Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں آرٹس، سینما اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت سندھ نے عوامی آگہی بڑھانے، مقامی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے اور دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ سازی کرنے کے لئے سینئر آرٹسٹوں، ڈرامہ نگاروں اور فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیرِ اطلاعات، شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت کراچی میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے مختلف اعلیٰ افسران اور بورڈ ممبران نے شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس میں کہا کہ حکومت سندھ نے صوبے میں جمہوری اقدار کے فروغ اور صحت مند معاشرتی ترقی کے لئے ڈراموں، فلموں اور دیگر تخلیقی کاموں کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا قیام معاشرتی نشونما کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مقامی تخلیقی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔اجلاس میں انہوں نے ہدایت دی کہ نئے فلم نویسوں اور ڈرامہ نویسوں کو خصوصی طور پر حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنی تخلیقات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ مزید برآں، بورڈ کی طرف سے تخلیقی کام کو مکمل کرنے کے لئے ضروری مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ یہ کام باقاعدہ اور معیاری طریقے سے مکمل ہو سکے۔

    اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری اطلاعات، ندیم الرحمٰن میمن، ڈائریکٹر جنرل پی آر، سلیم خان، ڈائریکٹر فلمز، حزب اللہ میمن اور دیگر حکومتی نمائندے بھی موجود تھے۔ بورڈ کے ممبران میں قاضی اسد عابد، وردہ سلیم، نمرہ ملک، اذان سمیع خان اور حسن اصغر نقوی بھی شریک ہوئے۔

    ڈی جی پی آر سندھ سلیم خان نے اجلاس میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کی تشکیل کے مقاصد اور پالیسی گائیڈ لائنز سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ قاضی اسد عابد نے بورڈ کی فوری تشکیل اور اس کے فعال ہونے کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بورڈ نئے ٹیلنٹ کو اہمیت دے گا اور ان کی تخلیقات کو بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، بورڈ کے ممبران نے کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کو موثر بنانے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں اور آئندہ ہفتے تک پروڈکشن ہاؤسز سے ان کے کام کا بنیادی خاکہ طلب کرنے پر زور دیا تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کے کام کا جائزہ لیا جا سکے۔

    حکومت سندھ کی یہ کوششیں صوبے کی تخلیقی صنعت کو نئی جہت دینے اور مقامی سطح پر ثقافتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

    راولپنڈی: ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، اے سی سٹی ملک حاکم خان

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

  • سندھ حکومت کا تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول منعقد کرانے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول منعقد کرانے کا فیصلہ

    وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے سندھ اسپیشل گیمز کے بعد تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول اور دریائے سندھ پر کھیل کرانے کا فیصلہ کیا ہے، محکمہ کھیل سندھ اسپورٹس کیلنڈر میں سندھ گیمز کے ساتھ ساتھ سندھ بیچ گیمز کا ہوگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر کھیل سندھ نے سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری کے ہمراہ 3 روزہ سندھ اسپیشل گیمز کراچی کا افتتاح کرنے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر کا مزید کہنا تھا کہ سالانہ کیلنڈر میں ہمیشہ کے لیے اب سندھ اسپیشل گیمز رکھیں گے،ہماری کوشش ہے رواں سال اسپیشل گیمز کے اسکوپ کو سندھ کے تمام ڈویژنوں میں بڑھائیں، تاکہ یہ اسپیشل بچے انٹرنیشنل لیول پر کھیلیں. سردار محمد بخش مہر کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ فروری کو نینشل گیمز سے متعلق پریس کانفرنس رکھی ہے، سترہ سال بعد نیشنل گیمز کی میزبانی سندھ کریگا، ہم گھوٹکی میں اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرانے جارہے ہیں، تھر میں بھی تھر اسپورٹس فیسٹیول رکھوائیں گے، ٹیکنالوجی کے زمانے میں پہلی بار سندھ میں ای اسپورٹس کو بھی پذیرائی دی جائیگی.

