Baaghi TV

Tag: سندھ کا ثقافتی ورثہ

  • حکومت سندھ نے کتے کی قبر کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دیدی

    حکومت سندھ نے کتے کی قبر کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دیدی

    محکمہ ثقافت سندھ نے کتے کی قبرکو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت محکمہ ثقافت کی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ثقافت ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر حمید ہارون، کلیم اللہ لاشاری اور ایس بی سی اے حکام سمیت دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں محکمہ ثقافت کی جانب سے ورثہ قرار دی گئی عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری سندھ نے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ عمارتوں کو خطرناک ڈکلیئر کرنے سے قبل محکمہ ثقافت سے بھی رائے لی جائے۔اجلاس میں مختلف مقامات اور عمارتوں کی ثقافتی ورثہ قرار دینے کی منظوری دی گئی جن میں قمبر شہداد کوٹ میں واقع کتے کی قبر، ضلع نوشہرو فیروز میں قدیم مختیار کار دفتر، سکھر میں قدیم سول کورٹ تعلقہ روہڑی، کندھ کوٹ میں واقع انسپکشن بنگلے (1908)، کنٹونمنٹ کوارٹرز، کراچی میں پارسی انسٹیٹیوٹ کمپائونڈ (KPI) بشمول جہانگیر کوٹھاری ہال اورکاٹراک سوئمنگ باتھ (1905)، ملیر میں واقع سید ہاشمی ریفرنس لائبریری شامل ہیں۔

    مٹھائی کے ڈبوں میں چھپائی ہیروئن، آئس 4 ممالک میں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

  • سندھ کے504مقامات  کوثقافتی ورثہ قراردینےکی سفارشات منظور

    سندھ کے504مقامات کوثقافتی ورثہ قراردینےکی سفارشات منظور

    کراچی :حکومت سندھ نے سندھ بھر میں تاریخی ثقافتی مقامات کو قومی ورثہ قرار دینے کے حوالے سے اہم اقدامات کرتے ہوئے صوبے بھر میں سروے کے بعد اہم فیصلے کردیئے .چیف سیکرٹری سندھ نے سندھ کے504مقامات کوثقافتی ورثہ قراردینےکی سفارشات منظورکرلیں.اطلاعات کے مطابق ثقافت کی ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات چیف سیکریٹری سندھ نےمنظورکی.اس کے علاوہ اس ایڈوائزری کمیٹی نےخالق ڈیناہال اورکےایم سی سمیت دیگرعمارات کی بحالی کی منظوری دےدی.حکومت سندھ اہم عمارات کو ثقافتی ورثے قرار دینے کے حوالے سے اس پہلے بھی اعلان کرچکی ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 504 اہم مقامات کو ثقافتی ورثہ قرار دینےکے ساتھ ہی اس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے.

    سندھ میں بہت سے تاریخٰی اور ثقافتی مقامات اور عمارات پائی جاتی ہیں. سندھ قدیم تاریخ اور ثقافت رکھنے والا صوبہ ہے جہاں 5 ہزار برس قبل مسیح تاریخ رکھنے والے موہن جو داڑو شہر کے آثار اس کا واضح ثبوت ہے۔ صوبہ کے تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے کے لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھاگئے ہیں.اس ضمن میں قیام پاکستان سے قبل1927 ء میں تعمیر ہونے والے موہٹہ پیلس کو ماضی کے فن تعمیر کے مطابق آئندہ نسلوںکے لئے اس تاریخی و ثقافتی عمارت کو محفوظ بنادیا گیا ہے۔ تاریخی عمارت میں زیادہ تر تصاویر اور کتابوں کی نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے ، صوبہ کے مختلف کالجز اور اسکولز کے بچے تاریخی عمارت کا دورہ بھی کرتے ہیں جہاں بچوں کو عمارت سے متعلق تفصیلا ت فراہم کی جاتی ہیں.کراچی ، ٹھٹھہ ، لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں واقع تاریخی مقامات کو ان کی اصل حالات میں لانے کے لئے کام جاری ہے تاکہ قدیم تاریخی قومی ورثہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔جیسا کہ مہتا پیلس ایک تاریخی عمارت ہے جس کے درودیوار پرکندہ نقش و نگار عہد حاضر میں اپنی اہمیت رکھتے اور ماضی کی یادوں تازہ کردیتے ہیں