Baaghi TV

Tag: سلامتی

  • انتخابات میں سیاسی فیصلے؟ جہانگیر ترین نے اعلان کر دیا

    انتخابات میں سیاسی فیصلے؟ جہانگیر ترین نے اعلان کر دیا

    چیٸرمین استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر خان ترین نے کہا ہے ہماری ترجیح مستحکم پاکستان ہے، انتخابات میں سیاسی فیصلے اس وقت کی صورت حال کے مطابق کریں گے

    جہانگیر خان ترین کا کہنا ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لٸے ہی آٸی پی پی وجود میں آٸی ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر ملکی مفادات پارٹی مفادات سے زیادہ عزیز ہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام کے لٸے متحد ہونے کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ آٸی ایم ایف سے معاہدہ ابھی زیر تکمیل ہے۔ اس وقت ملک کو استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام معاشی استحکام سے جڑا ہے۔ آنے والے انتخابات میں سیاسی فیصلے اس وقت کی صورت حال کے مطابق کریں گے۔ پارٹی سیاست کا محور و مرکز ملک میں سیاسی و معاشی استحکام لانا ہے۔ آٸی پی پی کا وجود پاکستان کی سلامتی کے ساتھ جڑا ہے ملکی سلامتی اور استحکام سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ پہلی ترجیح مستحکم پاکستان ہے۔

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

    واضح رہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان نے ملکر استحکام پاکستان پارٹی بنائی جس کی ابھی تک الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن نہیں ہو سکی، میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی نشان عقاب لینے کی کوشش کی جائے گی،فردوس عاشق اعوان کو پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا ہے، عون چودھری پارٹی اور جہانگیر ترین کے ترجمان ہیں،

  • پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،شہباز شریف

    پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن وامان سے متعلق لاہور میں اہم اجلاس منعقد ہوا.
    وزیراعظم کو ملک میں امن و امان کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا،اجلاس میں صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بھی زیر غور آئی.

    ماڈل ٹاون لاہور میں اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا.

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا تحفظ یقینی بنائیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں عوام کی رائے صرف کارکردگی دکھانے سے ہی بدل سکتی ہے. وزیراعظم کو اجلاس کے دوران دہشتگردی کے خاتمے اور اس ضمن میں لاحق خطرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی.

    دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سدباب کے اقدامات اور قوانین پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف نے فاٹف شرائط کی تکمیل کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم ایک بیانیے پر متفق ہے اور اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے.

    وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں صوبوں کے کردار کو پھر سے بحال کیاجائے گا جو گزشتہ چار سال میں موجود نہیں تھا ، گزشتہ چار سال میں نیشنل ایکشن پلان میں صوبوں کا کردار نظر انداز کرنے سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لئے امن وامان کا یقینی ہونا ایک بنیادی تقاضا ہے.

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