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسپیشل گیمز تین روز جاری رہیں گے، جس میں کراچی کے تیس سے زائد ادارے شریک اور 12 سو سے زائد خصوصی بچوں نے گیمز میں حصہ لیا ہے، ہم سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں میں موقع دیں گے تاکہ سندھ کے نوجوان اپنے صوبے کا نام روشن کرنے کے لیے محنت کریں.وزیر کھیل نے پنجاب حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب والے بھی اپنی ٹیمیں سندھ لائیں اور ایک مک مکہ ہوجائے سندھ کے نوجوانوں میں کھیلوں سے متعلق بہت ٹیلنٹ موجود ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب کے کھلاڑی بھی سندھ آکر کھیلوں میں حصہ لیں.سندھ اسپیشل گیمز 2025 کراچی میں 30 سے زائد اداروں، 12 سو خصوصی بچوں نے ایتھیلیٹکس، آرتھری، بیڈ منٹن، تائیکوان، ٹینس، فٹبال اور دیگر گیمز میں حصہ لیا اور گیمز کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا.افتتاحی تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری کھیل سندھ صائمہ آغا، چیف انجینئراسلم مہر، ڈائریکٹر امداد علی ابڑو، ڈائریکٹر اسپورٹس امداد علی ابڑو، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے اسپورٹس انچارج اسماعیل شاہ اور دیگر موجود تھے۔

    آئی فون صارفین سے زیادہ پیسے بٹورے جانے کا انکشاف

    بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

    ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق

  • سندھ میں فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے نقصان کے ازالہ کیلئے فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت اجلاس میں سیکریٹری زراعت اور دیگر نے فصلوں کی انشورنس منصوبے سے آگاہ کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب، بارشوں، بیماری، گرمی، کیڑہ لگنے اور موسمیاتی تبدیلی سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کی کراپ انشورنس ہونا ضروری ہے۔حکومت سندھ نے کسانوں کی مدد کے لیے بینظیر ہاری کارڈ متعارف کروایا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ بینظیر ہاری کارڈ کی مد میں کسانوں کو کراپ انشورنس کی سہولت بھی فراہم کریں۔ انشورنس کے ماڈل کو چلانے کے لیے پولا ایڈوائزرز سندھ کے کسانوں کو سپورٹ کرے گا۔سندھ حکومت چاہتی ہے کہ پولارڈ ایڈوائزرز چاول، کپاس اور گندم کی فصلوں کو انشورڈ کرے۔صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ محکمہ زراعت سندھ نے کراپ انشورنس کے ایک سال کے لئے پائلٹ پروجیکٹ منظوری دے دی جو کہ رواں سال خریف 2025 سے شروع ہوگا۔انشورنس کے ماڈل کو چلانے کے لئے پولار ایڈوائزرز سندھ کے کسانوں کو ایریا ییلڈ انڈیکس انشورنس کے تحت سپورٹ کرے گا۔ اگر کراپ انشورنس کا پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ہوا تو مزید دیگر 27 اضلاع میں بھی شروع کرائیں گے۔ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ہونے کے بعد گنے اور دیگر فصلوں کو بھی کراپ انشورنس پروجیکٹ میں شامل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں دو اضلاع لاڑکانہ اور گھوٹکی میں ٹرائل کی بنیاد پر بیمہ پروگرام شروع کرایا جا رہا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

  • ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر یوٹیلٹیز منتقلی کی وجہ سے ہوئی، شرجیل میمن

    ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر یوٹیلٹیز منتقلی کی وجہ سے ہوئی، شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی میں حکومت کی وجہ سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی، یوٹیلٹیز کی منتقلی کی وجہ سے کام میں تاخیر ہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کاٹی میں خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صدر آصف زرداری کی تاجر برادری پر خصوصی توجہ ہے چیئرمین بلاول بھٹو، وزیراعلی مراد علی شاہ اور سندھ حکومت آپ کی بات سنجیدگی سے لیتی ہے کیوں کہ ملک کو تاجر برادری چلا رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ نئے صنعتی زون بنانے کی آپ کی سفارش کی 100 فیصد تائید کرتا ہوں، سی پیک کا دھابیجی اکنامک زون کا جدید منصوبہ ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں مزید اسپیشل اکنامک زون نہیں بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کا دو دن میں چیئرمین بلاول بھٹو افتتاح کریں گے ملیر ایکسپریس وے ساکنان کراچی کو پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفہ ہے، یلو لائن بی آر ٹی کے بورڈ اجلاس میں کاٹی کے ایک نمانندے کو خصوصی طور پر مدعو کریں گے، کوشش ہے کہ جام صادق برج کا کام آٹھ ماہ میں مکمل کرلیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی کراچی میں ہم سبسڈی پر ٹرانسپورٹ چلا رہے ہیں، پاکستان میں پہلی بار ای وی بسز اور خواتین کے کئے مخصوص حکومت سندھ نے متعارف کروائیں ریڈ لائن بی آر ٹی میں حکومت کی وجہ سے کوئی تاخیر نہیں، یوٹیلٹیز کی منتقلی کی وجہ سے کام میں تاخیر ہوئی، کراچی شہر کے لیے ہم اس سال ڈبل ڈیکر بسیں لا رہے ہیں، کوشش ہوگی کہ شارع فیصل پر اس سال ڈبل ڈیکر بسیں چلا سکیں۔انہوں نے کہا کہ انفرا اسٹرکچر پر چند کاروباری لوگ سپریم کورٹ گئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ یہ سندھ حکومت کو ملنا چاہیے، ایسوسی ایشن منجمد 190ارب روپے کو ریلیز کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیس کی رقم جانے کس جنم میں شہر پر خرچ ہوگی، ایشوز ہیں اور سندھ حکومت انہیں حل کرنے پر سنجیدہ ہیں۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے لیکن ایشوز ہیں، پہلے دس دس روز ہڑتالیں ہوتی تھیں، کام بند ہوتا تھا اب ایسی صورتحال نہیں، اب ہم سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ملک ہیں، پانی بہت بڑا مسئلہ ہے، کے فور اور حب کینال منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، حکومت سندھ کی جانب سے سالڈ ویسٹ کو اربوں روپے کچرا اٹھانے کے لئے دیئے جارہے ہیں، حیدرآباد اور لاڑکانہ میں لوگوں کے دروازے بجا کر کچرا اٹھایا جا رہا ہے۔صحت کے شعبے میں حکومت سندھ چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کے ویژن کے مطابق کام کررہی ہے، این آئی سی وی ڈی کے درجنوں یونٹس کام کر رہے ہیں مہنگی ترین سائبر نائف سرجری مفت میں کی جاری ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی لطیف کھوسہ کو بیرون ملک جانے کی اجازت

    حریم شاہ کی مردوں کے خلاف باتوں پرعدنان صدیقی کا جوابی وار

    حریم شاہ کی مردوں کے خلاف باتوں پرعدنان صدیقی کا جوابی وار

    سی ٹی ڈی افسر سمیت 3 اہلکار شہری کے اغوا کیس میں معطل

    بجلی بلوں کےسیلز ٹیکس میں کمی نہیں ہوگی

  • تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال،سندھ حکومت کا طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ کا فیصلہ

    تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال،سندھ حکومت کا طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ کا فیصلہ

    کراچی: تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ،سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیکل اسکریننگ ابتدائی طور پر سندھ کے سرکاری کالجوں میں کی جائے گی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن تک جاری کر دیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ کالج ایجوکیشن میں سہ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی، جو ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ، متعلقہ ضلع کے ریجنل ڈائر یکٹر اور متعلقہ کالج پرنسپل پر مشتمل ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے ٹی او آرزکے تحت میڈیکل اسکریننگ ٹیم کسی بھی سرکاری کالج کا اچانک دورہ کرے گی، اس موقع پر محکمہ کالج ایجوکیشن کی ٹیم میڈیکل اسکریننگ ٹیم کی معاونت کے لیے موجود ہوگی، میڈیکل اسکریننگ ٹیم کالج میں کسی بھی طالب علم کا میڈیکل ٹیسٹ کر سکے گی۔

    پاکستان فضائیہ کا تربیتی جہاز گر کر تباہ،پائلٹ شہید

    نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ صحت کی ٹیمیں میڈیکل اسکریننگ کریں گی، اس ضمن میں محکمہ صحت سے اصول و ضوابط طے کیے جا رہے ہیں کہ کس بنیاد پر کالجوں کا انتخاب ہوگا، کالجوں میں جاکر کس پیرا میٹر کی بنیاد پر طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ ہوگی، تعلیمی اداروں میں سیمینار، ورکشاپس اور آگہی سیشن منعقد کئےجائیں گےجن میں طلبہ کو منشیات کے استعمال کے نقصانات، ان کی تعلیم اور مستقبل پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ:پاکستان کرکٹ ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

  • سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا سعید غنی، علی حسن زرداری اور چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری جی اے محمد نواز سوہو شریک ہوئے۔

    ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے اور ان کا غیر مجاز استعمال کرنے والوں کو نامزد کرکے ایف آئی آرز کٹوائی جائیں گی کمیٹی اجلاس میں متروکہ سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ ممبران نے اپنی سفارشات پیش کیں اور اخراجات میں کمی یقینی بنانے کی تجاویز بھی دیں۔

    سرکاری گاڑیوں کے استعمال، پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس کے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور بے کار گاڑیوں کی نیلامی پر بھی تفصیلی تباد لہ خیال کیا گیا ممبران نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور ریگولیٹ کرنے کے لیے واضح رہنما خطوط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، نیلامی کا عمل شفاف بنانے اور حاصل ہونے والے فنڈز ترجیحی منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجاویز بھی دی گئی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کے روک تھام اور پی او ایل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے، خراب گاڑیوں کی نیلامی مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

  • شرجیل میمن کاصحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایات

    شرجیل میمن کاصحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایات

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر ،وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کراچی پریس کلب کے صحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بات انہوں نے کراچی پریس کلب کے نو منتخب صدر فاضل جمیلی کی قیادت میں پریس کلب کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

    ملاقات میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کے علاوہ گورننگ باڈی کے ممبران حفیظ بلوچ، حماد حسین اور مونا صدیق بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں شرجیل انعام میمن نے پریس کلب کی نئی انتظامیہ کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔کراچی پریس کلب کے وفد نے سینئر وزیر کو صحافیوں اور پریس کلب کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جن میں خاص طور پر صحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ نمایاں تھا۔ اس پر سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ ہمیشہ پریس کلب اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرتی رہی ہے۔ شرجیل انعام میمن نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہر دور میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی مکمل حمایت فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا عزم ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے اور کراچی پریس کلب کا کردار اس حوالے سے ناقابلِ فراموش ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جو کام پریس کلب کی پچھلی باڈی کے دور میں رہ گئے ہیں، انہیں موجودہ باڈی کے ساتھ مل کر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے صحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کے معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ صحافیوں کو ریلیف مل سکے۔سینئر وزیر نے کہا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کے موجودہ چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں اور پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ ہر دور میں میڈیا ہاؤسز کو ریلیف دینے کے لئے کوشاں رہی ہے۔

    ملاقات کے دوران فاضل جمیلی نے سندھ حکومت سے مجوزہ انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اس پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ اس کانفرنس کے انعقاد میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈی جی اطلاعات سلیم خان، ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ محمد یوسف کابورو اور سارنگ لطیف چاندیو بھی موجود تھے۔مجموعی طور پر یہ ملاقات سندھ حکومت اور کراچی پریس کلب کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کا آغاز ثابت ہوئی، جس میں صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    زلفی بخاری کا محمد بن زاید کے پاکستان کے دورے پر خیرمقدم

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

  • شرجیل  میمن کی بی آر ٹی منصوبے میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے  کی ہدایت

    شرجیل میمن کی بی آر ٹی منصوبے میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کی ہدایت

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر،وزیراطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے کی پیشرفت، درپیش مسائل اور تاخیر کے اسباب پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

    اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور شیخ اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، ایشین ڈولپمنٹ بینک کے مشیر للائڈ رائٹ اور بین الاقوامی کنسلٹنٹس نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی، خاص طور پر پانی کی سپلائی لائنوں، کے الیکٹرک، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی تنصیبات کی وجہ سے ہونے والی تاخیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان یوٹیلٹیز کی منتقلی اور ان کے انتظامات میں سست روی کے سبب منصوبے میں تاخیر ہو رہی تھی۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور ان رکاوٹوں کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پروجیکٹ کی تکمیل میں مزید تاخیر نہ ہو۔اجلاس میں لاٹ 1 اور لاٹ 2 میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پروجیکٹ کنٹریکٹرز نے اپنی پیشرفت سے متعلق آگاہ کیا، جبکہ ٹرانس کراچی کے سی ای او طارق منظور شیخ نے عملدرآمد میں درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی۔سی ای او ٹرانس کراچی نے بتایا کہ یوٹیلیٹی پرووائیڈرز کی جانب سے ری لوکیشن کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ میں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو سخت ہدایات دیں کہ وہ مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں اور بلا روک ٹوک پیش رفت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے پانچ دن کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کی تاکہ تمام متعلقہ ادارے اور کمپنیز ان رکاوٹوں کو حل کریں اور کام میں تیزی لائیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کے فور اور کے ای کے انفراسٹرکچر ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے منصوبے میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کے لیے فوری طور پر قابل عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔شرجیل انعام میمن نے ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ ایئرپورٹ کے قریب کام شروع کیا جا سکے اور منصوبے کی تکمیل میں مزید سرعت لائی جا سکے۔سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے لیے ایک فلیگ شپ ٹرانسپورٹیشن پروجیکٹ ہے اور اس کا مقصد کراچی کی ٹرانسپورٹ کے نظام میں انقلاب لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے شہر میں جدید، موثر اور ماحول دوست ماس ٹرانزٹ سسٹم فراہم ہوگا، جو روزانہ ہزاروں مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا۔

    ریڈ لائن بی آر ٹی کا منصوبہ کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر کرے گا ،شرجیل میمن
    شرجیل انعام میمن نے کہا، "ریڈ لائن بی آر ٹی کا منصوبہ نہ صرف کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر کرے گا بلکہ شہریوں کی زندگی میں بھی نمایاں بہتری لائے گا۔ ہمیں ٹائم لائن سے پہلے کام مکمل کرنا ہوگا اور اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کے تعمیراتی کام میں تیزی لانے کے لیے تین شفٹوں (صبح، شام اور رات) میں کام کیا جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کام چوبیس گھنٹے جاری رہے تاکہ منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر نہ ہو۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ حکام اور اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھائیں اور ریڈ لائن بی آر ٹی کے منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ کراچی کے شہریوں کو بہترین سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

    پاکستان خودمختار ملک ، اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں،شرجیل میمن

    ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے مسافروں کیلیے گیم چینجر ہے، شرجیل انعام میمن

    سازش کے تحت کراچی سے کاروبار کو باہر منتقل کروایا گیا، شرجیل میمن

  • سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    پاکستان بالخصوص صوبہ سندھ میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر، ساتویں زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا سرکاری طور پر افتتاح کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر برائے لائیواسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کسانوں کی بہتری, مویشیوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے انقلابی قدم قرار دیا. سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز محمد علی ملکانی، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی سید ناصر حسین شاہ اور چیف اسٹیٹسٹیشن، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، ڈاکٹر نعیم الظفر شامل تھے۔تقریب میں مختلف صوبائی محکموں کے سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر نعیم الظفر نے اس زراعت شماری کی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، "یہ صرف ایک ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ شواہد پر مبنی فیصلے کرنے کی بنیاد ہے جو ہمارے زرعی شعبے کو پائیدار ترقی کی طرف لے جائے گی۔پہلی بار، ہم ایک مربوط اور مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ اختیار کر رہے ہیں، جس میں زرعی، لائیو اسٹاک اور مشینری کے شمار کو ایک جامع آپریشن میں ضم کیا گیا ہے۔زراعت شماری کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے، ڈاکٹر نعیم الظفر نے مزید کہا، "یہ زراعت شماری پاکستان کے زرعی ڈھانچے، فصلوں کے نمونوں، لائیو اسٹاک کی آبادی، اور مشینری کے رجحانات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گی۔جدید آلات جیسے کہ ٹیبلٹ پر مبنی ڈیٹا کلیکشن، جی آئی ایس ڈیش بورڈز، اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا استعمال درستگی، اعتماد اور بروقت ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی بہترین طریقوں اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔انہوں نے تیاریوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 1,695 زراعت شماری کنندگان اور نگرانوں کو 30 مقامات پر تربیت دی گئی ہے تاکہ ڈیٹا کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے سندھ کی زرعی معیشت میں اہم کردار کی بھی تعریف کی, جس میں 82 لاکھ ایکڑ قابلِ کاشت زمین شامل ہے اور کپاس، چاول، گنا، اور گندم جیسی اہم فصلیں پیدا کی جاتی ہیں۔تقریب میں، وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز، محمد علی ملکانی نے اپنے خطاب میں کہا، "یہ زراعت شماری ہمارے زرعی طریقوں کو جدید بنانے اور خوراک کی یقین دہانی، ماحولیاتی بحران، اور دیہی ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔سندھ کا زرعی شعبہ اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ہماری 37 فیصد آبادی کو سہارا دیتا ہے۔ اس زراعت شماری سے حاصل ہونے والی معلومات پالیسی سازوں کو بہتر فیصلے کرنے اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بنائے گی۔وزیر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "ہم جو ڈیٹا اکٹھا کریں گے، اس کے دور رس اثرات ہوں گے، جو کسانوں کی بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اور خوراک کی حفاظت کو مضبوط بنائیں گے۔سید ناصر حسین شاہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا، "ہماری حکومت جدید طریقوں کے ذریعے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ زراعت شماری اس وژن کو پورا کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔تقریب میں موجود صحافیوں نے معززین سے سوالات کیے، جن میں گزشتہ 16 سال سے زراعت شماری کے نہ ہونے کی وجوہات اور موجودہ شماریات کی درستگی، مطابقت اور کارکردگی پر سوالات شامل تھے، خاص طور پر ماحولیاتی بحران کے تناظر میں۔فیلڈ آپریشنز یکم جنوری سے 10 فروری 2025 تک جاری رہیں گے، جبکہ حتمی نتائج اگست 2025 تک متوقع ہیں۔ یہ منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون اور ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کو بہتر بنانے اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

