Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدے کو معطل

  • پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کا حملے سے قبل اطلاع دینے کا دعویٰ مسترد کردیا

    پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کا حملے سے قبل اطلاع دینے کا دعویٰ مسترد کردیا

    پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ دعویٰ سختی سے مسترد کردیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو حملے سے پہلے مشتبہ مقامات پر کارروائی سے آگاہ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی کو انٹرویو میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارتی دعوے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہمیں معلوم نہیں کہ جے شنکر نے یہ سب کسے بتایا؟ ہمیں تو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔” پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف مختلف سفارتی اقدامات کیے، جن میں پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کرنا اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان شامل تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اس طرح کے بیانات حقائق کے منافی اور سفارتی آداب سے ہٹ کر ہیں، اور پاکستان کسی بھی جارحیت یا یک طرفہ اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو بعض مشتبہ مقامات پر ممکنہ حملوں سے پیشگی طور پر آگاہ کیا تھا۔ تاہم، پاکستان نے اس دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کا مؤثر جواب دیا گیا، پاکستان نے فضائی حدود بند کیں، اور دنیا بھر کے 60 ممالک کے وزرائے خارجہ اور نائب وزرائے اعظم سے رابطہ کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی مسلسل صورتِ حال سے آگاہ رکھا۔ بھارتی میڈیا نے پہلگام واقعے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا، جبکہ پاکستان نے تمام ممالک کو یقین دہانی کرائی کہ ہم پہل نہیں کریں گے، لیکن اگر بھارت نے حملہ کیا تو جواب ضرور دیا جائے گا۔ ان کے بقول، پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل شامل تھے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ 9 مئی کی رات بھارت کے جھوٹے دعوؤں کے بعد پاکستان کا صبر جواب دے گیا، تاہم پاکستان نے ثابت کیا کہ اس نے کوئی حملہ نہیں کیا۔ اس موقع پر ایک مغربی ملک نے پاکستان کے مؤقف کو درست قرار دیا۔ 10 مئی کی صبح امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا، جس میں بتایا گیا کہ بھارت سیز فائر پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت چاہے جتنی بھی سفارتی کوششیں کرے، اس کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ پاکستان بھی اپنے وفود امریکا، برطانیہ، برسلز، فرانس اور روس بھیجے گا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری ہیں، لیکن "ٹیرف صفر” کی خبریں درست نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے، 90 ہزار افراد شہید اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، اس کے باوجود ہمیں ذمہ دار ٹھہرانا ناانصافی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کے تانے بانے بھارت سے جُڑنے کے شواہد موجود ہیں، اگر ہمارے ہاتھ میلے ہوتے تو پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش نہ کرتے۔

    چین کے دورے سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان، چین اور افغانستان کے سہ فریقی تعاون کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ تینوں ممالک کے سفیروں کی حالیہ ملاقات اور آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس بھی اس دورے کا حصہ ہے۔

    نجی ایئرلائن کا طیارہ بڑے حادثے سے بچ گیا

    نئے مالی سال میں بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ

    اسلامیہ کالج پشاور ہراسگی کیس ،اساتذہ کو رومانی تعلقات سے گریز کی ہدایت

    بلوچستان ،قلعہ عبداللہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • بھارت کا دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں پر غور

    بھارت کا دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں پر غور

    بھارت نے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے قائم آبی اشتراک کے فریم ورک سندھ طاس معاہدے کو پہلگام واقعے کے ردعمل میں معطلی کے ساتھ ہی دریائے چناب پر نہر کی توسیع سمیت متعدد نئے آبی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عالمی خبر رساں ادارے کی اپنی ایک رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر موجودہ اور مجوزہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔ یہ تینوں دریا سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔بھارتی حکام رنبیر نہر کی توسیع پر بھی غور کر رہے ہیں، جو دریائے چناب سے نکلتی ہے۔

    اس منصوبے کے تحت نہر کی لمبائی 60 کلومیٹر سے بڑھا کر 120 کلومیٹر کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے بھارت پانی کے حصول کی مقدار 40 کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے بڑھا کر 150 کیوبک میٹر فی سیکنڈ تک لے جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق، اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستانی زرعی علاقوں، خصوصاً پنجاب میں پانی کی فراہمی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ22 اپریل کو بھارتی علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سراسر مسترد کر دیا۔ واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی آئی اور لائن آف کنٹرول کے اطراف میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارتی چھ جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد عالمی دباؤ کے نتیجے میں 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔ تاہم بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے خطے میں ایک نئے تناؤ کو جنم دے دیا ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ
    1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کا ایک قانونی فریم ورک ہے، جس کے تحت کوبھارت کو دریائے ستلج، بیاس، اور راوی کے پانی پر مکمل اختیار حاصل ہےجبکہ دریائے سندھ، جہلم، اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے مخصوص ہے، اور بھارت کو ان دریاؤں سے صرف محدود مقدار میں آبپاشی یا بجلی کی پیداوار کے لیے پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

    بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قانون، علاقائی امن اور پانی کی منصفانہ تقسیم پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔عالمی ماہرین اور تجزیہ کار اس بھارتی اقدام کو سیاسی اور تزویراتی دباؤ کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا اور علاقائی برتری کا دعویٰ مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے فوری سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔

    پی ایس ایل 10 کا آغاز کل سے، کراچی کنگز اور پشاور زلمی میں اہم ٹاکرا

    یومِ تشکر” کی خصوصی تقریب جاری، وزیراعظم کا مسلح افواج کو خراجِ تحسین

    استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات جاری

    ایس ای سی پی کی تمام کمپنیوں کے لیے سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    محسن نقوی سے امریکی قائم مقام سفیر کی ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال

    چیئرمین آئی سی سی جے شاہ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، غیرجانبداری پر سوالات

    طالبان کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر کا ‘خفیہ دورہ’ انڈیا، اہم ملاقاتیں

  • پاکستان  خطے کی  صورتحال سے سلامتی کونسل کو آگاہ کرئے گا

    پاکستان خطے کی صورتحال سے سلامتی کونسل کو آگاہ کرئے گا

    پاکستان نے خطے کی صورت حال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کو بھارت کے جارحانہ اقدامات، اشتعال انگیزی اور اشتعال انگیز بیانات سے آگاہ کرے گا۔ سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو بھی اجاگر کرے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان واضح کرے گا کہ کس طرح بھارت کے جارحانہ اقدامات جنوبی ایشیا اور خطے سے باہر امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔یہ اہم سفارتی اقدام پاکستان کی عالمی برادری کے سامنے درست حقائق پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    واضح رہے کہ رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد پاکستان کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں بھارت سے تجارت اور واہگہ بارڈر کی بندش کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے علاوہ بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بھی بند کردی گئی، اور بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

    بھارت کی ناپاک منصوبہ بندی،اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم،پاکستان بھی تیاروبیدار

    پاک بھارت سرحد پر جنگ کے خطرات،امریکہ نے اپنے شہریوں کو سفرسے روک دیا

    بھارتی بیانیہ انتہائی خطرناک اور غیرذمہ دارانہ ہے، مراد علی شاہ

    اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام، میزائل کے مرکزی ایئر پورٹ پر جا گرا