Baaghi TV

Tag: سوئٹزرلینڈ

  • وزیراعظم کا سوئٹزرلینڈ  کا چار روزہ سرکاری دورہ، تفصیلی شیڈول جاری

    وزیراعظم کا سوئٹزرلینڈ کا چار روزہ سرکاری دورہ، تفصیلی شیڈول جاری

    وزیراعظم شہباز شریف 18 جنوری سے سوئٹزرلینڈ کا چار روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف وہ جینوا میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کریں گے دورے کا مقصد بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینا اوراقتصادی تعاون کے مواقع تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دورے میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں اوردوطرفہ ملاقاتوں کا بھی امکان ہے، جن میں عالمی اقتصادی اورسرمایہ کاری کے مسائل پرتبادلہ خیال کیا جائے گا،یہ دورہ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی مفادات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اسلام آباد شہر کے تین میئر ہوں گے

    شہر قائد میں تیز رفتارواٹر ٹینکرنے ایک اورکمسن بچے کی جان لے لی

    نفرت انگیز بیانات دینے والے علما ءکیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  • ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں سفیر تعینات

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں سفیر تعینات

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کی سفارش پر بیرون ملک 2 سفرا کی تعیناتی کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی کے مطابق ذرائع دفتر خارجہ نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو گزشتہ ماہ تعیناتی کی سمری ارسال کی گئی تھی.سمری کے مطاق مرغوب سلیم بٹ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے نئے سفیر ہوں گے، مرغوب سلیم بٹ اس وقت وزارت خارجہ میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری برائے ایس سی او ہیں۔ان کے علاوہ عامر شوکت کو مصر میں سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی، عامر شوکت اس وقت سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔فرانس نے بھی نئے نامزد سفیر کو سفارتی سطح پر منظور کرلیا۔ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں پاکستان کی نئی سفیر ہوں گی، ممتاز زہرا بلوچ اس وقت ترجمان دفترخارجہ کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔

    پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان عمران خان کو فنڈنگ کرتے تھے، سابق رکن پی ٹی آئی

    گھریلو صارفین کوسردیوں میں گیس فراہمی کا شیڈول جاری

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

  • سوئٹزرلینڈ میں خواتین پر برقعہ پہننے کی پابندی کی تاریخ کا اعلان

    سوئٹزرلینڈ میں خواتین پر برقعہ پہننے کی پابندی کی تاریخ کا اعلان

    یورپی ملک سوئٹزر لینڈ میں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ اور باقاعدہ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوئس حکومت کی جانب سے بدھ کے روز اعلان کیا گیا کہ سوئٹزر لینڈ میں برقعے پر پابندی کے فیصلہ پر عمل درآمد یکم جنوری 2025 سے ہوگا حکومت نے مسلمان خواتین کے عوامی مقامات پر برقع اوڑھنے پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے،برقع پہننے کی صورت میں 900 پاؤنڈ تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا-

    سوئس حکومت کی فیڈرل کونسل نے بیان جاری کیا کہ ہم نے برقعے پر پابندی کو عملی طور پر نافذ کرنے کی تاریخ طے کر دی ہے اور جو کوئی بھی عوامی جگہ پر غیر قانونی طور پر اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے £888 (1,000 سوئس فرانک) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا،تاہم یہ پابندی جہازوں اور سفارتی جگہوں پر نہیں ہو گی ، نیز عبادت گاہوں میں بھی مسلمان خواتین نقاب کر سکیں گی۔

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    کونسل کے جاری کردہ بیان کے مطابق چہرے کو چھپانے کی صحت اور تحفظ کی ضرورتوں کے پیش نظر بھی اجازت ہو گی رسم و رواج اور موسمی شدت سے بچنے کے لیے بھی پردے کی اجازت ہو گی اسی طرح فنکارانہ ضرورتوں کے تحت بھی چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی، کسی خاتون کو اپنی حفاظت کے لیے بھی پردے کی ضرورت ہو تو اسے اجازت ہو گی۔

    سال 2021 میں ایک محدود اکثریت کے ساتھ ایک ریفرنڈم منعقد ہوا تھا جہاں مسلمانوں کی انجمنوں نے اس کے خلاف سخت مذمت کی تھی، ملک گیر پابندی کی تجویز دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی نے کی تھی، مسلمانوں کی انجمنوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انہی کی طرف کیا گیا ہے جنہوں نے 2009 میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگا دی تھی-