    مجلس وحدت مسلمین کا ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان

    سندھ نے وفاقی اداروں سے پانی کے 20 ارب مانگ لیے

    دُھند کا راج برقرار، موٹر وے سیکشنز بند

  • پاکستان خودمختار ملک ، اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں،شرجیل میمن

    پاکستان خودمختار ملک ، اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر مختلف بیانات آرہے ہیں، حکومت کی جانب سے اس پر دن رات کام جاری ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عوام سالِ نو کی خوشیاں ضرور منائیں، مگر ہوائی فائرنگ سے گریز کریں،مظلوم فلسطینیوں کے لئے نیا سال بہتر ثابت ہو گا، نئے سال میں مسلمانوں کے لئے دعائیں کرنی چاہئے، کوئی ایسا کام نہ کریں جو کسی کے لئے اذیت کا باعث نہ بنے، ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے گولی نکل تو جاتی اسکی منزل کون سی ہوتی کوئی پتہ نہیں ہوتا، ہوائی فائرنگ سے جانی نقصان ہوتا ہے، اپنی خوشی کے لئے کسی اور کی زندگی کیوں ختم کریں، ایسا نہیں ہونا چاہئے،ہوائی فائرنگ سے اجتناب کریں،سوشل میڈیا پر بھی اس حوالہ سے مہم چلائی جانی چاہئے، آصفہ بھٹو نے بھی پیغام دیا ہے کہ ہوائی فائرنگ نہ کریں جس سے کسی کی جان کو نقصان پہنچے

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ریڈ لائن، بی آرٹی پر چند دنوں سے بیانات آ رہے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے دن رات کام جاری ہے، دنیا کا کوئی بھی ادارہ، فرم آڈٹ کر لے، سندھ حکومت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی تاخیر، مسائل ہیں، اور انکو حل کر رہے ہیں، کسی کو ذمہ دار ٹھہراؤں تو نگران حکومت میں ایک بھی کام نہیں ہو سکا، افسران کی بھی اس میں نااہلی تھی،ہم نے کام شروع کیا تو نگران حکومت آ گئی،جام صادق پُل 2025ء کے مارچ میں کراچی کے شہریوں کے حوالے کروں گا، جہاں ہمیں مسائل نہیں وہاں وقت سے پہلے پروجیکٹ مکمل کر رہے ہیں

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی اصل نشانه ہیں، عمران خان بہانہ ہے،پاکستان ایک خودمختار ملک ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی ملک کو دخل اندازی کرنے کی اجازت نہیں ،پیپلز پارٹی ملک کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لئے تیار ہے، بلاول کی قیات میں ،آصف زرداری کی قیادت میں ہر محکمے، ٹیکنالوجی کے دفاع کے لئے موجود ہے کسی غیر ملکی مداخلت، دراندازی سے بلیک میل نہیں ہوں گے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بھی نہیں چاہتی کہ سیاسی ورکرز کا معاملہ ملٹری کورٹ جائے، ان کی ایک ٹیم حکومت سے مذاکرات کر رہی ہے اور دوسری ٹیم پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے انہوں نے لابی ہائیر کی ہوئی ہیں تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے، پہلے اپنے ریلیف کے چکر میں آئی ایم ایف کو گمراہ کیا گیا۔

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار