نیویارک:مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں،پر تشویش کا اظہار کیا گیا-
اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انتونیو گوتریس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے طلاعات کے مطابق ایران کے کم از کم 200 شہری حملوں کا نشانہ بنے جو تشویشناک اور ناقابل قبول ہےانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے امن صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا
اجلاس کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا اس حوالے سے گوتریس نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
فرانس کے مندوب نے اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی کونسل کو مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیےدنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں احتجاج، امریکا اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش
چین کے مندوب نے ایران پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملہ خطے کو جنگ کے دہانے پر لے گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر آئیں۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک پر بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ کئی عرب ممالک ڈائیلاگ کی حمایت کر رہے تھےاسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں پاکستان ایرانی طالبات کی شہادت پرافسوس کا اظہار کرتا ہے۔
بحرین کے مندوب نے اپنی تقریر میں ایران کے اقدامات کو ایک سنگین دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر بحرین کی شہری آبادی پر گرنے والے میزائل حملوں کو،بحرین کی خودمختاری پر یہ حملہ ناقابل برداشت ہے، اور ہم نے کویت، یواےای اور اردن پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول کی ہیں، ایران کی جانب سے یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایران کے جوابی حملے : اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے، متعدد شہری زخمی
روسی مندوب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کیا گیا ہے ایران میں 200 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اسکولز تک کو نہیں بخشا گیا امریکا اور اسرائیل نے انتہائی غیرذمہ دارانہ قدم اٹھایا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔





