Baaghi TV

Tag: سندھ ہائیکورٹ

  • کراچی کی ترقی پر کتنا پیسہ خرچ کیا؟ کورٹ نے تفصیل مانگ لی

    کراچی کی ترقی پر کتنا پیسہ خرچ کیا؟ کورٹ نے تفصیل مانگ لی

    سندھ ہائیکورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومت سے کراچی کی ترقی پر خرچ رقم کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ہائیکورٹ میں کراچی کے پارکس اور کھیل کے میدانوں کی بحالی کے لیے سامان کی خریداری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، وکیل کلک نے موقف دیا کہ تمام خریداری شفاف طریقے سے کی گئی ہے، سامان کی خریداری عالمی پروکیورمنٹ کے ضوابط کے تحت کی جاتی ہے۔ منصوبے کے لئے ورلڈ بینک کی فنڈنگ موصول ہوئی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پارکس اور کھیل کے میدانوں کی بہتری کے لئے سرکار کا بین الاقوامی فنڈنگ پر انحصار کرنا حیران کن ہے۔ وفاقی حکومت گزشتہ 3 برسوں کے دوران شہر سے وصول کردہ ٹیکس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے، شہر سے وصول کیا گیا ٹیکس اور ڈیوٹی کی رقم اور اس کی ڈالر میں تبدیلی کرکے بتایا جائے۔

    عدالت نے کہا یہ بھی بتایا جائے کہ وفاق کے ٹیکس وصولی میں کراچی کا کتنا فیصد حصہ بنتا ہے، عدالت نے صوبائی حکومت سے بھی گزشتہ 3 برسوں کے دوران شہر سے جمع کردہ ٹیکس اور ڈیوٹی کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، بتایا جائے صوبائی حکومت کے ٹیکس میں کراچی کا کتنا فیصد حصہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ بھی بتائیں کہ شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے کتنی رقم خرچ کی جارہی ہے، عدالت نے پارکس اور کھیل کے میدانوں کی بحالی کیلئے بین الاقوامی فنڈنگ پر انحصار پر اظہار حیرانی کرتے ہوئے وفاق اور صوبائی حکومت سے شہر کی ترقی پر خرچ کی جانے والی رقم کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    شب معراج پرسندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    شب معراج پرسندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    سونے کی قیمت میں اضافہ، ارب پتیوں کی دولت بڑھ گئی

    ننکانہ : زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا تباہ کن سلسلہ جاری

  • سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے جوڈیشل کمیشن نے 12 ناموں کی منظوری دے دی ہے ۔

    اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا، جوڈیشل کمیشن نے اکثریت سے ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری دی۔محمدجعفر رضا، محمدحسن اکبر ،عبدالحامدبھرگڑی، جان علی جونیجو ،میراں محمد شاہ اور علی حیدر ادا کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دی گئی ۔اس کے علاوہ ریاضت علی سحر، فیض الحسن شاہ ،تسنیم سلطانہ اورنثار بھنبھرو کو بھی سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دیدی گئی ۔جوڈیشل کمیشن نے عثمان علی ہاد ی اور خالد حسین شاہانی کو بھی سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دی۔، اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع بھی کی۔

    یاد رہے چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل اور لا اینڈ جسٹس کمیشن میں تقرریوں کے لیے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا جس میں بتایا گیا کہ قانون و انصاف کمیشن کے سیکریٹری کی تعیناتی کیلئے کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے، کمیٹی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید شامل ہونگے، کمیٹی صوبائی چیف سیکرٹری کے نامزد کردہ امیدواروں کا انٹرویو کریں گے۔اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری کی تقرری کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین خان شامل ہوں گے، جسٹس جمال مندوخیل اور اٹارنی جنرل بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    پسند کی شادی ،شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

