Baaghi TV

Tag: سنگ بنیاد

  • ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، وزیراعظم

    ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرینا چوک انڈر پاس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ،چیف کمشنر اسلام آباد چیئرمین سی ڈی اے نورالامین مینگل نے وزیراعظم کو منصوبے بارے بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے منصوبہ کی بڈنگ کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر برہمی کا اظہار بھی کیا ،وزیراعظم نے سرینا چوک انڈر پاس منصوبہ کی بڈنگ کے حوالے سے متعلقہ حکام کو بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے یہ غلط ہے میں اس کا افتتاح نہیں کروں گا ،بس، منسٹریاں کہاں سے آگئیں تعمیراتی پراجیکٹس ہیں،وزیراعظم نے چئیرمین سی ڈی اے کو سخت ہدایت کی اور کہا کہ ایسے نہیں چلے گا، دوبارہ اشتہار دے کر نیلامی کی جائے، تعمیراتی پراجیکٹ کسی اور کمپنی کو دیں،

    وزیراعظم نے ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ کمپنی کے ایم ڈی کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا،وزیراعظم نے سوال کیا کہ آپ نے کہاں سڑکیں بنائی ہیں، مجھے بتائیں،ایم ڈی ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ نے جواب دیا کہ راشد منہاس برج، جی 13 کا انڈر پاس بھی ہم نے بنایا ہے،1980 سے یہ کمپنی کام کر رہی ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 23 سال سے یہ لوگ کام کر رہے ہیں مگر میں تو نہیں جانتا انہیں ،وزیراعظم نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ مجھے کل صبح اس بارے میں بریفنگ دی جائے، ٹھیکیداری کا کام کنٹریکٹرز کا ہے، حکومتوں کا نہیں، حکومتیں اب ٹھیکیداری کا کام کریں گی؟ وآپ لوگ مجھے پریذنٹیشن دیں، ایسے کام نہیں ہو گا، میں نے پنجاب میں 13 سال کام کیا ہے میں نے آپ کا نام پہلی بار سنا ہے، آپ مجھے پریذنٹیشن دیجیے گا، پھر کچھ ہو گا، اس طرح تو نہیں ہوتا،

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ کا افتتاح کر دیا۔ وزیراعظم نے گزشتہ سال 14 اکتوبر 2022 کو منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ 9 ماہ کی قلیل مدت میں 31 جولائی 2023 کو منصوبہ مکمل کر لیا گیا جس پر 6 ارب 25 کروڑ روپے لاگت آئی ہے یہ منصوبہ 5.2 کلومیٹر سڑکوں، 2 پلوں اور چار انڈر پاسز پر مشتمل ہے

    وزیراعظم شہبازشریف نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لیے ایک قلبی سکون اور اطمینان کا دن ہے،میں اور میرا خاندان پہلی بار 1958 میں مری گیا، مجھے یاد ہے گھنٹوں یہاں سے نکلنا محال ہوجاتا تھا،یہ عوام کیلئے وبال جان بن چکا تھا،اس منصوبے کو بہت جلد مکمل ہوجانا چاہیے تھا، لوگوں کو راستہ مہیا کرنا عین عبادت ہے، مشکلات کا دانشمندی اور صبر کیساتھ سامنا کرنا چاہیے، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، بارہ کہو بائی پاس منصوبہ 9 ماہ میں مکمل ہوا، آج عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ منصوبہ بھی نواز شریف کا ویژن تھا، نواز شریف کی حکومت کو بدترین سازش کے ذریعے ہٹایا گیا، ہماری حکومت بننے سے پہلے ہر چیز رک چکی تھی،ایل سیز کھل چکی ہیں، اب یہاں ای وی بسیں آئیں گے، اس منصوبے کی تکمیل کے دوران بے پناہ مشکلات آئیں،این ایل سی نے بڑی محنت کیساتھ کام کیا، آرمی چیف کا اس منصوبے میں اہم کردار ہے،مجھے سیاست کے دشت میں 38 سال گزر گئے، سپہ سالار کا منصوبے کیلئے تعاون پر بہت شکر گزار ہوں، یار دوست طعنہ دیتے ہیں یہ تو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے، مجھے تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا،

