Baaghi TV

Tag: سموگ

  • سموگ کا تدارک، جوہر ٹاون سے اللہ ہو چوک تک تمام کیفے سیل کرنے کا حکم

    سموگ کا تدارک، جوہر ٹاون سے اللہ ہو چوک تک تمام کیفے سیل کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: سموگ کے تدراک کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواستوں پر سماعت,چار دسمبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے گرین بیلٹ پر رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا،عدالت نے گرین بیلٹ پر کھڑی گاڑیوں کو جرمانے کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے ریلیف کمشنر کے نوٹیفکیشن پر عدم اطمینان کر دیا،عدالت نے کہا کہ واٹر کمیشن خود ریلیف کمشنر سے مل کر ازسر نو نوٹیفکیشن جاری کرائے،عدالت میں وکلا نے ایل ڈی اے 24کنال پر بنائے گیے سپورٹس کمپلیکس کی نشاندہی کی گئی ،عدالت نے اس کمپلیکس کو آپریشنل کرنے کے لیے ایل ڈی اے کے وکیل کو ہدایات جاری کر دیں ،عدالت نے کہا کہ اس نوٹیفکیشن میں سقم ہے ،عدالت نے جوہر ٹاون سے اللہ ہو چوک تک تمام کیفے سیل کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کیفوں کو ٹیک وے کی اجازت دے دی ،عدالت نے حکم دیا کہ میرے آرڈر تک ان کیفوں کو ڈی سیل نہ کیا جائے،پولیس اور ادارے عدالت کے آرڈر پر عمل درآمد نہیں کرتے،صرف وزیر اعلی کے حکم پر عمل درآمد ہورہا ہے۔

    میاں عرفان اکرم ایڈوکیٹ نے کہا کہ اے سی ماڈل ٹاون فی کیفے ایک لاکھ لیتا ہے ۔عدالت نے اپنے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ،عدالت نے ریلیف کمشنر کی طرف سے ہفتہ کو دفاتر تین بجے کھولنے پر افسوس کا اظہار کیا، عدالت نے کہا کہ ریلیف کمشنر کو سموگ نظر نہیں آتی، عدالت نے حکومتی نوٹیفیکیشن پر واٹر کمیشن کو کسی قسم کی مداخلت کرنے سے روک دیا،عدالت نے کہا کہ حکومت نے کاروبار اوردفاتر کا جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے واٹر کمیشن مداخلت نہ کرے،

    عدالت نےدھواں چھوڑنے والے بھٹہ اور فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دیا،واٹر کمیشن نے کہا کہ اگر حکومت دھواں اور بھٹے کنٹرول کر لیں تو سموگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے،ڈی جی پلاننگ نے کہا کہ ڈھاکہ سے لے کر انڈیا تک پالوشن سات سو گنا زیادہ ہے ،عدالت نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کرائیں، ہمیں سموگ دور سے نظرآتی ہے مگر ماحولیات کے افسروں کو کیوں نظر نہیں آتی، واٹر کمیشن نے کہا کہ ملتان میں بیشتر بھٹہ دھواں چھوڑتے ہیں ،عدالت نے کہا کہ آپ تسلیم کریں کہ سموگ ہے ،سڑکوں پر لگایا گیا پیسہ اگر سموگ پر لگایا جاتا تو اج سموگ نہ ہوتی.

    سموگ ، جمعہ اور ہفتہ کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان 

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

  • اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد(محمداویس) وفاقی دارالحکومت کی فضا ء صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگئی،پاک ای پی اے کی سرکاری رپورٹ نے تصدیق کردی،سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلے ذراتPM2.5کی مقدار88µg/m³ سے تجاوزکرگئی جبکہ وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارکسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ائیرکوالٹی زہریلی ہونے کے باجود وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پاک ای پی اے نے کسی قسم کی ایڈوائزی جاری نہیں کی جبکہ پاک ای پی اے نے رپورٹ جاری کرنابھی بندکردی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فضاء میں زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدارخطرناک حد تک بڑھ گئی جو کسی صورت 35µg/m³سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے،زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدرمقررہ حدسے تجاوز سانس کی بیماریاں پھیپھڑوں کاکینسراور اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔یہ زیریلے ذرات گاڑیوں اورفیکٹریوں میں فوصل فیول کے جلنے سے خارج ہوتے ہیں۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(پاک ای پی اے) نے فضائی آلودگی کی21نومبرکی رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آّباد کی فضا ء میں آلودہ زرات PM2.5کی مقدار مقررہ حد سے تجاوزکرگئی ہے مقررحد 35µg/m³ہے جبکہ ان کی مقدار67µg/m³ تک اوسط بتائی گئی ہے21نومبر کو پاک ای پی اے نے(ائیرکوالٹی) فضائی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی جس کے بعد سے ڈیلی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔21نومبرکو سرکاری رپورٹ کے مطابق زہریلی ذرات PM2.5 کی مقدار 88µg/m³ تک گئی ہے۔رات 1بجے سے صبح 8 بجے تک 51µg/m³ اوسط جبکہ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک62µg/m³اورشام 4 بجے سے رات 12 بجے تک 88µg/m³ی اوسط مقرار رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکار ی طورپر فضاء میں زہریلی ذرات کی ذیادتی کے باوجود پاک ای پی اے نے کسی قسم کی رپورٹ وایڈوائزی جاری نہیں کی البتہ روزانہ کی بنیادپر بننے والی رپورٹ جاری کرنا روک دی ہے اس حوالےسے پاک ای پی اے کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا وفاقی دارالحکومت میں نجی شعبے کی طرف سے لگائے گئی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق PM2.5 کی مقدار 191µg/m³ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ائیرکوالٹی انڈکس241تک گئی ہے ۔ڈیٹا کے تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ صبح دفتری اوقات اور مغرب سے رات تک ائیرکوالٹی انڈکس خطرناک حد تک چلاجاتاہے۔

    بیجنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروڈکٹیو میڈیسین کی معروف جریدے جرنل انوائرمینٹل انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کی فضائی آلودگی سے مردوں اورخواتین دونوں میں بانجھ پن کاخطرہ نمایاں حدتک بڑھ جاتاہے طبی تحقیق کے دوران فضائی آلودگی سے آبادی کے لیے بڑھنے والے خطرات کاتجزیہ کیاگیا۔ ماہرین نے چین کے 18 ہزارجوڑوں کے اعدادوشمار کاتجزیہ کرنے پر دریافت ہواکہ ایسے علاقے جہاں چھوٹے ذرات کی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتو ان علاقوں میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتاہے تحقیق میں یہ تعین نہیں کیاجاسکاکہ فضائی آلودگی کس طرح بانجھ پن کاباعث بن سکتی ہے مگر یہ پہلے سے معلوم ہے کہ آلودہ ذرات سے جسم میں ورم بڑھ جاتاہے جس سے مردوں ناورخواتین کاتولیدی نظام متاثر ہوسکتاہے۔رپورٹ کے مطابق بانجھ پن دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کی زندگی کومتاثرکرتاہے مگر اس حوالے سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اب تک کچھ خاص کام نہیں ہواہے۔فضائی آلودگی سے قبل ازوقت پیدائش اور پیدائش کے قت کم وزن جیسے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی ذرات PM2.5کی مقداراگر 35µg/m³سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں۔غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔(محمداویس)

  • ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم

    ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ تدارک کے لیے عدالتی حکم کے خلاف ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : مطابق اسموگ پر قابو پانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 84 فیکٹریاں عدالتی حکم پر سیل کی گئیں جنہیں ماحولیات ٹریبونل نے ڈی سیل کر دیا، ضلع ننکانہ میں فصلوں کی باقیات جلانے پر ذمہ دار افسروں کو معطل کر دیا گیا۔

    عدالت نے آلودہ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں اور بَھٹوں کو ڈی سیل کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کن کن افسران نے ڈی سیل کیا؟ ان کے نام بتائیں، عدالت ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے خلاف کارروائی کرے گی، ایک دو افسران کے خلاف کارروائی ہوگی تو باقی سب ٹھیک ہوجائیں گے۔

    جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ اگر کسی افسر نے اس عدالت کے علاوہ کسی کا حکم مانا تو اس کو معطل کر دوں گا، میرا حکم ہے کہ اگر عدالت کے حکم پر کوئی چیز سیل ہوتی ہے، تو اسے کسی دوسرے آڈر سے ڈی سیل نہیں کیا جا سکتا۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید اضافہ

    دوران سماعت عدالت نے محکمہ زراعت سے فصلوں کی باقیات کے لیے سپرسیٹڈیڈ کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے استفسار کیا کہ کن کن علاقوں میں کسانوں نے سپر سیٹڈیڈ کو فصلوں کی باقیات کے لیے استعمال کیا؟ عدالت نے اسموگ کے لیے اقدامات پر کمشنر لاہور کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ اقدامات کے باعث اسموگ میں کمی واقع ہوئی ہے، فصلوں کی باقیات کو جلانے سے نہ روکنے پر کارروائیاں جاری ہیں۔

    پنجاب حکومت نے بتایا کہ فصلیں جلانے کے معاملے پر ننکانہ کے 40 افسران کو معطل کردیا گیا ہے، وکیل ممبر کمیشن نے کہا کہ حکومت کے مطابق ہفتے کے دو دن ورک فرم ہوم کا نوٹیفکیشن کچھ دیر بعد جاری کردیا جائے گا۔

    امریکی ڈالر مزید سستا

    عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور کو سگنل فری بنایا جارہا ہے جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ لاہور کو سگنل فری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ بہت خطرناک کام ہے، سٹرکوں پر یوٹرن کا معلوم ہی نہیں ہوتا، جیل روڑ کو سگنل فری کرنے کا پروجیکٹ فیل ہوچکا،مختلف محکموں نے عدالتی حکم پر کارکردگی رپورٹس عدالت میں پیش کیں، بعدازاں عدالت نے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

    آسٹریلیا کے ورلڈ کپ جیتنے سے سٹے بازوں کو بڑا 

  • جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم

    جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے باعث جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو سکول ،کالجز اور یونیورسٹیز بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں کا تحریری حکم جاری کردیا ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت ہفتے کے دو روز ورک فرام ہوم کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے،نوٹیفکیشن میں جم بند کرنے کا لفظ معطل کیا جاتا ہے ،یہ نوٹیفکیشن کرونا کی شق کے تحت کیا گیا اسے مزید لاگو نہیں کیا جاسکتا،اسموگ کے خلاف کاروائیاں نہ کرنے والے محکمہ ماحولیات ایسے افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرے،

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

    وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ا سموگ کا 40 فیصد بھارت سے آیا ہے ،عدالت نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کو کچھ پتہ نہیں ہے ،برطانیہ میں ججز آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں،آپ سائیکلنگ کو فروغ دیں لاہور والے 5 ماہ بعد آپ کو سائیکلوں پر نظر آئیں گے، یہ سب حکومتی ادارے کرسکتے ہیں .

  • کراچی آج  دنیا کے آلودہ  ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

    کراچی آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

    کراچی: شہر قائد آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا ہے،آج کراچی کا ایئرکوالٹی انڈیکس239 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے بعد دوسرا نمبر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا ہے جہاں ایئرکوالٹی انڈیکس 196 ریکارڈ کیا گیا ہے،جبکہ تیسرے نمبر پر لاہور ہے جہاں کا ایئرکوالٹی انڈیکس 191 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے 10 اضلاع میں اسموگ کی روک تھام کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے،پنجاب کے شہر لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، قصور،گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جس دوران نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے فضائی آلودگی کے سبب لاہور میں تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے-

    نارووال میں انسانیت سوز واقعہ،زمیندار نے 6سالہ بچی کو جانوروں کی طرح زنجیروں سے جکڑ …

    حکومت پنجاب نے صوبے کے 10 اضلاع میں تمام سرکاری اور نجی اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں بند رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے جب کہ بازار، دکانیں،جم، سنیما گھر اور دفاتر 3 بجے کے بعد کھولے جا سکیں گے۔

    محمد یوسف پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر

  • سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    اللہ تعالیٰ نے جس کائنات کی تخلیق کی وہ بے حد وسیع ، خوبصورت ، حسین وجمیل ، صفاف وشفاف اور اجلی ہے ۔لیکن انسان اپنی نت نئی ایجادات اور مصنوعات کے مرہون منت اس کائنات کو آلودہ اور تباہ کررہا ہے۔ یہ آلودگی درحقیقت زہر ہے جو انسانی صحت اور زندگی کو برباد کررہی ہے ۔ اس وقت جو چیزیں کائنات کو آلودہ اور انسانی صحت کو تباہ کررہی ہیں ان میں سر فہرست۔۔۔۔ ”’ سموگ “‘ ہے ۔ سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ ،دماغ اور جسم کو تاحد نگاہ متاثر کرتی ہے، سموگ کو زمینی ” اوزون “ بھی کہا جاتا ہے ،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔
    جو چیزں سموگ کے بننے اور پھیلنے پھولنے کا سبب بنتی ہیں وہ ہے بارشوں میں کمی، فضلوں کو جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں ،درختوں کا بے تحاشا کٹاﺅ اور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا ۔۔۔۔یہ سموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
    سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ کی نوعیتیں ، کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہاجاتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔
    سموگ سے بچاﺅ کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ وہ ہے جو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے ۔ یعنی مناسب حفاظتی لباس پہنایا جائے ۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو آپکو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو سموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں ۔یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں ، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے اپنے آ پ کو فضائی آلودگی سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں مشورہ کریں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر آپ کو سانس لینے میں مدد کے لیے کوئی دوا تجویز کر سکتا ہے۔

    اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیںاس لئے بچوں کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے ۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سموگ سے بچاﺅ کیلئے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں ، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ حکومت دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرے جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے ۔نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں سموگ کی وبا عام ہوجاتی ہے ۔ حکومت اس سے نمٹنے کے کےلئے ہر سال پنجاب بھر میں سموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کےلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں ۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    بجلی کے بلوں کی وجہ سے گھر گھر لڑائیاں ہورہی ہیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    مراعات میں شاہانہ اضافے کے بل کی منظوری افسوسناک ہے،سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام

    قرآن مجید کا پڑھنا عبادت اوراس پر عمل کرنا باعث نجات ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    اصل بات یہ ہے کہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں سموگ سے بچاﺅ کےلئے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی اقدامات ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دل ہے ، پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی ، تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے ، لاہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے ۔ ہریالی کا فقدان ہے ، آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی ۔اگر چہ پنجاب حکومت ہر سال لاہور کو سموگ زدہ شہر قراردیتی ہے اس مناسبت سے وقتی طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن اقدامات موقع محل اور ضروریات کی نسبت قطعی ناکافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگلے سال سموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سموگ کی شدت بڑھتی جارہی ہے لہذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ انتظامیہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کےلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ مثلاََ یہ ہے کہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کیا جائے ، ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے ، شجر کاری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ۔یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عمل کرکے سموگ جیسی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور لاہور کو بھی بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ سموگ کا تدارک اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ چھوٹے بچوں کی صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے جبکہ بچے ہی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔۔۔بچے محفوظ ہوں گے تو ہم بھی بحیثیت قوم محفوظ رہیں گے ۔
    subiyal

  • لاہور میں مصنوعی بارش برسانے کیلئے ماہرین کی خدمات لے لی گئیں

    لاہور میں مصنوعی بارش برسانے کیلئے ماہرین کی خدمات لے لی گئیں

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ سموگ سے نمٹنا قومی ذمہ داری ہے،ہر طبقے کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔

    وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت سموگ سے نمٹنے کے لئے ہر وہ اقدام اٹھا رہی ہے جو انسانی بس میں ممکن ہے۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ ماسک پہنیں۔لاہور میں 12مقامات پر سموگ ائیر فلٹر آئیونائزر یونٹس لگائے جائیں گے۔سموگ پر قابو پانے کے لئے اعلیٰ اختیاراتی انوائر مینٹل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔مصنوعی بارش برسانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔بیجنگ میں سموگ کا خاتمہ کرنے والی چینی ماہرین کی ٹیم جلد لاہور کا دورہ کرے گی۔ پنجاب حکومت کی ایک اور خصوصی ٹیکنیکل ٹیم بدھ کو الماتا روانہ ہوگی۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 30دن میں چنگ چی رکشوں کی فری رجسٹریشن کی جائے گی او رپھر غیر رجسٹرڈ چنگ چی رکشوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا۔سرکاری سطح پر فیول موٹر سائیکل خریدنے پر پابندی لگائی جارہی ہے،اب الیکٹرک بائیک ہی خریدی جائیں گی۔پنجاب میں پہلی بار انوائرمینٹل لیب قائم کی جائے گی۔لاہور سمیت تمام ا ضلاع میں غیر معیاری فیول کی چیکنگ تیز کر دیاہے۔ محکمہ پولیس اور ٹرانسپورٹ کو غیر معیاری پٹرول فروخت کرنے والے پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن کاحکم دے دیاہے۔پاکستان میں 10فیصد فصلوں کی باقیات کوجلایا جاتا ہے جبکہ انڈیا 90فیصد فصلوں کی باقیات جلاتا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی باقیات تلف کرنے کے لئے جدید مشینری دیں گے تا کہ آئندہ سالو ں میں ہم ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

    دوسری جانب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں‌ سموگ کاراج برقرار ہے، فضائی آلودگی کےاعتبارسےلاہور آج بھی پہلے نمبر پر رہا، لاہور شہر میں فضائی آلودگی کی مجموعی شرح317ریکارڈ کی گئی، فیز 8 ڈی ایچ اے میں شرح 411، کینٹ پولو گراؤنڈ 454، ایچی سن کالج میں شرح401 ریکارڈ کی گئی، شہر کا موجود درجہ حرارت 13 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا.

  • کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف کریک ڈاؤن،تین دن میں 1398 مقدمے

    کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف کریک ڈاؤن،تین دن میں 1398 مقدمے

    لاہور ٹریفک پولیس کا کم عمر ڈرائیونگ کےخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے

    تین دن میں‌ 1398 مقدمات درج، سینکڑوں گاڑیاں تھانوں میں بند کر دی گئی ہیں،شہر کے پوش علاقوں میں ناکے، سخت کریک ڈاؤن جاری ہے، سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ والدین 18 سال سے کم عمر بچوں کو ہرگز گاڑی،موٹرسائیکل نہ چلانے دیں، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے خود ذمہ دار ہیں، کریمنل ریکارڈ بننے سے سرکاری نوکری اور ویزہ حصول میں مشکلات آسکتی ہیں، اب کم عمر ڈرائیورز کیخلاف ایف آئی آر درج ہو گی، والدین اپنی ذمہ داری نبھائیں اور اپنے کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ کی اجازت ہرگز مت دیں،

    دھواں چھوڑنے والی 6 ہزار سے زائد گاڑیاں بند
    دوسری جانب دھواں چھوڑنے والی 06 ہزار 961 گاڑیاں بند کر دی گئی ہیں،لاہور ٹریفک پولیس کا خطرناک حد تک دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے،ایک ماہ کے دوران 06 ہزار 961 گاڑیوں کو تھانوں میں بند کروا دیا گیا، رواں ماہ 11 ہزار جبکہ رواں سال 47 ہزار سے زائد گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کئے گئے، سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ سموکی وہیکلز کو دو، دو ہزار روپے کے جرمانے کئے جارہے ہیں، سی ٹی او لاہور کی سموگ کے خاتمے کیلئے عوامی رابطہ مہم بھی جاری ہے،ٹریفک پولیس کا آفیشل واٹس ایپ نمبر 03268888088 متعارف ہے، شہری دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی ویڈیوز، تصاویر واٹس ایپ کریں، سی ٹی او لاہور مستنصر فیروز کا کہنا ہے کہ شہری کوڑا کرکٹ کو آگ، فصلوں کی باقیات کو جلانے والوں کی ویڈیوز بھی بھیج سکتے ہیں، شہری ٹائر جلانے والوں، آلودگی کا باعث بننے والی وجوہات کی ویڈیوز بھی بھجوا سکتے ہیں،ویڈیوز، تصاویر واٹس ایپ کرنے والے شہریوں کو تعریفی اسناد جاری کی جائیں گیں، سموگ پر قابو نہ پایا گیا تو خطرناک بیماریوں کا باعث بنے گا، تمام شہریوں کو سموگ کے خاتمے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا،

     عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

  • سموگ تدارک کیس،جتنا کردار فیکٹریوں کا اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے،عدالت

    سموگ تدارک کیس،جتنا کردار فیکٹریوں کا اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک سے متعلق کیس کی سماعت 22نومبر تک ملتوی کر دی گئی

    درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے گزارشات پیش کی گئیں، وکیل نے کہا کہ ریسٹورنٹ کو جلد بند کیا جائے گا ،سینما ہال جم وغیرہ بھی بند رہیں گے،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ گزارشات غیر ضروری ہیں ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جم کے بند کرنے کا حکم تو کورونا کے دوران دیا تھا،ا سموگ پھیلانے میں جتنا کردار فیکٹریوں کا ہے اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے، ہمیں ان افسران کی نشان دہی کروائیں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی،گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے،ڈولفن والے اور کچھ نہیں کرتے تو گاڑیاں دھونے والے کی تصویر ہی اتار لیں،

    وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ شاہدرہ والا پروجیکٹ ہوگیا ، کیولری گراؤنڈ والا تکمیل کے مراحلےمیں ہے،اکبر چوک والا پراجیکٹ بھی مکمل ہونے کوہے،وکیل ایل ڈی اے نے عدالت کو آگاہ کردیا،جسٹس شاہد کریم نے وکیل ایل ڈی اے سے استفسار کیا کہ وہاں کتنے درحت لگائے ہیں ؟وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ درخت لگانے سے متعلق معاملے پر بھی کام جاری ہیں ،عدالت نے کہا کہ بڑی کمپنیوں سے بات کریں وہ گرین بیلٹس کو بھرنے میں کام کریں کچھ انویسٹ کریں ،اسموگ کے روک تھام کےلیے چین کو خط لکھا وہاں سے جواب آچکاہے ، چین کی جانب سے جو جواب آیا وہ چیف سیکریٹری کے پاس موجود ہے عمل کروائیں،

    وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ا سموگ کا 40 فیصد بھارت سے آیا ہے ،عدالت نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کو کچھ پتہ نہیں ہے ،برطانیہ میں ججز آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں،آپ سائیکلنگ کو فروغ دیں لاہور والے 5 ماہ بعد آپ کو سائیکلوں پر نظر آئیں گے، یہ سب حکومتی ادارے کرسکتے ہیں .

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

  • سموگ تدارک کیس،ہفتے کو مکمل شٹ ڈاؤن،سکول کالجز بند کرنے کا حکم

    سموگ تدارک کیس،ہفتے کو مکمل شٹ ڈاؤن،سکول کالجز بند کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ تدراک کیس کی سماعت ہوئی،

    کمشنر لاہور کی جانب سے لیگل ایڈوائزر صاحبزادہ مظفر علی نے رپورٹ جمع کروادی ،رپورٹ میں کہا گیا کہ ننکانہ اور شیخوپورہ میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ،ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ کے پٹواری، گردوار سمیت دیگر کو معطل کردیا گیا ،سائیکلنگ کو فروغ دینے کے لیے لاہور میں استنبول چوک سے لیکر مال روڈ تک گرین لائن بنا دی گئی،ایل ڈی اے، واسا اور پی ایچ اے کے درج چہارم کے ملازمین کو سائیکلیں دینے کیے لیے تجاویز نگران وزیر اعلی کو بھجوادیں گئی ،اسموگ کے تدراک کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں،سرکاری وکیل نے کہا کہ ممبران جوڈیشل کمیشن کی نگراں وزیر اعلی سے میٹنگ نہیں ہوسکی ،عدالت نے جوڈیشل واٹر کمیشن کے ممبران کو نگراں وزیر اعلی سے جمعہ کو شام پانچ میٹنگ کرنے کی ہدایت کردی

    جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے اضلاع کی نسبت لاہور میں سموگ پر بہتر کام ہو رہا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ کمشنر لاہور زاتی دلچسپی لے رہے ہیں،وکیل پی ایچ اے نے کہا کہ پی ایچ اے کے تمام ملازمین کی بائیکس کو الیکٹرک بائیک مین تبدیل کر رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس کا کام حکومتی سطح پر ہوگا تو زیادہ مفید ہوگا ،عدالت نے ایل ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبے کب تک مکمل ہونگے،وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے آئندہ سماعت پر اس حوالے سے رپورٹ پیش کردیں گے ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دو ہفتے پہلے جو سموگ تھی وہ دوبارہ نہ ہو .

    عدالت نے حکم دیا کہ ہفتے کے روز مکمل شٹ ڈاون کریں،اسکول کالجز کو بند کریں،کم از کم 2 دن مکمل طور پر شٹ ڈاون کریں، ورک فرامم ہوم کی پالیسی پر پچھلے سال کام کیا تھا اب بھی عملدرآمد  کروائیں،

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں