Baaghi TV

Tag: سماعت

  • پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    پاکستان بھر میں یوم آزادی بھر پور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے،پیدائشی سماعت سے محروم بچے کامیاب آپریشن کے بعد سننے اور بولنے لگ گئے ہیں، کوکلیئر امپلانٹ والے بچوں نے بھی یوم آزادی جوش و خروش سے منایا،

    کوکلیئر امپلانٹ والے بچوں نے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر رنگا رنگ کپڑے پہنے ، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،لاہور،گوجرانوالہ،گجرات،حیدرآباد،کوئٹہ،پشاور سمیت کئی شہروں میں ایسے بچے جن کا سماعت کی محروم کی وجہ سے آپریشن ہوا ہے نے یوم آزادی کے موقع پر ویڈیو پیغام بھی جاری کئے ہیں، جن میں بچے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں،یوم آزادی کے موقع پر ایسے بچوں کی جانب سے کئی شہروں میں پودے لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا،

    پاکستانی بچوں کا یوم آزادی کے موقع پر پرجوش نظر آنا ایک نہایت خوش آئند عمل ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ آزادی کی مقدس امانت ہم کل جن مضبوط ہاتھوں میں دینے والے ہیں، ان کو اس کی قدر کا بچپن سے اندازہ ہے،

    لاہور سے اقرار حیدر کا کوکلیئر امپلانٹ آپریشن 2018 میں ہوا تھا، اقرار حیدر پیدائشی سماعت سے محروم تھا تا ہم اب کامیاب آپریشن کے بعد وہ سننے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اقرار حیدر کا یوم آزادی کے موقع پر ویڈیو پیغام میں کہنا تھاکہ "آئی لو پاکستان آرمی،آپ سب کو یوم آزادی پاکستان مبارک،پاکستان زندہ باد”.اقرار حیدر کا آپریشن معروف ای این ٹی سپیشلٹ ڈاکٹر جواد نے اسلام آباد میں کیا تھا، ڈاکٹر جواد سینکڑوں بچوں کے کامیاب آپریشن کر چکے ہیں.

    پیدائشی سماعت سے محروم گجرات کی فاطمہ بھی آپریشن کے بعد سننے بولنے لگی، یوم آزادی پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،

    پیدائشی سماعت سے محروم لاہور کی رامین عثمان بھی آپریشن کے بعد سننے بولنے لگی، یوم آزادی پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،

    پیدائشی سماعت سے محروم لاہور کے یوسف اویس بھی کامیاب آپریش کے بعد سننے بولنے لگے، یوم آزادی پاکستان کے موقع پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا

    پیدائشی سماعت سے محروم حیدر آباد کے طیب ناریجو نے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر پودے لگا کر شجر کاری مہم میں حصہ لیا.

    پیدائشی سماعت سے محروم چترال کےعمیر وسیم بھی آپریشن کے بعد سننے بولنے لگے، یوم آزادی پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،

    سماعت کا نہ ہونا، ایک معذوری، والدین پریشان ہو جاتے ہیں، چند برس تک اس کا کوئی علاج نہیں تھا، اب سائنس نے ترقی کی تو سماعت کے نہ ہونے کا ایسا علاج آ گیا جو مہنگا تو ہے تا ہم کامیاب ترین علاج ہے،پاکستان میں سینکڑوں بچے علاج کروا چکے اور اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی میں ایسے کئی ہسپتال ہیں جہاں آپریشن کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بچوں کی زندگی نارمل ہو جاتی،کوکلیر امپلانٹ، پانچ برس سے کم عمر بچوں کا ہوتا ہے، اگر بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کرتے، اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد کا کہنا ہے کہ ” پانچ سال سے بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو آپریشن کامیاب نہیں ہوتا، اس صورت میں زیادہ عمر کے افراد کا آپریشن ہو سکتا ہے اگر سماعت پیدائشی طور پر ہو بعد میں بیماری یا حادثے کی صورت میں سماعت ختم ہوئی ہو”

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    حکومتی نااہلی،سینکٹروں سماعت سے محروم بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ بڑھنے لگا، ایم ڈی بیت المال سماعت سے معذور بچوں کے علاج لئے فائلوں پر دستخط نہ کر سکے، عمر پانچ سال سے زیادہ ہو گئی تو سینکڑوں بچے مستقل معذور ہو جائیں گے، پانچ سال کی عمر تک بچوں کا علاج ممکن ہے،

    سماعت سے معذور بچوں کا علاج اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں ہوتا ہے،علاج مہنگا، غریب شہری حکومت کے تعاون سے اپنے بچوں کا آپریشن کرواتے ہیں، کئی بچوں کے میڈیکل ٹیسٹ ہو چکے، رپورٹس مکمل ہو چکیں تا ہم ایم ڈی بیت المال کی جانب سے فائل پر دستخط ہونا باقی ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے علاج میں تاخیر ہو رہی ہے، اگر فائل پر دستخط ہو بھی جاتے ہیں تو جن بچوں کی عمر اب چار برس ہو گئی ہے انکو آپریشن کا وقت تقریبا پانچ چھ ماہ بعد ملے گا کیونکہ باری آنے پر ہی آپریشن کیا جائے گا، اور جن بچوں کی عمر زیادہ ہو جائے گی وہ مستقل معذور ہو جائیں گے،

    بچوں کے والدین نے صدر پاکستان آصف زرداری، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ ایم ڈی بیت المال کی تعیناتی کی جائے تا کہ انکے بچوں کا علاج ہو سکے،صرف خیبر پختونخواہ سے 150 کے قریب بچوں کا علاج ہونا ہے جن کی فائلز مکمل ہیں اور ایم ڈی بیت المال کی میز پر پڑی ہیں، والدین بیت المال آفس کے چکر لگا لگا کر خوار ہو گئے مگر ایم ڈی کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے فائل پر دستخط نہ ہوئے اور بچوں کے علاج کے لئے فنڈز جاری نہ ہو سکے،

    واضح رہے کہ سماعت سے محروم بچوں کا علاج کوکلیر امپلانٹ انتہائی مہنگا علاج ہے،نواز شریف دور حکومت میں کوکلیر امپلانٹ کے لئے فنڈ ڈائریکٹ وزیراعظم ہاؤس سے وزیراعظم منظور کرتے تھے، تا ہم تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد یہ منصوبہ بیت المال منتقل کر دیا گیا، جو ابھی تک بیت المال کے پاس ہی ہے،

    بیت المال میں سینکٹروں درخواستیں اس علاج کے لئے جمع ہو چکی ہیں، متعدد درخواستوں پر ساری کاروائی مکمل ہو چکی ہے صرف فنڈز جاری ہونا باقی ہیں تا ہم ایم ڈی کے نہ ہونے کی وجہ سے دستخط نہیں ہو رہے،

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • نومئی کے 8 ملزمان کی نظربندی کے احکامات واپس

    نومئی کے 8 ملزمان کی نظربندی کے احکامات واپس

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ ، 9 مئی کے 8 ملزمان کی رہائی کے بعد نظر بندی کے معاملے کی سماعت ہوئی،

    دوران سماعت ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے 9 مئی کے ملزمان،تحریک انصاف کے 8 کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لیے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے اس اقدام سے عدالت کو آگاہ کر دیا،جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے درخواست گزار سیمابیہ طاہر نے اپنی درخواست واپس لے لی، درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر عدالت نے درخواست نمٹا دی،

    تحریک انصاف کے کارکنوں کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ڈی سی راولپنڈی کے احکامات پرانہیں دوبارہ گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا تھا،جس پر تحریک انصاف نے نہ صرف احتجاج کیا تھا بلکہ عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی

    9مئی مقدمات: پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست دائر

    عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    واضح رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، عسکری تنصیات پر حملے کئے تھے، منظم منصوبہ بندی کے تحت شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے، کئی جیلوں میں تو کئی مفرور ہیں، عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ بن گئے ہیں تا ہم پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں نو مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان مشکل میں ہیں.

  • سماعت سے محروم بچوں کے لئے  بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے خوشخبری، حکومت نے ایک بار پھر مفت آپریشن کا اعلان کر دیا

    پاکستان بیت المال نے اس ضمن میں بڑا فیصلہ کیا ہے،کوکلیئرامپلانٹ تیار کرنے والی ایک معروف کمپنی ”کاکلئیر فاؤنڈیشن آسٹریلیا“ کے ساتھ باہمی مفاہمتی یادداشت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت 154 سماعت سے محروم گونگے بہرے بچوں کوکامیاب زندگی کے سفر پر گامزن کرتے ہوئے انھیں دوبارہ سے بولنے اور سننے کے قابل بنانے کے لیے کاکلئیر امپلانٹ کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت انفرادی طور ایک بچے کے کاکلئیر امپلانٹ کے لیے 23لاکھ روپے تک کی معاونت کی جائیگی۔ جس میں سے 15لاکھ روپے پاکستان بیت المال جب کہ بقایا رقم آسٹریلین کمپنی ادا کرے گی۔

    ترجمان بیت المال کے مطابق پاکستان بیت المال کے پاس اس سلسلے میں پہلے ہی سینکڑوں درخواستیں جمع ہیں اور کوکلیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کی گئی گرانٹ سے ان نادار و ضرورت مند گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ایک نئی زندگی ملے گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال نے اس گراں قدر معاونت پر فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین آپریشن کے لئے پاکستان بیت المال میں درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں،درخواست میں بچے کے بہرہ ٹیسٹ کی رپورٹ، ب فارم کی فوٹو کاپی، سی ٹی سکین،ایم آر آئی کی رپورٹ،حفاظتی ٹیکہ جات کے کارڈ کی کاپی،بچے کی دو تصاویر لگانی ہیں، درخواست ایم ڈی بیت المال کے نام پر لکھنی ہے،

  • چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کی زیر صدارت یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کا 10 واں سینڈیکیٹ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن زاہدہ اظہر، سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شاہدہ فرخ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید، ایم ڈی چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، پروفیسر ساجد مقبول، پروفیسر طاہر مسعوداحمد، شاہد امتیاز و دیگر سینڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی۔

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے 9ویں سینڈیکیٹ اجلاس کے تمام منٹس کی منظوری دی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے 9 ویں سینڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی۔اجلاس کے دوران سینڈیکیٹ ممبران کی جانب سے نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کو چلڈرن ہسپتال لاہور کی بہتری کیلئے بہترین کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران پروفیسر ریاض اور یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے درمیان موروثی بیماریوں بارے ریسرچ کا ایم او یو بھی طے پایا۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران اکیڈمک کونسل کے 11 ویں اجلاس کے تمام فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے زیر تعمیر کمپلیکس پر جاری پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے افسران نے اس حوالے سے سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران بریفنگ بھی دی۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران پروفیسر آف جنیٹکس کی پوسٹ کی منظوری کے علاوہ مختلف سٹیٹوٹری پوزیشنز کی منظوری دی گئی۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کی پوسٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ چلڈرن ہسپتال لاہور کی کوالٹی اینڈ پرفارمینس اسیسمنٹ رپورٹ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر سو فیصد عملدرآمد کروا یا گیا ہے۔ چلڈرن ہسپتال آنے والے مریضوں کے سماعت کے آلے کے علاوہ کوکلیئر پلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت پنجاب چلڈرن ہسپتال لاہور میں مزید بہتری لانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کو پیپرلیس بنانے کیلئے بنیادی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی قیادت میں چلڈرن ہسپتال لاہور میں ری ویمپنگ کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ نگران صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ چلڈرن ہسپتال لاہور بچوں کے علاج و معالجہ کے حوالے سے دنیا کا دوسرا جبکہ ایشیاء کا پہلا بڑا ہسپتال ہے۔ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز میں کوالٹی ریسرچ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

  • سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام اباد: سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجازالحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کل (جمعہ 8 ستمبر کو) سماعت کرے گا بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے متعلقہ فریقین کو نوٹسسز جاری کردیئے ہیں۔

    18 اگست کواقلیتی رہنما سیمیول پیارے نےجڑانوالہ واقعے پر نوٹس کے لیے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی درخواست میں سپریم کورٹ سے جڑانوالہ واقعے کا نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئےکہا گیا تھا کہ جڑانوالہ میں 16 اگست کو مذہبی اوراق سمیت چرچ کو نظر آتش کیا گیا، عدالت درخواست منظور کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کرے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جڑانوالا میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل افراد نے کرسچن کالونی اور عیسیٰ نگری میں گرجا گھروں، مسیحی برادری کے درجنوں مکان، گاڑیاں اور مال و اسباب جلا دیئے تھے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں 19 چرچ جلائے گئے، پُرتشدد مظاہروں میں 86 مکانات کو توڑ پھوڑ کے بعد جلایا گیا۔

    زر مبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 7 کروڑ ڈالر کی کمی

  • آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیشن کا معاملہ.انکوائری کمیشن کے لیے کیمرے، کمپیوٹر، پرنٹر و دیگر سامان واپس بھجوا دیا گیا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے انکوائری کمیشن کی کاروائی روک دی تھی. انکوائری کمیشن نے جدید آلات کے ذریعے کاروائی کو آگے بڑھانا تھا. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کاروائی ملتوی کردی ہے.

    مبینہ آڈیوز انکوائری کمیشن کے دوسرے اجلاس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا محکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے پانچ ججز کا 26 مئی کا جاری کردہ آرڈر پڑھ کر سنایا، اٹارنی جنرل نے کہا درخواست گزاروں نے انکوائری کمیشن کے خلاف مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا انکوائری کمیشن کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے فریق بنایا گیا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدر سپریم کورٹ بار اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنا رکھا ہے، اس تناظر میں انکوائری کمیشن کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے،

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن ،جسٹس قاضی فائز عیسی اور کمیشن کے ارکان سپریم کورٹ پہنچ گئے. اٹارنی جنرل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ،آج آڈیو لیکس کمیشن نے گواہان کو طلب کر رکھا تھا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کل کمیشن کو کاروائی سے روک دیا تھا سپریم کورٹ نے کل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا تھا.

    مبینہ آڈیو لیکس کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس شروع ہو گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن کاروائی کر رہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں ،اٹارنی جنرل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا،سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے،جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کل کمرہ عدالت میں تھے نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ مجھے زبانی بتایا گیا تھا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں،سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جج کے خلاف الزام پر سیدھا ریفرنس جائے تو وہ پوری زندگی بھگتتا رہے گا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عبدالقیوم صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے انہیں کمیشن کی کارروائی پرکوئی اعتراض نہ ہو ان کے دوسرے فریق نے ہمیں درخواست بھیجی انکے دوسرے فریق نے کہا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور ہیں، کہا جب لاہورآئیں توان کا بیان بھی لے لیں،عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آ کر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈ ہوا ،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنےکی ہدایت کی ، انہوں نے حلف پڑھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حلف میں لکھا ہے فرائض آئین و قانون کے تحت ادا کروں گا یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت یہ کمیشن بنایا گیا ہم صرف اللہ کے غلام ہیں اور کسی کے نہیں شعیب شاہین روزانہ ٹی وی پربیٹھ کر وکلا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں ہمیں قانون سکھانے آگئے ہیں رولز کے مطابق وکیل اپنے مقدمے سے متعلق میڈیا پر بات نہیں کر سکتا کوئی بات نہیں سکھائیں ہم تو روزانہ قانون سیکھتے ہیں ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سانحہ کوئٹہ کا ذکرکرتے ہوئے جذباتی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طرح کی دردناک تحقیقات کرنی پڑتی ہیں اب ہمیں ٹاک شوز میں کہا جائے گا ہم آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں حلف کے تحت اس کمیشن کی اجازت نہ ہوتی تو معذرت کر کے چلا گیا ہوتا ٹی وی پر ہمیں قانون سکھانے بیٹھ جاتے ہیں یہاں آکر بتاتے نہیں کہ اسٹے ہوگیا ہے ایک طرف پرائیویسی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی آڈیوز پر ٹاک شو میں بیٹھے ہیں ہم ججز ٹاک شو میں جواب تو نہیں دے سکتے بطور وکیل ہم بھی اس لیے آرڈر لیتے تھے کہ اگلے روز جا کر متعلقہ عدالت کو آگاہ کرتے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ یہ ٹویٹر کیا ہے؟ پتہ تو چلے کہ کون آڈیو جاری کررہا ہے، اصلی ہیں بھی یا نہیں ہوسکتا ہے جن لوگوں کی آڈیوزہیں انہوں نے خود جاری کی ہوں ہوسکتا ہے عبدالقیوم صدیقی نے اپنی آڈیو جاری کی ہو تحقیقات ہونگی تو یہ سب پتا چل سکے گا جج کو پیسے دینے کی بات ہورہی ہے مگر تحقیقات پر اسٹے آجاتا ہے ججز کے بارے میں آڈیوز آئیں تحقیقات تو ہونی چاہیں پرائیویسی کی آڑ میں کیا کسی الزام کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے مجھے کوئی مرضی کے فیصلے کے لیے رقم آفر کرے تو کیا یہ گفتگو بھی پرائیویسی میں آئے گی؟ کیا راستے پر کوئی حادثہ ہوجائے تو اس کی ویڈیو جاری کرنا پرائیویسی کے خلاف ہوگا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر ایک سافٹ ویئر ہے، ہیکر کا مجھے علم نہیں شاید میڈیا والوں میں سے کوئی جانتا ہو

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں آپ نے کل ان نکات کو رد نہیں کیا، شعیب شاہین نے میڈیا پر تقریریں کر دیں، یہاں آنے کی زحمت نہ کی پرائیویسی ہمیشہ گھر کی ہوتی ہے کسی کے گھر میں جھانکا نہیں جاسکتا باہر سڑکوں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں کیا یہ بھی پرائیویسی کے خلاف ہیں؟ آپ نے کل عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کرچکے ابھی وہ اسٹیج ہی نہیں آئی تھی نہ ہم وہ کچھ کر رہے تھے کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں کیا گیا تھا توکام سے کیسے روک دیا، ہم کمیشن کی مزید کارروائی نہیں کر رہے ہم آج کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کریں گے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں زندگی میں بعض ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے، ہمیں پٹیشنرز بتا رہے ہیں کہ حکم امتناع ہے آپ سن نہیں سکتے، وکلا کوڈ آف کنڈکٹ کو کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا ہے، ہم بعض کام خوشی سے ادا نہیں کرتے لیکن حلف کے تحت ان ٹاسکس کو ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں، ہمیں اس اضافی کام کا کچھ نہیں ملتا، ہمیں کیا پڑی تھی سب کرنےکی

    آڈیو لیکس کمیشن کی کارروائی روک دی گئی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • پیپلزپارٹی اور ن لیگ پارٹی فنڈز کی جلد تحقیقات کیلئے درخواست پرسماعت کل ہو گی

    پیپلزپارٹی اور ن لیگ پارٹی فنڈز کی جلد تحقیقات کیلئے درخواست پرسماعت کل ہو گی

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے پارٹی فنڈز کی جلد تحقیقات کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس اطہر من اللّٰہ کل پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت کریں گے۔ فرخ حبیب کی درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے محض تین برس کی فنڈز کی اسکروٹنی کی جا رہی ہے۔
    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اکبر ایس بابر کی درخواست پر پی ٹی آئی پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی2008ء سے کی گئی، دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف سے امتیازی سلوک کیا گیا۔

    درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی سے متعلق اپنا منصفانہ اور شفاف کردار کھو دیا، عدالت الیکشن کمیشن کو پیپلز پارٹی، ن لیگ کے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی دو ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کی 5 سال کے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کا حکم دے۔

  • فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کل ہو گی

    فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کل ہو گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدلیہ مخالف بیانات پر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کل درخواست پر سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

    وکیل سلیم اللہ خان نے ذاتی حیثیت میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، درخواست کے ساتھ فواد چوہدری کے مختلف بیانات کا ٹرانسکرپٹ بھی منسلک کیا گیا ہے۔درخواستگزار کے مطابق فواد چوہدری نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف توہین آمیز بیان دیا، فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو توہین عدالت میں سزا ممکن نہیں کیونکہ وہ ایک پاپولر لیڈر ہیں۔

     

    پاک فوج میں چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان پر شدید غم و غصہ ہے، آئی ایس پی آر

     

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ فواد چوہدری کے خلاف توہین آمیز بیانات کی وجہ سے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  • توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا۔

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں،سرگودھا میں سوچا نہیں تھا لوگ اتنی تعداد میں جلسے میں آئیں گے، جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کے آنے پرشکریہ ادا کرتا ہوں، سیلاب کی وجہ سے متاثرین مشکلوں میں ہے،قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے،ہم سب مل کرسیلاب متاثرین کی مشکلیں کم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان، راجن پور میں لوگ متاثر ہوئے، ٹیلی تھون میں سوچا تھا تین گھنٹے میں چند کروڑ اکٹھے ہو جائیں گے، کم وقت میں متاثرین کے لیےساڑھے500کروڑاکٹھا کیا۔

     

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

     

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی تھون میں اوورسیزپاکستانیوں نے دل کھول کرپیسہ دیا،ٹیلی تھون کی تمام لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کا رابطہ نہیں ہوسکا،اگر فون لائنیں مصروف نہ ہوتی تو مزید پیسے اکٹھے ہوجاتے،سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کنٹرول روم بنائیں گے،جہاں پرمتاثرین کومدد کی ضرورت وہاں پرامداد بھجوائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر تمہیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا فارن فنڈنگ کیا ہوتی ہے،ہمیں زیادہ پیسہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھیجا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سے ہمیں ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں کومتحرک کرکے ایسی اسکیمیں لائیں گے تاکہ پاکستان کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے،لیٹروں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہم بیرون ملک ہاتھ پھیلاتے ہیں،قرضے اتارکرہم اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر ایک خود دار قوم بنیں گے،سوچا نہیں تھا سرگودھا کے لوگ اتنی تعداد میں باہرنکلیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہو گا تب تک عظیم قوم نہیں بن سکتے،ہمارے ملک میں ظلم کا نظام ہے، کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون ہے،چھوٹا چورجیل اور بڑا چور، چوری کرے تو ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے،آزاد عدلیہ کے لیے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا،8 دن ڈی جی خان کی جیل میں گزارے، جیل میں ایک امیر چورنہیں بلکہ سارے چھوٹے چورنظرآئے، ملک کے بڑے بڑے ڈاکو مجھے اسمبلی میں نظر آئے، بڑے لیٹروں میں سے ایک ڈیزل بھی ہیں، زرداری، شریف خاندان والے بیرون سازش کے تحت لیٹروں کو مسلط کیا گیا، آپ سب حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہو جائیں، جب تک یہ چوراوپربیٹھے ہیں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کو چیری بلاسم جوتے پالش کرنے والا چاہیے تھا،ڈیزل تو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا،ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے،زرداری نوٹ دیکھ کر اس کی مونچھیں اوپر، نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں، زرداری سے چلا جاتا نہیں لیکن پیسے کے پیچھے جان دینے کو تیارہیں، تینوں اکٹھے ہو گئے اور ان کے ساتھ اور سازشی پاکستان میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک پلان انسان اور ایک اللہ بناتا ہے،اللہ نے لوگوں کے دل موڑدیئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے سازش کی وہ ہکے، بہکے رہ گئے، قوم سڑکوں پرنکل آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دفعہ خواتین،بچے سڑکوں پرنکل آئے،25مئی کو پولیس، رینجرزنے خواتین پر شیلنگ کر کے خوف پھیلایا، میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا، ضمنی الیکشن ہارے تو ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئیں، ان کو خوف تھا کہ اگر عام انتخابات کرادیئے تو دو تہائی اکثریت عمران لے گا، ضمنی الیکشن کے بعد انہوں نے ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر کے رکھوادی ہے جس میں اُن چار لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام اُن چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پالتو الیکشن کمشنر کو مجھے فنڈنگ کیس میں نا اہل کرنے کا کہا گیا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،نوازشریف، زرداری،یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تو 27 ویں شب کو شب دعا منا رہے تھے، مدینہ میں ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگے اور مقدمہ میرے خلاف توہین مذہب کا درج کیا گیا، شہباز گل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں نے یہ کہا جنہوں نے تشدد نہیں روکا ان کیخلاف قانونی کارروائی کروں گا، اس پر میرے خلاف دہشت گردی کا کیس بنادیا گیا،مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دنیا میں مذاق اڑایا گیا، دہشتگردی مقدمے کا مقصد مجھے کسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،بتایا جائے کونسا معاشرہ کسٹوڈین تشدد کی اجازت دیتا ہے،حلیم عادل شیخ پر بھی تشدد کیا گیا، 27 مقدمات درج کیے گئے، مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں نواز شریف کی طرح مجھے بھی نا اہل کیا جائے، نواز شریف نے لندن میں اربوں روپے کے چار مہنگے فلیٹس خریدے، دس سال پہلے نوازشریف سے منی ٹریل مانگی آج تک نہیں دی،مریم نوازکہتی تھی لندن تو کیا ملک میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،مریم نواز جتنے سیدھے منہ سے جھوٹ بولتی ہیں کبھی کسی کو نہیں بولتے سنا، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کو سامنے لیکر آتا ہے، نواز شریف جب پکڑا گیا تو حسین نواز نے لندن فلیٹس کو تسلیم کیا، لندن کے چار بڑے محلات کی مالکہ مریم نوازہیں،قوم کا پیسہ چوری کر کے لندن کے فلیٹ خریدے گئے تھے ن لیگ والوں میرا نواز شریف کیس سے موازنہ نہ کرو،مسلم لیگ والوں میرا سب کچھ اورجینا مرنا پاکستان میں ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف جب قوم کی خواتین جاگ جائیں تو انقلاب آجاتا ہے، باپ اگر ن لیگ اور بچے، بیوی سارے تحریک انصاف میں ہوتے ہیں، ماں بچے کی شکل کو دیکھ کر پہچان جاتی ہیں، ماؤں کو پتا ہے(ن) لیگ اور زرداری چورہیں، قوم کے پیسوں سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے،26سال سے ان کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں، قوم کا جوپیسہ سکولز، ہسپتال، سڑکوں، بجلی بنانے پر لگنا تھا وہ چوری کیا گیا، کرپشن پورے ملک کو تباہ کردیتی ہے، یہ چوری کا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں،آج کل چیری بلاسم سیلاب متاثرین کے پاس صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے جارہا ہے، شہبازشریف اگر متاثرین کی مدد کے لیے سیریس ہیں تو اپنا اور بھائی کا آدھا پیسہ ملک میں واپس لے آئے،شہبازشریف جب سے اقتدارمیں آیا ہے ملک کی شرمندگی ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہبازشریف دوسروں سے کہتا ہے ملک میں پیسہ لیکر آؤ، یہ خود ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں، دنیا کا کوئی ایک سربراہ بتا دیں جس کا پیسہ بیرون ملک ہواوروہ اقتدارمیں ہو،ان کوہمارے اوپرمسلط کیا گیا ہے،آپ نے میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ہم نے ان لوگوں سے حقیقی آزادی چھیننی ہے۔ انہوں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں معاشی ترقی 6 فیصد گروتھ تھی،کورونا کے باوجود یہ 17 سال بعد پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی تھی،کورونا کے باوجود ہماری ریکارڈ ایکسپورٹ تھی،ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا، ہمارے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ پیسہ کمایا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا، 17 سے 18 فیصد مہنگائی تھی، آج مہنگائی 45 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے، بجلی کے بل دیتے ہوئے لوگوں نے دو گولیاں ڈسپرین کی بھی ساتھ کھائیں،ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10لاکھ علاج کی انشورنس دی،چارماہ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں میرے دوست نے کہا پہلی دفعہ ہیلتھ کارڈ پر دل کا آپریشن کیا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول اور عوام کوسبسڈی دی، آج سازش کرنے والے بتائیں ملک کا جوحال ہے کون ذمہ دارہے؟