Baaghi TV

Tag: سفارتی قوت

  • پاکستان کی ابھرتی ہوئی سفارتی قوت اور علاقائی کردار،تجزیہ: شہزادقریشی

    پاکستان کی ابھرتی ہوئی سفارتی قوت اور علاقائی کردار،تجزیہ: شہزادقریشی

    پاکستان کی ابھرتی ہوئی سفارتی قوت اور علاقائی کردار،پہلے پاکستان، پھر سیاست

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں علاقائی اور بین الاقوامی سیاست تیزی سے نئی سمت اختیار کر رہی ہےمشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات نے کئی نئے امکانات کو جنم دیا ہے ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، عسکری قیادت اور سفارتی ادار وں کی مشترکہ کاوشوں نے ملک کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    حالیہ عرصے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کےدرمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو خطے کی سیاست میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے اگرچہ مستقبل کے کسی بھی بڑے دفاعی یا تزویراتی اتحاد کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان ممالک کے درمیان قریبی روابط نے اسلامی دنیا میں نئے سفارتی امکانات پیدا کیے ہیں،مبصرین کی رائے ہے کہ اگر یہ تعاون مزید وسعت اختیار کرتا ہے تو دوسرے مسلم مما لک بھی اس میں دلچسپی لے سکتے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئے سیاسی و معاشی بلاک کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔

    اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے خود کو محض ایک علاقائی ریاست کے بجائے ایک ذمہ دار اور مؤثر ایٹمی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر نسبتاً متوازن اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک بھی جو کسی زمانے میں پاکستان کی پالیسیوں پر تحفظات رکھتے تھے، آج مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ترکی اور پاکستان کے تعلقات اس کی ایک نمایاں مثال ہیں، جہاں دفاع، تجارت اور سفارت کاری کے میدان میں روابط پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

    سیاسی اختلافات کسی بھی جمہوری معاشرے کا حسن ہوتے ہیں، لیکن قومی مفادات کے معاملات میں وسیع تر قومی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنقید یقیناً جمہوری حق ہے، مگر بین الاقوامی حالات کا تجزیہ کرتے وقت قومی مفاد اور زمینی حقائق کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت مستحکم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے تو یہ کامیابی کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کی کامیابی سمجھی جانی چاہیے۔

    پاکستان کی عسکری قیادت، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے حالیہ برسوں میں مختلف محاذوں پر جس انداز سے کام کیا ہے، اس نے ملک کی بین الاقوامی شناخت کو تقویت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو علاقائی استحکام، دفاعی تعاون اور بین الاقوامی سفارت کاری کے تناظر میں زیادہ سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔

    آخر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مضبوط خارجہ پالیسی، قومی یکجہتی اور داخلی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔ جب ملک محفوظ ہوگا، تبھی سیاست، جمہوریت اور معاشی ترقی کے ثمرات بھی مستحکم ہوں گے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی عالمی کامیابیوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی سوچ اپنائی جائے۔