    جعلی دستاویزات پر بیرون ملک سفر کرنے والے 3 مسافر گرفتار

    ٹرمپ نے حاملہ خواتین کو قبل از وقت زچگیوں پر مجبور کردیا

    جرمنی میں بچوں کو قتل اور زخمی کرنے والا افغان شہری نکلا

  • سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کیلئے نام سامنے آگئے

    سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کیلئے نام سامنے آگئے

    جوڈیشل کمیشن کو سندھ ہائی کورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی کے لیے 46 نام بھیج دیے گئے اور اس اجلاس میں غور ہوگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیکرٹری جوڈیشل کمیشن نے جوڈیشل کمیشن کے اراکین کو سندھ ہائی کورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کی خالی آسامیوں پر ججوں کی تعیناتی کے لیے 46 نام بھجوادیے ہیں جن پر غور ہوگا۔سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تعینات کے لیے بھیجے گئے 46 ناموں میں سے 6 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے نام شامل ہیں اور دیگر 40 وکلا کے نام شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں میں سوریش کمار، خالد حسین شاہانی، مشتاق احمد لغاری، تسنیم سلطانہ، منور سلطانہ اور امیر علی مہسیر کے نام ہیں۔جوڈیشل کمیشن کو بھجے گئی40 وکلا کے ناموں میں علی حیدر ادا، نثار احمد بھمبرو، ریاضت علی ساحر، میراں محمد شاہ، راجا جواد علی سحر، عبید الرحمان خان، رفیق احمد کلوار، عمائمہ انور خان، محمد عثمان علی ہادی، محمد عمر لاکھانی، منصور علی گھنگرو، محمد ذیشان عبداللہ، محمد جعفر رضا شامل ہیں۔وکلا کے ناموں میں ذوالفقار علی سولنگی، حق نواز تالپور، عبد الحامد بھرگڑی، ڈاکٹر سید فیاض الحسن شاہ، محسن قادر شاہوانی، قاضی محمد بشیر، سندیپ ملانی، محمد حسن اکبر، سید احمد شاہ، امداد علی اونر، چوہدری عاطف رفیق، محمد جمشید ملک اور عرفان میر ہالپوتا شامل ہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں تعیناتی کے لیے بھیجے گئے وکلا کے ناموں میں جان علی جونیجو، ولی محمد کھوسو، فیاض احمد سمور، الطاف حسین، غلام محی الدین، راشد مصطفی، ارشد زاہد علوی، سید طارق احمد شاہ، صغیر احمد عباسی، وزیر حسین کھوسو، پرکاش کمار، محمد ذیشان، ریحان عزیزاور شازیہ ہنجرا شامل ہیں۔یاد رہے کہ سندھ ہائی میں ججوں کی خالی آسامیوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 23 جنوری کو ہوگا اور اجلاس میں مذکورہ ناموں پر غور کیا جائے گا۔

    وائی فائی سےحساس معلومات کی چوری ، راؤٹرز غیر محفوظ قرار

    سی ٹی ڈی افسر سمیت 3 اہلکار شہری کے اغوا کیس میں معطل

    سعودی عرب نے گریٹر اسرائیل نقشہ مسترد کر دیا

    بجلی بلوں کےسیلز ٹیکس میں کمی نہیں ہوگی

  • ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی تقرریوں میں سیاسی مداخلت روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے بینچ کے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت جسٹس جنید غفار نے کہا کہ یہ درخواست ہمارے پاس کیوں آئی ہی آئینی بینچ میں جانی چاہیے، درخواست میں کیا استدعا کی گئی ہی ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کے 2 الگ وکیل کیوں ہیں ہم ایک درخواست میں ایک ہی وکیل کو سنیں گے، پہلے عدالت کو مطمئن کریں یہ درخواست ریگولر بینچ میں کیوں ہے آئینی بینچ میں کیوں نہیں ۔بعدازاں عدالت نے درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کے پیش کردہ ناموں کو غیر آئینی قرار دیا جائے، جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے۔درخواست کے مطابق سیاسی جماعتیں ججز کی تقرری میں عدلیہ پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، ججز تقرری کے لیے صرف عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے پیش کردہ نام زیرِ غور لائے جائیں۔

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار

  • ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

    ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے ٹریبونلز کی تبدیلی کے کیس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے اسلام آباد کے حلقوں کے کیسز دوسرے ٹریبیونل کو منتقل کر دئیے.

    باغی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی،الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کے ٹربیونل تبدیلی کیس کا فیصلہ سنا دیا۔الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کے کیسز جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ کے ٹریبیونل کو منتقل کر دئیے۔الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں میں ٹربیونل جج تبدیل کرنے کی منظوری دیدی تھی۔ اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے جیتنے والے مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار نے ٹریبونل کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔جبکہ تحریک انصاف نے ٹریبونل کی تبدیلی کی مخالفت کی تھی۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں الیکشن ٹربیونل نے این اے 236 میں دھاندلی کیخلاف عالمگیر خان کی انتخابی عذرداری مسترد کردی۔الیکشن ٹریبونل کے روبرو این اے 236 میں دھاندلی کیخلاف عالمگیر خان کی انتخابی عذرداری کی سماعت ہوئی، الیکشن ٹربیونل عالمگیر خان کی انتخابی عذرداری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔الیکشن ٹربیونل نے عالمگیر خان کی انتخابی عذرداری کو ناقابل سماعت قرار دے دیا، این اے 236 سے ایم کیو ایم کے سپریم کورٹ کے وکیل و سینئر قانون دان حسان صابر ایڈووکیٹ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے ٹربیونل کی تبدیلی سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری، انجم عقیل خان اور راجا خرم نواز کی درخواست منظورکی تھی۔الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ٹربیونل کی تبدیلی کامحفوظ فیصلہ سنادیا، اسلام آباد کے تین لیگی اراکین اسمبلی نے ٹربیونل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    کے الیکٹرک نے کراچی ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی کاٹ دی

    وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

    جنوبی کوریا میں صدر نے مارشل لاء نافذ کردیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کو بانی پی ٹی آئی کی سیاست سے دور رہنے کامشورہ

  • سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2024 کا امتحان 8 دسمبر کو دوبارہ ہوگا

    سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2024 کا امتحان 8 دسمبر کو دوبارہ ہوگا

    سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر ایم ڈی کیٹ 2024 کا پرچہ 8 دسمبر کو دوبارہ لیا جائے گا۔

    سکھر آئی بی ای(سیبا)ٹیسٹنگ سروس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 8 دسمبر کو سندھ بھر میں ایم ڈی کیٹ 2024 کے امتحان کا دوبارہ انعقاد کیا جائے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالج و جامعات کے داخلہ ٹیسٹ آئی بی اے سکھر کے زیراہتمام ہوں گے۔سیپا ٹیسٹنگ کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں ہوںگے، جس میں شریک ہونے والے امیدواروں کو اصل ایڈمٹ کارڈ کی سلپ، شناختی یا اسمارٹ کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، پاسپورٹ،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی مارک شیٹ لازمی لانا ہوگی۔ایس ٹی ایس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ امیدوار کو ایڈمٹ سلپ یا اصل دستاویزات کے بغیر ٹیسٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ طالب علموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سینٹر کے حوالے سے ایس ٹی ایس کی ویب سائٹ کو وقتا فوقتا چیک کرتے رہیں۔رش اور افراتفری سے بچنے کے لیے کراچی میں 3 امتحانی مراکز ہوں گے جبکہ حیدر آباد، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت نے آئی بی اے سکھر کو 38ہزار 609 امیدواروں کے لیے 6 ہزار روپے فی کس کے حساب سے 232.140 ملین روپے فراہم کر دیے ہیں۔

    واہ انڈسٹریز کا ترک کمپنی سے اسلحے کی پیداواری صلاحیت کے لیے معاہدہ

    اٹک: بلال فارمیسی کی فوارہ چوک پر نئی برانچ کا افتتاح

  • مئیر کراچی کا براہ راست انتخاب: حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستیں مسترد

    مئیر کراچی کا براہ راست انتخاب: حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستیں مسترد

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کے براہ راست انتخاب کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستیں مسترد کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس محمد شفیع صدیقی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کے براہ راست انتخاب کیخلاف درخواستواں پر سماعت ہوئی، جس میں درخواستگزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے جوابی دلائل دیئے۔

