Baaghi TV

Tag: سوات

  • ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    پشاور:خیبر پختونخوا حکومت نے کابینہ فیصلہ کے مطابق ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کے لیے ضلع سوات کو دو حصوں، بالائی سوات (Upper Swat) اور زیریں سوات (Lower Swat) میں تقسیم کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے-

    صوبائی محکمہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلع اپر (بر) سوات کا ہیڈ کوارٹر مٹہ جبکہ سوات کا ہیڈ کوارٹر گل کدہ تحصیل بابوزئی ہوگا ضلع اپر سوات میں مٹہ، بحرین اور خوازہ خیلہ کی تحصیلیں اور ضلع سوات میں بابوزئی، کبل، چارباغ اور بریکوٹ کی تحصیلیں شامل ہوں گی۔

    سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ 19دسمبر2025 کو کابینہ کے 43ویں اجلاس میں کیا گیا تھا ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے صوبہ میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 40 ہوگئی ہے۔

  • سوات: ٹریفک وارڈن پر تشدد، پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج

    سوات: ٹریفک وارڈن پر تشدد، پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج

    سوات:خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ٹریفک وارڈن پر تشدد کے واقعے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    سوات پولیس کے مطابق سوات میں بشام چوک خوازہ خیلہ میں ٹریفک جام کے دوران پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی علی شاہ خان آپے سے باہر ہو گئے اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک وارڈن عزت علی پر تشدد کیاراہگیروں نے رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے وارڈن پر کی گئی مار پیٹ اور دھکے دینے کی ویڈیو بنا لی،ٹریفک وارڈن عزت علی پولیس اسٹیشن خوازہ خیلہ ضلع سوات میں تعینات ہیں اور واقعے کے بعد علی شاہ خان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

    ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ علی شاہ خان نے تھپڑے مارے اور دھکے بھی دیے اور محکمہ پولیس کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے ہوئے گالم گلوچ کی،ٹریفک وارڈن نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں-

    شدید دھند کے باعث موٹروے کے مختلف حصے بند

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    سجل علی اورہانیہ عامر کس سے شادی کرنے والی ہیں؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا

  • سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے ہزاروں طلبا خیبر پختونخوا میں آنے والے حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں دیگر اداروں کی طرح امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو اداروں، فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مدارس کے طلبا بھی خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے 3 ہزار طالبعلم امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    مدارس کے طلبا کی امدادی کارروائیوں کے دوران کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوات میں امدادی کارروائیوں کے دوران کچھ طلبا کو ایک گھر سے سونے کے زیورات ملے جو انہوں نے اپنے متعلقہ امیر کے سپرد کر دیےویڈیو میں ایک شخص کو پشتو زبان میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ زیوارت تصدیق کے بعد مالک کے سپرد کر دیے جائیں گے۔

    https://x.com/ziaurrehman76/status/1958538916178612405

    یاد رہے کہ کے پی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس دوران سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں مقامی افراد اپنے پیاروں کو کھونےکے بعد نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہونے لگے ہیں ۔

  • وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، مدد دینے والوں میں سےہوں، وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔

    سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ شہدا کےلواحقین اورزخمیوں کومعاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، تمام محکموں نےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں بہترین کام کیا۔

    علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن مدد کریں گے، گھر بناکردیں گے، بستیاں قائم کریں گے، ہم کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل موجود ہیں، مدد کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، متاثرہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکو فوری بحال کیاجائے گا، انہوں نے کہاکہ میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، بونیرمیں پانی کے راستےمیں قائم عمارتوں کی وجہ سےزیادہ نقصان ہوا۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سیلاب سے شہید ہونے والے افراد کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی، اجلاس کو بونیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں،ریسکیو اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کو بتایا کہ بونیر کی 7 ویلج کونسلوں میں کلاؤڈ برسٹ سے مجموعی طور پر 5 ہزار 380 مکانات کو نقصان پہنچا، اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، 134 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 159 افراد زخمی ہوئے ہیں،ضلع بونیر سمیت 8 متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بونیر میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10ڈی واٹرنگ پمپس، 5واٹرباؤزرز اور 10ڈوزر کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں انجام دی جارہی ہیں، ریلیف سرگرمیوں میں 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرا میڈیکل اسٹاف اور 400 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، سول ڈیفنس کے 300 رضاکار اور پاک فوج کی 3 بٹالین بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ لوگوں کو خوراک،صحت سہولیات،ٹینٹس، کمبل میٹرس سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں، پیر بابا6 کلومیٹر روڈ،گوکند کا 3.5 کلومیٹر روڈ کلیئر کرلیا گیا جبکہ 15 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی کلیئرکر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، سول انتظامیہ اب ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے، متاثرہ لوگوں کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، سیلاب میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں رابطہ کرنے اور تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلی کا مشکور ہوں۔

  • سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا  کے  دل سوز انکشافات

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں واقع چالیار مدرسے میں گزشتہ روز بہیمانہ تشدد کا شکار ہونے والا طالبعلم فرحان زندگی کی بازی ہار گیا،تاہم اب مقتول طالبعلم فرحان کے نانا بخت مند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل سوز انکشافات کیے ہیں-

    مقتول طالبعلم فرحان کے نانا بخت مند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل سوز انکشافات کیے انہوں نے کہا کہ فرحان نے چند روز قبل گھر آ کر بتایا تھا کہ مدر سے کے اساتذہ اس سے جنسی مطالبات کر رہے ہیں اور وہ وہاں مزید تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تاہم گھر والوں نے اسے معمولی بہانہ سمجھ کر دوبارہ مدرسے بھیج دیا فرحان کے چچا نے مدرسے جا کر منت کی کہ بچے کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے اور فیس بھی دوگنا دینے کی پیشکش کی مگر چچا کے مدرسے سے نکلتے ہی اسا تذ ہ نے فرحان پر تشدد شروع کر دیا جو بعد میں اس کی جان لے گیا۔

    ڈی پی او سوات محمد عمر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے کے تحت سامنے آیا، ایف آئی آر میں چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے دو گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ مدرسے کے نو دیگر افراد کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،تاہم مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار

    ڈی پی او کے مطابق مدرسہ غیر قانونی طور پر چل رہا تھا جسے اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کی کارروائی کے بعد سیل کر دیا گیا ہے پولیس نے مدرسے میں زیر تعلیم تین سو طلبہ کو اپنی تحویل میں لے کر ان کے والدین کے حوالے کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور ہم کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

    فرحان کے ہم جماعت ایک عینی شاہد نے بتایا کہ واپسی پر اساتذہ نے فرحان کو شدید مارا اور ایک الگ کمرے میں بھی تشدد جاری رکھا۔ جب اُسے پانی دیا گیا تو اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، اپنا سر ساتھی کی گود میں رکھا اور خاموش ہو گیا۔

    واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے مدرسہ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور کالام و مٹہ جانے والی شاہراہ بند کر دی۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مرکزی ملزم محمد عمر سمیت تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

    جماعتِ اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان

  • سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    مدرسے کا کم عمر طالب علم فاران، مبینہ طور پر اپنے اساتذہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

    دلسوز واقعہ سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چلیار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ،پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق 3 اساتذہ محمد عمر، ان کے بیٹے احسان اللہ، اور ایک اور شخص عبداللہ نے مبینہ طور پر اسے دوسرے طلبہ کے سامنے مارنا شروع کیا، یہ مارپیٹ غیر حاضری کی سزا کے طور پر شروع ہوئی، اور جلد ہی بے رحمانہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

    https://x.com/malak_suhail/status/1947376216958242989

    ایک ہم جماعت نے بتایا کہ فاران چند دن غیر حاضر رہا تھا اور ابھی واپس آیا تھا، اساتذہ نے اسے بہت زور سے مارنا شروع کر دیا، بعد میں اسے ایک کمرے میں لے جا کر مار پیٹ جاری رکھی، مجھے پانی لانے کے لیے بلایا گیا، اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اور خاموش ہو گیا،طلبہ اور اساتذہ نے فاران کو قریبی ہسپتال پہنچایا، مگر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    https://x.com/JN_Araain/status/1947502105087877630

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : گرفتار ٹھیکیدار 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، ان میں سے ایک ملزم عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، باقی 2 کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، یہ نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک کیس ہے، مکمل تفتیش جاری ہے، ہم بچے اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی عوام نے نہ صرف مجرموں کو سزا دینے بلکہ آئندہ ایسے سانحات کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    فاران کے چچا نے بتایا کہ جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا، میں خود اسے مدرسے لے گیا، اساتذہ کے حوالے کیا، اور واپس آ گیا، اسی شام ایک استاد کا فون آیا اور بتایا کہ میرا بھتیجا بیت الخلا میں گر کر فوت ہو گیا ہے۔

  • سانحہ سوات دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، غمزدہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،مریم نواز

    سانحہ سوات دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، غمزدہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،مریم نواز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سانحہ سوات میں سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے متعدد افراد جاں بحق ہونے پر شدید دکھ اور افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت مدد ملتی تو قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔

    مریم نواز شریف نے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سوات دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، غمزدہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کے ساتھ کھڑی ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ دے پنجاب بھر کے سیاحتی مقامات پر انتظامیہ اور ریسکیو سروسز کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے، حالیہ بارشو ں کے پیش نظر پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے مزید الرٹ رہیں ریسکیو و ریلیف آپریشنز میں ذرا سی غفلت بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    فیصلے اب قانون کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے ہو رہے ہیں،مفتاح اسماعیل

    قبل ازیں وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایئرایمبولینس کا اجرا ابھی تک سوالیہ نشان ہے، لائف بوٹس کیوں نہیں موجود تھیں،غوطہ خور کہاں تھے؟ سوات حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، پنجاب حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارافسوس کرتی ہےاس طر ح کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا، خیبرپختونخوا میں 12،13 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، جاں بحق افراد ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہو کرمدد کا انتظار کرتے رہے، قدرتی آفا ت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

    وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ دریائے سوات جیسے سانحات کو روکنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ ریسکیو ٹیمیں کیوں دیر سے پہنچیں، خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر بروقت امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے، مقامی لوگوں اور پاک فوج نے ہمیشہ ایسے سانحات میں مدد کی، خیبرپختونخوا ریسکیو اور دیگر امدادی محکموں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، بلال خان نامی مقامی نوجوان نے اپنی کشتی کے ذریعے لاشوں کو نکالنے میں میں مدد کی، گزشتہ 12 سال سے خیبرپختونخوا کے عوام کو جھوٹ اور دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔

    بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

  • سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.7 ریکارڈ ہوئی، زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی۔

    زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے ، زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    اس سے قبل 26 اپریل کو بھی سوات اور گردو نواح کے علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 ریکارڈ کی گئی۔

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات کے علاقے مینگورہ سمیت گردونواح میں پیر کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن، افغانستان میں تھازلزلے کی گہرائی 156 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈز تک جاری رہے،جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ گھروں اور عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    نومئی مقدمہ، 20 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    وزیراعلی پنجاب کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

    پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    سوات مینگورہ شہر اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے،زلزلے سے شہر ی خوفزدہ ہو گئے او ر کلمہ طیبہ کا ور د کر تے ہوئے گھر وں سے باہر نکل آئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 ریکارڈ کی گئی زلزلے کی زیر زمین گہرائی 130 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن، افغانستان میں واقع تھا،اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