈائریکٹر پرائم ایونٹ کامران عباسی نے نمائش میں آمد خوش آمدید کہا اور اسٹالز کا دورہ کرایا۔ وزرا نے غیر ملکی اور مقامی کمپنیوں کے اسٹالز پر موجود جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کو سراہا۔انہوں نے غیر ملکی مہمانوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی بھی ترغیب دی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ اور وزیر بلدیات سعید غنی نے نمائش کے انعقاد پر منتظمین کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پانی اور توانائی دو اہم ضروریات زندگی ہیں جن کی بلاتعطل فراہمی سے نا صرف عوام الناس کو سہولت ملتی ہے بلکہ انڈسٹری کا پہیہ بھی چلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نمائش میں غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت بھی خوش آئند اور ملکی معیشت میں بہتری کی نوید ہے۔ اس دوران نمائش کے منتظم کامران عباسی نے بتایا کہ نمائش میں چین، ترکی، مراکو، آسٹریلیا، مصر، امریکہ کی کمپنیاں شریک ہیں۔ دو ہالز میں 60 سے زائد نمائش کنندگان نے 175 اسٹالز لگائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش کاروبار کے زبردست مواقع فراہم کرے گی۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے ڈائریکٹر انجینئرنگ سکندر زرداری نے نمائندگی کی۔ پہلے روز "ٹیکسٹائل سرکلر اکانومی کی دوبارہ ایجاد” کے موضوع پر ورکشاپ بھی منعقد ہوئی۔ نمائش جمعرات کو اختتام پذیر ہوگی۔

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

  • بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 سانحہ کارساز دنیا بھر میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ تھا۔ شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ آئینی ترامیم سب کی مشاورت سے ہوں گی، کوئی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےسانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہدا کی قبروں پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ٹائون چیئرمین چنیسر ٹائون فرحان غنی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے سانحہ کارساز میں شہید کارکنان کی قبروں پر حاضری دی ہے، اس قبرستان میں سات شہیدوں کے قبریں ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں جہاں جہاں سانحہ کارساز کے شہید دفن ہیں انکی قبروں پر حاضری دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردی کا واقعہ دنیا کا بڑا واقعہ تھا۔ اس سانحہ میں ہمارے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے شہیدوں کی قربانی پاکستان میں جب جب جمہوریت کی بحالی کی تاریخ لکھی جائے گی، ان شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی کہانی اور تاریخ اس سانحہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جب 18 اکتوبر کو بم دھماکہ ہوا ہمارے جو کارکن تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ محترمہ کی گاڑی کے ساتھ جن کی ڈیوٹی تھی، وہ پہلے دھماکہ کے بعد بھاگتے وہ وہاں موجود رہے اور بی بی کے ٹرک کو مزید پروٹیکٹ کیا تو اس میں دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئی۔
    سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک انوکھی اور عجیب مثال ہے، کہ بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور کارکنان بھاگتے نہیں ہیں، یہ واقعہ ہمارے کارکنان کی اپنی قیادت کے ساتھ عزم ہے، محبت ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کو کتنی محبت تھی کہ بم دھماکے کے بعد بھی لوگ بھاگے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پیپلز پارٹی اس ملک کی جمہوریت کے لئے قربانیں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی ایسی جماعت نہیں کہ جس کے قائدین اور کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، پرامن سیاسی طریقے سے کام کرتے ہیں اور ہم نے اپنے قائدین اور کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین میں طریقے کار موجود ہے، کوئی جماعت اپنی مرضی کی تجاویز مسلط نہیں کر سکتی۔
    اس ہے لئے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور جب دو دھائی اکثریت تو سب کی مشاورت سے آئینی ترمیم ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے کہ سب مل جل کر بیٹھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب سے بنی ہے وہ تضادات کا شکار رہی ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور آج بھی وہ تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے ان کے ذریعے حکومت سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    پی ٹی آئی والے ترمیم چاہتے ہیں لیکن کھل کر نہیں بول رہے۔ احتجاج کی بات شاید ان کے دوسرے گروپ نے کی ہوگی اور ڈائیلاگ کی بات دوسرے گروپ سے کی ہوگی۔ اس سے پی ٹی آئی میں واضح گروپ بندی ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملک میں مسائل کی جڑ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔
    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رویہ غیر سیاسی ہے۔ وہ آج بھی کسی سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ آج تک اس ملک میں ان کے آنے کے بعد جتنے بھی کرائسیس ہوئے ہیں، یہ سب عمران نیازی کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، جو ایک آئینی عمل ہے اور اس آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی تو دنیا تو ختم نہیں ہوگئی تھی۔
    عمران خان اسمبلی میں راہ کر بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتا تھا، عمران خان کے پاس اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خواہ دونوں کی حکومت تھی، وہ دو صوبے میں حکومت کرکے جو نئی پی ڈی ایم کی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتا تھا، لیکن اس نے جمہوری طر عمل اختیار نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور ملک کے خلاف سازشیں شروع کردی کہ کسی طرح سے یہ حکومت نہ چل سکے،کسی طرح یہ ملک نہ چل سلے، کسی طرح سے یہ ملک کی تباہ و برباد ہوجائے، کسی طرح سے عوام مشکلات کا شکار ہوجاییں۔اس میں زیادہ مسائل جو پیدا کئے اس میں عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کرائسس مزید بڑھ گئے۔ اگر وہ سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام کرائسز چند ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ہوٹل میں سعودی عرب کے 94 قومی دن کے حوالے سے "پاکستان سعودی عربیہ کے تعلقات ماضی، حال اور مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عمرہ و حج اعلٰی درجے کی چیزیں ہیں، ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ تقریب سے کراچی میں سعودی قونصل جنرل، معروف اسلامی اسکالر و چیئرمین پاکستان علمائ کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، محمد امین اللہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عربیہ کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، مگر پاک و سعودی تعلق دنیا کے تمام ممالک سے تعلقات بالکل مختلف ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ ہمارا روحانی تعلق برقرار رہے گا اور اس روحانی تعلق کی وجہ خانہ کعبہ و مدینہ منورہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے سرمایہ کار پاکستان آئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں شامل مشکلات کو دور کرنے میں سعودی عرب نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زر مبادلہ کا مسئلہ رہا ہے، اس کو بھی انہوں نے دور کیا۔
    سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 26 سے 27 لاکھ سے زائد پاکستان برسر روزگار ہیں، جو اس ملک میں زرمبادلہ کا بڑا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کا ہم اتنا فائدہ اٹھائیں کہ ہم خود کفیل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی وفود کی آمد روکنے کے لیے دشمن ممالک کا بڑا ہاتھ ہے، پاکستان میں شنگھائی کانفرنس ہونے جارہی ہے، ملک دشمن عناصر و ممالک چاہتے ہیں کہ یہ کانفرنس نہ ہو۔
    انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، ایسی جماعتوں کے کارکنان پھر بھی انکی تقلید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر میری جماعت کی قیادت مجھے ملکی مفاد جانے کے خلاف بولے گی تو میں ایسی جماعت کو چھوڑ دونگا۔
    انہوں نے کہا کہ شنگھائی کانفرنس میں مختلف عالمی سربراہ مملکت آرہے ہیں، میری پی ٹی آئی سے گذارش ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر احتجاج کو معطل کیا جائے، یہ نامناسب طرز عمل ہے، آپ پاکستان کے مفاد کے لیے ریاست کا ساتھ دیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ جو حج و عمرہ آپریٹرز ہیں وہ حاجیوں کو بتایا کریں کہ حج کے لیے جارہے ہیں وہ تفریح کے لیے نہیں۔ حج مشکلات کا ہی نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہمارے حاجی صاحبان رہائشی سہولیات کے حوالے سے شکایت کرتے ہیں، عمرہ و حج اعلی درجے کی چیزیں ہے۔ ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیئے۔

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    تعلیم ہی وہ روشن راستہ ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے ،ْ منعم ظفر خان

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے