قصور
چھوٹی عید کے روز قصور کے نواحی علاقے کھڈیاں میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان حافظ سمیع الرحمن کے قاتل معصوم علی کے ورثاء نے کیس کی دوبارہ تحقیق کی درخواست دے دی
تفصیلات کے مطابق ملزم معصوم علی کے لواحقین نے کیس کی دوبارا تحقیق کروانے کے لے آر پی او شیخوپورہ کو درخواست دی ہے جس پر موقف سننے کے لئے ار پی او نے سمیع رحمان کے گھر والوں کو طلب کیا ہے
ملزم کے ورثاء کی طرف سے درخواست دینا اس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کیس کی تحقیقات بالکل شفاف ہوئی ہے اور ملزم کے لواحقین راہ فرار حاصل کرنے کے لئے دوبارہ تحقیقات کروانا چاھتے ہے ان کا سمجھنا ہے کہ کیس کو اب عوام بھول چکے ہے
Tag: سمیع الرحمن

کیس کی دوبارہ تحقیقات کی استدعا

نوٹس نہیں صرف پھانسی
قصور
سانحہ کھڈیاں پر لوگوں کا ایک بار پھر سرعام پھانسی کا مطالبہ لوگوں کا کہنا ہے اگر اس جیسے واقعات روکنے ہیں تو سرعام پھانسی کا نفاذ کرنا ہوگا
تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے دن پنچاب پیٹرولنگ پولیس کے اہلکار نے کھڈیاں قصور کے رہائشی 18 سالہ حافظ قرآن نوجوان سمیع الرحمن کو بدفعلی پر راضی نا ہونے پر اس کے باپ اور بھائی کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا تھا جس پر ملزم کے خلاف ملک بھر خاص طور پر قصور و گردونواح سے سخت موقف آیا تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ملزم کم سزاؤں کی بدولت رہا ہوتے رہے جس کی بدولت ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں لہذہ حکومت اکیلا نوٹس لینے کی بجائے ملزم کو سرعام پھانسی دے تاکہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں
لوگوں نے پورے کھڈیاں خاص اور گردونواح میں بینرز آویزاں کر دیئے ہیں جن کا مقصد گورنمنٹ تک اپنی بات پہنچانا ہے

