Baaghi TV

Tag: سفارتخانے

  • احتجاج،ہنگامہ آرائی،غیر ملکی سفارتخانوں کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    احتجاج،ہنگامہ آرائی،غیر ملکی سفارتخانوں کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں پر تشدد احتجاج، جلاؤ ، گھیراؤ کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے،

    غیر ملکی سفارتخانوں کی جانب سے ہدایات اپنی شہریوں کو جاری کی گئی ہیں،امریکہ، کینیڈا، برطانیہ سمیت دیگر سفارتخانوں کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ شہری محتاط رہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے احتجاج،ٹریفک کی بندش کی وجہ سے 10 مئی 2023 کے لیے تمام قونصلر ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں، امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں کی رپورٹس کی نگرانی کر رہا ہے

    امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں شناختی کاغذات اپنے پاس رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواستوں پر عمل کریں

    کينیڈین سفارتخانے کی جانب سے بھی شہریوں کے لئے ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ غیر متوقع سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے پاکستان میں انتہائی احتیاط برتیں سکیورٹی کی صورت حال غیر متوقع ہے اگر آپ پاکستان میں ہیں تو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں مظاہرے اور بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں

    برطانیہ نے بھی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چار سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات پر پابندی ہےمزید بد امنی کا بھی امکان ہے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جا سکتا ہےمظاہروں، لوگوں کے بڑے ہجوم اور سیاسی اجتماعات سے گریز کری۔ مقامی خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے با خبر رہیں اگر آپ احتجاج والی جگہ کے قریب ہیں تو کسی محفوظ جگہ پر چلے جائیں

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

     پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے بند 

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

  • امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ نے اپنا کام بند کرتے ہوئے املاک کی تحویل امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے کر دی-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے امریکی بینکنگ نظام میں موجود افغان اثاثے منجمد کرنے کے اقدام کے باعث سفارتی مشن کو سخت مالی مشکلات کا سامنا تھا پابندیوں کی وجہ سے متعدد سفارتکار اور عملے کے اراکین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم تھے۔

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

    قبل ازیں رواں ماہ کےشروع میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ سفارتخانہ بند کردیا جائے گا اور سفارتکاروں کے پاس انسانی ہمدردی کے پیرول یا رہائش کے لیے درخواست دینے کے لیے 30 روز کا وقت ہوگا تاہم امریکا میں موجود سفارتی مشن کے ایک چوتھائی افراد نے اس وقت تک درخواست نہیں دی تھی۔

    گزشتہ ہفتے افغان سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ 16 مارچ 2022 سے افغانستان کے سفارتخانے اور قونصل خانوں نے اپنا کام روک دیا ہے اور اپنی املاک کی تحویل محکمہ خارجہ کو دے دی ہے اگست 2021میں طالبان کے جابرانہ اور غیر قانونی قبضے کے بعد بھی نیویارک اور لاس اینجلس میں موجود افغان سفارتخانہ اور قونصل خانہ اپنا کام جاری رکھ کر اور قونصلر خدمات فراہم کرتے ہوئے افغان عوام کی خدمت کے لیے پر عزم رہے۔

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع…

    خط میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران افغان سفارتخانے اور قونصل خانے کو بڑھتے ہوئے آپریشنل چیلنجز اور بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باعث وسائل محدود ہونے کا سامنا رہا اور سفارتی مشن نے امریکی محکمہ خارجہ سے معاونت مانگی محکمہ خارجہ نے تجویز دی کہ ویانا کنوینشن کے تحت سفارتخانے اور قونصل خانے کی تحویل امریکی حکومت کو دینا واحد قابل عمل آپشن ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ سفارتی مشنز کا آپریشن پائیدار نہیں ہے، سفارت خانے اور قونصل خانوں نے محکمہ خارجہ کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے۔

    تاہم امریکا میں افغان سفارت خانے اور قونصل خانے امید کرتے ہیں کہ خاص طور پر امریکا میں افغان شہریوں کے لیے ضروری قونصلر خدمات کی عدم موجودگی کے پیش نظر فوری طور پر کوئی عملی حل نکال لیا جائے گا۔

    ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    گذشتہ ماہ کے اوائل میں طالبان کے وزیر خارجہ نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے قریب ہے۔ اس سے قبل طالبان کے وفد نے کئی مغربی سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ناروے کا دورہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس اگست میں طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے دنیا بھر میں افغان سفارت خانے فنڈز کی کمی کے باعث بند ہو رہے ہیں جب کہ طالبان کے نامزد کردہ سفارت کاروں کو کوئی ملک تسلیم کرنے کا تیار نہیں۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

  • سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    تہران : سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا.اطلاعات کے مطابق ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

    دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

    جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

    انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