Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کا ریسکیو 1122 سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا ریسکیو 1122 سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے اگلے چند ہفتوں میں ایمرجنسی رسپانس سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : حکومتی ذرائع کے مطابق عالمی بینک سے لیے گئے 7 کروڑ ڈالرز قرض سے ریسکیو 1122 شروع کی جائے گی ریسکیو 1122 کا کام صوبائی ڈسزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے کیا جا رہا ہے-

    صحرائے چولستان میں شدید گرمی،تالاب خشک ہوگئے،پینے کا پانی نایاب،درجنوں بھیڑیں مر گئیں

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سو اٹھاسی نئی ایمبولینس آگئيں ہیں ایمبولنسز آئندہ ہفتے محکمہ صحت کے سپرد کی جائیں گی جبکہ ریسکیو 1122 کے تحت ایمبولنس سروس امن فاونڈیشن اور فائر بریگیڈ محکمہ بلدیات کے زیر انتظام کام کرے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی مشینری اور عملہ طلب کیا جائے گا جبکہ ریسکیو 1122 کے ریجنل دفاتر تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں قائم ہوں گے کراچی میں ریسکیو 1122 کے پانچ دفاتر قائم ہوں گے۔

    آٹے اور چینی کی قیمتیں کم گھی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ

    اس کے علاوہ سندھ حکومت نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر کے2 ہزار مقامات پر 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری بھی دے دی ہے مذکورہ کیمرے شمسی توانائی سے چلیں گے۔ٕ

    واضح رہے کہ گزشتہ برس پنجاب ایمرجنسی سروس بل کے تحت ریکسیو 1122 کو خود مختار ادارہ بنا دیا گیا تھاجسے ڈویژن اور ضلع کی سطح پر ایمرجنسی آفیسر کی تعیناتی کا اختیار بھی ہوگا پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہوا تھا جس میں صوبائی ایمرجنسی سروس کا ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا-

    گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کا ردعمل

  • اپوزیشن کا عدم اعتماد کی تحریک پر جلد ووٹنگ کرانے کا مطالبہ

    اپوزیشن کا عدم اعتماد کی تحریک پر جلد ووٹنگ کرانے کا مطالبہ

    اپوزیشن کا عدم اعتماد کی تحریک پر جلد ووٹنگ کرانے کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    نوید قمر اور ایاز صادق سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچے اپوزیشن اراکین نے اجلاس بلانے سے متعلق ریکوزیشن پر بات چیت کی، اپوزیشن اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد سے متعلق بھی گفتگو کی گئی

    عدم اعتماد پرجلد ووٹنگ کےلیے اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست دے دی ،اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر جلد ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں،تحریک عدم اعتماد کو پہلے روز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے، رولز کا تقاضہ ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی ممبران کے درمیان عدم اعتماد کی قرارداد کا نوٹس تقسیم کرتے ہیں ،ابھی تک سیکرٹری قومی اسمبلی نے قرارداد کا نوٹس اراکین اسمبلی میں تقسیم نہیں کیا

    ترجمان اسپیکر کا کہنا ہےکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ آئینی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں،اسپیکر آئین اور اسمبلی قواعد و ضوابط میں تفویص اختیارات کے تحت اجلاس طلب کریں گے،اسپیکر آئین اور اسمبلی قواعد و ضوابط کے تحت اجلاس کی کارروائی عمل میں لائیں گے،اسپیکر قومی اسمبلی کا اپنی منشا کے مطابق اسمبلی کی کاروائی چلانے کا بیان بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 63-A کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرینس فائل کیا جائیگا، سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائیگی کہ جب ایک پارٹی کے ممبران واضع طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیئثت کیا ہے کیا ایسے ممبران جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کے بوجوہ تبدیل کریں ان کی نااہلیت زندگی بھر ہو گی یا انھیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائیگی کے اس ریفرینس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنایا جائے۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ سندھ میں ایس ایس یو کے 400 اہلکار بشمول ڈی آئی جی گمشدہ ہیں.اطلاعات ہیں کمانڈوز کو صوبے کی حدود سے نکال کر اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے. سندھ میں سیکیورٹی الرٹ کے باوجود فورسز کو غیر ضروری مقامات پر منتقل کرنا تشویشناک ہے. شہر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہلکاروں کو سندھ میں ڈیوٹی سرانجام دینی چاہیے. بتایا جائے آفسران کو کس قانون کے تحت اسلام آباد سندھ ہاؤس کی رکھوالی کیلئے بھیجا گیا؟ کراچی میں ناگہانی دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا تو زمہ دار وزیر اعلیٰ، آئی جی ہونگے.شہر کے امن کیلئے اہلکاروں کو فوری کراچی منتقل کیا جائے.

