Baaghi TV

Tag: سوئزر لینڈ

  • سوئزرلینڈ میں دو کلومیٹر لمبی دنیا کی طویل ترین ٹرین کے سفر کا آغاز

    سوئزرلینڈ میں دو کلومیٹر لمبی دنیا کی طویل ترین ٹرین کے سفر کا آغاز

    سوئزرلینڈ: سوئزرلینڈ نے اپنے محکمہ ریلوے کی ایک سو پچھترہویں سالگرہ پر دنیا کو حیران کرتے ہوئے سب سے طویل ترین ٹرین کا افتتاح کردیا ہے جو لگ بھگ دو کلومیٹر لمبی ہے۔

    باغی ٹی وی : قریباً 1910 میٹر طویل بجلی سے چلنے والی اس ٹرین میں 100 ڈبے ہیں اور ملک کی قومی ریٹیان ریلوے کی ایک سو پچھترویں سالگرہ پر بنائی گئی ہے اور اسے دنیا کی طویل ترین ٹرین کا خطاب دیا گیا ہے مشرقی سوئٹزرلینڈ میں پریڈا سے الوانیو تک یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی شاندار البولا لائن پر تقریباً 25 کلومیٹر (تقریباً 15 میل) کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔

    اسے کیپریکورن کا نام دیا گیا ہے جس کا مجموعی وزن 2990 ٹن ہے اور ایسی 25 ریل گاڑیاں بنائی جائیں گی۔ جب اسے مخصوص پرفضا مقام سے گزارا گیا تو بل کھاتے راستوں سے سے یہ سرخ سانپ کی طرح دکھائی دی۔ اس تاریخی واقعے کو دیکھنے کے لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔
    https://twitter.com/dw_culture/status/1586405753321136135?s=20&t=OY-zKhACiS5Op53fCkbtsA
    اپنے افتتاح کے موقع پرٹرین کو 25 کلومیٹر تک چلایا گیا جہاں وہ سطح سے سمندر سے 1788 میٹر بلند تک گئی اور وہاں سے مزید ایک ہزار میٹر کی بلندی پر پہنچی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اسے آڑھے ترچھے راستوں سے گزارا گیا جس میں 22 سرنگیں اور 48 چھوٹے بڑے پل بھی شامل ہیں۔

    سول انجینئرنگ کا ایک عالمی شہرت یافتہ شاہکار، Thusis اور St Moritz کے درمیان 62 کلومیٹر کی لائن کو 55 پلوں اور 39 سرنگوں کی ضرورت کے باوجود بنانے میں صرف پانچ سال لگے۔


    جولائی 1904 میں اس کی تکمیل سے پہلے، زائرین کو گھوڑوں کی گاڑیوں یا سلیجوں میں کھردری پٹریوں پر 14 گھنٹے کے خطرناک سفر کا سامنا کرنا پڑتا تھا لائن کا مرکز 5,866 میٹر لمبی البولا ٹنل ہے، جو رائن اور ڈینیوب ندیوں کے درمیان پانی کے نیچے سے گہرائی میں چلتی ہے۔

    لیکن اتنی طویل ٹرین کو چلانا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ذرا سی بھی بداحتیاطی سے پورا نظام متاثرہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ڈبے میں اسپیڈ کنٹرول سسٹم لگائے گئے جو خودکار انداز میں کام کرتے ہوئے انجن کے حساب سے اپنی رفتار کم یا زیادہ کرتے ہیں۔ اس طرح ٹرین کے تمام حصے 100 فیصد ہم آہنگ ہوکر کام کرتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ ٹرین ناکام ہوئی کیونکہ اس کے سات ڈرائیور تھے اور ان کے درمیان رابطے کی خرابی کی وجہ سے بریک لگانے میں مسئلہ پیش آیا تھا۔


    اس کے بعد فوری رابطے کا ٹیلی فون سسٹم لگایا گیا اورمزید 21 تکینیک ماہرین لمبی ترین ٹرین میں بٹھائے گئےجب جب ریل تنگ راستوں، سرنگوں اور ڈھلان پر چڑھی تمام ڈرائیور رابطے میں رہے۔ لیکن ابتدائی طور پر اس کی رفتار 35 کلومیٹر رکھی گئی تھی۔

    پھر ٹرین میں بادحرکیاتی اور میکانکی نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی خاص کیبل اور نظام لگایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں تین ہزار افراد نے اس میں سفر کیا جنہیں بھرپور تفریح کے ساتھ کھانے بھی پیش کئے گئے۔

  • سوئزرلینڈ میں زیرو اسٹار ہوٹل تیار۔

    سوئزرلینڈ میں زیرو اسٹار ہوٹل تیار۔

    سوئزرلینڈ میں زیرو اسٹار ہوٹل تیار۔

    باغی ٹی وی: سوئزرلینڈ میں ایک ہوٹل تیار لیکن یہ ہوٹل باقی تمام ہوٹلز سے بہت منفرد ہے۔سوئزرلینڈ کے ڈیزائن فنکاروں نے ایک ایسے ہوٹل کو تعمیر کیا ہے۔ جو کہ باقی تمام ہوٹلز سے بہت منفرد اور الگ نظر آتا ہے۔کیونکہ یہ ہوٹل چھت اور چار دیواری کے بغیر ہے۔اور باقی ہوٹلز کی طرح اس میں کسی قسم کی کوئی سہولت بھی نہیں ہے۔ اس ہوٹل اسلئیے زیرو اسٹار ہوٹل کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ اس میں کوئی بھی اشیا ضرورت کا سامان دستیاب نہیں ہے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس ہوٹل کے 2 عدد مالک بھی ہیں۔جن کے نام پیٹرک اور فرینک رِکلن ہیں۔اگر ان کے اس ہوٹل میں کوئی آ جاۓ تو یہ اس کو کھلی فضا میں ہی سونے کا مشورہ دیتے ہیں۔کیونکہ اس ہوٹل میں چھت نہیں ہے اسلئیے یہاں پر جب کوئی آتا ہے تو اس کو کھلی فضا میں سونا پڑتا ہے

    ان کے مطابق کھلی فضا میں سونے سے کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں۔جیسے کہ باہر کی کھلی فضا میں چارپائی بستر پر سونے سے وہ عالمی مسائل کا ادراک کرسکتے ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہ عالمی وبا، جنگوں، معاشی مسائل اور دیگر امور پر دوسرے سے بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔

    مزید برآں یہ کہ ہوٹل کا منظر کچھ ایسا ہے۔ کہ 2 عدد ڈبل بیڈ اور ڈبل بیڈ کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر لیمپ وغیرہ بھی رکھے ہیں۔ نیز سامان سارا وہ ہی ہے باقی ہوٹلز والا لیکن فرق یہ ہے کہ نا تو سر پر چھت ہے اور نا ہی اطراف میں کوئی دیواریں وغیرہ ہیں۔نیز یہ کہ اس بستر کے قریب ہی پیٹرول پمپ واقع ہے۔ اور ساتھ میں ایک دیہات بھی ہے۔

    ان دونوں مالکوں نے یہ ہوٹل بہت سوچنے کے بعد بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہوٹل بنانے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں پر آنے والے لوگ عالمی مسائل کی جانب راغب ہو۔اور ان کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں۔ اس ہوٹل کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہیں۔ دوسرے ہوٹلز کی طرح لوگوں کو سلانے کا اس ہوٹل میں لوگ سونے نہیں بلکے عالمی مسائل کو حل کرنے کے بارے میں سوچیں۔جن میں کلائمٹ چینج اور غربت بھی شامل ہیں۔

    اس ہوٹل میں باقاعدہ رات یکم جولائی سے 18 ستمبر تک گزاری جا سکتی ہے۔اس زیرو اسٹار ہوٹل کا کرایہ 337 ڈالر ہے۔نیز یہ کہ ایک سہولت بھی فراہم کی گئی ہے کہ ایک بیرا صبح کا ناشتہ اور مشروبات وغیرہ فراہم کرتا ہے۔ مزید یہ کہ فنکاروں کے مطابق ملک میں اور بھی موجودہ فضا مقامات پر مزید ایسے ہوٹل کھولے جائیں گے ۔جن میں لوگ سونے سے زیادہ عالمی مسائل کا حل تلاش کریں گے۔