    طارق منصور ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فریق وکلا نے جو دلائل دیئے تھے ٹائم لائن کے حوالے سے وہ سال 2022 سے شروع ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جوابی دلائل میں جو آپ ریفرنس دے رہے ہیں وہ آپ کے حق میں نہیں جاتے مئیر کے الیکشن کے لیے پہلے پول بنایا گیا اس کے بعد الیکشن کروائے گئے ہیں۔ جس الیکشن کی آپ بات کررہے ہیں اس کا مئیر کے انتخاب سے تعلق نہیں بنتا آپ کا جو مطلب سمجھ آرہا ہے وہ یہ ہے کہ کیونکہ الیکشن کا پروسیس 2020 میں شروع ہوا تو ترمیم کا اس پر اثر نہیں ہونا چاہیے۔

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر …

    طارق منصور ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخاب کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ الیکٹڈ ممبرز میں سے انتخاب کیا جائے،چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان الیکٹڈ ممبرز میں وہ ممبرز شامل ہوتے ہیں جو الیکٹ ہوکر نہیں آتے جس میں مائینارٹیز اور دیگر ہیں،جب کسی مخصوص نشستوں والے ممبرز میں سے کسی کو مئیر بنایا جاسکتا ہے تو نان الیکٹڈ شخص کو کیوں مئیر نہیں بنایا جاسکتا آپ کے دلائل اس جگہ پر دم توڑ جاتے ہیں کیونکہ ایک نان الیکٹڈ ممبر بھی مئیر یا ڈپٹی مئیر بن سکتا ہے، ہمیں فلسفہ نہ پڑھائیں بلکہ یہ سمجھائیں کہ اس ترمیم کے آنے کے بعد اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاسکتا۔

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    طارق منصور ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ اس حوالے سے ججمنٹ موجود ہیں جس پر بتایا گیا ہے کہ ترمیم کا اطلاق نہیں ہوتا جب الیکشن کی تاریخ اناؤنس ہو جاتی ہے تو بہت سی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں جیسا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ وغیرہ وغیرہ، سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں لکھا ہوا ہے کہ اگر بنیادی قانون میں تبدیلی کی جائے تو پھر عدالت اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جس ججمنٹ کی آپ بات کررہے ہیں وہ صوبائی اسمبلیوں کے حوالے سے دیا گیا تھا، آپ اپنی مرضی کے جملے بنا کر ہمیں پڑھانا چاہ رہے ہیں فیکٹس کیخلاف تو بات کی جاسکتی ہے لیکن قانون کیخلاف نہیں کی جاسکتی ہم آپ کو ایک گھنٹے سے موقع دے رہے ہیں لیکن ابھی تک آپ ہمیں قائل نہیں کر پائے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سمیت دیگر کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    روزانہ 100 سگریٹ پینے والے شاہ رخ خان کاسگریٹ نوشی چھوڑنے کا انکشاف

  • سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ جج کے گن مین سےمتعلق خبریں جھوٹی ہیں، پولیس

    سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ جج کے گن مین سےمتعلق خبریں جھوٹی ہیں، پولیس

    سندھ پولیس نے سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جناب صلاح الدین پنہور صاحب کے گن مین کے متعلق وائرل خبریں بے بنیاد ہیں اور جھوٹی قرار دے دیں.

    ایس ایس پی سٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سینئر جج جناب صلاح الدین پنہور صاحب کے پاس سلیم نامی گن مین کبھی تعینات نہیں رہا،پولیس ریکارڈ میں سلیم نامی کسی بھی اہلکار کی ڈیوٹی ڈسٹرکٹ سٹی اور سکیورٹی زون میں نہیں رہی.ایس ایس پی سٹی نے مزید بتایا کہ من گھڑ ت اور بے بنیاد خبریں چلانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے،نوائے وفاق نامی اخبار کےحوالےسے سوشل میڈیامیں چھپنے والی من گھڑت خبر کے متعلق اے پی این ایس سے رجوع کیا جارہا ہے.دوسری طرف نوائے وفاق نے ڈسٹرکٹ سٹی پریس ریلیز میں اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح بیان جاری کیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ سٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ان کے حوالے سے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ نوائے وفاق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارے کا ہائیکورٹ جج صلاح الدین پنہور کے خلاف کسی بھی قسم کی خبر شائع کرنے سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے ایسی کوئی خبر شائع کی ہے.

  • 26 ویں آئینی ترمیم : اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ودیگر فریقین سے  جواب طلب

    26 ویں آئینی ترمیم : اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ودیگر فریقین سے جواب طلب

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی-

    باغی ٹی وی: آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت تے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ محمد شفیع صدیقی نے ریمارکس دیے کہ آئین عدلیہ کا نہیں پارلیمنٹ کا معاملہ ہے، آپ نے آئین کے آرٹیکل 239 کا جائزہ لیا ہے؟ ہمارا دائرہ اختیار کیا ہے اس میں؟ ہمارے پاس سپریم کورٹ کے اختیارات نہیں ہیں، جو اختیارات ہائیکورٹ کے پاس ہے وہی کرسکتے ہیں، 2 فورمز نے کیسے عدلیہ کی آزادی متاثر کی ہے؟

    بعد ازاں، سندھ ہائی کورٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر فریقین سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

    وزیراعلی پنجاب کا صحافی برادری کے لیے تاریخی اقدام

    واضح رہے کہ 22 اکتوبر کو 26 ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا تھا،درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی۔

    انہوں نے درخواست میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے اور اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنا ہے۔

    وفاقی وزارتوں اور محکموں میں مجموعی طور پر 6770 پوسٹیں ختم کر …

    درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ آئینی ترمیم کی سیکشن 8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیں، درخواست میں سکریٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکریٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

  • ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور جامعات میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: سندھ ہائیکورٹ ایم ڈی کیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں جسٹس امجد علی سہیتو پر مشتمل بینچ کے روبرو ہوئی،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پچھلی سما عت پر کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا،کمیٹی نے کچھ کام کیا یا گھر پر سوتے رہے؟ کمیٹی کی چئرپرسن شیریں ناریجو نے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی ذمہ داری پی ایم ڈی سی اور ڈاؤ یونیورسٹی کی تھی ٹیسٹنگ ایجنسی کا مقصد الگ ہوتا ہے، آپ جامعات کو پھنسا دیتے ہیں کبھی جناح سندھ یونیورسٹی کو ذمہ داری دی کبھی ڈاؤ یونیورسٹی کو۔

    شیریں ناریجو نے بتایا کہ کمیٹی نے ڈاؤ یونیورسٹی کے امتحان کے نظام کو چیک کیا ہے درخواست گزاروں کے بیانات اور شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا، کچھ طلبا نے رابطہ کیا کہ امتحان دوبارہ نہیں ہونا چاہیے ایسے طلبا کے بیانات بھی لئے ہیں کمیٹی کی تحقیقات میں امتحان کے نظام میں خامیاں پائی گئی ہیں مختلف پوائنٹ پر سسٹم کمپرومائز ہوا ہے امتحانی نظام کے ذمہ داران میں 40 سے 42 افراد شامل رہے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مکینزم کمپرومائز ہوا ہے، مطلب پرچہ لیک ہوا ہے؟ شیریں ناریجو نے کہا کہ واٹس ایپ پر جوابات اور مختلف سوالات موجود تھے،جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ جو بچے امتحان میں بیٹھے ہیں ان کے ساتھ کوئی کھیل نا کھیلا جائے، ہم بچوں کے سر پر تلوار تو نہیں لٹکنے دے سکتے۔

    سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا ایف آئی اے کا کیا کردار ہے، انہوں نے کیا تحقیقات کی ہیں؟ ایف آئی اے نے کسی کو گرفتار کیا یا کسی کے نام کی نشاندہی کی ہے؟کمیٹی سربراہ نے بتایا کہ جو سوال ہمارے سامنے تھا وہ پیپر لیک ہونے کا ٹائم اہم تھا۔

    عدالت نے ایف آئی اے حکام سے پوچھا ایف آئی اے سسٹم کمپرومائزڈ تھا اس کی تحقیقات کی ہیں؟ جس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا جو لوگ امتحان کے عمل میں شریک ہوئے ان کے موبائل فارنزک پر ہیں، ایک بندے نے میسج ڈیلیٹ کیے ہوئے تھے وہ ریکور ہوئے فزیکل ثبوت بھی ملا ہے۔

    عدالت نے پوچھا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی والی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں؟ جس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی والی تحقیقات بھی کچھ دنوں میں مکمل ہو جائے گی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کسی کا حق نہ مارا جائے، ایف آئی اے اور حکومت تحقیقات کرتی رہی ہے، کون مجرم ہے کس کو سزا دینی ہے وہ حکومت جانے اور ایف آئی اے۔

