Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم یکجہتی کمشیر کی مناسبت سے سندھ میں عام تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار بند رہیں گے۔

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے ہی پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے، 5 فروری ہر سال وفاقی حکومت کے گزیٹڈ ہالیڈے کی فہرست میں شامل ہوتا ہے-

    خیال رہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر 5 فروری ہو گیا بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ کیا حالات تھے جو 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باعث بنے۔

    5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دن کو منانے کا آغاز تقسیم کشمیر سے قبل ہی 1932 میں متحدہ پنجاب سے ہو گیا تھا تاہم یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا پاکستان بننے کے بعد بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیا جاتا رہا تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں تھا اور یہ سلسلہ بھی مسلسل نہیں رہا۔

    شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیااس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    شمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990 میں قاضی حسین نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی 29 تا 31 دسمبر 1988 جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا اور ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

    ملک میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھی۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات نہ کی جائے اور یہ مشورہ مان بھی لیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف سارک اجلاس کے ایجنڈے سے کشمیر غائب ہو گیا بلکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے ساتھ ہی واقع پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے ملکیتی ’آزاد جموں وکشمیر ہاوس‘کا سائن بورڈ بھی اتار لیا گیا۔ جب تک اجلاس کے شرکا اور ان کے ساتھ آنے والے وفود اسلام آباد میں موجود رہے، یہ سائن بورڈ بھی غائب رہا۔

    محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف یہ کہا کہ ’اس معاملے میں ہمارا اپنا موقف ہے۔‘ اس سے آگے نہ تو وزیر اعظم نے پاکستانی موقف کی وضاحت کی اور نہ ہی وزات خارجہ نے اس معاملے پر ایک لفظ بولا میاں نواز شریف اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ تھی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد تھے اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھا میاں نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے عروج کی طرف رواں تھی اور بھارت کی افواج اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا کھل کر استعمال کر رہی تھیں۔ نتیجتاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عسکری تنظیموں کاحصہ بن گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد میں لوگ اسلحہ اور عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے لگے۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ خاندان بھی شامل تھے جو لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کے علاوہ کشمیر کے کئی شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر رہے تھے۔

    عسکریت پسندوں کی بھارتی فوج کے ساتھ چھڑپوں کے نتیجے میں فوج کی جانب سے آبادیوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں خواتین اور بچوں سمیت ہر عمر کے لوگوں کی ہلاکت اور خواتین کے ریپ کی اطلاعات بین الاقومی میڈیا میں آنا شروع ہوئیں اور پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے کشمیر میں مسلح عسکری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    مودی پاگل،میرا ایمان ہے کشمیر آزاد ہو گا، وزیراعظم نے کیا مظفرآباد میں اہم اعلان

    تاہم اس دن کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004 میں ہوا جب اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور کشمیر و گلگلت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاو نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کے اعلان کیا۔ پانچ فروری 2004 کو وزیر اعظم جمالی نے مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا-

  • پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    کراچی:پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاج میں ایک اور پارٹی نے کودنے کا فیصلہ کر لیا۔ اے این پی نے احتجاجی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت سندھ کی بڑی جماعتوں نے احتجاجی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، 20 روز سے زائد عرصے سے جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنا دیا ہوا ہے، گزشتہ روز ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جس کے باعث پولیس نے لاٹھی چارج کیا ، اس کی زد میں آ کر ایک ایم کیو ایم کا کارکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

    دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اے این پی نے کراچی میں احتجاجی سیاست، رابطہ عوامی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پیپلزپارٹی کی ہم خیال عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سندھ کے ترمیمی بلدیاتی قانون کی مخالفت کردی۔

    اے این پی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، پی پی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی قانون کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔اے این پی رہنما بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے میں آج شریک ہونگے۔

  • سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    کراچی:سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر پولیس کی جانب سے بد ترین شیلنگ، متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش جس پر پولیس سے تکرار ہوئی، کارکنان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج سے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
    ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں شریک متعدد خواتین بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث متاثر ہوئی ہیں، پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین کو حراست میں لے لیا ہے۔

    شہر بھر میں بد ترین ٹریفک جام ہے اور شہر قائد میں ایک ہی وقت میں دو ریلیاں نکلنے کے باعث مختلف علاقوں میں شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

    شہر قائد میں ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شارع فیصل سے مارچ کرتے مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کا راستہ روک دیاجس کے باعث شدید بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

    ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہے اور ٹریفک کے پی ٹی فلائی اوور سے مائی کلاچی اوربوٹ بیسن کی جانب موڑاجارہاہے۔
    مزید پڑھیں: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم کردی گئی

    جبکہ دوسری ریلی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے نکالی جارہی ہے، کراچی میں بیک وقت دو ریلیوں کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک پولیس موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

  • کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سندھ میں کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سندھ میں ویج بورڈ کی تجویز کردہ کم سے کم اجرت 19 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سندھ میں انڈسٹریل اور کمرشل ملازمین کو 19 ہزار کم سے کم اجرت ادا کی جائے،دو ماہ میں ویج بورڈ اور سندھ حکومت اتفاق رائے سے کم سے کم اجرت مقرر کریں،عدالت نے بین الصوبائی آرگنائزیشن کی درخواست کو کیس سے الگ کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے قانون کے صوبائی صنعتوں پر اطلاق کا الگ سے جائزہ لیں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی کم سے کم مقرر کردہ اجرت کتنی ہے؟ وکیل انڈسٹریز نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی کم سے کم اجرت 20 ہزار ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کم سے کم اجرت کیسے بڑھائی گئی ہے؟ وکیل نے کہا کہ سندھ میں صوبائی کابینہ نے کم سے کم اجرت کی منظوری دی، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سرکار کا کم سے کم اجرت مقرر کرنے میں کیا اختیار ہے؟ اگر سندھ حکومت اور ویج بورڈ میں اتفاق رائے نہیں ہوتا تو کیا یہ معاملہ لٹک جائے گا؟ملک میں 20 ہزار کم سے کم اجرت مقرر ہوئی اور سندھ ویج بورڈ نے 19 ہزار کی سفارش کی،