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

  • سوئٹزرلینڈ کا پاکستانی طلبا کیلئے سکالر شپ دینے کا اعلان

    سوئٹزرلینڈ کا پاکستانی طلبا کیلئے سکالر شپ دینے کا اعلان

    سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مل کرپاکستانی طلبا کیلئے آئندہ تعلیمی سال 2024-25 کیلئے ”ایکسیلینس سکالرشپ“ کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئس کنفیڈریشن ہرسال ایکسیلینس اسکالرشپس دیتی ہےجس میں 180 سےزائد ممالک کےاسکالرزاورریسرچرز کو سوئٹزرلینڈ کے اندر تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہےیہ اسکالرشپس مختلف شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ ریسرچرز کے لیے دستیاب ہیں، اور کم از کم ماسٹرز ڈگری والے ہی اس کے اہل ہوں گے۔

    یہ پروگرام سوئٹزرلینڈ میں ڈاکٹریٹ یاپوسٹ ڈاکٹریٹ کی سطح پرتحقیق یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےکےخواہاں افراد کا خیرمقدم کرتا ہے،سوئس گورنمنٹ ایکسیلینس اسکالرشپس کا بنیادی مقصد ماسٹر یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرنے والے غیر ملکی ریسرچرزکے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنا ہے۔

    مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    اسکالرشپ حاصل کرنےوالوں کا انتخاب فیڈرل کمیشن فاراسکالرشپس فار فارن اسٹوڈنٹس (ایف سی ایس) کی نگرانی میں کیا جائے گا خواہش مند امیدواروں کیلئے ماسٹرز کے بعد ایک سال کی تحقیق، ماسٹرز کے بعد تین سالہ پی ایچ ڈی ، اور ایک سالہ پوسٹ ڈاکٹریٹ پروگرام رکھے گئے ہیں۔

    سفارت خانے کی جانب سے درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، اضافی تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں یہ قدم سوئٹزرلینڈ کے تعلیمی اور عالمی تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کریں گے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ

  • وزیراعظم شہبازشریف کی غیرملکی مہمانوں سے جرمن زبان میں گفتگو

    وزیراعظم شہبازشریف کی غیرملکی مہمانوں سے جرمن زبان میں گفتگو

    وزیراعظم شہبازشریف کی نتھیا گلی میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ قدرتی آفات سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب کے موقع پر جرمن زبان میں گفتگو کی جس پر غیرملکی مہمانوں نے داد دی-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ملکی مہمانوں سےجرمن زبان میں خیریت دریافت کی اور اُنہیں علاقے کی تاریخ اور حکومت پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے بہتری کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا،وزیراعظم نے مہمانوں کو الوداع کرتے ہوئے بھی جرمن زبان میں کلمات ادا کیے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کی تقریب نتھیا گلی میں ہوئی۔ تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں تناؤ نہیں خوشحالی اورامن کا فروغ چاہتا ہے معاہدے سے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان قدرتی آفات اور ان کے ممکنہ نقصانات کی پیش گوئی، فوری امدادی کارروائیوں اور بحالی کے اقدامات میں تعاون کو فروغ ملے گا –

    پاکستان خطے میں تناؤ نہیں،ترقی چاہتا ہے،وزیراعظم


    آئی ٹی اورخواتین کی تعلیم کے فروغ کیلئے پاکستان کرداراداکرتارہے گا پاکستان ترقی چاہتا ہےماضی کی طرح وسائل ضائع نہیں کرنا چاہتے،ہم سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سیاحت کا فروغ بھی چاہتے ہیں، ہم تعلیم کے میدان اور دیگر شعبوں میں بھی سوئس حکومت کے ساتھ کام ملکر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

    مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

  • سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں 4 لاکھ برقی گاڑیوں کی بیٹری کے برابر بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری کو فعال کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دو ارب یورو کا یہ منصوبہ سوئس پہاڑی علاقے کی سطح زمین سے 600 میٹر گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر 14 سالوں سے کام جاری تھا۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ نینٹ ڈی ڈرانس کی جانب سے جاری کی جانےو الی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نئی قابلِ تجدید توانائیوں کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہوا جن کی پیداوار ناہموار ہوتی ہے، اس اتار چڑھاؤ کے لیے اِزالے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور کھپت میں توازن مستقل طور قائم کیا جاسکے۔

    اس بیٹری کی 2 کروڑ کلو واٹ آور کی گنجائش اس بات کو ممکن بنائے گی کہ قابلِ تجدید ذرائع سے بننے والی اضافی توانائی کو مستقبل کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے۔ لہذا یہ برقی گرڈ کے استحکام اور روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    یہ ہائیڈرو بیٹری اضافی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے دو مختلف بلندیوں پر بنے دو مختلف ذخائر تک پانی پمپ کر کے کام کرتی ہے۔جب اضافہ بجلی بنتی ہے تو6 پمپ ٹربائنس نچلے حوض سے اوپر موجود حوض میں پانی بھیجتے ہیں ڈھائی کروڑ مکعب میٹر کی گنجائش رکھنے والی اس آبی بیٹری کی توانائی کا اخراج اتنا ہے کہ 9 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا