Baaghi TV

Tag: سقوط ڈھاکہ

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

  • راولپنڈی،اسلام آباد، لاہور کے تعلیمی اداروں میں کل چھٹی کا اعلان

    راولپنڈی،اسلام آباد، لاہور کے تعلیمی اداروں میں کل چھٹی کا اعلان

    جڑواں شہروں راولپنڈی ، اسلام آباد سمیت لاہورکے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں کل چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈی سی لاہور کا کہنا تھا کہ کل بروزپیر 16 دسمبر لاہور شہر کے تمام پبلک و پرائیویٹ سکول و کالجز بند رہیں گے،تمام یونیورسٹیاں کھلی رہیں گی۔گورنمنٹ و پرائیویٹ سکول و کالجز میں چھٹی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے،سقوطِ ڈھاکہ اور اے پی ایس سانحہ پشاور کے شہداء کی یاد میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ڈی سی لاہور نے کہا شہدائے آرمی پبلک سکول کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے،16 دسمبر 2014 کا سانحہ بہت گہرا زخم ہے جس کا بھرپانا ممکن نہیں ہے۔سانحہ پشاور میں بچوں کی شہادت نے قوم کو مضبوط اور متحد کیا،پاکستان جلد ایک پر امن ملک ہو گا،16 دسمبر 1971 پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ اسی تاریخ کو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا،اس روز پاکستان کا ایک اہم حصہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں الگ ہوا۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے، پنجاب حکومت کی ہدایت پر راولپنڈی میں تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔اسلام آباد کے تعلیمی ادارے بھی کل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    پولیو وائرس ملک کے 8 اضلاع میں موجود

    مریم نواز دورہ چین مکمل کرکے آج لاہور پہنچیں گی

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

  • سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے  خصوصی پروگرام کا انعقاد

    سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے خصوصی پروگرام کا انعقاد

    لاہور:سقوط ڈھاکا:50سال مکمل ہونے پر لاہورمیں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان کی طرف سے خصوصی پروگرام کا انعقاد ،اطلاعات کے مطابق سقوط ڈھاکا کے 50سال مکمل ہونے پر لاہور کے جی پی او چوک میں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان نے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا۔پروگرام بڑی تعداد میں وکلا اور سول سوسائٹی ارکان شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق پروگرام سے ممتاز وکلا اور سول سوسائٹی رہنماؤں نے خطاب کیا.اس موقع مقررین راؤ طاہر شکیل، سردار آفتاب احمد ورک علی عمران شاھین، آصف کمبوہ،ندیم مہر، میڈم شہزاد منیر ،ڈاکٹر شاہد نصیر اے آر نقوی امتیاز رشید قریشی و دیگر نے کہا کہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست پاکستان کو توڑنے میں کلیدی کردار بھارت نے طویل سازشی اور پھر کھلم کھلا کردار ادا کیا، اندرا گاندھی نے پاکستان توڑ کر کہا کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کو کس نے حق دیا کہ وہ انٹرنیشنل بارڈر عبور کرکے ہمارے ملک میں مداخلت کرے اور ہماری فوج سے ہتھیار ڈلوائے اور انہیں قیدی بنائے ۔ دنیا نے بھارت کی اس ساری بدمعاشی پر خاموشی اختیار کی اور آج تک وہ خاموشی جاری ہے جس کی ہم آج بھی مذمت کرتے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج اسی طرح کشمیر میں داخل ہو اور اسے آزاد کروائے جیسے بھارت ڈھاکا میں داخل ہوا۔پاکستان کا کشمیر میں داخلہ دنیا کے ہر قانون کے تحت جائز اور درست ہے کیونکہ یہ ایک عالمی تسلیم شدہ متنازع علاقہ اور زیر تصفیہ قضیہ ہے۔

    مقررین نے کہا کہ بھارت نے اس وقت آج کے پاکستان کے بھی کئی علاقے چھینے جن میں بلتستان کے چار گاؤں آ بادی سمیت قبضے میں لیے جو آج تک اس کے پاس ہیں ۔ہمیں وہ سب واپس لینا ہے۔شرکا نے آخر میں پرجوش مظاہرہ کیا اور پاک فوج کے حق اور بھارت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی

  • ایک ہی دشمن کے دو زخم   ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائین گے اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے

    آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں

    یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی-

    اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز مارچ 1971 کو ہوا تھا مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے-

    جبکہ ان کے مدمقابل مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000 اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے-

    تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے
    تب ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے-

    واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی-

    بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا-

    واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہےتاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا-

    بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا-

    16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر 17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں-

    دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی-

    واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے-

    یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے-

    میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے-

    "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں-"( 154 آل بقرہ)

    یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟ وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے –

    سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں-

  • سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ آج 16 دسمبر جمعرات کو منایا جائے گا –

    باغی ٹی وی : اس سانحہ کے حوالے سے سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا ،سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 ء کو پیش آیا جسے سقوط ڈھاکہ بھی کہا جاتا ہے۔سقوط ڈھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش دنیا کے نقشے پر ابھرا۔بھارتی سازشوں کے نتیجے میں 26 مارچ 1971 ء کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے محروم ہو گیا ۔

    بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    چودہ اگست 1947 کو اسلام کے نام پر ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا، بھارت نے دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا پڑوسی ملک نے پاکستان کے قیام کے بعد ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے، بھارت کو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں ایک غدار بھی مل گیا 1970 کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی ایما پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور مشرقی پاکستان کے حالات تیزی سے خراب ہونے لگے۔

    جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو حریت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے ہوا جس کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں (جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے) نے عسکری کارروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفاق پاکستان کے وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔

    مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا بھارتی فوج کے زیر اثر قائم مکتی باہنی کے غنڈے سرعام قتل کرنے لگے حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کی غرض سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا، بھارت نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے مشرقی و مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کر دی مکتی باہنی نامی دہشت گرد تنظیم نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور دہشت گردی کی تاریخ رقم کی اس جنگ کا اختتام پاکستان کے قیام کے صرف چوبیس سال بعد ہی اس کے دولخت ہونے پر ہوا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

    یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا گیا، جس نے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جاری کی۔

    سقوط ڈھاکہ میں بھارتی کردار کو اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی تسلیم کیا اندرا گاندھی نے تو جوش خطابت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہےپاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھی بھارت اپنے مذموم ارا دوں سے باز نہ آیا اور اب بھی انتہا پسند ہندو سوچ اَکھنڈ بھارت بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