Baaghi TV

Tag: سندھ طاس

  • پاکستانی وفد بھارت سے مذاکرات کیلیے جموں پہنچ گیا

    پاکستانی وفد بھارت سے مذاکرات کیلیے جموں پہنچ گیا

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنے کے لئے 5 رکنی پاکستانی وفد بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں پہنچ گیا ہے۔

    وفد میں عالمی بنک کے نیوٹرل ماہرین بھی شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جانے والے پاور پراجیکٹس کے منصوبوں پر پاکستانی اعتراضات کا جائزہ لیں گے اور ان پراجیکٹس کی انسپیکشن بھی کریں گے۔ یہ دورہ بھارت کی طرف سے 1000 میگا واٹ کے پکل ڈل اور 48 میگا واٹ کے لوئر کلنائی ہاءیڈرو پراجیکٹس کے علاوہ دس پاور پراجیکٹس کی غیر قانونی تعمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان پراجکٹس میں ڈربک شیوک، نیمو چیلنگ، کیرو، تماشہ، کارلوس 2، بالٹی کلان سمال، کارگل ہنڈرمین، پھاگلہ، کلان رامواری اور مندی شامل ہیں۔ پاکستان نے مارچ 2022 میں بھارتی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران یہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ واضح رہے کہ 2019 میں بھارت کی طرف سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے بعد سندھ طاس کے پاکستانی وفد کا پہلا دورہ ہے –

  • سندھ طاس معاہدہ؛  ثالثی عدالت میں بھارت کو شکست نظر آنے لگی

    سندھ طاس معاہدہ؛ ثالثی عدالت میں بھارت کو شکست نظر آنے لگی

    لاہور (خالدمحمودخالد) سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے ہیگ کی ثالثی عدالت میں ہونے والے کیس میں بھارت کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی ہے جس کے باعث بھارت کی طرف سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔

    پاکستان کو اس بات کایقین ہوگیا ہے کہ بھارت یہ کیس ہار جائے گا اور پانی کے حوالے سے بھارتی اعتراضات مسترد کرنے کے بعد عدالت پاکستان کو اس کا حق دلائے گی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ بات طے ہے کہ عدالت کی فیس آدھی بھارت دے گا اور آدھی پاکستان دے گا لیکن بھارت نے اپنی مستقل ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنے حصہ کی آدھی فیس یہ کہہ کر دینے سے انکار کردیا کہ وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر رہا ہے اس لئے وہ فیس بھی نہیں دے گا۔ اس کے بعد عدالت نے پاکستان سے استفسار کیا کہ اگر وہ کیس کو آگے چلانا چاہتے ہیں تو کیا وہ پوری عدالتی فیس دینے کو تیار ہے؟ اس کے بعد پاکستان نے بھارت کے حصہ کی فیس بھی جمع کروادی اور اس طرح عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت نے اب تک اپنے حصہ کی تقریبا45 لاکھ ڈالر فیس ادا نہیں کی۔ مذکورہ ثالثی عدالت میں ہونے والے کیس کی گارنٹی عالمی بینک نے دی تھی۔ بعض مبصرین پاکستان کی طرف سے بھارتی حصہ کی فیس جمع کروانے کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کہ پاکستانی عالمی عدالت کی بھاری فیس ادا کرے۔ لیکن دوسری طرف بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کورٹ فیس ادا کرنا پاکستان کے حق میں گیا۔ اگر کورٹ بھارتی بائیکاٹ کے بعد کیس ناقابل سماعت قرار دے دیتی تو 6 بھارتی اعتراضات کے حوالے عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ نہ کرتی۔

    بھارتی حکومت کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ وہ دریائے جہلم اور چناب پر بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بنائے جانے والے رتلے ڈیم کے متنازع ڈیزائین میں تبدیلی کے حوالے سے مقدمہ سنے جب کہ عدالت نے بھارتی موقف کی یہ کہہ کر دھجیاں اڑا دیں کہ بھارت ہوتا کون ہے کہ وہ عدالتی دائرہ اختیار کا تعین کرے۔ عدالت نے بھارت کو بتادیا کہ ہیگ عدالت رتلے ڈیم کے متنازعہ ڈیزائین تبدیل کرنے کے معاملے کی سماعت کرنے اور فیصلہ دینے کی مجاز ہے۔ عدالت نے بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر بھارت عدالت کا بائیکاٹ کرے گا تو عدالت پاکستان کا موقف سننے کے بعد یکطرفہ فیصلہ دے سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    بھارت کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اا نے پاکستان کو چند ماہ قبل ایک خط بھی لکھا تھا تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی خط کا جواب نییں دیا۔  

  • بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اسلیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے،شیری رحمان

    بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اسلیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے،شیری رحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو 25 دسمبر کو جو خط آیا بھارت سے وہ پہلے کبھی نہیں آیا ، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یہ خط مبہم تھا ،

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے اس معاملے پر متحرک ہیں ، اس خط کے متن میں ایسا الزام لگایا گیا ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں،ہمیں لگتا ہے ہندوستان نے یہ جارحانہ اقدام الیکشن کے لیے اٹھایا، دونوں ممالک جب تک حامی نا بھریں اس ٹریٹی میں کوئی ردو و بدل نہیں ہو سکتا، بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اس لیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے، ہندوستان نے ہمیشہ نیوٹرل پلیٹ فارمز سے رجوع کیا،پاکستان نے ثالثی اداروں کے ساتھ رجوع کیا اور حتمی فیصلہ کروایا،ہم میڈیا پر سامنے اس طرح سے اس لیے نہیں کر رہے کیونکہ مودی حکومت یہی چاہتی ہے، جارحانہ طریقے سے اس معاملے کو لانا بہتر حکمت عملی نہیں ہو گی،سینیٹ کا اجلاس پیر کی صبح ساڑھے دس تک ملتوی کر دیا گیا

    دوسری جانب سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کیلیے بھارتی خط کے معاملہ پرمیڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان انڈس واٹر کمشنر آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی انڈس واٹر کمشنر کو جلد جواب دیا جائے گا بھارت کو جواب دینے کیلیے تمام متعلقہ حکومتی اداروں سے مشاورت مکمل ہو چکی سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 12 کے تحت اس میں ترمیم ہو سکتی ہے، سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کیلیے پاکستان اور بھارت کا اتفاق ہونا ضروری ہے پاکستان انڈس واٹر کمشنر آفس کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں کوئی یکطرفہ ترمیم نہیں ہو سکتی بھارتی خط کا جواب 90 روز میں دینے سے متعلق سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شرط نہیں، پاکستان یہ جاننا چاہے گا کہ بھارت معاہدے میں کیوں ترمیم چاہتا ہے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