    ممبر کمیٹی نے کہا کہ جامعہ کی قابلیت اور نقائص کے باعث سسٹم کمپر ومائز ہونے کے امکانات بہت ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کیا ڈاؤ یونیورسٹی امتحان لینے کی قابلیت نہیں رکھتی تھی؟ ممبر کمیٹی نے بتایا سوالات کو اصل امتحان سے لے کر تھوڑی بہت تبدیلی کرکے آؤٹ کیا گیا۔

    عدالت نے پوچھا سوالنامہ کس نے بنایا تھا؟ جس پر کمیٹی چیئرپرسن شیریں ناریجو نے بتایا کہ کالج پروفیسرز سے سوالنامہ بنوایا گیا تھا، عدالت نے شیریں ناریجو کے جواب پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کالج کے پروفیسر سے سوالات بنوائے گئے؟ شیریں ناریجو نے بتایا کہ کالج پروفیسرز کا ایک گروپ ہے جو پہلے بھی سوالنامے تیار کرتارہا ہے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے پی ایم ڈی سی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ کا کردار کیا ہے جہاں طاقتور لوگ ہیں وہاں آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، حیدر آباد اور ایک اور بورڈ نے نتائج کا اعلان نہیں کیا،کیا وہاں پیسے چل رہے ہیں؟ آج ہی ایم ڈی کیٹ کے نتائج کا اعلان کریں۔

    عدالت نے کہا آغا خان بورڈ اور نمز کا بچہ ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ نہیں دیتا، پی ایم ڈی سی کو کتنے پیسے ملے ہیں؟ 8 ہزار روپے فی امیدوار لیے گئے ہیں؟ آپ کا ٹیسٹ ایلیٹ کلاس کیلئے نہیں غریب کیلئے، فیس بھی زیادہ لیں گے، بظاہر یہ امتحان کمپرومائزڈ ہوا ہے، اب پی ایم ڈی سی کیا کرے گا۔

    وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا آپ کوئی فیصلہ کریں ہم اس پر عمل درآمد کریں گے، جس پر عدالت نے کہا 2100 بچے ہیں جنہوں نے 185 سے زائد نمبرز لیے ہیں۔

    پی ایم ڈی سی کے وکیل کا کہنا تھا امتحان کا انعقاد صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ نے کانٹریکٹ کیوں دیا؟ بہتر راستہ کیوں نہیں اپنایا؟ اگر نیا ٹیسٹ کرواتے ہیں تو کسی بچے کے اتنے نمبر نہیں ہوں گے؟ پچھلے امتحانات کے نتائج قابل قبول ہوں گے تو ان بچوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس معاملے کو کیسے حل کریں گے؟

    پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف دیا کہ ہم اس حوالے سے انکوائری کررہے ہیں جو اس تمام معاملے میں ذمہ دار ہیں پیپر کے آؤٹ ہونے کے حوالے سے بھی انکوائری کا عمل جاری ہے،جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ جو طاقت ور لوگ ہیں ان کے ہاتھوں میں آپ لوگ کھیل رہے ہیں، دیگر یونیورسٹیوں پر آپ لوگوں کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    وکیل نے موقف اپنایا کہ پی ایم ڈی سی کی ریگولیشن میں لمز و دیگر یونیورسٹی بھی آتی ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کتنے پیسے آپ لوگوں کو ملے ہیں ان امتحانات کے حوالے سے پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف دیا کہ اس کا فی الحال میرے پاس کوئی حساب موجود نہیں ہے۔

    جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کو ساڑھے 4 کروڑ سے زیادہ کی ہی رقم ملی ہوگی، جسٹس صلاح الدین پہبور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کا اختیار صرف غریب لوگوں پر چلتا ہے۔

    پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا یونیورسٹی کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے، جس کے مطابق ہم لوگ کام کرتے ہیں، جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس میں کہا کہ اگر پی ایم ڈی سی استعفیٰ دے تو پھر بات الگ ہو جائے گی،بعد ازاں عدالت نے متعلقہ حکام کو 4 ہفتوں میں دوبارہ امتحان لینے کا حکم دے دیا-