    پچھلے چار سال ایک ہینڈ پمپ لگا کر اس کی تشہیر کی گئی،مریم اورنگزیب
    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بارہ کہو بائی پاس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں ہم ترقی کرتا ہوا پاکستان چھوڑ کر گئے تھے،پچھلے چار سال ملک کے اندر معاشی بدحالی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو معاشی استحکام دیا،چند ماہ میں میگا ترقیاتی منصوبے کسی معجزے سے کم نہیں، میں نے اسلام آباد کی تاریخ میں اس قسم کے منصوبے کبھی نہیں دیکھے، مموجودہ حکومت نے 15 ماہ کی قلیل مدت میں ملک کو بحرانوں سے نکالا، میرا گاﺅں بھوربن ہے، ساری زندگی میں نے اس سڑک پر سفر کیا ہے، یہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا، آپ نے وہ کام کیا ہے کہ آپ کو ساری عمر، گلیات، کشمیر، مری، ہزارہ کے لوگ دعائیں دیں گے،یہاں سے بھارہ کہو اور مری جانے کے لئے بھارہ کہو کا راستہ کسی اذیت سے کم نہیں تھا،وزیراعظم نے دس ماہ کی قلیل مدت میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ہزاروں مریض، ایمبولینسیں، نوجوان روزانہ اس سڑک سے سفر کرتے ہیں،اگر یہ کام 15 ماہ میں ہو سکتا ہے تو چار سال میں کیوں نہیں ہوئے،آج اسلام آباد کے اندر کوئی ایسا روٹ نہیں جو راولپنڈی، اسلام آباد اور مری کے علاقے سے جڑتا نہ ہو، میٹرو بس کی صورت میں آج ہر شہری کے پاس عزت دار سواری موجود ہے،وزیراعظم کا وژن تھا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ تک میٹرو بس سروس موجود ہو،آج ہر روٹ اسلام آباد کے ہر سیکٹر کے ساتھ جڑا ہے اور ایئر پورٹ تک رسائی موجود ہے، جو لوگ آپ پر تنقید کرتے ہیں، بالٹی ڈبہ، کنستر لے کر عدالت میں پیش ہوتے ہیں، وہ آج عوام سے آنکھیں نہیں ملا سکتے، پچھلے چار سال ایک ہینڈ پمپ لگا کر اس کی تشہیر کی گئی،آپ کی قیادت میں چند ماہ کے دوران میگا ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے جو کسی معجزے سے کم نہیں،اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی مثال نہیں ملتی،

    چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے بارہ کہو بائی پاس منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں 20 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں جس میں پارکس ، سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ دیگر منصوبے بھی شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ وسائل اور سہولیات کار خ وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں کی جانب موڑا جا رہا ہے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • ڈپلومیٹک انکلیو میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کے مستقل ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد

    ڈپلومیٹک انکلیو میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کے مستقل ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد

    انٹر نیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (IPC) کے مستقل ہیڈ کوارٹر کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کے نئے ہیڈکوارٹر کا قیام ہمارے مشترکہ ویژن کا عکاس ہے اس اہم سنگ میل کے لئے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی حمایت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔و زیراعظم پاکستان کی مسلسل حمایت اور رہنمائی سے آئی پی سی کے مقاصد کے حصول میں کامیابی حاصل ہوئی۔ آئی پی سی کے مشن کے لئے حکومت پاکستان کی غیر متزلزل حمایت قابل تحسین ہے اور وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اس ادارے کے قیام میں معاونت اور اس اہم جگہ پر اس کے لئے زمین کی فراہمی ان کی ذاتی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم سب کی ثابت قدمی اور مسلسل کاوشوں کی بدولت آئی پی سی عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک اہم ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ بین الپارلیمانی یونین کے صدر دوار تے پچیکوکی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ان کے بھر پور تعاون اور دلچسپی سے نہ صرف اس مشن کو تقویت ملی بلکہ اس کی تکمیل میں بھی اہم کردارا دا کیا ہے۔ آئی پی سی کا تصور ایوان بالاء سے شروع ہوا اور مختصر عرصے میں ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا جس نے اقوام عالم کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے موثر روڈ میپ فراہم کیا۔ اس ادارے کی بدولت اقوام عالم کو درپیش چیلنجز جن میں امن و امان کا قیام، معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی تغیرات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے پلیٹ فارم میسر ہوگا۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ آئی پی سی نے 50 ممالک کے 193 اراکین پارلیمنٹ کو ایک نقطہ نظر پر یکجا کیا ہوا ہے اور عالمی چیلنجز کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کے لئے کو شاں ہے۔ بین الااقوامی مکالمے اور تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے میں اس کا بنیادی پہلو ہے۔ اس کی مشہور اشاعت ”دی پارلیمنٹرین“ہے۔ جرنل آف دی کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن(CPA) نے بھی آئی پی سی کی تعریف کی ہے کہ یہ ادارہ قوموں کے مابین ایک پل کا کردار اد کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بامعنی گفتگو کے ذریعے کامیابی سے مسائل کے حل میں موثر پلیٹ فارم ہے۔ اس ادارے کی بدولت عالمی سطح پر مثبت تبدیلوں کو متحرک کرنا آئی پی سی کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ آئی پی سی (IPC)اور آئی پی یو (IPU)ایک باہمی نقطہ نظر کا اشتراک ہے جو باہمی بات چیت، تعاون اور مشترکہ قانون سازی کی حوصلہ افزائی کے لئے امن خوشحالی اور ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اس سے مشترکہ ذمہ داری، صنفی مساوات، قانون کی حکمرانی، سماجی و اقتصادی پیش رفت اور بہتر معیار زندگی کے لئے رہنما اصولوں کو فروغ ملتا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اُمید ہے کہ آئی پی سی کا یہ نیا مستقل ہیڈ کوارٹر اقوام عالم کیلئے امن، خوشحالی اور ترقی کو فروغ دینے کے اہداف کے حصول کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔ اسلام آباد کے قلب میں واقع یہ سیکرٹریٹ اقوام عالم کے لئے روشن مستقبل کی اُمید اور مسائل کے حل کا مرکز ثابت ہوگا

    آئی پی سی کے مستقل ہیڈ کوارٹر کے سنگ بنیاد کی تقریب سے آئی پی یو کے صدر ڈوارتے پچیکو نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ میں آئی پی سی کا حصہ ہوں۔ہم دنیا بھر کے پارلیمنٹرینز کی نمائندگی کرتے ہیں۔پاکستان کی دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ہم سب مل کر دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمبردآزما ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی سی میں شامل ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ مزید ممالک کے پارلیمنٹیرینز بھی آئی پی سی میں شریک ہوں گے۔یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کہ مختلف ممالک کے پارلیمنٹیرینز یہاں موجود ہیں۔یہ اقدام ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوگا۔انہوں نے اس سلسلے میں آئی پی سی کے صدر چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور سیکرٹری جنرل آئی پی سی محترمہ ستارہ ایاز اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا سراہا۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں آج آئی پی سی کے اس تقریب میں موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان محمدشہباز شریف کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد پر تمام ممالک کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔پاکستان نے ہمیشہ عالمی چیلنجز، امن اور درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔تقریب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ، سینیٹرز،سفراء اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

    دریں اثناء آئی پی یو کے صدر نے وفد کے ہمراہ چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات بھی کی۔ دونوں رہنماؤں نے بین الادارہ جاتی تعاون کے فروغ میں مزید تیزی لانے پر اتفاق کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے آئی پی یو کے صدر کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ ان کا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور آئی پی یو کے مابین کثیر الجہتی تعاون مضبوط ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئی پی سی اور آئی پی یو کے مابین تعاون اجتماعی مسائل کے حل اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں میں معاون ثابت ہوگااور اس سے سفارتکاری اور اقوام کے درمیان باہمی افہام تفہیم کی نئی راہیں ہمورا ہو ں گی۔ محمد صادق سنجرانی نے آئی پی سی کی سنگِ بنیاد کی تقریب میں شرکت پر آئی پی یو کے صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے آئی پی یو کا پارلیمانوں کے مابین ڈائیلاگ اور تعاون کو بڑھانے میں کاوشوں کو تسلیم کیا۔ ملاقات میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے چیئرمین سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر برائے مہمان داری سینیٹر ذیشان خانزادہ، سیکرٹری جنرل آئی پی سی ستارہ آیاز اور سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان کے علاوہ اعلیٰ حکام اور آئی پی یو وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔

    آئی پی یو کے صدر نے سینیٹ میوزیم کا دورہ بھی کیاجہاں انہیں پاکستان کے جمہوری عمل، آئینی سفر اور ایوان بالا ء کے ارتقائی عمل کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔آئی پی یو کے وفد کے اعزاز میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ظہرانہ بھی دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کا سنگ بنیاد،مریض بچوں کا پیغام

    تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کا سنگ بنیاد،مریض بچوں کا پیغام

    قصور
    کنگن پور میں احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کا سنگ بنیاد 10 دسمبر کو رکھا جائے گا ،مریض بچوں کا زندہ دلان قصور کے نام پیغام

    تفصیلات کے مطابق تھیلیسیمیا کئیر فاؤنڈیشن کنکن پور کے زیر سایہ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لئے قصور کی تحصیل چونیاں کے شہر کنگن پور میں احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کنگن پور کا سنگ بنیاد 10 دسمبر کو رکھا جائے گا جس میں ضلع بھر سے سیاسی ،سماجی،صحافی اور سول سوسائٹی شحضیات شرکت فرمائینگی

    تھیلیسیمیا کے مریض بچوں نے ہسپتال کے قیام کے لئے جگہ اور پیسہ دینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا
    تھیلیسیمیا مرض میں مبتلا بچی ماہم نے کہا کہ ہمارے والدین ہمارے لئے خون ڈھونڈنے کیلئے پریشان رہتے تھے کیونکہ خون ہر ہفتہ حاصل کرنا بہت مشکل ہے ہم تھیلیسیمیا کئیر فاؤنڈیشن کنگن پور کے بے حد مشکور ہیں جو ہمیں خون مہیا کرتے ہیں اور قصور سے لاہور انتقال خون کیلئے لے کر جاتے ہیں
    قصور سے لاہور کا سفر ہمیں تھکا دیتا ہے
    ہماری پریشانی دیکھتے ہوئے زندہ دلان قصور نے احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کیلئے جگہ اور پیسہ دیا جس پر ہم تمام افراد کے بے حد شکر گزار ہیں