    قبل ازیں ن لیگی رہنما، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ہر اراکینِ اسمبلی کا ووٹ ڈالنا ایک آئینی حق ہے، عمران نیازی ایوان کا اعتماد کھوچکا ہے، اگر کسی سول ادارے نے عمران نیازی کے کہنے پر کوئی بھی غیر قانونی حربہ استعمال کیا تو متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اس کو کٹہرے میں لےکر آئیں گے اور اس کو مثال بنائیں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک اںصاف کے باغی اراکین سامنے آ چکے ہیں اور انہوں نے سندھ ہاؤس میں رہائش اختیار کر رکھی ہے، سندھ ہاؤس میں میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے کسی کا کوئی دباؤ نہیں اور نہ ہی پیسے لئے ہیں، تحریک انصاف کے باغی اراکین سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی سر جوڑ لیا ہے اور فوری اجلاس بلایا جس میں شیخ رشید نے انہیں گورنر راج سندھ میں نافذ کرنے کا مشورہ دیا، تا ہم ابھی تک اجلاس جاری ہے اور کوئی بھی فیصلہ متوقع ہے

    دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاؤس میں تعداد 12 نہیں بلکہ 24 ہے اس بات کا انکشاف راجہ ریاض نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا، راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس میں 24 اراکین ہیں جن کاتعلق پی ٹی آئی سے ہے، مزید اراکین بھی آنے کو تیار ہیں،اراکین ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے ان پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے،خان صاحب سے اختلاف ہے اس لیے ہم نے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ (ن) انہیں ایڈجسٹ نہیں کرپارہی ہمیں گھوڑے اور خچر کہا جارہا ہے ان سے اچھائی کی کیا امید ہے،

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار نے تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

    چودھری برادران کی جانب سے 25 مارچ تک مہلت مانگی گئی ہے،اہم شخصیت کا انکشاف

    ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہی ہے، پی پی اراکین اسمبلی کا انکشاف

    کہتے ہیں پانچ سال کے لیے قومی حکومت بنے گی ،ایسی کی تیسی تمہاری ،شیخ رشید

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

    سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کے 24 ایم این ایز سندھ ہاؤس میں موجود ،مزید آئیں گے ،راجہ ریاض

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    https://login.baaghitv.com/sheikh-rasheed-door-door-tak-nazar-nahi-aaen-gaya/

  • پیپلزپارٹی کے سینیٹرتاج حیدر قائمہ کمیٹی میں رو پڑے

    پیپلزپارٹی کے سینیٹرتاج حیدر قائمہ کمیٹی میں رو پڑے

    پیپلزپارٹی کے سینیٹرتاج حیدر قائمہ کمیٹی میں رو پڑے
    سندھ میں لگائے گئے تمام 2 ہزارآراو واٹر فلٹریشن پلانٹس خراب ، بند کردیئے گئے ،سینیٹ قائمہ کمیٹی آبی وسائل میں انکشاف
    8 سال پہلے یہ منصوبہ شروع کیا آج بند کردیا گیا ہے ، اس سے عوام کوصاف پانی ملنا بند ہوگیا ہے ،پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدرکمیٹی کو بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

    سندھ میں 50فیصد آراو پلانٹ چل رہے ہیں ،سندھ حکام
    اس پرسینیٹرتاج حیدر نے کانوں کو ہاتھ لگا ے ، کہاکہ اتنا جھوٹ نہ بولیں چھت گر جائے گی
    اگلے اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سندھ اور متعلقہ حکام اپنی دستیابی یقینی بنائیں وارنہ سمن کرکے بلا ئیں گے ،کمیٹی
    کمیٹی نے سندھ میں لگائے گئے تمام آراو پلانٹس کی تفصیلات طلب کرلیں
    کمیٹی کا متعلقہ حکام کی غیرمتعلقہ حکام کوبغیر تیاری بھیجنے پر سندھ حکومت کوخط اظہارناپسندیدگی ارسال کرنے کافیصلہ
    غازی بروتھا کینال کے ساتھ مختلف جگہوں پر سوئمنگ پولز بنائے جائیں، اس حوالے سے تین ماہ کے اندر منصوبہ بندی کرکے کمیٹی کوآگاہ کیاجائے ،اس سے عوام کی حفاظت بھی ہوگی اور ان کوواٹر سپورٹس بھی میسرآجائے گی ،کمیٹی کی سفارش
    غازی بروتھا کینال پاور کینال ہے اوریہاں پانی کی رفتار عام کینالز سے تیز ہے تیراکی یہاں ممکن نہیں جس کی وجہ سے لوگ مرتے ہیں،۔واپڈا حکام کی کمیٹی کو بریفنگ

    اسلام آباد(محمداویس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں انکشاف ہواہے کہ سندھ میں لگائے گئے تما م2ہزارآراو واٹر فلٹریشن پلانٹس خراب کرکے بندکردیئے گئے ہیں ،پیپلزپارٹی کے سینیٹرتاج حیدرکمیٹی کوبتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے 8سال پہلے یہ منصوبہ شروع کیاآج بندکردیاگیاہے جس سے عوام کو صاف پانی ملنا بند ہوگیاہے ،سندھ کے حکام نے کہاکہ سندھ میں 50فیصد آر او پلانٹ چل رہے ہیں جس پرسینیٹرتاج حیدر نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہاکہ اتنا جھوٹ نہ بولیں چھت گر جائے گی۔کمیٹی نے کہا اگلے اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سندھ اور متعلقہ حکام اپنی دستیابی یقینی بنائیں وارنہ سمن کرکے بلائے گی ۔کمیٹی نے سندھ میں لگائے گئے تمام آراو پلانٹس کی تفصیلات طلب کرلیں ۔ کمیٹی میں متعلقہ حکام کی عدم حاضری اور غیرمتعلقہ حکام کوبغیر تیاری کے بھیجنے پر سندھ حکومت کواظہارناپسندیدگی کاخط ارسال کرنے کافیصلہ کیا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ غازی بروتھا کینال کے ساتھ مختلف جگہوں پر سوئمنگ پولز بنائے جائیں اس حوالے سے تین ماہ کے اندر منصوبہ بندی کرکے کمیٹی کوآگاہ کیاجائے اس سے عوام کی حفاظت بھی ہوگی اور ان کوواٹر سپورٹس بھی میسرآجائے گی ۔واپڈا حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ غازی بروتھا کینال پاور کینال ہے اوریہاں پانی کی رفتار عام کینالز سے تیز ہے تیراکی یہاں ممکن نہیں جس کی وجہ سے لوگ مرتے ہیں ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس تاج حیدر کی سربراہی میں شروع تھوڑی دیر کے بعد چیئرمین کمیٹی مصدق ملک نے آکرصدرات کی ۔اجلاس میں گل دیپ سنگھ، سینیٹر صابر شاہ، ہمایوں مہمند، ثنا جمالی، شاہین خالد بٹ نے شرکت کی۔کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری آبی وسائل ،واپڈا،سندھ ایریگیشن اورارسا حکام نے شرکت کی ۔سینیٹرصابر شاہ کے غازی بروتھا کے حوالے سے ایجنڈا زیر بحث آیا۔سینیٹرتاج حیدر نے کہاکہ باقی پاکستان میں لوگ نہروں میں نہتے ہیں مگر نہیں مرتے مگر غازی بروتھا میں لوگ مرجاتے ہیں؟اس کی وجہ کیاہے ۔سینیٹرصابر شاہ نے کہاکہ لوگوں کو زندگی کی قیمت پر تیرنا نہیں چاہیے۔ٹیکنکل طور غازی بروتھا کینال میں کیا کمی ہے کہ یہاں لوگ مررہے ہیں اور باقی کینال میں نہیں مرتے ہیں۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس کینال میں اور دوسرے کینال میں فرق ہے یہ پاور کینال ہے اور باقی ایریگیشن کینال ہیں ۔یہ56ہزار کیوسک کی کینال ہے یہاں پانی کی سپیڈ 7.6فیٹ فی سکینڈ ہوتی ہے اور اس کی گہرائی 30فٹ ہے ۔یہاں پر 1450 میگاواٹ بجلی پیدا کرتی ہے ۔اس کینال میں تیراکی ممکن نہیں ہے پانی کی رفتار بہت زیادہ ہے ۔کینال سے لوگوں کو دو رکھنے کے لیے کینال کے 54.8کلومیٹر پر چین باڑ لگادی ہے ۔نہانے پر دفعہ 144نافذ کی گئی ہے ۔اس مالی سال سیفٹی اور باڑ لگانے کے لیے 21ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 80ملین روپے اگلے سال کے لیے رکھے جائیں گے تاکہ سیفٹی کے حوالے سے اقدامات کئے جاسکیں۔گذشتہ دس سال میں نہر میں ڈوبنے سے 134اموات ہوئی ہیں ۔

    سینیٹرتاج حیدر نے کہاکہ نہر کے قریب سوئمنگ پول بنائے جائیں تاکہ لوگ وہاں نہائیں اور کینال میں نہ آئیں اورلائف گارڈزکینال کے پاس لگائیں جائیں آبادی کے قریب کینال پر فنس یاحفاظتی باڑلگائی جائے ۔غازی بروتھا کینال میں عوام کوڈبنے سے بچانے اور تیراکی سے دوررکھنے کے لیے کمیٹی نے سفارش کی کہ کنیال کے ساتھ مختلف جگہوں پر سوئمنگ پول بنائے جائیں اس حوالے سے تین ماہ کے اندر منصوبہ بندی کرکے کمیٹی کوآگاہ کیاجائے اس سے عوام کی حفاظت بھی ہوگی اور ان کوواٹر سپورٹس بھی میسرآجائے گی اوراس کیوجہ سے مقامی آبادی کو نیاروزگار بھی مل جائے گا۔ کمیٹی میں زیرزمین پانی کی سطح کے حوالے سے سندھ سے بریفنگ طلب کی گئی مگر سندھ ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کے حکام اپنی ہی بریفنگ کے بارے میں کمیٹی کو بناتے میں ناکام ہوگئے ،سندھ حکام کی طرف سے بریفنگ پر جواب نہ دینے پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو رنگ آپ نے نقشے پر دیکھائے ہیں اس سے کیا مراد ہے ۔

    سینیٹرتاج حیدر نے کہاکہ سندھ میں پانی موجودہ ہے مگر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔سندھ میں 62فیصد کینال کے قریب زمین کو استعمال نہیں کرسکتے ہیں وہاں زراعت نہیں ہوسکتی ہے ۔کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے انکشاف کیاکہ انہوں نے 8سال قبل سندھ میں 2ہزار پانی صاف کرنے والے آراو پلانتس لگائے تھے جو سب کے سب خراب کرکے بندکردیئے گئے ہیں ۔صرف تھر میں 8سو آراو پلانتس لگائے گئے تھے سندھ حکومت کے ڈپارٹمنٹ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے اس کمپنی کوپیسے نہیں دیئے جب ان کاکنٹریکٹ ختم ہواتو انہوں نے تمام آراو پلانٹس سندھ حکومت کے حوالے کردیئے سندھ حکومت نے ملازمین کوتنخوائیں نہیں دیں جس کی وجہ سے وہ پلانٹس بندہوگئے ۔تھر میں ابھی ایک این جی او کوسوآراو پلانٹس بحال کرنے کے لیے دیئے ہیں ان میں سے 20 پلانٹس بحال کردیئے گئے ہیں اس میں سندھ حکومت کاایک روپیہ نہیں لگ رہا ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے سندھ حکام سے پوچھا کہ آپ کے پاس آر او پلانٹس کیوں نہیں چل رہے ہیں پلانٹس کوکیوں بند کیا گیا ہے ۔سندھ کے حکام نے کہاکہ سندھ میں 50فیصد آر او پلانٹ چل رہے ہیں جس پرسینیٹرتاج حیدر نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ اتنا جھوٹ نہ بولیں چھت گر جائے گی سارے پلانٹس بندکردیئے گئے ہیں ۔سندھ کے حکام نے کہاکہ تھر میں 30فیصد آر او پلانٹ چل رہے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ 70فیصد کیوں چل نہیں رہے ہیں یہ 30 فیصد تو وہ ہیں جو این جی او نے لے لیے ہیں ۔تاج حیدر نے کہاکہ تھر کے 30 فیصد پلانٹ این جی او چلارہی ہے ۔ حکام نے بتایاکہ تھر میں ایچ آر کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے آراوپلانٹس بند ہیں ۔اس دوران سینیٹر تاج حیدرکمیٹی میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے جب سے پلانٹس لیے پلانٹس بند ہوگئے اور اب آر او پلانٹس پرائیویٹ کنٹریکٹر کو دیئے جارہے ہیں وہ ان کو چلائے یانہ چلائے اس کوپیسے ملیں گے میں نے یہ پروگرام 8سال پہلے شروع کیا آج بند کردیا گیا ہے مجھے تکلیف اس لیے ہورہی ہے اب وہاں ٹینکر مافیا ہے جو چل رہاہے ۔این جی او کو بندسو پلانٹ دینے کامیں نے کہاتو کہا گیا کہ سب آراوپلانٹس کنٹریکٹر کو دے دیئے گئے ہیں بڑی مشکل اور سفارش کرکے میں نے سو آراو پلانٹس ان کودیئے ہیں ۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ 100فیصد آپ کے پلانٹس کیوں نہیں چلارہے ہیں جو این جی اوز کو دیئے ہیں وہ 30فیصد چل رہے ہیں ۔سندھ کے حکام نے کہاکہ سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے مجھے بھیجا ہے یہ میرا کام نہیں ہے اس لیے مجھے اس کے بارے میں علم نہیں ہے ۔کمیٹی نے سند ھ میں لگائے گئے تمام آراو پلانٹس بندکرنے اور کمیٹی کے سوالات کے جوابات نہ دینے پر شدید برہمی کااظہارکیا کمیٹی نے کہاکہ یہ آخری وارننگ دی جارہی ہے اگلے اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور متعلقہ حکام اپنی دستیابی یقینی بنائیں وارنہ کمیٹی ان کوسمن کرکے بلائے گی ۔کمیٹی کوسندھ میں لگائے گئے تمام آراو پلانٹس کی تفصیل بتائی جائے کتنے پلانٹس حکومت اور کتنے این جی اوز کے پاس ہیں کتنے پلانٹس کام کررہے ہیںاور کتنے ہیں اور ان میں کیاخرابی ہے ،ان پلانتس کوچلانے والوں کومعاوضے کیوں نہیں دیئے گئے ،ان پلانٹس پرملازمت کے لیے رکھے گئے ملازمین کوکیوں نکالاگیا یہ تمام تفصیلات اور تمام متعلقہ حکام کمیٹی میں تیاری کرکے آئیں ۔کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ کمیٹی میں متعلقہ حکام کی عدم حاضری اور غیرمتعلقہ حکام کوبغیر تیاری کے بھیجنے پر سندھ حکومت کوکمیٹی اظہارناپسندیدگی کاخط ارسال کرے گی ۔

    بلوچستان کا پانی سندھ میں چوری ہو رہا ہے،قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں انکشاف

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی گئی منظوری

    بھارتی آبی جارحیت، فیصل واوڈا میدان میں آ گئے

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    ‏دیامیر بھاشا ڈیم کو میں نے ایٹمی پروگرام جتنا اہم منصوبہ قرار دیا اور محنت کر کے سی پیک میں شامل کروایا ، احسن اقبال

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیمزفنڈ، کتنی رقم جمع ہو چکی؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

    بلوچستان میں سرکاری ملازمت کے کوٹہ کے تحت بھرتیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش

    آج تک نہر میں تقریباً ایک ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں،واپڈا نے بورڈ لگا دیا

  • سندھ حکومت شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی

    سندھ حکومت شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی

    اسلام آباد: سندھ حکومت قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں شاہ رخ جتوئی اور ساتھی مجرمان کی عمر قید کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی جس میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے شاہ رخ جتوئی پر سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی حمایت کردی کہا کہ جب قتل پر راضی نامہ ہوگیا تو دہشت گردی کی دفعات برقرار کیسے رہ سکتی ہے؟-

    شاہ رخ جتوئی کے وکیل نے کہا کہ شاہ رخ کے خلاف دہشت گردی کا کیس نہیں بنتا، سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ کا فیصلہ واضح ہے، راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی 8 سال سے جیل میں ہے۔

    شاہ رخ جتوئی سمیت متعدد بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف

    دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت بتائے کیا دہشت گردی کی دفع الگ سے برقرار رہ سکتی ہے؟ اس پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ لطیف کھوسہ نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کے خلاف اصل کیس تو 302 کا تھا، جب قتل پر راضی نامہ ہوگیا تو دہشت گردی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ اگر شاہ زیب صرف زخمی ہوتا تو دہشتگردی کی دفعہ بھی نہ لگتی۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ راضی نامہ نہیں ہوسکتا ؟ وکیل شاہ رخ جتوئی نے کہا کہ اگر عدالت یہ قرار دے تو بہت لوگوں کا بھلا ہو جائے گا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، دہشت گردی اور قتل دو الگ الگ جرائم ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دہشت گردی کے کیس میں سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا سڑک پر کسی کو کلاشنکوف سے قتل کرنا دہشت گردی نہیں ہوگی؟ اس پر پراسیکیورٹر جنرل نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں یہ دہشت گردی ہے لیکن عدالتی فیصلے کے مطابق نہیں ہے، شاہ رخ جتوئی 17 سال کا بچہ تھا رات گیارہ بجے گلی میں واقعہ پیش آیا، مقتول کے اہل خانہ راضی نامہ کرکے آسٹریلیا منتقل ہو چکے ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی ،بلاول بھٹو

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو سوال اٹھائے ہیں ان پر فریقین کو مزید تیاری کا موقع دیتے ہیں، ضروری ہوا تو عدالتی معاون مقرر کرکے لارجر بنچ کی درخواست بھی کریں گے بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    قبل ازیں رواں ماہ جنوری میں کراچی کے پوش علاقے میں 2012 میں قتل ہونے والے شاہ زیب کے کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کے بعد سینٹرل جیل کے کئی مزید بااثر قیدیوں کی پرائیوٹ اسپتالوں میں موجودگی کا انکشاف ہوا تھا کراچی کی سڑک پر کھلے عام نوجوان شاہ زیب کو گولیاں مار کر قتل کرنے والا سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر 8 ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا۔

    شاہ رخ جتوئی کراچی میں قمرالاسلام اسپتال کی بالائی منزل پر رہ رہا تھا، قمرالاسلام اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہےجہاں شاہ رخ جتوئی سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ایک قیدی کے بجائے عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا، شاہ رخ جتوئی کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے۔

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان…

  • حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم یکجہتی کمشیر کی مناسبت سے سندھ میں عام تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار بند رہیں گے۔

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے ہی پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے، 5 فروری ہر سال وفاقی حکومت کے گزیٹڈ ہالیڈے کی فہرست میں شامل ہوتا ہے-

    خیال رہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر 5 فروری ہو گیا بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ کیا حالات تھے جو 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باعث بنے۔

    5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دن کو منانے کا آغاز تقسیم کشمیر سے قبل ہی 1932 میں متحدہ پنجاب سے ہو گیا تھا تاہم یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا پاکستان بننے کے بعد بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیا جاتا رہا تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں تھا اور یہ سلسلہ بھی مسلسل نہیں رہا۔

    شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیااس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    شمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990 میں قاضی حسین نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی 29 تا 31 دسمبر 1988 جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا اور ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

    ملک میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھی۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات نہ کی جائے اور یہ مشورہ مان بھی لیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف سارک اجلاس کے ایجنڈے سے کشمیر غائب ہو گیا بلکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے ساتھ ہی واقع پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے ملکیتی ’آزاد جموں وکشمیر ہاوس‘کا سائن بورڈ بھی اتار لیا گیا۔ جب تک اجلاس کے شرکا اور ان کے ساتھ آنے والے وفود اسلام آباد میں موجود رہے، یہ سائن بورڈ بھی غائب رہا۔

    محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف یہ کہا کہ ’اس معاملے میں ہمارا اپنا موقف ہے۔‘ اس سے آگے نہ تو وزیر اعظم نے پاکستانی موقف کی وضاحت کی اور نہ ہی وزات خارجہ نے اس معاملے پر ایک لفظ بولا میاں نواز شریف اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ تھی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد تھے اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھا میاں نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے عروج کی طرف رواں تھی اور بھارت کی افواج اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا کھل کر استعمال کر رہی تھیں۔ نتیجتاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عسکری تنظیموں کاحصہ بن گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد میں لوگ اسلحہ اور عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے لگے۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ خاندان بھی شامل تھے جو لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کے علاوہ کشمیر کے کئی شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر رہے تھے۔

    عسکریت پسندوں کی بھارتی فوج کے ساتھ چھڑپوں کے نتیجے میں فوج کی جانب سے آبادیوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں خواتین اور بچوں سمیت ہر عمر کے لوگوں کی ہلاکت اور خواتین کے ریپ کی اطلاعات بین الاقومی میڈیا میں آنا شروع ہوئیں اور پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے کشمیر میں مسلح عسکری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    مودی پاگل،میرا ایمان ہے کشمیر آزاد ہو گا، وزیراعظم نے کیا مظفرآباد میں اہم اعلان

    تاہم اس دن کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004 میں ہوا جب اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور کشمیر و گلگلت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاو نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کے اعلان کیا۔ پانچ فروری 2004 کو وزیر اعظم جمالی نے مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا-

  • پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    کراچی:پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاج میں ایک اور پارٹی نے کودنے کا فیصلہ کر لیا۔ اے این پی نے احتجاجی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت سندھ کی بڑی جماعتوں نے احتجاجی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، 20 روز سے زائد عرصے سے جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنا دیا ہوا ہے، گزشتہ روز ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جس کے باعث پولیس نے لاٹھی چارج کیا ، اس کی زد میں آ کر ایک ایم کیو ایم کا کارکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

    دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اے این پی نے کراچی میں احتجاجی سیاست، رابطہ عوامی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پیپلزپارٹی کی ہم خیال عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سندھ کے ترمیمی بلدیاتی قانون کی مخالفت کردی۔

    اے این پی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، پی پی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی قانون کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔اے این پی رہنما بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے میں آج شریک ہونگے۔

  • سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    کراچی:سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر پولیس کی جانب سے بد ترین شیلنگ، متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش جس پر پولیس سے تکرار ہوئی، کارکنان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج سے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
    ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں شریک متعدد خواتین بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث متاثر ہوئی ہیں، پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین کو حراست میں لے لیا ہے۔

    شہر بھر میں بد ترین ٹریفک جام ہے اور شہر قائد میں ایک ہی وقت میں دو ریلیاں نکلنے کے باعث مختلف علاقوں میں شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

    شہر قائد میں ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شارع فیصل سے مارچ کرتے مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کا راستہ روک دیاجس کے باعث شدید بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

    ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہے اور ٹریفک کے پی ٹی فلائی اوور سے مائی کلاچی اوربوٹ بیسن کی جانب موڑاجارہاہے۔
    مزید پڑھیں: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم کردی گئی

    جبکہ دوسری ریلی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے نکالی جارہی ہے، کراچی میں بیک وقت دو ریلیوں کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک پولیس موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

  • کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سندھ میں کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سندھ میں ویج بورڈ کی تجویز کردہ کم سے کم اجرت 19 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سندھ میں انڈسٹریل اور کمرشل ملازمین کو 19 ہزار کم سے کم اجرت ادا کی جائے،دو ماہ میں ویج بورڈ اور سندھ حکومت اتفاق رائے سے کم سے کم اجرت مقرر کریں،عدالت نے بین الصوبائی آرگنائزیشن کی درخواست کو کیس سے الگ کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے قانون کے صوبائی صنعتوں پر اطلاق کا الگ سے جائزہ لیں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی کم سے کم مقرر کردہ اجرت کتنی ہے؟ وکیل انڈسٹریز نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی کم سے کم اجرت 20 ہزار ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کم سے کم اجرت کیسے بڑھائی گئی ہے؟ وکیل نے کہا کہ سندھ میں صوبائی کابینہ نے کم سے کم اجرت کی منظوری دی، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سرکار کا کم سے کم اجرت مقرر کرنے میں کیا اختیار ہے؟ اگر سندھ حکومت اور ویج بورڈ میں اتفاق رائے نہیں ہوتا تو کیا یہ معاملہ لٹک جائے گا؟ملک میں 20 ہزار کم سے کم اجرت مقرر ہوئی اور سندھ ویج بورڈ نے 19 ہزار کی سفارش کی،

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب کے باہر فائرنگ، کرائم رپورٹر جاں بحق

  • کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی:شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار،اطلاعات کے مطابق شارع فیصل پر کارساز کے قریب جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اور ریلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔اورمراد علی شاہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں

    پولیس حکام کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفری تعینات کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے شرکاء پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، ریلی شارع فیصل عوامی مرکز سے کراچی سندھ اسمبلی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی۔

    شارع فیصل پر کارساز روڈ، بلوچ کالونی پل، نرسری اور گورا قبرستان تک کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حفاظتی انتظامات میں معاون کے طور پر رینجرز کو بھی متحرک رکھا گیا ہے۔

    کارساز سے روانہ ہونے کے بعد شارہ فیصل کے دو مقامات پر قائدین ریلی کے شرکاء خطاب کریں گے۔

    صدر سے ائیرپورٹ جانے والے ٹریفک شارع فیصل پر بحال رکھا گیا ہے جبکہ کارساز پل سے پہلے ٹریفک کو کارساز روڈ پر موڑا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جب ریلی بلوچ کالونی پل عبور کر جائے گی تو ٹریفک کو بلوچ کالونی پل تک کھول دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حکومت سندھ سخت دباو کا شکار ہے لیکن حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے دباو میں نہیں آئے گی

  • سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان

    سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان

    اسلام آباد:سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گندم اور کھاد کے ذخیرہ کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔

    اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ربیع کی فصل کے لئے 6.6 ملین میٹرک ٹن سرکاری گندم اور کھاد کا مناسب سٹاک دستیاب ہے جوملک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے موزوں ہے۔ سندھ میں موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق فرٹیلائزر کمپنیاں یہاں چند ڈیلروں کو اضافی سٹاک دے رہی ہیں۔

    وزیراعظم نے منافع خوری اور ذخیرہ اندوز ی میں ملوث عناصر کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، مافیاز کے ساتھ مل کر کھاد کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈائون اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ،

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں۔ حکومت فرٹیلائزر انڈسٹری کو گیس پر 120ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے جبکہ انہیں 100ارب روپے کی ٹیکس مراعات دی جارہی ہیں ۔ فرٹیلائزر کمپنیوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں مخصوص ڈیلروں کو اضافی فرٹیلائزر فراہم کی جارہی ہے ،یہ اطلاعات ہیں کہ یہاں ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے ، یہ تفریق ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے ۔

    وزیراعظم نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈائون اور قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔ چینی کے شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو کھاد کی صنعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے،

    اس پر وزیراعظم نے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ا گر سندھ حکومت نے عوام دشمن مجرموں کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے کیونکہ سندھ حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کرنے سے سندھ سمیت ملک بھر میں کھادوں کی قیمتیں اور فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی ہیں،مافیا صارفین کے مفاد کا خیال رکھنے کے بجائے منافع خوری میں مصروف ہیں۔