Baaghi TV

Tag: سنچری

  • بابر اعظم نے ایل پی ایل 2023 میں میچ وننگ سنچری اسکور کی۔

    بابر اعظم نے ایل پی ایل 2023 میں میچ وننگ سنچری اسکور کی۔

    قومی کپتان بابر اعظم نے میچ وننگ سنچری بنا کر کولمبو اسٹیکرز کو لنکا پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) میں گال ٹائٹنز کو سات وکٹوں سے شکست دیدی۔بابر نے اپنی اننگز کا شاندار آغاز کرتے ہوئے پہلے ہی اوور میں کاسن راجیتھا کو لگاتار تین چوکے لگائے، بابر اعظم نے کولمبر اسٹرائیکرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی میں 10ویں سنچری اسکور کی۔ اور اپنی ٹیم کےلیے بڑا ہدف حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جبکہ ٹائٹنز کی طرف سے دیے گئے 189 کے ہدف کا تعاقب کیا۔
    پاکستان کے کپتان نے 34 گیندوں پر روانی سے نصف سنچری بناتے ہوئے اپنی طوفانی بیٹنگ جاری رکھی، جو مختصر ترین فارمیٹ میں ان کی 87 ویں ففٹی تھی۔
    ہدف کے تعاقب میں کولمبو کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے سنچری داغ دی اور اپنی ٹیم کو جیت کے ساتھ ساتھ دو اہم پوائنٹس بھی دلوادیے۔ بابر اعظم نے پہلی وکٹ پر ہی پاتھم نسانکا کے ساتھ مل کر 111 رنز کی شراکت بنائی۔ بابر اعظم آخری اوور میں 59 گیندوں پر 105 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں 5 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔ تاہم، بابر کے لیے آج کوئی رکنا نہیں تھا جیسا کہ 14ویں اوور میں، دائیں ہاتھ کے بلے باز نے اکھیلا داننجیا کو دو تابناک چھکے اور ایک چوکا لگایا، اس کے بعد 15ویں اوور میں راجیتھا کو چھکا لگا – وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔

  • جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی شاہینوں کی کرکٹ کے محاذ پر شاندار کامیابی

    جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی شاہینوں کی کرکٹ کے محاذ پر شاندار کامیابی

    جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، انضمام الحق۔ فوادعالم نے شاندار سنچری اسکور کی، اظہر علی کے ہمراہ ان کی پارٹنرشپ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی، سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری بلے باز انضمام الحق نے میزبان پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ بابراعظم نے میچ میں بہترین کپتانی کا مظاہرہ کیا، ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ میں کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    انضمام الحق نے کہا کہ انجری کے بعد کرکٹ میں واپسی اور پھر پہلی مرتبہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی وجہ سے بابراعظم پر دباؤ تھا، ایسے میں ٹاس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی مگر بابراعظم ثابت قدم رہے، ٹاس ہارنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے بھرپور مزاحمت پر وہ بابراعظم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ دوران میچ بابراعظم نے جو فیلڈ پوزیشن برقرار رکھی ، اس سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

    سابق کپتان نے کہا کہ میچ کی پہلی اننگز میں فواد عالم نے شاندار سنچری اسکور کی، وہ یہاں کی پچ اور کنڈیشنز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ سابق بیٹسمین نے کہا کہ فواد عالم نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ یہاں فرسٹ کلاس کرکٹ میں دس سنچریاں بناچکے ہیں۔ انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کی پہلی اننگز میں فواد عالم اور اظہر علی کی پارٹنرشپ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ستائیس رنز پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد جس انداز میں ان دونوں بلے بازوں نے اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو مشکلات کے بھنور سے نکالا وہ قابل ستائش ہے۔

    لیجنڈری بیٹسمین نے مزید کہا کہ مشکل کنڈیشنز میں تجربہ کار کھلاڑی اپنی قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں، فواد عالم اور اظہر علی نے بھی پاکستان کے لیے یہی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان دونوں کی عمدہ پارٹنرشپ ہی تھی کہ جس کی وجہ سے پہلے فہیم اشرف نے 64 رنز کی اننگز کھیلی پھر حسن علی، نعمان علی اور یاسر شاہ نے بھی بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، ٹیل اینڈرز کے بلے سے آنے والے ان قیمتی رنز نے میچ میں پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم کردی۔

    انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ کے دوران ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے پر وہ نعمان علی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،ڈومیسٹک کرکٹ میں انہی کنڈیشنز پر مسلسل وکٹیں حاصل کرنے کی وجہ سے نعمان علی دوران ڈیبیو بہت پراعتماد نظر آئے۔ انہوں نے ایک مخصوص لائن پر مستقل باؤلنگ کی، جس سے حریف بلے بازوں نے غلطی کرکے وکٹیں گنوائیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میچ سے پہلے پاکستان کو اوپننگ بیٹنگ کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، وہ اس حق میں ہیں کہ ان دونوں اوپنرز عابدعلی اور عمران بٹ کو مزید موقع دیا جائے، عابد علی پاکستان میں لمبے رنز کرنے کا ہنر جانتے ہیں جبکہ عمران بٹ نے ابھی ایک ہی میچ کھیلے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ کراچی کی پچ بیٹنگ کے لیے زیادہ سازگار نہیں تھی مگر ہمارے اوپنرز کو رنز کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ میچز میں مڈل آرڈر بیٹنگ لائن اپ پر دباؤ کم ہو۔