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب کے باہر فائرنگ، کرائم رپورٹر جاں بحق

  • کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی:شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار،اطلاعات کے مطابق شارع فیصل پر کارساز کے قریب جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اور ریلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔اورمراد علی شاہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں

    پولیس حکام کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفری تعینات کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے شرکاء پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، ریلی شارع فیصل عوامی مرکز سے کراچی سندھ اسمبلی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی۔

    شارع فیصل پر کارساز روڈ، بلوچ کالونی پل، نرسری اور گورا قبرستان تک کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حفاظتی انتظامات میں معاون کے طور پر رینجرز کو بھی متحرک رکھا گیا ہے۔

    کارساز سے روانہ ہونے کے بعد شارہ فیصل کے دو مقامات پر قائدین ریلی کے شرکاء خطاب کریں گے۔

    صدر سے ائیرپورٹ جانے والے ٹریفک شارع فیصل پر بحال رکھا گیا ہے جبکہ کارساز پل سے پہلے ٹریفک کو کارساز روڈ پر موڑا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جب ریلی بلوچ کالونی پل عبور کر جائے گی تو ٹریفک کو بلوچ کالونی پل تک کھول دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حکومت سندھ سخت دباو کا شکار ہے لیکن حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے دباو میں نہیں آئے گی

  • سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان

    سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان

    اسلام آباد:سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی توپھرتیار رہے: وزیراعظم کا اعلان،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گندم اور کھاد کے ذخیرہ کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔

    اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ربیع کی فصل کے لئے 6.6 ملین میٹرک ٹن سرکاری گندم اور کھاد کا مناسب سٹاک دستیاب ہے جوملک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے موزوں ہے۔ سندھ میں موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق فرٹیلائزر کمپنیاں یہاں چند ڈیلروں کو اضافی سٹاک دے رہی ہیں۔

    وزیراعظم نے منافع خوری اور ذخیرہ اندوز ی میں ملوث عناصر کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، مافیاز کے ساتھ مل کر کھاد کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈائون اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ،

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں۔ حکومت فرٹیلائزر انڈسٹری کو گیس پر 120ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے جبکہ انہیں 100ارب روپے کی ٹیکس مراعات دی جارہی ہیں ۔ فرٹیلائزر کمپنیوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں مخصوص ڈیلروں کو اضافی فرٹیلائزر فراہم کی جارہی ہے ،یہ اطلاعات ہیں کہ یہاں ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے ، یہ تفریق ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے ۔

    وزیراعظم نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈائون اور قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔ چینی کے شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو کھاد کی صنعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے،

    اس پر وزیراعظم نے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ا گر سندھ حکومت نے عوام دشمن مجرموں کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے کیونکہ سندھ حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کرنے سے سندھ سمیت ملک بھر میں کھادوں کی قیمتیں اور فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی ہیں،مافیا صارفین کے مفاد کا خیال رکھنے کے بجائے منافع خوری میں مصروف ہیں۔

  • پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    اسٹیل مل پر سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ٹریڈ یونین رہنماؤں سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اسٹیل مل کو فوری طور پر سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ فیصلہ ٹریڈ یونین رہنماؤں کی سفارش پر کیا گیا ہے.
    اجلاس میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ ،سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی، سیکریٹری محکمہ محنت رشيد سولنگی، ڈپٹی کمشنر ملیر گھنور لغاری، مزدور رہنما کرامت علی، حبیب جنیدی اور اسٹیل مل ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں سندھ حکومت نے اسٹیل مل معاملے پر وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، مسودہ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب تیار کر رہے ہیں۔
    اس مو قع پر سید ناصر حسین شاہ کا کہان تھا کہ سندھ حکومت محنت کشوں کے حقوق کا ہرحال میں تحفظ کرے گی.
    اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت ہے کہ اسٹیل مل کے محنت کشوں سے سفارشات لے کر ان پر عمل کیا جائے۔انکا کہنا تھا کہ محنت کش پر امن احتجاج کریں، ان کا حق ہے، لیکن ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے ان کی تحریک کو نقصان پہنچے کچھ سال قبل پی آئی اے کی تحریک میں میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں تھیں. صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم خط لکھیں اور وفاقی حکومت فوراً اسٹیل مل کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے کر دے۔ یہ طویل جدوجہد ہے جو ہم سب نے مل کر کرنی ہے.
    اس موقع پر مزدور رہنما کرامت علی کا کہنا تھا کہ مستقل بنیادوں پر تحریک چلانی پڑے گی، وفاق اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔سٹیل مل پر پبلک کو موبلائیز کرنے کی ضرورت ہے، احتجاج کرنے والے مزدوروں کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، یہ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے اسے روکا جائے۔ ٹریڈ یونین رہنماکا کہنا تھا کہ یہاں پر بیٹھے تمام ٹریڈ یونین ساتھی متفق ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اس معاملے کو روکیں گے.