پشاور سٹی پولیس کی جانب سے رواں ماہ کے دوران منشیات کی روک تھام کیلئے ہونے والی کاروائیوں کا رپورٹ جاری کر دیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق ضلع پشاور میں منشیات کی روک تھام کی خاطر منشیات سمگلنگ، سرگرم منشیات فروش، خصوصی آئس فروشوں کے خلاف خا ص کریک ڈاون کیا گیا.جس کے نتیجے میں رواں ماہ میں 516 مقدمات درج، اور 580 ملزمان گرفتارکر لئے گئے،رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے 27 کلوگرام آئس ، 74 کلوگرام چرس،17 کلوگرام ہیروئن، 5 کلوگرام افیون، 363 بوتل شراب برآمد کی گئی ہیں
تمام ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش کے بعد پشاور سنٹرل جیل بھیج دیا گیا.
Tag: سمگلنگ

ضلع پشاور میں رواں ماہ کے دوران منشیات کے روک تھام کیلئے کاروائیاں

قربانی کے جانوروں کی بیرونی ملک نقل و حمل روکنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت
پشاور بار ایسوسی ایشن کا قربانی کے جانوروں کی بیرونی ملک نقل و حمل روکنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس شکیل احمد اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی،سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار یاسر خٹک ایڈوکیٹ نے استدعا کی کہ
عید الاضحی کے موقع پر بیرونی ملک جانوروں کی غیر قانونی سمگلنگ کی جارہی ہے۔ اور جانوروں کی غیر قانونی سمگلنگ کی وجہ سے اندرون ملک قیمتیں مزید بڑھ گئی ہے۔ یاسر خٹک ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ جانوروں کی غیر قانونی سمگلنگ کی وجہ سے پھر یہاں جانوروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور قیمتوں پر بھی بہت اثر پڑتا ہے۔ جس پر عدالت نے بیرونی ملک جانوروں کی سمگلنگ روکنے کا حکم دےدیا وفاقی اور صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ کہ جانوروں کی سمگلنگ کو روکا جائے،
بچے بھی غیر قانونی طور پر تقریبا 2 کروڑ کی سگریٹ سمگل کرنے لگے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-این ایل سی حکام کی جانب سے کمیٹی کو این ایل سی کی کارکردگی اور آپریشنل مکینزم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی-
کمیٹی اجلاس کے آغاز میں چئیرمین کمیٹی نے حالیہ طورخم سلائنڈنگ سانحے کی فوٹیج میں سیمنٹ کی بوریوں میں چینی افغانستان اسمگل کرنے کا معاملہ اٹھایا-این ایل سی حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم تردیدی پریس ریلیز جاری کرچکے ہیں جبکہ معاملے کی جانچھ کی جارہی ہے-این ایل سی حکام نے بتایا کہ 2008 میں یو این، آئی ایس اے ایف کے دور میں این ایل سی کو مزید فعال بنایا گیا-علاقائی روابط کو بڑھا کر دیگر ممالک تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں -حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت واہگہ، جمرود، چمن، طورخم، تافتان، خرلاچی اور غلام خان بارڈر ٹرمینلز مکمل طور پر آپریشنل ہیں جبکہ انگور اڈا،گبد،خنجراب،بادینی اور مند بارڈر ٹرمینلز کو آپریشنل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے-انہوں نے مزید بتایا کہ انگور اڈا اور گبد بارڈر ٹرمینلز کیلئے ایف بی آر نے پی سی-ون پراسس کر لیا ہے اور وزارت منصوبہ بندی اس کی منظوری دے گا-ان کا کہنا تھا کہ مند بارڈر ٹرمینل کیلئے 55 ایکڑ کی زمین حاصل کرنے میں مسائل سامنے آرہے ہیں جس کے حصول کیلئے کوشش کی جا رہی ہے-انہوں نے بتایا کہ خنجراب میں چین کے ساتھ کوئی بارڈر ٹرمینل فلحال آپریشنل نہیں ہے لیکن ہم نے تجویز دی ہے کہ خنجراب میں بارڈر ٹرمینل آپریشنل ہو تاکہ درآمداد/برآمداد میں اضافہ ہو-اس حوالے سے سیکریٹری وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ کرونا وبا کے باعث یہ ٹرمینل بند ہوگیا تھا لیکن اب اس حوالے سے چین سے بات ہوگئی ہے-انہوں نے کہا کہ سمری وزارت کو بھجوائیں تاکہ خنجراب بارڈر ٹرمینل کو جلد آپریشنل بنا کر ٹریڈ فعال ہوسکے-
سینیٹر نزہت صادق کے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ بارڈر ٹرمینلز پر کلئیرنس میں زیادہ سے زیادہ 24-48 گھنٹے لگتے ہیں -انہوں نے بتایا کہ تافتان پر 20 اسٹیشنز جبکہ چمن پر ایک ہی اسٹیشن ہے-پاکستان میں تمام ٹرمینلز سے روزانہ 2100-2200 گاڑیاں آتی جاتی ہیں -حکام نے مزید بتایا کہ کچھ ٹرمینلز کی آپگریڈیشن کیلئے 29 ارب روپے چاہئے جس کیلئے وزارت کو سمری بھیجی ہے جس پر سیکریٹری وزارت منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 29 ارب روپے بہت زیادہ ہیں اس کو کم کردیں –
سینیٹر محمد شفیق ترین کا کہنا تھا کہ این ایل سی کا کام لاجسٹک کا تھا لیکن اب دیگر بزنسز میں بھی آگئی ہے-سینیٹرز شفیق ترین اور اعجازچودھری نے پوچھا کہ این ایل سی کے وسائل اور کاروبار کتنے ہیں اور ان کا دائرہ اختیار کیا ہے-جس پر چئیرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں ڈی جی این ایل سی کو طلب کرتے ہوئے این ایل سی کے وسائل، ذرائع آمدن، اخراجات، ان کے کاروبار سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی طلب کرلی-قائم مقام ڈی جی این ایل سی نے بتایا کہ این ایل سی اربوں روپے کا ٹیکس دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں ٹرانسپورٹیشن، ٹریڈکے نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے کوشاں ہے-
حکام این ایل سی نے مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود ہینڈلرز چھوٹے بچوں کو استعمال کرتے ہوئے ان کو تھوڑا سامان دے کر سمگل کراتے ہیں اور یہ بچے گاڑیوں کی مختلف جگہوں میں چھپے ہوتے ہیں کچھ اسی کوشش میں ہلاک بھی ہو جاتے ہیں -انہوں نے سفارش کی کہ دونوں ممالک کی معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان دونوں اطراف سے اس کو لیگل کیا جائے کہ یہ بچے اپنے ساتھ 5-10 کلو سامان ساتھ لے جا سکتے ہوں -کمیٹی نے سفارش منظور کرتے ہوئے حکام کو کہا کہ وہ کمیٹی کو سفارشات لکھ کر دے دیں تو اس معاملے کو متعلقہ حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اٹھائیں گے-کسٹم حکام نے بتایا کہ ایک دن میں یہ بچے غیر قانونی طور پر تقریبا 2 کروڑ کی سگریٹ سمگل کرتے ہیں -600-700 بچے ہوتے ہیں جن کے ہینڈلرز افغانستان میں بیٹھے ہوتے ہیں -چئیرمین کمیٹی نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو ایف بی آر، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھائیں گے-بارڈر ٹرمینلز کا مشاہدے کرنے اور زمینی حقائق دیکھنے کیلئے کمیٹی نے طور خم پر بارڈر ٹرمینل کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا-
تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد
ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے
تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

سمگلنگ نہ صرف فوڈ سیکیورٹی بلکہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی زیر صدارت گندم، چینی، کھاد و دیگر اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کی روک تھام کےحوالے سے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا
اجلاس میں وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر صنعت مخدوم مرتضیٰ محمود، معاون خصوصی برائے ریوینیو طارق محمود پاشا،سیکرٹری داخلہ سید علی مرتضیٰ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو آصف احمد اور وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر سمگلنگ نا صرف ہماری فوڈ سیکیورٹی بلکہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے،اس مکروہ عمل کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے ہوں گے،تاکہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قلت سے بچا جا سکے اور ان اشیاء کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو،
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہمیں اس کے انسداد کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی،ہمیں اس کی روک تھام کیلئے سخت فیصلے لینے ہوں گے،
جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا
ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا
تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے
ہماری بیگمات کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے،دو بھائیوں نے سگے بھائی کا گلا کاٹ دیا
اجلاس میں پولیس، کسٹم اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل جوائنٹ چیک پوسٹس کے قیام کی منظوری دی گئی ،سیکریٹری داخلہ علی مرتضی نے شرکاء کو پچھلے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں پر پیش رفت پر بریفنگ دی ،جس میں بتایا گیا کہ جوائنٹ پٹرولنگ کا بھی آغاز جلد کر دیا جائے گا، ایف بی آر میں اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کے حوالے سے سنٹرل ڈیٹا سیل کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، سرحدی اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے حوالے سے سروے کا آغاز کیا جا چکا ہے تاکہ ان اضلاع میں غیر ضروری سپلائی کو روکا جا سکے،اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ کو موثر طریقے سے روکنے کیلئے قوانین میں ترامیم کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے،

امریکی ڈالرزاورانسانوں کی سمگلنگ،قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے مانگی رپورٹ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-
اجلاس کے آغاز میں بولان میں کانسٹیبلری پر حالیہ دہشتگردانہ حملے کی مذمت اور شہید ہونے والے اہلکاروں کیلئے بلند درجات کی دعا کی گئی-چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کے آغاز میں امریکی ڈالرزاورانسانوں کی سمگلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی-چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک سے امریکی ڈالرز سمگل ہو رہے ہیں اس حوالے سے وزارت داخلہ کا کیا کردار ہے جبکہ ترکی ،اٹلی میں حالیہ مسافرکشتی کو پیش آنے والے حادثے کو مد نظر رکھتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت داخلہ اگلی میٹنگ میں بتائے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث کتنے گینگز کے خلاف کاروائی کی گئی؟، انسانی سمگلرزکے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟ وزارت داخلہ اب تک انسانی سمگلنگ کو کیوں نہیں روک سکی؟-
کمیٹی اجلاس میں شاہد الیاس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایف آئی اے کی جانب سے اس وقت معطلی کے تحت اپنی بحالی کے لیے جمع کرائی گئی عوامی عرضداشت پر تفصیلی گفتگو کی گئی- سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ 5 سال سے ایک بندے کے خلاف انکوائری چل رہی ہے جس کا فیصلہ نہیں آرہا نا ہی متاثرہ شخص کورٹ جا سکتا ہے کیونکہ اس کے خلاف انکوائری چل رہی ہے-یہ ایک شخص کے ساتھ زیادتی ہے کہ وہ 5 سال سے انکوائری بھگت رہا ہے-حکام وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک انکوائری میں اس پر چارجز ثابت نہیں ہوئے-“پرفارمنس ایویلویشن رپورٹ”میں مبینہ طور پر سازباز کرنے کی بنا پر دوسری انکوائری 2020 میں شروع ہوئی-17 فروری 2023 کو اسی بنا پر شاہد الیاس کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا جس کا جواب ابھی نہیں دیا گیاہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 26 جنوری 2023 میں اس کیس کے حوالے سے ہم نے آپ سے رپورٹ مانگی اس کے باوجود اس کو شوکاز جاری کیا گیا-چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کے خلاف انکوائری بد نیتی پر مبنی معلوم ہوتی ہے اس لئے کمیٹی نے ایف آئی اے کے متاثرہ شخص کے خلاف انکوائری ختم کر کے بحال کرنے کی ہدایت جاری کردیں –
اجلاس میں سی ڈی اے حکام کی جانب سے کمیٹی کو اسلام آباد کے ایف سیکٹرز میں گرین بیلٹ پر تجاوزات کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی-چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے باوجود گرین بیلٹ سے فنسنگ اور تجاوزات نہیں ہٹائی گئیں -ان کا کہنا تھا کہ مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ ایف سیکٹرز میں لوگوں نے گھروں کے سامنے گرین بیلٹ اور فٹ پاتھ کو خارداریں تاریں لگا کر، سیکیورٹی گارڈز اور فنسنگ کرکے بند کر رکھا ہے ایسا بلکل نہیں ہونا چاہئے-چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ دو ماہ میں یومیہ تین گھر کے حساب سے گرین بیلٹ سے تجاوزات اور رکاوٹیں ہٹا کر مفصل رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں -سینیٹر عبدالقادر نے کمیٹی کو بتایا کہ نیو بلیو ایریا میں ماسٹر پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا -پلاٹ کی بولیاں لگ رہی ہیں -انہوں نے تجویز دی کہ پلاٹ کے ساتھ خالی جگہوں کو پارلنگ کیلئے مختص کیا جائے-اسلام آباد میں“احساس ریڑھی بان”پروگرام کی بندش کے حوالے سے سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے پر اگلی میٹنگ میں وزارت برائے تخفیف غربت کے حکام کو بھی طلب کیا جائے اور ان کی موجودگی میں اس مسئلے پر گفتگو ہو-ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گزشتہ حکومت میں سی ڈی اے اور وزارت برائے تخفیف غربت کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے تھے جس کے بعد ایک سال کیلئے ریڑھی لگانے کی اجازت دی گئی تھی-
کمیٹی اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے مالی سال 2023-24 کیلئے تجویز کردہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) پر غور و خوض کیاگیا-کمیٹی نے منصوبوں کے حوالے سے وزارت داخلہ کو سفارشات پیش کیں -وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ کل 96 منصوبے ہیں جن کی کل لاگت کا تخمینہ 214 بلین روپے ہے-68 نئے جبکہ 28 منصوبے پرانے ہیں -چیئرمین کمیٹی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جن پرانے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے ان پر توجہ دیں جبکہ وہ منصوبے جس کیلئے مختص کردہ رقم 30 فیصد سے کم ہے اس کو اگلے سال کیلئے رکھیں -چیئرمین کمیٹی نے وزارت داخلہ اور ماتحت اداروں کے اہم اور وہ منصوبے جن پر 50 فیصد سے زیادہ کام ہوگیا ہے جلد سے جلد مکمل کرنے کی سفارش کی-
عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،
شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی
شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار
جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ کی روک تھام، رانا ثناء اللہ کی ترک ہم منصب سے بات چیت
غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ کی روک تھام، رانا ثناء اللہ کی ترک ہم منصب سے بات چیت
وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ اورترکی کے وزیر برائے داخلہ امورسلیمان سوئیلوکے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے
دونوں رہنماؤں کے مابین پاکستان اورترکی کے درمیان تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے دیگر امورپر بات چیت ہوئی، پاکستان سے ترکی کیلئے غیر قانونی امیگریشن اورانسانی سمگلنگ روکنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، وزراء نے اتفاق کیا کہ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کو روکنا ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔ غیر قانونی امیگریشن اورانسانی سمگلنگ روکنے اور اس میں ملوث عناصر کیخلاف کاروائی پربھی اتفاق کیا گیا، انسانی سمگلنگ کے خاتمے کیلئے ایف آئی اے اور ترک امیگریشن ادارے کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پربھی گفتگو کی گئی، ترکی وزیر داخلہ سلیمان سوئےلو Mr. Suleyman Soylu نے رانا ثناءاللہ کو وزارت داخلہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی
وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارا بہترین دوست اور برادر اسلامی ملک ہے۔ترکی نے پاکستان کی مشکل ترین حالات میں ہمیشہ فراغ دلانہ مدد کی ہے۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان بہترین معاشی، ثفافتی اور کاروباری تعلقات ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف اور انکے وفدکے رواں مہینے دورہ ترکی کے دوررس نتائج نکلیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف اورانکے وفد کی بہترین میزبانی پرترک صدر طیب اردوان اورحکومت کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ترکی کے دوٹوک موقف کا معترف ہے۔
ترک وزیر داخلہ سلیمان کا کہنا تھا کہ صدر طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ دورہ ترکی کے دوران انتہائی مفید ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ترکی سے باہمی تعلقات میں مزیدوسعت اورمضبوطی آئے گی۔پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات باہمی محبت، بھائی چارے اوراعتماد پر قائم ہیں غیر قانونی امیگریشن اورانسانی سمگلنگ کے خاتمے سے متعلق پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اداروں کی بہتر کوارڈینیشن سے اس غیرقانونی کام کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔
رانا ثناءاللہ نے ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئے لو کو پاکستان دورے کی دعوت دی۔ ترک وزیرداخلہ سلیمان نے دعوت قبول کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا شکریہ ادا کیا۔
ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا
وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ
جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

لاہور اور اسلام آباد ائرپورٹ سے منشیات کی سمگلنگ ناکام بنا دی گئی
ائیرپورٹس سکیورٹی فورس نے اسلام آباد اور لاہور ائیرپورٹس پر کارروائیاں کے دوران دو مسافروں کے سامان سے منشیات برآمد کرلی۔
ترجمان اے ایس ایف کے مطابق اے ایس ایف کے عملے نے اسلام آباد سے ابوظبی جانے والے مسافر محمد عدنان خان سے 1.8 کلو گرام حشیش جب کہ لاہور سے بحرین جانے والے مسافر عبدالرحمان سے950 گرام آئس ہیروئن برآمد کی ہے.

ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چوہدری کے احکامات کی روشنی میں صدر ڈویژن پولیس نےمنشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاہور میں منشیات کی سپلائی کی کوشش ناکام بنا دی.
سبزہ زار پولیس نے کارروائی کے دوران 40کلو گرام چرس برآمد کر کےخاتون سمیت 3ملزمان گرفتارکع لئے.گرفتار ملزمان میں عثمان ،حمزہ اور شاد بی بی شامل ہیں،ملزمان علاقہ غیر سے چرس لاکر لاہور سمیت دیگر اضلاع میں سپلائی کرتے تھے۔ ملزمان گاڑی کے خفیہ خانوں میں چرس چھپا کر لا رہے تھے۔ ملزمان کو سبزہ زار کے علاقے میں سنیپ چیکنگ کے دوران چیک کیا گیا۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات عمل میں لائی جارہی ہیں.
دونوں مسافروں نے منشیات اپنے اپنے بیگز میں انتہائی مہارت سے چھپا رکھی تھی تاہم اے ایس ایف کے عملے نے سامان کی تلاشی کے دوران منشیات برآمد کر کے اسمگلنگ کی کوششں ناکام بنا دی۔اے ایس ایف کے مطابق ملزمان کو ابتدائی تفتیش کے بعد برآمد شدہ منشیات سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے اے این ایف حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن نے ملازمین کی اسلام آباد ایئرپورٹ کے لیے متعدد روٹس پر ٹرانسپورٹ سروس بند کردی،پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر سی اے اے کے ملازم نے ڈی جی کے نام درخواست لکھ دی ،درخواست گزار نے لکھا کہ سی اے اے کی پارکنگ میں گدھا گاڑی لانے کی اجازت دی جائے،اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کام کرنے والے سی اے اے کے ملازم راجہ آصف اقبال نے درخواست میں کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں سول ایوی ایشن نے ٹرانسپورٹ بند کر دی، اس لئے گدھا گاڑی پارکنگ تک لانے کی اجازت دی جائے،فدوی پبلک ٹرانسپورٹ افورٹ نہیں کر سکتا
درخواست کے بعد ترجمان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ سی اے اے ملازمین کو فیول الاؤنس دیتا ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ پر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے، جن ملازمین کو فیول الاؤنس ملتا ہے اور جہاں سہولت ہے ان روٹس پر ٹرانسپورٹ بند کردی ہے،
واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ شب بھی پٹرول مہنگا کر دیا، پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے کرایہ جات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے

پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف
پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی میں مالیاتی بل کا شق وارجائزہ لیاگیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مالیاتی بل پیش ہورہا ہے اور فنانس والے نہیں آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر بل کو مسترد کردیں تو پیغام یہی جائے گا کہ سینیٹ نے بل مسترد کردیا۔ قائمہ کمیٹی نے ڈریپ سے وٹامن کی ادویات کی تعریف طلب کی جس پر قائمہ کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا اورپیکجنگ میٹریل اور یوٹیلٹیز پر ٹیکس پہلے سے موجود ہے۔ٹیکس بڑھنے سے عمومی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضروری وٹامنز کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دیگر وٹامنز کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔گزشتہ دنوں 8 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر خود سے ادویات کی فہرست بناکر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ وٹامن اے، بی، سی، ڈی پر ایف بی آر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ادویات کے خام مال پر ٹیکس سے کمپنیوں کا سرمایہ پھنس جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک میں ادویات کی صنعت ابتدائی مراحل میں ہے ان کا بھی یہی خدشہ ہے۔کمپنیاں سرمایہ پھنسنے کے بارے میں تحریری طور پر بتائے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر خزانہ سے بات کریں گے کہ کمپنیوں کے سرمایہ کو تحفظ دیں۔ایف بی آر کمپنیوں کے تحفظات کی روشنی میں پالیسی بنائے گا۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹیکس لگتے ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم قیمتیں بڑھنے نہیں دیں گے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکس کی رقم کے بجائے اسی مالیت کا چیک لینے کی پالیسی بنائی جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل پر چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ درآمدی مال کی ویلیویشن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ماضی قریب میں کسٹم سٹاف کو دیئے گئے اختیارات واپس لئے گئے۔کسٹمز کو اختیارات قانونی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دیئے گئے ہیں۔جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ کلکٹر کے ویلیوشن اختیارات مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش ایف بی آر کو بھیجی جائے۔سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ میڈیا میں آرہا ہے کہ ضمنی مالیاتی بل کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی۔بتایا جائے کہ کیا کسٹم ایکٹ میں ترمیم بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر آئی ہے۔جس پر چیئرمین ایف بی آرنے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قانونی سقم دور کرنے کیلئے ایف بی آر اپنے طور پر ترامیم کر کے آیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیوں سے ٹیکس اور بنک گارنٹی نہ لینے کی سفارش کی گئی۔
کاٹیج انڈسٹری کا ٹرن اوور 1 کروڑ سے کم کرکے 80 لاکھ روپے کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔چیئرمین ایف بی آر نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کاٹیج انڈسٹری پیکیج سے سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد کم ہوگی۔آئی ایم ایف نے ہماری توجہ اس جانب دلائی ہے، اس پیکیج میں تبدیلی لازمی ہے۔ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہوگا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایسی اصلاحات لارہے ہیں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔ایک کروڑ کی کاٹیج سیلز ٹیکس گزاروں کی تعداد کم کرتی ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ ایک کروڑ روپیہ اب ڈالر کے مقابلے میں 40 فیصد رہ گیا ہے۔کاٹیج انڈسٹری کی سیلنگ کم کرنے سے کاروبار بند ہو جائے گا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف بی آر اس شق کو تبدیل کرکے ہمیں ارسال کریں۔ہم آپ کو تبدیل شدہ شق ارسال کریں گے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے اور بھتہ لینے میں فرق ہونا چاہیے۔ہمیں ٹیکس بڑھانے کیلئے ٹیکس حکام کی بھتہ خوری ختم کرنی چاہیے۔ٹیکس قوانین میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا۔گولڈ ایسوسی ایشن حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں۔صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔جس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے۔36 ہزار سونار وں میں سے صرف 54 گولڈ سمتھ ٹیکس دیتے ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وقفے کے بعد اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر موجود نہیں تو ہمارے یہاں بیٹھے کاکیا مقصد ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ان کی وزیر خزانہ سے بات ہوئی وہ آنے کو تیار ہیں۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ہماری سفارشات کو منظور کرنا ہوگا۔ جس پر سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر مشیر خزانہ اور اس کی ٹیم موجود نہیں ہے تو ہم کس کے سامنے اپنی سفارشات رکھیں گے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ایف بی آر ایک کرپٹ ادارہ ہے، 450 ارب روپے کھا لیتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک کمیٹی بننی چاہئے جو ٹیکس کلیکٹر اور انسپکٹرز کی جانچ کرے کہ ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آجاتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہ 1 لاکھ روپے تک ہوگی۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جب تک ایف بی آر اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرے گا تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فارمولا ملک پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہاکہ فارمولا ملک ایک فیشن بن گیا ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر قیمت بڑھے گی تو غریب مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکیں گی اگر چار بچے بھی وفات پا جاتے ہیں وہ ہماری وجہ سے ہوں گے۔سینیٹر ز فیصل سبزواری، فاروق ایچ نائیک اور کامل علی آغا نے کہا کہ بچوں سے وہ نوالہ جو زندگی ہے نا چھینے۔اگر سبسڈی دینی ہی ہیں تو غریب کو دیں۔سب کو کیوں بھکاری بنا رہے ہیں۔اگر سبسڈی دینی ہے تو چیزیں سستی کریں۔اگر ان کا بس چلے تو ہوا پر بھی ٹیکس لگا دیں۔ٹارگیٹڈ سبسڈی لگائیں۔سولر پینلز پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ممبر ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ درآمدی سائیکل پر بھی ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر قائمہ کمیٹی نے 25 ہزار روپے تک درآمدی سائیکل پر ٹیکس نا لگانے اور اس سے زائد رقم کی درآمدی سائیکل پر ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی۔قائمہ کمیٹی نے درآمدی مرغی پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی ایف بی آر کی تجویز منظور کر لی۔
ممبرایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے والی اشیاء پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ چیریٹی کا کام ہے 17 فیصد ٹیکس لگانے سے تو لوگ چندہ اور مدد کرنا بند کرلیں گے۔قائمہ کمیٹی نے چندہ کے طور پر عطیہ کرنے والی اشیاء پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود نے کہا کہ اگر میں ہسپتال کو مشین عطیہ کرتا ہوں اور اس پر ٹیکس دینا پڑ جائے تو میں عطیہ نہیں کروں گا۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مانع حمل سے متعلق ادویات پر بھی سیلز ٹیکس لگانے کی تجویزبھی مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہا کہ مانع حمل کی ادویات پر پچھلے فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اس کو اب ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے مانع حمل کی ادویات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز مسترد کر دی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹر ز فاروق ایچ نائیک،مصدق مسعود ملک ،کامل علی آغا، شیری رحمان،فیصل سبزواری، محسن عزیز، فیصل سلیم، دلاور خان، ذیشان خانزادہ، سلیم مانڈوی والا، انوار الحق کاکڑکے علاوہ چیئرمین ایف بی آر،ممبر ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی
مولانا فضل الرحمان کواب اپنے حلوے کا بھی حساب دینا ہو گا،فارن فنڈنگ کیس میں نئی پیشرفت
،نوازشریف بتائیں اسامہ سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کتنا چندہ کیوں لیا،
نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات
لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا
کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے
لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا
غیرملکی فنڈنگ کی دستاویزات کی فراہمی،الیکشن کمیشن میں فیصلہ محفوظ
الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

غیر مناسب طریقہ سے آتش فشاں مادہ کا اسمگلنگ,ویسٹ پولیس کا اسمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن جاری
بقول ایس ایس پی: ویسٹ سوہائی عزیز ویسٹ پولیس کا اسمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن جاری، ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔ ملزمان بلوچستان سے براستہ نادرن بائی پاس روڈ چنچی رکشہ میں موجود آئیل کین/ڈرم میں چھپا کر ایرانی ڈیزل اسمگل کر رہے تھے۔ملزمان کا غیر مناسب طریقہ سے آتش فشاں مادہ کا اسمگلنگ کرنا کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔ ایس ایچ او منگھوپیر پولیس نے دوران چیکنگ ملزم امیر علی ولد محمد لقمان اور پرویز ولد عارف کو گرفتار کیا۔ گرفتا ملزم سے بلا نمبری چنچی رکشہ میں موجود 1060 لیٹر ایرانی ڈیزل برآمد۔ ملزم کے خلاف مقدمعہ الزام نمبر 56/2021 بجرم دفعہ 285/286/34 درج، تقتیش جاری۔









