Baaghi TV

Tag: سندھ اسمبلی

  • تحریک انصاف کے اراکین سندھ اسمبلی نے استعفی دے دیا

    تحریک انصاف کے اراکین سندھ اسمبلی نے استعفی دے دیا

    پاکستان تحریک انصاف سندھ کے اراکین نے استعفی دے دیا

    پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان کو تمام اراکین کے استعفی موصول ہو گئے،پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیرزمان نئ استعفی موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ سندھ اسمبلی میں موجود تمام چھبیس اراکین نے اپنے استعفی جمع کروادیے ہیں۔ چیئرمین عمران خان کی کال پر اراکین نے استعفی دئیے۔ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ بھی صورتحال سے آگاہ ہیں۔ قائد جب حکم دیں گے استعفی سندھ اسمبلی میں جمع کروادیں گےیہ نشست عمران خان کی امانت ہے، ووٹ عمران خان کا تھا اور رہے گا۔

    دوسری جانب پی ٹی أئی کی سینئر لیڈرشپ کا اجلاس آج ہورہا ہے، اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلی تحلیل کرنے ،سندھ اور بلوچستان اسمبلی سے مستعفیٓ ہونے کی تاریخ پر غور کیا جا رہا ہے، اجلاس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، وزیراعلیٰ کے پی محمود خان سمیت پارٹی کی دیگر قیادت شریک ہے،

    خیال رہے کہ ’آزادی مارچ‘ کے جلسے سے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے صوبائی اسمبلیاں چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔  عمران خان نے صوبائی حکومتوں سے باہر نکلنے کی تاریخ تو نہیں دی تھی، لیکن کہا تھا کہ وہ تمام وزرائے اعلیٰ اور پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت شروع کر رہے ہیں اور جلد ہی اسمبلیوں سے نکلنے کا حتمی اعلان کریں گے۔

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

    کراچی: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران 14 اضلاع میں میدان اتوار کو سجے گا جبکہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری نے اپنے اپنے امیدواروں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

    لاڑکانہ ڈویژن کے 5 اضلاع جیکب آباد، کشمور، شکارپور، لاڑکانہ، شہداد کوٹ جبکہ سکھر ڈویژن کے تین اضلاع خیرپور، سکھر، گھوٹکی میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے۔

    شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے تین اضلاع شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز، میرپورخاص ڈویژن کے3اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکرمیں بھی پولنگ ہوگی جہاں انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

    متعلقہ حلقوں میں پولنگ کے سامان کی ترسیل جاری ہے، مختلف ڈویژنز سے ایک ہزار ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ ‏سندھ کی 4 ڈویژنز میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمارے امیدواروں کو ہراساں کرنے، سپریم کورٹ کےاحکامات کی روشنی میں آرٹیکل140-A کے تحت اختیارات کی مقامی نمائندوں تک منتقلی سے گریز کے باوجود ہم حصہ لے رہے ہیں۔ سندھ کے لوگوں سے میری اپیل ہے تحریک انصاف کےامیدواروں کو ووٹ دیں اور زرداری مافیا کا صفایا کر دیں۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے، سندھ کی باشعور عوام صوبے میں جاری بینظیر ترقی کے تسلسل کو ووٹ دیں گے، عوامی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا پی پی پی کا منشور ہے، صحت، تعلیم اور محنت کش عوام کے لیے سوشل سکیورٹی کے حوالے سے سندھ کی کارکردگی بے مثال ہے، پی پی پی قیادت نے عوام سے جو جو وعدے کیے، وہ ہمیشہ پورے کرکے دکھائے، میرے امیدوار وہی ہیں، جن کا نشان تیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، جیکب آباد، گھوٹکی، قمبر، شہداد کوٹ، کشمور، کندھ کوٹ کی عوام تیر کو ووٹ دیں، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کی عوام تیر پر مہر لگائیں، عوام بلدیاتی انتخابات میں تیر پر مہر لگا کر میرے ہاتھ مضبوط کریں، سندھ کے عوام کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سازشی و شیطانی ٹولوں کی ضمانتیں ضبط کرادیں، انشاللہ تمام اضلاع میں کل جیالے امیدوار کامیاب ہونگے، یقین دلاتا ہوں کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پی پی پی کی کامیابی بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگی۔

  • سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    کراچی :طلبا یونین سندھ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی نے 38 سالوں سے عائد طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ایوان میں طلبہ یونین سے متعلق مجوزہ بل قائمہ کمیٹی برائے قانون سے منظوری کے بعد پیر مجیب الحق نے پیش کیا۔

    طلبا یونین کی بحالی کیلئے بل تیار کرکے سب کو حیران کردیا ، ادھر متفقہ طور پر بل منظوری کے بعد قائد ایوان مراد علی شاہ نے سب جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بل میں طلبہ یونین سے متعلق قواعد ہیں، امید ہے کہ طلبہ یونین تدریسی عمل کو متاثر یا بند نہیں کروائیں گی۔

    سندھ اسمبلی سے منظور شدہ بل کے مطابق طلبہ انتخابات سے 7 سے 11 نمائندوں پرمشتمل یونین کومنتخب کریں گے اور تعلیمی اداروں میں ہرسال طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے کی سینیٹ اور سینڈیکٹ میں طلبہ یونین کی نمائندگی ہوگی جبکہ تعلیمی ادارے کی انسداد ہراساں کمیٹی میں بھی یونین کی نمائندگی ہوگی۔