Baaghi TV

Tag: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی

  • کراچی:مخدوش عمارتوں کے خلاف کارروائیاں، لیاری میں 7 منزلہ عمارت منہدم

    کراچی:مخدوش عمارتوں کے خلاف کارروائیاں، لیاری میں 7 منزلہ عمارت منہدم

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے شہر بھر میں خطرناک اور مخدوش عمارتوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    ایس بی سی اے کے ترجمان کے مطابق لیاری میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو گرانے کا عمل جاری ہے، آگرہ تاج کالونی میں دو مخدوش عمارتوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ڈائریکٹر ڈیمولیشن نے بتایا کہ 7 منزلہ عمارت صرف 60 گز کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی تھی، جسے ضلعی انتظامیہ کی مدد سے خالی کرایا گیا تھا تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    ڈی جی ایس بی سی اے کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر 540 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 59 کو خالی کرا لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مخدوش عمارتوں کو مرحلہ وار گرایا جائےگا

    امریکا: میڈیا اداروں کا پینٹاگون کی نئی پالیسی پر دستخط سے انکار، دفاتر خالی

    پاکستان ریلوے کا نیا سرمائی شیڈول جاری، آج سے نافذ العمل

    لندن میں موبائل فون چوری کا نیٹ ورک بے نقاب، ہزاروں فون ضبط

  • سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کا این او سی منسوخ کر دیا

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کا این او سی منسوخ کر دیا

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو جاری کیا گیا پروویژنل این او سی برائے فروخت و اشتہارات منسوخ کر دیا ہے۔ یہ این او سی 19 ستمبر 2022 کو جاری کیا گیا تھا۔

    ایس بی سی اے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے اور قانونی کارروائیوں کے باوجود 460 ارب روپے کی ادائیگی کی قسطیں 31 اگست 2026 تک مکمل نہیں کیں، جس کی وجہ سے این او سی کی بنیاد خطرے میں پڑ گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ جاری رہنے والا این او سی نہ صرف عوام کو گمراہ کرے گا بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔

    اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے 3 ستمبر 2025 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے جاری این او سی فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بحریہ ٹاؤن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زمین یا تعمیر شدہ یونٹس کی فروخت، خریداری، بکنگ یا اشتہارات سے گریز کرے۔

    نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ الاٹیز کے مفادات کا تحفظ سپریم کورٹ کے 23 نومبر 2023 کے فیصلے کے مطابق کیا جائے گا اور بحریہ ٹاؤن سے کہا گیا ہے کہ وہ الاٹیز کی تفصیلات فراہم کرے۔

    ایف بی آر کا صلاحیت بڑھانے کیلئے 1600 آڈیٹرز بھرتی کرنے کا اعلان

    ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کیس: ملزم کی ضمانت مسترد، جیل بھیج دیا گیا

    چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں ڈالر تحائف کام نہ آئے

    آئی سی سی رینکنگ جاری، بابر اعظم ون ڈے میں تیسرے نمبر پر

  • کراچی میں 17 منزلہ عمارت زمین میں دھنسنے لگی،خطرے کا انتباہ

    کراچی میں 17 منزلہ عمارت زمین میں دھنسنے لگی،خطرے کا انتباہ

    کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع 17 منزلہ کثیرالمنزلہ عمارت کے زمین میں دھنسنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ادارہ ترقیات کراچی نے دو مرتبہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو تحریری طور پر آگاہ کیا، مگر مبینہ طور پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

    ادارہ ترقیات کراچی کے مطابق یہ عمارت لائنز ایریا کے سیکٹر ون میں واقع ہے، جو 1986 میں تعمیر ہوئی تھی اور گزشتہ 38 برسوں سے خالی پڑی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اس پر رنگ و روغن کر کے اسے دوبارہ شہریوں کو فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بارشوں اور زلزلوں کے باعث عمارت کا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جبکہ بیسمنٹ میں مسلسل پانی کھڑے رہنے سے بنیادیں بھی کمزور ہو گئی ہیں۔

    ادارہ ترقیات نے زور دیا ہے کہ ایس بی سی اے فوری طور پر عمارت کو "خطرناک” قرار دے اور اسے مسمار کرنے کے اقدامات کرے، کیونکہ یہ نہ صرف اردگرد کی آبادی بلکہ ایم اے جناح روڈ پر چلنے والی ٹریفک کے لیے بھی شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔یاد رہے کہ ادارہ ترقیات نے 2024 اور 2025 میں دو بار تحریری خطوط کے ذریعے خطرے سے آگاہ کیا تھا، تاہم تاحال کسی عملی اقدام کی اطلاع نہیں ملی۔

    غیرت کے نام پر قتل: حکومت اور اپوزیشن کا آل پارٹیز کانفرنس پر اتفاق

  • کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی شہر کی کچی آبادیوں میں بغیر منظوری کے بلند و بالا عمارتوں کی بھرمار پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری کارروائی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، کے ایم سی کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھیجے گئے خط میں کچی آبادیوں میں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہائی رائز بلڈنگز پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کا کوئی باقاعدہ نقشہ موجود نہیں، جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔سینیئر ڈائریکٹر ے ایم سی کے مطابق صرف زمین کا قبضہ ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، لیکن بغیر نقشے کے بلند عمارتیں تعمیر کرنا خطرناک اور غیرقانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارتیں انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گنجائش سے زیادہ تعمیرات کی جا چکی ہیں۔

    خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلند عمارتوں کے نقشے کی منظوری دینا صرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اختیار ہے، اس لیے ایسے تمام غیرقانونی منصوبوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق کے ایم سی نے اپنے افسران کو بھی ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ان تعمیرات کی نشاندہی کریں تاکہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شہر بھر میں خطرناک اور غیرقانونی عمارتوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جا سکے۔

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

  • کراچی: اولڈ سٹی میں ایک اور عمارت مخدوش قرار، مکینوں کا احتجاج

    کراچی: اولڈ سٹی میں ایک اور عمارت مخدوش قرار، مکینوں کا احتجاج

    کراچی میں اولڈ سٹی ایریا کے کاغذی بازار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ایک اور عمارت کو مخدوش قرار دے دیا، عمارت خالی کروانے کی کوشش پر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔

    ایس بی سی اے حکام کے مطابق 6 منزلہ عمارت کو فوری طور پر خالی کروانے کی کوشش کی گئی، تاہم رہائشیوں نے عمارت چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ حکام نے عمارت کے گیس اور بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے۔دوسری جانب کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن میں مخدوش عمارتوں سے متعلق اجلاس میں 7 علاقوں میں 125 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    چیف ایگزیکٹو کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق دہلی کالونی میں 51، مدنی آباد میں 16، لوئر گزری میں 7، چوہدری خلیق الزماں کالونی میں 5، پنجاب کالونی میں 14، پاک جمہوریہ کالونی میں 27 اور بخشن ولیج میں 5 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ حال ہی میں لیاری میں مخدوش عمارت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ درج کر کے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، صرف ایک ڈائریکٹر تاحال مفرور ہے۔

    وفاقی حکومت کا فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ملک گیر فیڈرل فورس بنانے کا فیصلہ

    سرکاری اداروں کو 343 ارب روپے کا نقصان، مجموعی خسارہ 5893 ارب ہو گیا

    روسی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، غزہ، افغانستان پر گفتگو

    آن لائن کمائی کے جھانسے میں 1 لاکھ روپے کا نقصان، خاتون نے خودکشی کرلی

  • لیاری سانحے کے بعد خستہ حال عمارتوں کے خلاف کارروائی، ایس بی سی اے متحرک

    لیاری سانحے کے بعد خستہ حال عمارتوں کے خلاف کارروائی، ایس بی سی اے متحرک

    کراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ عمارت گرنے اور 27 افراد کی ہلاکت کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور دیگر متعلقہ ادارے خستہ حال عمارتوں کو گرانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔

    لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کے بعد ایس بی سی اے کی ڈیمولیشن ٹیمیں پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ علاقے میں پہنچ گئیں، جہاں خستہ حال اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کروا کر گرایا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق متاثرہ عمارت سے متصل دو مزید عمارتوں کو بھی فوری طور پر خالی کرایا جا رہا ہے، جن میں سے ایک 5 اور دوسری 6 منزلہ ہے۔ مکینوں کو سامان نکالنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد ان عمارتوں کو مسمار کیا جائے گا۔

    اسسٹنٹ کمشنر لیاری شہریار حبیب کے مطابق بغدادی میں ایک مخدوش عمارت کی دیواریں توڑی جا رہی ہیں جبکہ تین عمارتیں مکمل طور پر خالی کرا لی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعہ کے روز لیاری کے علاقے بغدادی میں ایک پرانی رہائشی عمارت منہدم ہوگئی تھی، جس کے ملبے سے تین روزہ ریسکیو آپریشن کے دوران 27 لاشیں نکالی گئیں۔واقعے کے بعد سندھ حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو معطل کر دیا اور فوری طور پر انتہائی خستہ حال قرار دی گئی 51 عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کراچی سمیت سندھ بھر میں خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق کراچی میں 570، حیدرآباد میں 80، میرپورخاص میں 81، سکھر میں 67 جبکہ لاڑکانہ میں 4 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔

    ٹی 20 سیریز: بابر، رضوان اور شاہین کو آرام دیے جانے کا امکان، حارث رؤف زخمی

    اسرائیل نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی،ایرانی صدر

    کراچی: نوبیاہتا لڑکی مبینہ جنسی تشدد کے بعد کوما میں، شوہر گرفتار

    لندن بم دھماکوں کے 20 سال مکمل، سینٹ پال کیتھڈرل میں دعائیہ تقریب

    جنوبی افریقہ کی اننگز ڈیکلیئر، برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ بچ گیا

  • سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں میں شدت،شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے کی ہدایات پر ڈیمالیشن اسکواڈ نے شہرکے مختلف اضلاع میں نقشے کے برخلاف اضافی منزلوں،پورشن سمیت استعمال اراضی کی خلاف ورزی و دیگرغیرقانونی تعمیرا ت کومنہدم وسربمہرکردیا جبکہ سربمہرکی گئی املاک میں 2پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔ ڈیمالیشن ٹیم ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں پلاٹ نمبر658، CCایریابلاک 02، پر دکانوں کی سڑک پر تجاوز کردہ تعمیرات،پلاٹ نمبر151-R، بلاک 02پر فلیٹ نمبر103سے پہلے آہنی شیڈ، پلاٹ نمبر83-A، بلاک 02، پر غیرقانونی دکانوں اورپلاٹ نمبر172-Q، اورپلاٹ نمبر172-R،بلاک 02،پی ای سی ایچ ایس پر گراؤنڈ فلور کی غیرقانونی تعمیرات کو سربمہرکردیا جبکہ پلاٹ نمبر64-W، بلاک 06، کراچی ایڈمن سی ایچ ایس پر پہلی منزل کی پارٹیشن دیواروں کو منہدم کردیاگیا۔ڈسٹرکٹ ایسٹ، گلستان جوہر،کے ڈی اے اسکیم36میں پلاٹ نمبرB-04،بلاک 06،پردوسری منزل کی آرسی سی چھت،پلاٹ نمبرC-234، بلاک 01، اور پلاٹ نمبرB-54/13-13-C، بلاک 01، پر گراؤنڈفلوراورپہلی منزل کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی چھت و دیگر تعمیرات،کو منہدم کردیا اور پلاٹ نمبرSB-33، بلاک 3-A، پر غیرقانونی دکان سمیت پلاٹ نمبر 240-JMجمشید ٹاؤن اور پلاٹ نمبر280-GRW، گارڈن ویسٹ پر واقع پیٹرول پمپس میں بغیرقانونی اجازت کے تعمیراتی رد و بدل پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں پٹرول پمپس کو سربمہرکردیا گیاجبکہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں مزید کاروائیوں میں پلاٹ نمبر A-27، بلاک 13/D/1، گلشن اقبال اسکیم 24، پر دوسری منزل پر 2کمروں کی تعمیرات اور پلاٹ نمبرA-1953میٹرویل،اسکیم 33پر دوسری منزل کی تعمیرات کو جزوی طور پر منہدم کردیاگیا۔
    علاوہ ازیں ڈیمالیشن اسکواڈ کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ سینٹرل، گلبرگ ٹاؤن فیڈرل بی ایریا میں پلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر چوتھی منزل،پلاٹ نمبرA-148، بلاک 17اور پلاٹ نمبرR-211، بلاک 15، پر تیسری منزلوں اورپلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر پانچویں منزل کی آرسی سی چھت اورپارٹیشن دیواروں کومنہدم کردیا،جبکہ پلاٹ نمبرR-114، بلاک 17، پر تیسری منزل پر کمروں کی تعمیرات سمیت پلاٹ نمبرR-818، بلاک 14، کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی سی تعمیرات کو منہدم کردیاگیا۔
    دریں اثنائ ڈیمالیشن کی ایک اورٹیم نے ڈسٹرکٹ ساؤتھ،لیاری کے علاقے میں پلاٹ نمبر2308، سبزی مارکیٹ نیاآباد پر ساتویں منزل کو منہدم اور احاطے کوکردیا جبکہ پلاٹ نمبرAKS/15,2، کھڈامارکیٹ،پلاٹ نمبرAKB-S-7/44، مین دریاآباد کو سربمہرکردیاجبکہ پلاٹ واقع بہارکالونی،ڈی روڈ،گلی نمبر 19,20، پر غیرقانونی تعمیرات کے لئے نصب شیٹرنگ کو منہدم کردیااس دوران وہاں موجودخواتین کے مجمع کی جانب سے ہنگامہ آرائی پر انہدامی عمل کو ملتوی اورچارمنزلہ عمارت کوسربمہرکردیاگیا۔مذکورہ بالاانہدامی کارروائیاں متعلقہ ڈپٹی واسسٹنٹ ڈائریکٹرزاورڈیمالیشن آفیسرز کی زیرنگرانی عمل میں لائی گئیں جبکہ اس دوران امن وامان کی صورتحال کوقابومیں رکھنے کے لئے ایس بی سی اے پولیس فورس سمیت علاقہ پولیس کی نفری بھی ان کے ہمراہ وہاں موجودتھی۔

    ایکسپو سینٹر میں پانچویں ٹیکسپو پاکستان نمائش کا باقائدہ آغاز ہو گیا

    وزیراعلیٰ سندھ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا