Baaghi TV

Tag: سنت ابراہیمی

  • ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے

    ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے، مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ملک بھر کی طرح آج ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے اور مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔ عیدگاہوں میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے گلے شکوے اور شکایات بھلا کر سب ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید ملتے رہے ہیں ،عیدنمازکے بعد حسبِ توفیق سنتِ حضرت ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانیاں کر رہے ہیں ،مساجد اورعیدگاہوں میں خطبہ کے بعد ملک اور قوم کی خوشحالی اور استحکام پاکستان کیلئے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگیں گئی۔

    کشمیراورفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے علاوہ بھارت میں مظالم کے شکارمسلمانوں اور میانمارکے روہینگیاکیلئے بھی دعائیں کی گئیں۔


    ادھرکمشنر محمد عثمان انور نے ڈیرہ غازی خان شہر کا دورہ کرتے ہوئے عید کے ایام میں مثالی صفائی کے احکامات جاری کئے۔کمشنر نے کہا کہ فیلڈ کیمپس کو عید کے تینوں ایام میں فنکشنل رکھا جائے پلاسٹک بیگز تقسیم کرنے کے ساتھ شہریوں کو صفائی کی بھی ترغیب دی جائے۔کمشنر عثمان انور نے شہریوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور محکموں کی طرف سے کئے گئے انتظامات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

    شہریوں نے عید کے حوالے سے ابتک کے کئے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈی جی خان سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی طاہر جاوید انصاری نے بتایا کہ کمپنی کی طرف سے شہر کی 17 یونین کونسلوں میں 17 فیلڈ کیمپس قائم کردئیے گئے ہیں شہریوں میں دس ہزار سے زائد پلاسٹک بیگز تقسیم کئے جائیں گے۔آلائشوں کی بروقت تلفی کیلئے تمام ممکنہ انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قربانی کے بعد آلائشوں کو ٹھیک طریقے سے ٹھکانے لگائیں تاکہ علاقے میں تعفن نہ پھیلے اور یہ آلائشیں بیماریوں کی وجہ نہ بنیں۔

  • نمکین گوشت وچکنائی سے پرہیز کریں، بے احتیاطی سےعید کی خوشیاں ماند پڑسکتی ہیں

    نمکین گوشت وچکنائی سے پرہیز کریں، بے احتیاطی سےعید کی خوشیاں ماند پڑسکتی ہیں

    شہری نمکین گوشت و چکنائی سے پرہیز کریں، بے احتیاطی سے عید کی خوشیاں ماند پڑ سکتی ہیں

    ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اسرار الحق طور نے لاہور جنرل ہسپتال میڈیکل یونٹ ون میں میڈیکل طلبا کو لیکچر دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے موقع پر دینی فرض کی ادائیگی کے سا تھ ساتھ اپنی اور دوسروں کی صحت کا خاص خیال رکھیں اور اپنے ساتھ ساتھ دیگر شہریوں میں زیادہ گوشت کھانے کے انسانی صحت پر مضر صحت اثرات مرتب ہونے کے بارے میں شعور اجاگر کریں۔ڈاکٹر طو ر نے کہا کہ گردوں کی بیماری میں مبتلا وہ مریض جن کے ٹیسٹ آر ایف ٹی نارمل ہوں لیکن یورین میں پروٹین یا لحمیات کا اخراج زیادہ ہو تو انہیں نمکین اور چربی والے گوشت سے دور رہنا چاہیے جبکہ ڈائلسز کے مریض عید قربان پر مناسب مقدار میں گوشت کھا سکتے ہیں لیکن ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ نمک اور دیگر پینے والی اشیاء کم مقدار میں لیں۔

    ڈاکٹر اسرار الحق طور نے واضح کیا کہ جگر کے سکڑنے کے مرض میں مبتلا نمک اور چکنائی استعمال نہ کریں اور گوشت کو صرف ذائقہ سمجھ کر چکھیں۔انہوں نے کہا کہ معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کے مریض عید قربان پر مصالحہ دار چکنائی والے گوشت سے اجتناب برتیں۔اسی طرح قبض اور گیس کے مریض سبزیاں، فائبر  والی اشیاء کا زیادہ استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ صحت مند اور کم عمر جانور قربانی کے لئے منتخب کریں،بیماری سے بچاؤ کیلئے جانورکی ویکسین کروانا نہ بھولیں۔ ڈاکٹر اسرار الحق نے کہاکہ شوگر اور بلڈ پریشر کا مرض عام ہے،وہ لوگ جو ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ بھاپ والا گوشت استعمال کریں،سگریٹ نوشی اور دیگر نشہ آور اشیا ترک کر دیں، ادویات لینے کے ساتھ ساتھ ورزش کو معمول اور چہل قدمی ضرور کریں۔

    ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ موسم کی موجودہ لہر کیلئے گوشت فریزر میں نہ رکھیں کیونکہ ایسا کرنے سے گوشت میں بیکٹیریا بڑھتا ہے جو با آسانی جسم میں منتقل ہو کر مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔اسی طرح وافر گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ معدے سے بنی اشیاء،فاسٹ فوڈ اور بازاری کھانے بھی عید کے موقع پر پیچیدگی پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی کے اس موقع پر اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور اپنے اور اپنے خاندان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا لاک ڈاؤن کا نتیجہ، کس ملک میں ہو گی دسمبر سے مارچ تک دو کروڑ سے زائد بچوں کی پیدائش؟

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

  • سنت ابراہیمی ایک عظیم مقصد..تحریر :خنیس الرحمٰن

    سنت ابراہیمی ایک عظیم مقصد..تحریر :خنیس الرحمٰن

    اسماعیل علیہ السلام سے جب جدالانبیاء ابراہیم خلیل اللہ نے یہ کہا کہ بیٹا میں نے خواب دیکها ہے کہ میں تجھےراہ خدا میں قربان کر رہا ہوں ,بیٹا بهی ایسا فرمانبردار تها کے باپ کی طرح ہر حکم خداوندی پر لبیک کہتا ,کہنے لگا ابا جان اللہ کا حکم ہے تو کر دیجئے. حضرت اسماعیل علیہ السلام جب قربان ہونے کے لیے اللہ کی راہ میں جاتے ہیں شیطان وسوسے ڈالتا ہے شیطان کے وسوسوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور منی کے مقام پر جد الانبیا ابراہیم علیہ السلام اپنے لخت جگر کو لٹا لیتے ہیں.اللہ سے یہ نہیں کہتے میرے رب ایک ہی دیا ہے وہ بهی واپس لے رہا ہے اللہ بوڑها ہوں میرے بڑهاپے کا سہارا ہے وہ بهی میں تیری راہ میں قربان کردوں.نہیں محترم قارئین !لبیک کہتے ہوئے بیٹے کو زبح کرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں.بیٹا بهی ایسا کے ابا جان کو نصیحت کرنے لگا کہ آپ نے مجهے قربان کیسے کرنا ہے اپنے ابا کو خود بتایا کے میرے گلے پر چهری کیسے چلانی ہے ادهر اپنے پیارے بیٹے کے گلے پر چهری رکهتے ہیں اور ادهر سے جنت سے اللہ مینڈهے بهیج دیتا ہے اور اپنے خلیل کو خوشخبری دیتا آج تو امتحان میں پاس ہوگیا اور یہ قربانی کا فریضہ ہم آنیوالی امتوں کو بهی حکم دیتے ہیں کہ اپنے ابا ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو اجاگر کرو.
    قارئین مختصر واقعہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے تفصیل آپ جانتے ہیں.
    آج ہم بهی سنت ابراہیمی پر عمل کریں گے لیکن ہم جب قربانی کے وقت اللہ سے عہد کرتے ہیں کے اے اللہ میرا جینا اور مرنا اور میری قربانی سب تیرے لیے ہے اور چند ہی لمحوں بعد اس عہد کو توڑ دیتے ہیں ہم اللہ کی عبادات سے منحرف ہوجاتے ہیں .بس قربانی کرلی اور ابراہیمی بن گئے نہیں اس وقت تک ہم ابراہیمی نہیں بن سکتے جب تک دین اسلام کے عوامل پر عمل نہ کرلیں.قربانی صرف خون بہانے کا نام نہیں,صرف اللہ کے آگے عہد کرنے کا اعلان نہیں کہ آج ہماری قربانیوں کو قبول کرلے ,ایک طرف ہم جانور کی گردن پر چھری چلا رہے ہیں لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے ہمارے خاندان والے ہم سے راضی نہیں, ہمارا بھائی ہم سے ناراض ہے, ہمارا ملازم ہم سے نالاں ہیں, اللہ قرآن میں خود اعلان فرماتا ہے :
    لنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۷)
    اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی ۔ اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں کو
    آج ہم ثابت کریں کہ ہم قربانی پر چھری چلا کر اللہ کو اپنا تقویٰ پیش کریں وہ کس طرح اللہ کو راضی کرکے .اور یہ سنت ابراہیمی ہمارے معاشرے میں تربیت اولاد کے حوالے سے شاندار منظر نامہ ہے. آج ہمارے والدین بچوں کی تربیت کریں تو اسماعیل علیہ السلام کے والد کی طرح ,شاعر ایسے ہی یہ کہنے پر مجبور نہیں ہوگیا تھا,
    یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
    سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی
    میری گزارش ہے آپ لوگوں سے قربانی آپ کی ہوتی ہے تو چهری پهیرنے کے لیے قصائی صاحب…قربانی کا مقصد کیا ہے کہ ہم قربانی کو اپنے ہاتهوں زبح نہیں کرسکتے کیونکہ ہم خون سے ڈرتے ہیں یہی وجہ ہے نا..ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اپنی بیٹیوں کو کہا کرتے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتهوں سے ذبح کرو. تو اس بار سب عہد کریں کہ اپنے جانور کو اگر بارگاہ خدا میں پیش کرنا ہے تو اپنے ہاتهوں سے کرنا ہے.