Baaghi TV

Tag: سموگ

  • چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں،صوبہ کیسے چل رہا،عدالت

    چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں،صوبہ کیسے چل رہا،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی،وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں،نیازی اڈے سمیت دیگر چار بس اڈوں پر کارروائیاں کیں ،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ بس سٹینڈ پر گاڑیوں کو چیک کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ٹرانسپورٹ محکمے سے کوئی عدالت میں نہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں موجود نہیں، یہ اس طرح حکومت معاملے کو سنجیدہ لے رہی ہے،ہم دو سال سے سموگ سے متعلق احکامات دے رہے ہیں، کیا محکمہ ٹرانسپورٹ سویا ہوا تھا،سموگ کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات کرنے میں حکومتی محکمے ناکام ہیں،دو ماہ پہلے سموگ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، ہمارے بچے، ہم سب کی زندگیوں کا معاملہ ہے لیکن ادارے کردار ادا نہیں کررہے،جب آپ نے بائیکس کا اعلان کیا اور میں نے آرڈر پاس کیاتو سب نے باتیں کیں، اب صورتحال دیکھیں باہر جا کر، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو خود عدالت ہونا چاہئے تھا، میں بہت نا امیدہوا ہوں

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں؟وکیل درخواست گزار نے کہاکہ وہ جنیوا میں ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹنگ چیف سیکرٹری کہاں ہیں، یہ صوبہ چل کیسے رہا ہے،پچھلے سال میں آرڈر کئے تھے ان دو ماہ میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہئے،اس کے بارے میں کچھ کیا گیا ہے ؟سکول بند کر دیئے گئے، کنسٹرکشن کاکام بند کرایا گیا،ہر جگہ کنسٹریکشن کا کام چل رہا ہے،پچھلے دو سال سے ہم آرڈرز کررہے ہیں،کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے،حکومتی ادارے مناسب انتظامات کرنے میں ناکام رہے،6ماہ پہلے سے میں نے کہنا شروع کیا سموگ سیزن آنے سے پہلے اقدامات کریں،بارہا کہا کہ سموگ آ گئی تو اس کے بعد کچھ نہیں کر سکیں گے

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں سموگ کی لہر میں کمی نہ آ سکی

    لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں سموگ کی لہر میں کمی نہ آ سکی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں جاری سموگ کی لہر میں کمی نہ آ سکی، فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، فضا میں زہریلے ذرات کے باعث سانس لینا بھی محال ہو گیا

    لاہور کے بعد ملتان، پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی بھی سموگ کی لپیٹ میں آ گئے، ملتان آج بھی فضائی آلودگی میں سر فہرست ہے جہاں اے کیو آئی950 ریکارڈ کیا گیا ہے ،لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس560 تک جا پہنچا ہے جبکہ پشاور کا اے کیو آئی 597، اسلام آباد کا254 اور راولپنڈی کا اے کیو انڈیکس284 کو چھو گیا،لاہور میں خشک کھانسی، سانس میں دشواری، بچوں میں نمونیا اور چیسٹ انفیکشن میں اضافہ ہو گیا، ایک ہفتے میں شہر کے 5 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں، آنکھوں میں جلن اور جلدی امراض بھی بڑھنے لگے ہیں،سینے میں جلد ہو رہی ہے، سانس کی بیماریاں سامنے آ رہی ہیں،گورنر پنجاب نے مطالبہ کیا ہے کہ سموگ ایمرجنسی لگائی جائے، تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہوئیں لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا، بچے گلیوں میں کھیل رہے ہیں،

    پنجاب حکومت نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ پنجاب احمد جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے کی روشنی میں سموگ اور فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے انہیں ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے

    سموگ،پنجاب کے چار ڈویژنز میں آج سے مارکیٹس رات 8 بجے بند
    پنجاب کے چار ڈویژنز میں آج سے مارکیٹس رات 8 بجے بند ہوں گی ،ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے نوٹیفیکشن جاری کردیا ،جس کے مطابق لاہور میں آج سے مارکیٹس رات 8 بجے بند ہوں گی،فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان میں بھی آج سے مارکیٹس رات 8 بجے بند ہوں گی،تمام شاپنگ مالز، دوکانیں، ریسٹورینٹس آج سے رات 8 بجے بند کرنے کی پابند ہوں گی،ریسٹورینٹس کی آوٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی عائد کردی گئی،چاروں ڈویژنز میں آوٹ ڈور فیسٹیولز، کنسرٹس پر ہابندی ہوگی، فارمیسز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، بیکریوں کو استثنی ہوگا، بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز گروسری ایریا کھول سکیں گے، فیصلے کا اطلاق 11 نومبر سے 17 نومبر تک رہے گا، اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا،

    ڈپٹی کمشنر لاہور نے عوام سے سموگ کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے، انہوں نے کہا شہری غیرضروری باہر نکلنے سے گریز کریں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں، سموگ کے باعث سانس کی بیماریوں سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو خاص طور پر سموگ سے محفوظ رکھیں، سموگ کے دوران گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں، گاڑیوں کے غیرضروری استعمال سے گریز کریں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں، فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کی صحت کا خیال رکھنا اولین ترجیح ہے، شہریوں کا تعاون ہماری کامیابی کی ضمانت ہے، مل کر سموگ کا مقابلہ کریں گے۔

    سموگ، دھند، ملکی و غیر ملکی پروازیں تاخیر کا شکار
    پنجاب میں دھند کے باعث آج بھی مختلف ملکی اور غیرملکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں ،فلائٹ شیڈول کے مطابق پنجاب میں دھند کے باعث آج بھی ملتان اور فیصل آباد کی 3 پروازیں متبادل منتقل کی گئیں اور2 منسوخ ہوئی ہیں،جدہ ملتان کی غیر ملکی ائیر لائن کی 2 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں،، دبئی ملتان کی نجی ائیرلائن کی پرواز کراچی اور کراچی ملتان کی پرواز کو لاہور میں اتارا گیا،شارجہ فیصل آباد کی غیر ملکی ائیر لائن کی پرواز لاہور میں اتاری گئی ،ملک بھر میں کل 36 ملکی اور غیر ملکی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    سموگ کی خراب صورتحال، حکومت کا اینٹی سموگ ایکشن پلان میں سخت اقدامات کا فیصلہ
    پنجاب کے چار اضلاع میں دکانیں، مارکیٹیں اور بازار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانولہ میں کاروباری اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیںَپابندیاں ماحولیاتی قانون کی دفعہ چھ (ایک) (ٹی) کے تحت لگائی گئی ہیں ،فضائی آلودگی کی 500 کی حد عبور ہو چکی ہے جو انسانی صحت کے لیے مضر ہے، پنجاب حکومت کا حکم جاری کر دیا گیا،میڈیکل سٹور، تندور، بیکریاں، پٹرول پمپ، کریانہ سٹور، سبزی پھل گوشت کی دکانیں کھلی رہیں گی،یوٹیلیٹی سروسز، بجلی گیس، انٹرنیٹ، فون کے اداروں پر پابندیوں کا اطلاق نہیں ہو گا ،نماز، مذہبی اجتماعات، نمازجنازہ اور تدفین سے متعلق سرگرمیوں پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا،بوقت ضرورت مقامی ڈپٹی کمشنر بھی کسی سرگرمی پر عائد پابندی ختم کر سکتے ہیں،906 سکور سے ملتان فضائی آلودگی میں سب سے اوپر، 812 سکور سے روجھان دوسرے اور 653 سکور سے لاہور تیسرے نمبر پر ہے ،384 سکور سے پنڈی بھٹیاں چوتھے، 378 سکور سے منگلا پانچویں اور 275 سے راولپنڈی چھٹے نمبر پر موجود ہے،پاکستان میں مونجی اور فصلوں کی باقیات جلانے میں نمایاں کمی آئی، بھارت میں فصل جلانے اور دھوئیں کی مقدار بہت زیادہ دکھائی دے رہی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت میں فصل جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے،بھارت سے چلنے والی ہواؤں کا رخ بدستور پاکستانی علاقوں کی طرف ہے،لاہور سے امرتسر کا فضائی فاصلہ 45 کلومیٹر ہے،14 نومبر کو بھارت کی طرف سے چلنے والی آلودہ زہریلی ہواؤں کے رخ بدلنے کا امکان ہے،

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • لاہور میں مصنوعی بارش کی تیاریاں شروع

    لاہور میں مصنوعی بارش کی تیاریاں شروع

    لاہور میں سموگ کی بگڑتی صورتحال پر محکمہ ماحولیات اور موسمیات نے11 اور 12نومبرکو مصنوعی بارش کی تیاریاں شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات نے لاہور میں سموگ کے تدارک کیلئے مصنوعی بارش کیلئے مانیٹرنگ شروع کر دی ہے، 11اور 12 نومبر کو بادلوں میں 30 فیصد نمی کا امکان ہے، سیکریٹری ماحولیات راجاجہانگیر انور کا کہناتھا کہ نمی والےبادل آئے تو رواں سیزن مصنوعی بارش کاپہلا ٹرائل ہوگا،آرمی ایوی ایشن نے مصنوعی بارش کی ٹیکنالوجی تیار کی ہے، مصنوعی بارش کے لیے سازگار موسم درکار ہے، مصنوعی بارش کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے سموگ سے متعلق پابندیاں مزید سخت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ سموگ کی صورتحال یہی رہی تو مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں،سموگ کے خاتمےکیلئےسب کوکردار ادا کرنا ہوگا،حکومت کسی کا کاروبار بند نہیں کرنا چاہتی،چنگ چی رکشوں اور باربی کیو والوں کاتعاون درکار ہےتاجر برادری مہربانی کرکےاندازکاروبار پر نظر ثانی کرے۔

    یو اے ای میں ہونیوالے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ کیلئے سکواڈ …

    اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالت نے مارکیٹیں رات 8بجے بند کرنے کا بھی حکم دیدیا اور اتوار کے دن مارکیٹیں مکمل بند کرنے کاحکم دیدیا،لاہور ہائیکورٹ نے تمام نجی دفاتر میں 2دن کیلئے ورک فراہم ہوم کرنے کا بھی حکم دے دیا،عدالت نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ٹریفک پولیس کو دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فوری بند کرنے کی ہدایت کردی اور ڈولفن پولیس کو بھی ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کی ہدایت کی۔

    معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں،شہباز شریف

    جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل سموگ سے متعلقہ سرگرمیوں کا مانیٹر کریں گے،ڈولفن والے بے کار لوگ ہیں، خود دیکھاکہ چند لڑکوں کو سڑک پر پکڑ کر کھڑے تھے،مینار پاکستان کی طرف رات 11بجے گاڑیاں بڑی تعداد میں کالا دھواں چھوڑتی نظر آئیں،11بجے کے بعد جوگاڑیاں آتی ہیں ان سے اتنا دھواں نکلتا ہے جس کی کوئی حد نہیں،کاش افسر باہر نکل کر دیکھیں کہ کیا حالات ہیں،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع میں دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں،کیا ان افسران کی ذمے داری نہیں کہ وہ باہر نکل کر دیکھیں کہ گاڑیاں کتنا دھواں دے رہی ہیں۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 342 کا سوال …

  • لاہور میں سموگ کا راج برقرار،مارکیٹیں 8 بجےبندکرنے کا حکم

    لاہور میں سموگ کا راج برقرار،مارکیٹیں 8 بجےبندکرنے کا حکم

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سموگ کا راج برقرار ہے
    دنیا کے بڑے شہروں میں لاہور کی فضا سب سے آلودہ ریکارڈ ہوئی اور لاہور کی فضا میں 860 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا،پنجاب میں سب سے زیادہ ملتان شہر کی فضا انتہائی مضر صحت ہے جہاں پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 1635 تک جا پہنچی ہے، آلودہ فضا میں سانس لینا انسانی صحت کیلئے خطرناک بن چکا ہے۔ایئرکوالٹی 1175 ہوگیا اسموگ کے دوران اسکولوں میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں، اساتذہ بھی گھروں سے آن لائن کام کریں گے جب کہ اسکولوں میں ٹیچرز، والدین میٹنگز، اسپورٹس، تفریحی دورے نہیں ہوں گے،

    لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں آج بھی پہلے نمبر پر ے، گرین لاک ڈاؤن کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے تجاوز کر گیا ہے، شہر کے متعدد علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 1000 سے بھی اوپر چلا گیا ہے، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سموگ کے باعث آنکھوں اور گلے کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، ایک ماہ میں ایک لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں جس میں زیادہ تعداد بزرگ اور بچوں کی ہے۔

    شدید دھند اور سموگ، موٹروے بھی بند
    دوسری جانب لاہور شیخوپورہ اور اسکے مضافاتی علاقے شدید سموگ اور دھند کی لپیٹ میں ہیں شاہرات پر سموگ کی شدت کے باعث حدنگاہ کم ہوگئی ہے سموگ اور دھند کی شدت اور حدنگاہ میں کمی کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے شیخوپورہ تک جبکہ موٹروے ایم تھری لاہور سے جڑانوالا ایم فور گوجرہ سے عبدالحکیم تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔۔شہری دھند سموگ کے ایام میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دوران سفر کسی مشکل صورتحال میں موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر کال کرسکتے ہیں ۔

    دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے موٹر وے اور رنگ روڈز داخلے پر پابندی کا حکم
    لاہور ہائیکورٹ،سموگ کے تدارک کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی عدالت نے مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے اتوار کے دن بھی مارکیٹیں مکمل بند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے تمام نجی دفاتر میں دو دن کے لئے ورک فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے کیس کی سماعت جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر کی۔عدالت نے بڑی گاڑیوں کے شہر میں داخلے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرک اور ٹرالر سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہیں،ڈولفن پولیس اور پولیس اہلکار ہیوی ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے تعینات کئے جائیں،ہر سماعت پر حکومت کو سموگ کنٹرول کیلئے اقدامات کا کہتے رہے،اصل آلودگی کا باعث ہیوی ٹریفک کا دھواں چھوڑنا ہے،اگر لاری اور بسوں کو نوٹس دیئے ہیں تو ابھی تک بند کیوں نہیں ہوئیں،دھواں چھوڑنے والی بسوں کو 50، 50 ہزار جرمانہ کریں تو کیسے ٹھیک نہیں ہونگے،فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی سڑک پر کیسے آ سکتی ہے،محکمہ ٹرانسپورٹ کو اقدامات کرنے چاہئے تھا،ہم حکومت کی مدد کیلئے یہ اقدامات کررہے ہیں،حکومت شاید عدالتی احکامات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی ہو،ڈی سی وغیرہ پر حکومت کا دباؤ ہو تو کام کریں گے، سموگ کی صورتحال کا انتظامیہ کو رات کو جائزہ لینا چاہئے، ڈی سی لاہور اور کمشنر کو رات کو نکل کر دیکھنا چاہیے کیا ہورہا ہے،ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عملدرآمد ممکنہ نہ ہو،شادی پر ون ڈش تو کردی لیکن وہاں پر رش کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات نہیں کیے، ورک فرام ہوم کی پالیسی شروع کی جائے،پورے پنجاب میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں،صوبے میں مارکیٹیں اتوار کو بھی بند رکھی جائیں،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے موٹر وے اور رنگ روڈز داخلے پر پابندی عائد کی جائے، سموگ کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ اقدامات کرنے سے سموگ ایک سال میں کنٹرول نہیں ہو جائے گی،5 سال تک ان اقدامات کے نتائج آنا شروع ہونگے،چائنہ والوں نے سموگ اور آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کامیاب اقدامات کیے ہیں.

    وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر سموگ آگاہی مہم جاری ہے،وزیر صحت خواجہ عمران نذیرنے لاہور میں سموگ آگاہی مہم میں شرکت کی، خواجہ عمران نذیر نے لبرٹی مارکیٹ میں شہریوں کو ماسک تقسیم کئے،خواجہ عمران نذیر نے شہریوں کو ماسک پہنائےاور احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا

    سموگ میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں ،عظمیٰ بخاری
    وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہےکہ سموگ کو کم کرنے کیلئے ہمیں اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی لانا ہوگی، ملتان اور فیصل آباد کے حوالے سے میرے لئے بھی خبریں آج تشویشناک ہیں، فیصل آباد ویسے بھی انڈسٹریل سٹیٹ ہے، ہماری پوری حکومتی مشینری سڑکوں پر کھڑی ہے، گزشتہ 8ماہ میں سینکڑوں بھٹوں میں سے کئی مسمار کئے گئے، ہم بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لارہے ہیں، جو اس ٹیکنالوجی پر نہیں جائیں گے وہ پنجاب میں کام نہیں کرسکیں گے،ایسا نہیں کہ سموگ صرف پاکستان میں ہے باقی ممالک میں نہیں، بیجنگ آخری 26سالوں سے سموگ سے مقابلہ کررہا ہے، وہ بھی سموگ میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں ، وہ لوگ اپنی انڈسٹری کو بیجنگ سے دور لے کر جارہے ہیں،حکومت پاکستان بھی سموگ والے مسئلے پر اقدامات کررہی ہے، دہلی کی حکومت کو بھی اقدامات کرنا ہوں گے ، بھارت بھی سموگ کے معاملے پر فکرمند ہے

    پنجاب میں سموگ کی وجہ سے پارکس،تفریح گاہیں بند
    پنجاب حکومت نے بڑھتی سموگ کی وجہ سے پارکس، تفریح گاہیں اور عجائب گھر آج سے 10 دن کے لیے بند کر دیئے ہیں، اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 8 نومبر سے 17 نومبر تک لاگو رہے گی،نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی پر گرفتاری ہو گی اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • سموگ کا راج برقرار،سڑکیں پارکس ویران،سینکڑوں شہری ہسپتال پہنچ گئے

    سموگ کا راج برقرار،سڑکیں پارکس ویران،سینکڑوں شہری ہسپتال پہنچ گئے

    قصور
    سموگ کا راج برقرار،پارکس،سڑکیں ویران،سینکڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتال جا پہنچے،سموگ سے بچاؤ کیلئے آگاہی دی جائے،شہریوں کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں سموگ کا راج ابھی تک برقرار ہے البتہ اب سموگ پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے جس کے باعث پارکس،سڑکیں ویران ہو کر رہ گئی ہیں
    سموگ سے بیشتر لوگوں میں آنکھوں کی درد اور گلے کی خرابی کی بیماری جنم لے رہی ہیں
    سموگ کے باعث سینکڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے ہیں
    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سموگ سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں آگاہی دی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ماسک اور چشمے کا استعمال کئے بغیر گھر سے باہر نا نکلا جائے
    اس حوالے سے ٹریفک پولیس اپنا خاص کردار ادا کرے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرے تاکہ لوگ اپنے کام کاج پر سموگ کا شکار ہونے سے بچ کر جائیں

  • لاہور میں سموگ کا راج برقرار،ماسک لازمی قرار

    لاہور میں سموگ کا راج برقرار،ماسک لازمی قرار

    لاہور سمیت پنجاب میں سموگ کی شدت میں کمی نہ آ سکی، آلودگی کے اعتبار سے لاہور بدستور پہلے نمبر پر ہے،

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سموگ کی اوسط شرح 822 ریکارڈ کی گئی ہے تاہم ڈی ایچ اے فیز 8 کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1254 تک پہنچ گیا ہے، شملہ پہاڑی اور امریکی قونصلیٹ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 876 ریکارڈ کیا گیا ہے، محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے ایام میں سموگ کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے، بڑھتی ہوئی سموگ کے باعث شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں،سموگ کے باعث حکومت پنجاب نے پنجاب کے چار بڑے ڈویژنز میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے، مطابق لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان ڈویژنز میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے، 31 جنوری تک سموگ سے متاثرہ علاقوں میں ماسک پہننا لازمی ہو گا، شہری باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننے کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، سموگ سے متاثرہ علاقوں میں سانس کے امراض بڑھ رہے ہیں، لوگوں کو کیمیائی مادوں کے اثرات سے بچانے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بارہویں جماعت تک تعلیمی ادارے آج سے 17نومبر تک بند رہیں گے،شیخوپورہ،گجرات، جھنگ، قصور، سیالکوٹ، نارووال اور ملتان سمیت چاروں ڈویژنز کے 18 اضلاع میں کلاسز آن لائن ہوں گی،طلبا سکول نہیں جائیں گے، صرف اساتذہ کی حاضری ہو گی،

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اسموگ کی صورتحال کے پیش نظر اسپورٹس گالا ملتوی کر دیا گیا ہے،سموگ کی شدت میں کمی کے بعد اسپورٹس گالا کا انعقاد کیا جائے گا، پنجاب حکومت نے لاہور میں شہریوں کو ماسک فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے،مساجد میں اسموگ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کے حوالے سے پیغامات دیے جا رہے ہیں،لاہور میں 9 سے زائد مقامات پر آگ لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 15 ایف آئی آرز درج کر کے 4 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

    محکمہ ہائر ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے کالجز کو سموگ سے بچاو والے حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کر دی اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ بی ایس کلاسز میں آنے والے طلبا اور اساتذہ فیس ماسک کا استعمال لازمی بنائیں ،کلاسز میں آئے طلبا اور اساتذہ سموگ سے بچاو کے لیے چہرہ اور آنکھوں کو دھوئیں ،پرائیوٹ و سرکاری کالجز کے اوقات کار کے دوران کلاس رومز کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں،کالجز میں موجود کھیل کے میدانوں اور کھلے میں پانی کا چھڑکاو لازمی کیا جائے

    ماہرین کے مطابق سموگ، جو زیادہ تر دھوئیں، دھند اور زہریلی گیسوں کا مرکب ہوتا ہے، انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں سموگ کی سب سے بڑی وجہ فصلوں کی باقیات کو جلانا، بڑھتی ہوئی ٹریفک، اور صنعتی فضلہ ہے۔ اس کے علاوہ سردیوں میں درجہ حرارت میں کمی اور ہوا کی سست رفتار بھی سموگ کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ حکومت پنجاب نے سموگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور چیکنگ کے نظام میں بہتری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ٹریفک کے رش کو کم کرنے کے لیے بھی خصوصی مہمات چلائی جا رہی ہیں، اور صنعتی اداروں کو فضائی آلودگی کم کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سموگ کے اثرات سے بچنے کے لیے شہری ماسک کا استعمال کریں، خاص طور پر جب آلودگی کی سطح زیادہ ہو۔ ساتھ ہی، گھروں میں ہوا کی صفائی کے لیے ایئر پیوریفائرز کا استعمال اور کھڑکیاں بند رکھنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ سموگ سے بچاؤ کے لیے ہر فرد کا کردار انتہائی اہم ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور ذاتی سطح پر بھی ماحول کی صفائی کو ترجیح دیں تاکہ لاہور میں سموگ کی شدت کو کم کیا جا سکے اور ایک صاف و صحت مند ماحول میں زندگی گزار سکیں

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

    سموگ کی روک تھام،24 گھنٹوں میں لاہور 19 مقدمے،سات گرفتاریاں
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت: پنجاب پولیس سموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ان ایکشن ،گذشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور سمیت مختلف اضلاع میں سموگ کریک ڈاؤن کے دوران 19 مقدمات درج ، 07 افراد گرفتار کر لئے گئے، ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 382 افراد کو 07 لاکھ 55 ہزار روپے کے جرمانے عائد ، 28 افراد کو وارننگ جاری کی گئی ، تفصلوں کی باقیات جلانے کی 12 ، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 315 خلاف ورزیاں ہوئیں۔ صنعتی سرگرمی پر 02 ، اینٹوں کے بھٹوں کی 02 اور دیگر 05 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔ رواں برس انسداد سموگ کریک ڈاؤن میں مجموعی طور پر 1700 ملزمان گرفتار، 1826 مقدمات درج کئے گئے ۔ 19291 افراد کو مجموعی طور پر 03 کروڑ ، 20 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کئے گئے ۔ 1247 افراد کو وارننگ جاری کی گئی ۔فصلوں کی باقیات جلانے کی 1103 ، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 16499 خلاف ورزیاں ہوئیں ۔صنعتی سرگرمی کی 310 ، اینٹوں کے بھٹے کی 631 ، باری کیو کی 42 اور دیگر مقامات کی 180 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ دھواں چھوڑنے والے 4695 گاڑیوں کے چالان، 445 کو بند،01 گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کیا گیا ۔رواں برس شاہرات پر زیادہ دھواں چھوڑنے والی 07 لاکھ ، 15 ہزار 363 گاڑیوں کے چالان کئے گئے ،01 لاکھ 55 ہزار 494 گاڑیوں کو بند ، 10 ہزار 13 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کئے گئے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نےشاہراہوں، انڈسٹریل ایریاز ، زرعی سمیت دیگر مقامات پر انسداد سموگ کریک ڈاؤن میں تیزی کا حکم دیا ہے،آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالرینس کے تحت سخت کاروائی میں تاخیر نہ کی جائے، پولیس ٹیمیں انسداد سموگ کریک ڈاؤن میں محکمہ ماحولیات کے ساتھ کلوز کوارڈی نیشن برقرار رکھیں۔

    علاوہ ازیں لاہور کے گرین لاک ڈاؤن والے علاقوں میں دھواں چھوڑنے والے کمرشل جنریٹرز چلانے پر پابندی عائد کردی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ تدارک کی درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا ،عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کہ کمرشل جنریٹرز میں آلودگی کنٹرول کرنے والا آلہ 7 روز میں نصب کیا جائے، آلہ نصب نہ کرنے پرجنریٹرز کو سیل کیا جائے، ہاٹ اسپاٹ ایریاز سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک کی روانی یقینی بنائی جائے تاکہ آلودگی نہ پھیلے،عدالت نے اپنے حکم میں ڈی جی ماحولیات کی خدمات کو بھی سراہا،

  • پنجاب: پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک اسکولز بند کرنے کا اعلان

    پنجاب: پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک اسکولز بند کرنے کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک اسکولز بند کرنے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی : بڑھتی اسموگ کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، ڈی جی ماحولیات پنجاب نے تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹیفیکشن جاری کردیا ،جس کے مطابق پنجاب کی 4 ڈویژنز کے 18 اضلاع کے نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بارہویں جماعت اور اے لیولز تک بند رہیں گے، تمام تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز پر منتقل ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ فیصلے کا اطلاق لاہور، شیخوپورہ، قصور، ننکانہ صاحب پر ہوگا، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکو ٹ، نارووال میں بھی اسکولز بند رہیں گے، اس کے علاوہ فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، لودھران، وہاڑی، خانیوال میں بھی اسکولز بند رہیں گے، اسکولز بند رہنے کے فیصلے کا اطلاق 7 سے 17 نومبر تک ہوگا۔

    دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسموگ کے خاتمے کے لیے تمام محکمے کام کر رہے ہیں، ایئر کوالٹی انڈیکس کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم جدید آلات سے بنایا گیا ہےفصلوں کی باقیاتِ جلانے سے اسموگ میں اضافہ ہو رہا ہے، پلاسٹک بیگز پر پابندی ہے مگر خلاف ورزی ہو رہی ہے، اگر آپ نے ماسک نہیں پہنا تو آپ میتھین اپنے پھیپھڑوں میں پہنچارہے ہیں۔

    دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کی طالبہ کی انگلش تقریر میں پہلی پوزیشن

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ بچیوں کو آن لائن اسٹڈی کی جانب لے جائیں، انڈیا میں راجھستان اور دیگر اضلاع کی ہوا نے ملتان اور گوجرانولہ کو متاثر کیا، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ہزار سے زائد ہے لاہور کا اے کیو آئی 1100 سے تجاوز ہوااگلے 10 دن تک سمو گ کی صورت حال یونہی رہے گی بنیادی طور پر بھارت سے آنیوالی ہواؤں سے سموگ 1100 سے تجاوز کر جاتا ہے پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک اسکولز بند کر رہے ہیں، 7 نومبر سے لاہور، گوجرانولہ، فیصل آباد اور ملتان میں آن لائن اسکولنگ ہوگی، سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد افسران کام کریں گے، سرکاری دفاتر میں ذوم میٹنگز ہوں گی، ماسک ہر سطح پر ضروری کردیا گیا ہے، آئندہ 10 روز تک اسموگ کی شدت برقرار رہے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کی بات معاملے کی سنگینی کے باعث کی.جب تک بارڈر کے دونوں اطراف اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے سمو گ ختم نہیں ہو سکتی ہمیں بحیثیت قوم خود بھی ماحول کا خیال رکھنا ہے. مونجی وغیرہ کو نہ جلایا جائے، شاپنگ بیگ کے استعمال اورکوڑا جلانے سے گریزکریں-

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

  • پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم ہو گئی

    سپریم کورٹ نے پٹاخوں پر پابندی کی خلاف ورزی پر نئی دہلی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کر لیا ،فصلوں کو آگ لگانے پر پنجاب اور ہریانہ حکومت سے بھی جواب طلب کر لیا گیا، بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ پٹاخوں سے آلودگی پر قابو نہیں پایا جاتا ،افراتفری کی صورتحال پیدا ہوتی ہے،مستقبل میں ناکامی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، نئی دہلی حکومت پٹاخوں پر مستقل پابندی لگانے پر غور کرے،دیوالی کے اگلے روز نئی دہلی میں آلودگی میں اضافہ ہوا

    سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی،دوران سماعت حکومت کی جانب سے جمع شدہ رپورٹ پر عدالت نے کہا کہ اس بار آلودگی بڑھ گئی ہے،ہم دہلی حکومت کو آلودگی سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدام کے بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں،بھارتی سریم کورٹ نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کو پٹاخوں پر پابندی کے حوالہ سے اقدام پر حلف نامہ دینا ہو گا، کہ اگلے سال ایسا نہیں ہو گا، پنجاب و ہریانہ ریاستوں کے ذریعہ پرالی جلانے سے متعلق پچھلے 10 دنوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی حلف نامہ داخل کروانا ہو گا

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

  • فضائی آلودگی انڈیکس پر نئی دہلی پہلے ، لاہور دوسرے نمبر پر

    فضائی آلودگی انڈیکس پر نئی دہلی پہلے ، لاہور دوسرے نمبر پر

    فضائی آلودگی انڈیکس پر نئی دہلی پہلے نمبر پر، لاہور دوسرے نمبر پر آ گیا

    ہوا کا رخ تبدیل ہونے پر آلودگی انڈیکس پر دہلی 393، لاہور 280 سکور پر ہے ،2 سے ساڑھے 5 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا جنوب سے مشرق کی طرف چل رہی ہے ،بھارتی شہر کلکتہ 189 سکور سے تیسرے، 177 سکور سے دوبئی چوتھے، قاہرہ پانچویں اور ڈھاکہ چھٹے پر ہے ،4 اکتوبر کو لاہور ائیرکوالٹی انڈیکس پر 1194 کے سکور پر تھا، اس روز ہوا کی رفتار ساڑھے 8 سو کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی تھی ،اسموگ کی وجہ سے پنجاب حکومت نے لاہو رمیں آج سے ایک ہفتے کے لیے پانچویں جماعت تک کے اسکول بند کردیے ہیں، باقی کلاسوں کے لئے تعلیمی ادارے کھلے ہیں،

    پنجاب حکومت کا فضائی آلودگی کے خلاف سخت آپریشن جاری ہے،کنٹرول روم سے مسلسل نگرانی جاری ہے،عوام کو گھروں پر ہی رہنے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی اپیل کی گئی ہے،مونجی اور فصل کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی اور گشت جاری ہے،خلاف ورزیوں پر گرفتاریوں اور جرمانوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، سینئیر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکل موسمی حالات کا مقابلہ سب مل کر ہی کر سکتے ہیں، دھواں پھیلا کر انسانی زندگی سے نہ کھیلیں،خطے کا میڈیا، دانشور اور سوچ و احساس رکھنے والے لوگ رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں بارش کا کوئی امکان نہیں، ہوا نہ چلنے سے سموگ کی شدت برقرار رہنے کا خدشہ ہے،ملتان اور پشاور میں بھی سموگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سانس کے مسائل، آنکھوں میں جلن کی شکایات عام ہیں، طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک پہن کر گھروں سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

    لاہور سمیت مختلف اضلاع میں فصلوں کی باقیات کو جلانے والوںکے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 22 مقدمات درج کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 5 ملزمان کو جرمانے کروائے گئے جبکہ 3925 افراد سے شورٹی بانڈز لئے گئے۔ سموگ کا سبب بننے والے قانون شکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 758 مقدمات درج کئے گئے اور 607 کو گرفتار کیا گیا۔

    دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات نے انسداد سموگ کے لئے اقدامات اٹھاتے ہوئے جمعہ اور اتوار کی رات کو ہیوی وہیکلز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی، اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہیوی وہیکلز پر اس پابندی کا اطلاق 8 نومبر سے 31 جنوری تک ہوگا، ایندھن کی ترسیل کے استعمال ، فٹنس سرٹیفکیٹ رکھنے والی مسافر بسوں، ریسکیو کی گاڑیوں، پولیس اور قیدیوں کی وین، سرکاری ہیوی گاڑیاں بھی پابندی سے مستثنیٰ ہونگی۔

    اسلام آباد میں سموگ کا خطرہ،دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش

    لاہور میں اسموگ کا راج،گرین لاک ڈاؤن ہوا "بیکار”73 گرفتار

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    ڈیرہ غازی خان: بھٹوں اور دھان کی فصلوں کی باقیات جلانے سے سموگ، شہری بیماریوں کا شکار

    سموگ فری پنجاب،دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، مریم اورنگزیب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

  • اسلام آباد میں سموگ کا خطرہ،دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش

    اسلام آباد میں سموگ کا خطرہ،دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش

    اسلام آباد میں سموگ کا خطرہ،پاک ای پی اے نے ضلعی انتظامیہ سے دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش کردی

    بھٹوں سے دھویں کے اخراج، ٹھوس فضلے اور زرعی فضلے کر جلانے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے،انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سموگ سے بچاو کیلئے چار ماہ تک دفعہ 144 نافذ کی جائے،خلاف ورزی کی صورت میں ای پی اے ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے، خشک اور سرد موسم کے دوران سموگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، مشرقی اور وسطی پنجاب سب سے زیادہ سموگ سے متاثر ہوتے ہیں، آنیوالے دنوں میں میدانی علاقوں اور پوٹھوہار ریجن میں ایئر کوالٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،سموگ سے اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، لاہور اور دیگر شہر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، سموگ کا دورانیہ نومبر سے شروع ہوکر فروری تک رہتا ہے،سموگ کے انسانی صحت، ماحولیات اور ملکی معیشت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں،پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، ان اقدامات میں گاڑیوں سے دھویں کے اخراج، ٹھوس فضلے اور زرعی فضلے کو جلانے سے روکنا شامل ہے، ضلعی انتظامیہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے ایجنسی کی مدد کرے،

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے