Baaghi TV

Tag: سمندری

  • فیصل آباد میں 10 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کا ملزم گرفتار

    فیصل آباد میں 10 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کا ملزم گرفتار

    فیصل آباد: پولیس نے فیصل آباد میں 10 سالہ بچی سے زیادتی و قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد خالد ہمدانی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دس سالہ بچی ایمان فاطمہ کے قتل میں ملوث منیب نامی ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔

    سی پی او کے مطابق منیب کی عمر تقریبا سولہ سال ہے ، ملزم نے اقبال جرم کیا کہ اس نے بچی کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور لاش چھپانے کی جگہ نہیں ملی۔ایک ملزم منیب کا بھائی اٹھارہ سال کا ہے اسے بھی شامل تفتیش کیا ہے، بچی سے زیادتی ہوئی ہے یا نہیں اس پر مکمل میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی دیکھا جائے گا۔

    مدعیان کی جانب سے جتنے لوگوں کو نامزد کیا گیا انکو گرفتار کرنا پولیس کا فرض تھا ، تفتیش میں پتہ لگ جائے گا اور کون کون سے لوگ اس میں شامل ہیں۔سی پی او فیصل آباد خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر احتجاج کرنے والے کیس کو خراب کرنا چاہتے تھے،احتجاج میں کچھ غیر متعلقہ افراد بھی شامل تھے۔سی پی او خالد ہمدانی کے مطابق کل افسوسناک واقعہ پیش ایا ، پہلے بچی کی گمشدگی کی اطلاع ملی،گمشدگی پر فوری مقدمہ درج کیا گیا،پولیس افسران کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

     

    یاد رہے کہ کل سمندری میں 467 گ ب باویاں والا گاؤں میں ایک ننھی کلی کا زیادتی کے بعد قتل کردی گئی تھی ، مقامی ذرائع کےمطابق سمندری کے تھانہ سٹی کے علاقے میں دس سالہ بچی کل شام سودا سلف لینے قریبی دکان پر گئی تھی۔سمندری میں 467 گ ب باویاں والا گاؤں میں ایک ننھی کلی کی لاش ہمسایوں کی چھت سے ملی۔

     

    سمندری سے ذرائع کے مطابق بچی کے لواحیقن کا کہنا تھا کہ بچی کو پہلے قریبی دوکان سے پمپرلینے کے لیے بھیجا، بعد میں ہمسائی نے بچی کودوکان سے چاول لینے کےلیے چکی والوں کے پاس بھیجا توبچی واپس نہیں آئی، چکی والوں سے بھی پوچھا کسی نے کچھ نہیں بتایا، جس پر بچی کی تلاش شروع کری اور رات بارہ بجے تک بچی کے والدین اور دیگرعزیزواقارب اپنی بچی کی تلاش میں تڑپتے رہے اور مارے مارے پھرتے رہے ، حتی کہ پولیس کو بھی اطلاع دی گئی اور پولیس بھی بچی کو تلاش کرتی رہی

     

    بچی کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ساری رات اسی کرب میں گزری اور بچی کوتلاش کرتے رہے ، کوئی گھرنہیں چھوڑا جہاں بچی کو نہیں دیکھا گیا ،کوئی گلی محلہ نہیں چھوڑا جہاں بچی کی تلاش نہ کی گئی ہو، حتی کہ قریبی فصلوں میں بھی جاکر بچی کو تلاش کرتے رہےلیکن صبح صبح لوگوں نے اطلاع دی کہ بچی کی لاش چکی والوں کے گھر پڑی ہے ،

     

    پولیس کے مطابق بچی کا نام ایمان فاطمہ دختر محمد رمضان تھا جسکا تعلق نواحی گاؤں چکنمبر 467 گ ب سے تھا متاثرہ والد رمضان کے مطابق گزشتہ روز ایمان فاطمہ چار بجے کے قریب ہمارے ہمسائے کا دوکان سے سودا سلف لینے گئی جو گھر واپس نا آئی جس کو کافی تلاش گیا لیکن وہ نا ملی آج جس گھر کی چھت سے بچی کی لاش ملی ہے ہمیں ہمسائے کے بچوں نے بتایا کہ اس گھر کی چھت پر لاش ہے

     

    دھند کے باعث حادثہ، ایک ہی خاندان کے پانچ افراد چل بسے

    جس پر پولیس نے اس جگہ سے پانچ سے چھ مشتبہ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے اوربچی کی لاش بھی اپنی تحویل میں لے کر اس کے حوالے سے مزید میڈیکل رپورٹ بھی وضع کی جارہی ہے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جاسکے

     

    پولیس اور کرائم سین کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکھٹے کئیے جا رہے ہیں،پولیس ذرائع کے مطابق بچی کی لاش کریانہ کی دوکان کے ہمسائے کی چھت سے برآمد ہوئی ہے گزشتہ روز نامعلوم ملزمان کے خلاف 363 ت پ کے تحت مقدمہ بھی تھانہ سٹی میں درج کر رکھا تھا

    ووٹرز کو لے جانے والی جیپ کھائی میں گرنے سے ہوئی چھ خواتین کی موت

    کرائم سین کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کر رہی ہے آر پی او فیصل آباد سرفراز احمد فلکی نے تھانہ سٹی سمندری میں دس سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا سی پی او فیصل آباد سید خالد محمود ہمدانی سے اس افسوسناک واقع کی فوری رپورٹ طلب کرلی واقع میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کے احکامات جاری کر دئیے

    گھریلو حراسگی سے کیسے بچا جائے؟ جس دن لڑکی خود مختار ہو گئی تو کیا ہو گا؟

  • چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیوروکا 10 سالہ بچی سے زیادتی، قتل کے واقعہ کا نوٹس

    چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیوروکا 10 سالہ بچی سے زیادتی، قتل کے واقعہ کا نوٹس

    چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا سمندری میں 10 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعہ کا نوٹس، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی
    چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے سمندری میں 10 سالہ بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو فیصل آباد کی ٹیم کو مقتولہ بچی کے لواحقین سے رابطہ کی ہدایت کی۔ اس حوالے سے چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ نے کہا کہ سمندری میں 10 سالہ بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو فیصل آباد کی ٹیم مقتولہ بچی کے لواحقین سے رابطہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔مقتولہ بچی کو مکمل انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔

    دوسری جانب چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمدکے اٹلی میں 2022ء گلوبل کولیبو ریٹو آرگنائزیشن کی جانب سے گلوبل کولیبو ریٹو ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد واپسی پرچائلڈ پروٹیکشن بیورو کے افسران اور عملہ نے لاہورایئرپورٹ پر چیئرپرسن کا شاندار استقبال کیا۔ایم پی اے نیلم حیات اور بورڈ آف گورنرز کے ممبران بھی استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

    اس موقع پر چیئرپرسن سارہ احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل کولیبو ریٹو ایوارڈ کا حصول پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کی شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے انہیں کام کا موقع دیا اور ہمیشہ سپورٹ کیا۔ میں یہ ایوارڈ پاکستان کے تمام بچوں کے نام کرتی ہوں۔چیئرپرسن نے ا س موقع پر اپنی ٹیم کا شکریہ اد اکرتے ہوئے کہا کہ ا ن کی ٹیم کے کام کی بدولت انہیں یہ ایوارڈ ملا۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مزید احسن طریقے سے خدمات سرانجام دوں گی

  • ہمیں سکولوں کی  نہیں بچوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے،رکن پارلیمنٹ پھٹ پڑیں

    ہمیں سکولوں کی نہیں بچوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے،رکن پارلیمنٹ پھٹ پڑیں

    ہمیں سکولوں کی نہیں بچوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے،رکن پارلیمنٹ پھٹ پڑیں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ جس میں کمیٹی کو بلیو اکانومی، اس کے بڑے شعبوں اور وزارت کی جانب سے بلیو اکانومی کو آگے بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے آغاز میں کمیٹی اراکین نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے مکینوں کو درپیش مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سینیٹر نسیمہ احسان نے ساحلی علاقوں کے آس پاس کے مقامی لوگوں کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ”ہمیں سکولوں کی ضرورت نہیں بچوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی ضرورت“۔سیکرٹری وزارت سمندری امور نے کہا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے تجویز پیش کی کہ وزارت ساحلی علاقوں کے قریب پینے کے صاف پانی کے مسئلہ اور مقامی رہائشیوں کے دیگر خدشات کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو خط لکھے۔کمیٹی کو سیکرٹری وزارت کی جانب سے بلیو اکانومی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دنیا بھر میں سمندری اثاثوں کی تخمینہ مالیت تقریباً 24 ٹریلین امریکی ڈالر ہے اور اگر دنیا کی 10 بڑی معیشتوں سے پیمائش کی جائے تو دنیا نے بلیو اکانومی کو 7ویں نمبر پر رکھا ہے(WWF-2015)۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2015 میں براعظمی شیلف کی حدود سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن کے دعوے کی منظوری کے بعد، پاکستان نے 350 N (ناٹیکل میل) کا سمندری علاقہ حاصل کر لیا ہے، جس میں 200 N خصوصی اقتصادی زون (EEZ) اور 150 N کا علاقہ براعظمی شیلف کے طور پر شامل ہیں۔ پاکستان کی سمندری خودمختاری 290,000 مربع کلومیٹر کے کل رقبے پر قائم کی گئی ہے جو کہ ملک کی سرزمین کا 36.4 فیصد بنتا ہے۔ سینیٹر عابدہ محمد عظیم کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر سیکرٹری وزارت نے جواب دیا کہ آئینی طور پر 12 N (ناٹیکل میل) صوبوں سے منسلک ہیں اور 8 ناٹیکل میل بفر زون، نان فشنگ ایریا ہے۔ غیر ماہی گیری کا علاقہ مچھلیوں کی افزائش اور یہ مچھلیاں صرف مقامی ماہی گیروں کے لیے محدود ہیں۔ سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت 20 N میل کے بعدماہی گیری کو ریگولیٹ کرتی ہے اور صرف سمندری ماہی گیری کی نگرانی کرتی ہے۔

    عالمی بلیو اکانومی 24 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی صلاحیت کی حامل ہے ،وزیر خارجہ

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جار

    بلیو اکانومی پر بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ CPEC نے مکران کے ساحل کے ساتھ ترقی کے ممکنہ امکانات کو آگے بڑھایا ہے جو کہ بحری سیاحت اور ایکوا/میری کلچر کو قومی معیشت میں کردار ادا کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 23-09-2020 کو ایک سمری اسٹیک ہولڈنگ وزارتوں /ڈویژن کے ذریعے وزیر اعظم کو پیش کی گئی تھی جس میں متعدد میری ٹائم کاموں کو اس وقت مختلف وزارتوں کو واحد وزارت یعنی MoMA کی چھتری کے نیچے لانے کی تجویز دی گئی تھی۔ پاکستان میں بلیو اکانومی کے مسائل/ترقی کے لیے نیشنل میری ٹائم بورڈ (این ایم بی) اور نیشنل میری ٹائم کوآرڈینیشن کمیٹی (این ایم سی سی) کی شکل میں ایک کوآرڈینیشن میکنزم بھی تجویز کیا گیا۔ سینیٹر نزہت صادق نے استفسار کیا کہ کیا نیوی بلیو اکانومی میں اسٹیک ہولڈر ہے یا نہیں۔ سیکرٹری وزارت نے کہا کہ نیوی بلیو اکانومی کا لازمی حصہ ہے تاہم کمرشل شپنگ نیوی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ میری ٹائم افیئرز بلیو اکانومی روڈ میپ کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔ کمیٹی نے وزارت کو سفارش کی کہ وہ ساحلی علاقوں کے لوگوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے بھی کام کرے۔

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

     بلیو اکانومی پالیسی بنانے پر وزارت بحری امور کو مبارک باد

    کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سے 45 چینی کمپنیاں چین سے نقل مکانی کر رہی ہیں اور پاکستان میں اپنے پلانٹ لگانے کی توقع ہے۔ فنانس بل 2020-21 میں گوادر پورٹ اور فری زون کو ٹیکس چھوٹ دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ کمیٹی نے استفسار کیا کہ چینی صنعتوں میں مقامی لوگوں کا حصہ ہے یا نہیں۔ وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ گوادر کے لوگوں کو ملازمتوں میں ترجیح دی جائے گی۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ گوادر کے رہائشیوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی تربیت دینے کے لیے ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز مولا بخش چانڈیو، نزہت صادق، محمد اکرم، نسیمہ احسان اور عابدہ محمد عظیم نے شرکت کی۔ سیکرٹری وزارت بھی اس موقع پر موجود تھے

    بلیو اکانومی پاکستان کے لئے گیم چینجر کیوں؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی