Baaghi TV

Tag: سوات

  • ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    پاکستان ،ان دنوں کئی مسائل کا شکار ہے، ایک طرف دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، عوم سے غربت کے خاتمے کے وعدے کر کے حکومتیں کرنے والے عوام کے ساتھ ہر پانچ سال بعد وعدے ہی کرتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی توفیق نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے کسی بھی حکومت میں مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی غربت، بے روزگاری میں کمی آ سکی،ایسے میں فلاح و رفاہی ادارے ، این جی اوز جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں انکی خدمات لائق تحسین ہیں،

    ہیلپنگ ہینڈ کا معذور افراد کی بحالی کا پروگرام
    گزشتہ دنوں لاہور سے محترم سید امجد بخاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا، دورے کے دوران جہاں وادی سوات کو دیکھنے کا موقع ملا وہیں ایک فلاحی تنظیم "ہیلپنگ ہینڈ” کے کام کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، تین روزہ دورے میں ہیلپنگ ہینڈ کے تین مختلف پروگراموں میں شرکت کی، سب سے پہلے تالاش میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر کا دورہ کیا،معذوری رب کی طرف سے آزمائش،لیکن ہمارے معاشرے میں معذوری کو عیب سمجھا جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں، میں خود دو ڈس ایبل بچوں کا والد ہوں، بڑے بیٹے نے سپیشل ایجوکیشن میں میٹرک کا امتحان رواں برس اے گریڈ میں پاس کیا ہے،چھوٹا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے، سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوتے ہیں،ہیلپنگ ہینڈ بھی معذور بچوں کی فلاح کے لئے کام کر رہی ہے،تالاش میں وسیع و عریض مقام پر معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر میں نہ صرف بچوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے،سنٹر میں موجود ڈاکٹر طاہر نے اس موقع پر صحافیوں کو انتہائی مختصر بریفنگ دی اور سنٹر کا وزٹ کروایا، ڈاکڑوں کی ٹیم کیسے معذور بچوں کا علاج معالجہ دیکھ بھال کرتی ہے؟ اسکا بھی معائنہ کروایا گیا، ڈاکٹر طاہر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام پاکستان کے سات شہروں میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں، سماعت سے متاثرہ بچوں کا بھی علاج معالجہ کروایا جاتا ہے تو وہیں ذہنی معذور،چل نہ سکنے والے بچوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے، تالاش،شہید بینطیر آباد، کراچی، کوئٹہ ، مانسہرہ ، لکی مروت بنوں، بہاولپور اور چکوال، مظفر آباد میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں جبکہ گلگت میں اگلے سال سنٹر بنانے کا پروگرام ہے جو جلد ہی کام شروع کر دے گا، ہیلپنگ ہینڈ کن علاقوں میں سنٹر بنا رہی ہے اس حوالہ سے ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ علاقے منتخب کیے جہاں معذوری کی ریشو ہائی ہے۔ کے پی میں لوئر دیر میں معذوری کی ریشو زیادہ تھی اسلیے یہاں سنٹر بنایا،انہوں نے شکوہ کیا کہ معذور افراد کو وہ سہولیات معاشرے میں نہیں دی جاتیں جو انہیں ملنی چاہیے،معذور بچوں کے ب فارم تو بن جاتے ہیں لیکن انکا معذوری سرتفکیٹ نہیں بنوایا جاتا، معذور بچوں کا نارمل بچوں کی طرح خیال نہیں رکھا جاتا ، جو انکا حق ہے، ڈاکٹر طاہر نے تالاش میں سنٹر بارے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 1650 بچے معذور ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں جو بچوں کے علاج انکی ضروریات کا خیال کرتے ہیں بچوں کو واکر، ہیئرنگ ایڈ، وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں، تھراپی بھی کروائی جاتی ہے،برتھ سرٹفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی بنواتے ہیں ہمارے پاس جو 1650 بچے تھے ان میں سے 10 فیصد کے پاس کارڈ تھے،ہم نے باقیوں کے بھی بنوائے اب سب بچوں کے پاس ڈس ایبل کارڈ ہیں،جو بچے پڑھ سکتے ہیں انکو فری پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں یونیفارم بھی دیتے ہیں، کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں جو ان بچوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں،تالاش کے سنٹر میں 200 بچے ہیں، تمام سہولیات دیتے ہیں جو انکی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اخروی زندگی بہتر کریں۔ ہیلپنگ ہینڈ اگر محدود وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی سوچنا چاہئے اور معذور افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، معذوری کیوں ؟ اس پر ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ معذوری کی ریشو مختلف ہیں کزن میرج بھی کہا جاتا ہے پانی کے ایشوز بھی ہو سکتے ہیں اس پر تحقیق کی ضرورت ہے،فیملی ان بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے پڑھے لکھے لوگوں نے بچوں کو چھپا کر رکھا کیونکہ لوگ طعنے دیتے ہیں، جو بچے پڑھتے ہیں انکو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ،سکل کے ساتھ ٹول بھی دیتے ہیں کمپیوٹر کی سکل، الیکٹریشن ، سیلز مین جو بچہ جو کام کر سکتا ہے اسکو کروایا جاتا ہے،تالاش کے سنٹر میں بریفنگ کے بعد ڈاکٹر معذور بچوں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ انکی تھراپی کیسے کی جاتی ہے؟ سب عملی طور پر صحافیوں کے سامنے کیا، سنٹر میں بچوں کے لئے تھراپی کے لئے مشینیں موجود ہیں ، ایکسرسائز بھی کروائی جاتی ہے، سماعت سے متاثرہ بچوں کو سپیچ تھراپی بھی کروائی جاتی ہے، سنٹر میں ایمبولینس بھی موجود ہے جو بچوں کو گھر سے سنٹر لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے ہے، غرض معذور بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ مثالی کام کر رہی ہے

    جماعت اسلامی کے رہنما بھی ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کے معترف
    تالاش سے نکلے تو راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے ظہرانہ دیا اور وہ بھی ہیلپنگ ہینڈ کے کاموں کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے، جماعت اسلامی کی اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں کام کر رہی ہے تا ہم عنایت اللہ خان ہیلپنگ ہینڈ کے بھی مداح نظر آئے اور انکے کام کو سراہا، عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس علاقے میں بہت اچھا کام کر رہی ہے پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ، انکا کام پھیلتا جا رہا ہے ، ہیلپنگ ہینڈ کے کوالٹی کے کام ہیں جن میں وسعت آ رہی ہے اس طرح کی آرگنائزیشن کو علاقے میں ویلکم کرتا ہوں ریاست ہر کام نہیں کر سکتی کچھ چیزیں کمیونٹی کو کرنی پڑتی ہیں پبلک ہیلتھ کی بڑی بڑی سکیمیں ہیں لیکن وہ فنکشنل نہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ اور دیگر این جی اوز کے کام عوامی مدد سے ہوتے ہیں

    ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن پروگرام،شائننگ سٹارز
    ہیلپنگ ہینڈ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے،کالام سے واپسی پر مدین میں دریا کنارے قیام کیا ، وہاں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یتیم بچوں کے اعزاز میں مینگو پارٹی تھی، جس میں صحافی بھی شریک ہوئے، جب پارٹی میں پہنچے تو ہال میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں، اور معصوم بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھیں،وہ کرسیوں پر ایک ترتیب سے بیٹھے تھے ،کوئی شور شرابا نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا یہ ہیلپنگ ہینڈ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ بچوں نے صحافیوں کے پہنچنے پر انکا پرجوش استقبال کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے،اس موقع پر محترم سید عابد بخاری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس پارٹی میں موجود بچے صرف مدین کی ایک یونین کونسل سے آئے ہیں، مدین سے 200 یتیم بچوں کی کفالت ہیلپنگ ہینڈ کر رہی ہے، انکو شائننگ سٹار کہتے ہیں اور تین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایج گروپ کے تحت انکی ایکٹوٹیز کی جاتی ہیں،بڑے بچوں کو سکل سکھاتے ہیں کورسز کرواتے ہیں وہ یونیورسٹی لیول پر جائیں تو بہتر سکل انکے پاس ہو،کچھ بچے حفظ بھی کر رہے ہیں دس ہزار چار سو بچوں کو پورے پاکستان میں سپانسر کر رہے ہیں ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن کا پروجیکٹ 50 سے زائد شہروں میں چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے، یتیم بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ انکے گھر والوں کی مالی اعانت کرتی ہے اور انکی کفالت کرتی ہے،

    یتیم بچوں کی کفالت بلاشبہ نیک کام ہے اور اس نیک کام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ہیپلنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں قدرتی آفات میں بھی ریلیف و بحالی کے کام کر رہی ہے، بلوچستان سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر جاری ہے تو وہیں واٹر پروجیکٹ کے حوالے سے بھی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، سوات میں بھی پانی کے منصوبے مکمل کئے گئے جس کی عنایت اللہ خان نے بھی تعریف کی،پاکستان کے دیگر دور دراز علاقوں جہاں شہریوں کو پانی کے مسائل ہیں وہان واٹر پروجیکٹ پر کام جاری ہے،

    ہیلپنگ ہینڈ کا غریب عوام کے لئے مفت بازار
    ہیلپنگ ہینڈ سفید پوش اور غریب عوام کے لئے ایک مال آف ہیومنٹی پروگرام بھی کرتی ہے، ایک ایسا بازار جہاں گاہک تو آتے ہیں خریدار تو ہوتے ہیں لیکن پیسے لینے والا کوئی نہیں ہوتا، سوات میں ہی ایک ایسا ہی بازار دیکھنے کو ملا، ایک سکول میں مہنگے کپڑے، جوتے، کھلونے موجود تھے، میزوں پر سامان موجود تھا ، بچوں کے لئے کھلونے بھی موجود تھے،اس بازار میں خواتین اور بچے آئے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے، جوتے، کھلونے لئے اور جاتے رہے، کوئی روکنے والا، کوئی پیسے لینے والا نہیں تھا بلکہ جو بھی آتا اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا اور ہیلپنگ ہینڈ کو دعائیں دیتا نکل جاتا، ٹوپی والے برقع میں آئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی مگر اس مفت کے بازار میں کوئی دھکم پیل نظر نہیں آئی، اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یہ بازار کئی شہروں میں لگایا جاتا ہے اور اسکے لئے علاقے میں سروے کیا جاتا ہے، مستحق خاندانوں کو سروے کے بعد ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بازار لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے، شہری آتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں لے کر چلے جاتے ہیں، لاہور کے بازاروں میں جو سوٹ،چھ سات ہزار کا مل رہا ہے وہ مفت بازار میں ہیلپنگ ہینڈ مفت دے رہی تھی

    ہیلپنگ ہینڈ کے رفاہی کام وسیع تر ہیں اور انکا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہیلپنگ ہینڈ کے پاکستان میں میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ "ہیلپنگ ہینڈ خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو خوشیاں دے سکیں انکے چہروں پرمسکراہٹ لا سکیں. ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام،یتیم بچّوں کی کفالت کا پروگرام، معذور افراد کی جامع بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ایمر جینسی ریلیف، تعلیمی معاونت، معذور بچّوں کا علاج،اسکلز ڈویلپمنٹ اورہیلتھ کیئر پروگرامز،منصوبے جاری ہیں،”

    آئیے، ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کریں
    مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں خدمت خلق کرنے والوں کو جہاں رب کریم اجر دے گا وہیں دنیا میں انہیں غریب عوام کی دعائیں بھی مل رہی ہیں ، حکومتیں تو صرف دعوے کرتی ہیں لیکن ہیلپنگ ہینڈ جیسی این جی اوز اپنی استطاعت اور عوام کے تعاون سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، اس میں انکا کوئی ذاتی مفادنہیں نہ ہی انہیں ووٹ یا کرسی کا لالچ ہوتا ہے بلکہ صرف رضائے الہی مقصود ہوتی ہے،بلا شبہ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار ملک و قوم کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو رہے ہیں ۔خدمت کے اس عظیم کام کو جاری رکھنے کے لئے پاکستانی قو م کو چاہئے کہ خدمت کے اس کام کو مزید وسیع تر کرنے کے لئے ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرے۔اہل پاکستان کو نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا،تا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے جو منصوبہ جات جاری ہیں انکو پورا کیا جا سکے۔

  • پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے والد محمد سعید گرفتار

    پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے والد محمد سعید گرفتار

    ‏سوات: سابق وفاقی وزیر اور رہنما پی ٹی آئی مراد سعید کے والد محمد سعید کو گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی: سابق وفاقی وزیر اور رہنما پی ٹی آئی مراد سعید کے والد محمد سعید کو گرفتار کر لیا گیا،سوات کے مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سےکریک ڈاؤن کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مراد سعید کے والدکو بھی گرفتار کیا گیا ہے، انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈیننس تھری(ایم پی او) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے،مینگورہ، مٹہ، خوازہ خیلہ،کبل اور دیگر علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    عمران خان اٹک جیل منتقل

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ان کے قریبی ساتھی اویس خان نیازی اور دیگر رہنماؤں سمیت 32 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہےاسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیاپی ٹی آئی کارکنوں نے زمان پارک میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جس پر پولیس نے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

    اویس خان نیازی عمران خان کے میڈیا کوآرڈینیٹر تھے، جنہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا،اویس خان نیازی کی گرفتاری کے کچھ دیر بعد پی ٹی آئی کے کارکن زمان پارک پہنچنا شروع ہوگئے زمان پارک پہنچتے ہی پولیس نے پی ٹی آئی کے 5 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ کچھ دیر بعد زمان پارک کے باہر سے گرفتار پی ٹی آئی کارکنان کی تعداد 14 ہوگئی پولیس نے پی ٹی آئی کے 11 مرد اور 3 خواتین کارکنان کو گرفتار کیا۔

    عمران خان کی گرفتاری، احتجاج پررہنماؤں سمیت 32 پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    کراچی میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کےبعد کراچی پریس کلب سے 6 اور ملیر سے 11 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،، کارکنان احتجاج کی غرض سے پہنچے تھے،پولیس کے مطابق 5 کارکنان تھانہ شرافی گوٹھ اور 6 تھانہ قائد آباد سے حراست میں لئے گئے۔

    ملتان میں احتجاج کے لئے آنے والے پی ٹی آئی کارکن فہد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ احتجاج میں آئی خاتون کو رکشے میں گھر بھیج دیا گیا دونوں مظاہرین پلے کارڈ اٹھائے چونگی نمبر 9 پر مظاہرہ کررہے تھے۔

    پاکستان انگلینڈ کرکٹ میچ،کلکتہ پولیس نے میچ کا شیڈول تبدیل کی درخواست دیدی

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594

     

  • سوات،کبل کے علاقے میں دیوار گرنے سے دو افراد جاں بحق

    سوات،کبل کے علاقے میں دیوار گرنے سے دو افراد جاں بحق

    سوات کبل ہزارہ میں دیوار گرنے سے دو افراد جاں بحق جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے، اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 میڈیکل و ڈیزاسٹر ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر فوری آپریشن شروع کردیا۔ ریسکیو1122 اہلکاروں نے ملبے میں دبے پانچ افراد کو نکالا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے سول ہسپتال کبل منتقل کر دیا۔
    ہسپتال منتقلی کے بعد ڈاکٹروں نے دو افراد کی جانبحق ہونے کی تصدیق کر دی جبکہ باقی تین افراد کو تشویشناک حالت میں سنٹرل ہسپتال سیدو شریف منتقل کر دیا گیا،

  • سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں نوبرس حکومت کی، عمران خان کو 2013 میں پہلی بار کے پی میں ہی حکومت ملی تھی اور دوسری بار بھی 2018 میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی، اب خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات، خصوصا مراد سعید جو ان دنوں روپوش ہیں اور نو مئی کے واقعات میں سیکورٹی اداروں کو مطلوب بھی ہیں کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں دیں؟ نو برسوں میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ ہمیں تو اب سمجھ لگ رہی ،پٹھانوں کو دیر سے سمجھ لگتی لیکن جب لگ جائے تو پھر اگلے کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں،عمران خان نے حکومت جانے کے بعد پختونوں کا استعمال کیا، اور ملک دشمنی کی تمام حدیں عبور کر لیں، ریڈ لائن عمران خان نہیں بلکہ پاکستان ہے اور سوات کے لوگ پاکستانی ہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک شہری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا مراد سعید کا حلقہ دیکھ لو، پی ٹی آئی کتنی غیر مقبول ہو چکی کہ یہاں کی عوام نے تحریک انصاف کے جھنڈے تک اتار دیئے ہیں، کوئی اکا دکا گھرانہ ایسا نظر آتا ہے جہاں تحریک انصاف کا جھنڈا لگا نظرآئے ، مراد سعید کی روپوشی کے بارے شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈر کبھی چھپتا نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرتا ہے، نو مئی والے دن بہکاوے میں آئے لوگ اب تک جیلوں میں ہیں ، ان کی زندگیاں تباہ ہو چکیں اور عمران خان زمان پارک میں اور مراد سعید کا پتہ ہی نہیں ، ایسے لیڈر کا کیا فائدہ جو مشکل انے پر کارکنان کو ڈھال بنا کر خود بھاگ نکلے

    مراد سعید کے شہر ،حلقہ انتخاب میں رکشہ ڈرائیور، کریانہ سٹور کے مالک، سکول ٹیچر سمیت کئی شہریوں سے بات ہوئی،سوائے ایک کے سب کا یہی کہنا تھا کہ تحریک انصاف بائے بائے، ایک شہری جس نے نام بتانے سے گریز کیا کہا کہ ایک ماہ قبل دبئی سے آیا ہوں، میرا ووٹ عمران کا ہے اور اسی کو ووٹ دیں گے جب اس سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف کہاں ہے، کہیں کوئی پرچم نہیں ، نام و نشان تک نظر نہیں آ رہا کہ تحریک انصاف یہاں ہے بھی یا نہیں جس پر اس کا کہنا تھا کہ یہاں کا موسم ایسا ہے، بارشیں آتی ہیں، ہوائیں چلتی ہیں جھنڈے کپڑے کے ہوتے اور وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے پھٹ جاتے ہیں، ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جھنڈا لگانے پر جیل جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے اس وجہ سے بھی لوگ جھنڈے نہیں لگا رہے

    سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے
    چند ماہ قبل مراد سعید اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ طالبان سوات آ گئے ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے، مراد سعید نے تحریک انصاف کے ورکرز کے ساتھ جلوس بھی نکالا تھا ،اس حوالے سے جب کبل کے مقامی شہریوں سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ کونسے طالبان؟ کیسے طالبان؟ شہریوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختونخوا متاثر ہے ، اسکا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دشمن آ جائیں اور ہم بیٹھے رہیں، مراد سعید کا تومشن ہی کچھ اور تھا وہ چاہتا تھا کہ یہاں کی عوام کو سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کیا جائے اور ہمدردیاں حاصل کی جائیں ،افواج پاکستان یہاں‌ موجود ہیں اور یہاًں کی عوام کی حفاظت کر رہی ہیں،ملک دشمنوں کے لئے یہاں‌کوئی جگہ نہیں، سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے اگر کوئی بھی ملک دشمن اس علاقے میں آیا اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسی صورت میں ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ بلکہ اگلی صفوں میں ہوں گے،

    سوات کے مقامی شہری جو بات کرتے ہوئے تھوڑا گھبرا بھی رہے تھے، تاہم جب انہیں تسلی دی گئی کہ نہ تو آپ کی تصویر بنا رہے نہ ہی ویڈیو ریکارڈ کر رہے اور نہ ہی نام نشر ہو گا تو وہ کھل کر بولے اور کہا "پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، یہاں سوات میں چند ماہ قبل ذاتی دشمنی کی بنا پر ایک سکول وین پر حملہ ہوا تھا جس میں دو طالبات زخمی ہوئی تھیں، تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے اس حملے کو بھی طالبان سے جوڑ دیا، اگرچہ دہشت گردی مسئلہ ہے اور دہشت گرد کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،سکول وین پر فائرنگ والا واقعہ ذاتی لڑائی تھی تاہم پروپیگنڈہ کیا گیا، حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی پروپیگنڈہ کرنیوالوں کو شرمندگی نہیں ہوتی”،جس مقام پر شہریوں سے بات ہو رہی تھی بالکل اس کے دائیں جانب آڑو کا باغ تھا، شہری نے باغ گھمانے کی دعوت دی اور کہا کہ باغ گھوم لیں لیکن اب اسوقت آڑو نہیں لگے ہوئے ،ختم ہو چکے، اگر سوات کے آڑو کھانے ہیں تو بازار جا کر کھلا سکتے ہیں، شہری کا شکریہ ادا کیا، بات آگے بڑھی تو شہری کا کہنا تھا کہ سوات کے پہاڑ کلئئر ہیں کہیں کوئی دہشت گرد نہیں، اگر کوئی دوسرے علاقے سے آ جائے تو بھی اسے چھپنے کا موقع نہیں دیں گے، سیکورٹی فورسز الرٹ ہوتی ہیں اور یہاں کے شہری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں، تحریک انصاف نے جو اداروں کے خلاف عوام کو کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ ناکام ہوئی اور محب وطن پختونخواہ گھڑی چور کی بجائے اپنے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ ہیں،

    سوات کے باسیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ،عوام کو خواب دکھاتی ہیں اور پھر انکے خوابوں کی تعبیر کی تکمیل نہیں ہونے دیتیں، عمران خان کو پختونوں نے مسیحا سمجھا، دو بار حکومت دی لیکن وہ تو اللہ معاف کرے، دوران عدت ہی نکاح کر بیٹھا، ایسے شخص پر کیسے یقین کریں جو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتا ہے تا ہم اسکا اپنا کردار اسکے برعکس ہے،پختونخواہ کے شہری جو اپنی خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے ،اس معاملے میں سخت گیر ہیں، اسی حوالہ سے بات کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ عمران خان پر اعتماد کر کے ہم نے گناہ کبیرہ کیا، زمان پارک میں کیا کچھ ہوتا رہا؟ کیا عمران خان کی بیوی بھی کبھی دھرنے میں باہر بیٹھی تھی؟ کوئی ایک ویڈیو یا تصویر، دوسروں کی بیویوں ، بیٹیوں کو ڈھال بنانے والا عمران خان ،اسکے لئے حریم شاہ جیسے کردار ہی ٹھیک ہیں، جب شہری سے سوال کیا گیا کہ حریم شاہ کو جانتے ہو؟ جس پر شہری کا کہنا تھا کہ حریم شاہ …نام ہی ایسا ہے، اور اسکو کون نہیں جانتا، ایسی خواتین ہی عمران خان کی پسندیدہ ہیں، عورت کا لفظی معنی کیا ہے وہ عمران خان جانتا ہی نہیں، اگر جان لیتا تو کم از کم زمان پارک کو زنان پارک نہ بناتا

    آنیوالے الیکشن میں کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر شہری کا کہنا تھا کہ جو بھی بہتر ہو گا اسکو ووٹ دیں گے، جماعت اسلامی ، والے اچھے لوگ ہیں، کام بھی اچھے کرتے ہیں ووٹ کے حقدار اس طرح کے لوگ ہیں لیکن الیکشن آئیں گے تو دیکھیں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے. اس بار کم از کم پی ٹی آئی کو تو ووٹ نہیں دیں گے، وہ کام جو ہمارا پڑوسی ملک بھارت کئی برسوں میں نہیں کر سکا وہ پی ٹی آئی نے ایک دن میں کر دیا، بھلا وہ کیسا پاکستانی ہے جو فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، وہ کیسا پاکستانی ہے جو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرے، عمران خان کی بیوی کو اگر کوئی پنکی کہے تو عمران خان کو دکھ ہوتا تو انکو کس نے یہ حق دیا تھا کہ افواج پاکستان کی تنصیبات پر حملے کرو، پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا، نیازی نے جہاں جھوٹوں کے ریکارڈ بنائے وہیں ملک دشمنی کے بھی ریکارڈ بنائے اور اس کے یہ کارنامے تاریخ میں سنہری حروف نہیں بلکہ سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے.

    نوٹ….قسط اول.
    اگلی قسط میں گزشتہ برس کالام میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی کے مناظر پر مشتمل ہو گی

  • سوات/غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کر لیا گیا

    سوات/غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کر لیا گیا

    سوات مٹہ کے علاقہ چپریال میں غیرت کے نام پر خاتون سمیت دو افراد قتل کر لئے گئے، پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی بیوی اور ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کیا،سوات پولیس نے بروقت کارروائی سے ملزم کو گرفتار کرلیا،پولیس نے کہا کہ ملزم کے قبضے سے آلہ قتل بندوق بھی برآمد کرلیا گیا،
    ڈی پی او سوات نے ملزم کے خلاف ہر قسم قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی،اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے،

  • عوامی نیشنل پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

    عوامی نیشنل پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

    سوات کے سابق ایم این اے مظفر ملک کاکی خان نے اپنے خاندان سمیت عوامی نیشنل پارٹی سے اپنا رابطہ توڑ کر استعفی دے دیا،ضلع سوات میں عوامی نیشنل پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہے اور کارکنان کی جانب سے استعفوں کا سلسلہ بتدریج جاری ہے،ایم این اے مظفر ملک نے پارٹی کے عہدے سے استعفی دے کر صوبائی وزیر واجد علی خان کی حمایت کر دی ہے،زرائع کے مطابق پارٹی سینئر نثار خان بھی پارٹی سے استعفی دینے والے ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا ،واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی میں اختلافات کی وجہ صوبائی وزیر واجد علی خان ہے ،جس نے سب سے پہلے نیشنل پارٹی سے الگ ہو کر استعفی دے دیا تھا ،جس کے بعد متعدد کارکنان اور اے این پی رہنماؤں نے واجد علی کے حمایت میں مستعفی ہوئے،زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے این پی میں اختلافات مزید شدت اختیار کرنے والی ہے اور بہت جلد مزید استعفے سامنے ائے گے،

  • ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے پیسکو سوات سرکل میں بجلی کی فراہمی بند رہے گی

    ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے پیسکو سوات سرکل میں بجلی کی فراہمی بند رہے گی

    بجلی کی ترسیل کے ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے سوات سرکل کے مختلف گرڈ سٹیشنز سے بجلی کی فراہمی 20 سے 31جولائی 2023 کے درمیان مختلف تاریخوں کو صبح سات بجے سے دوپہربارہ بجے تک معطل رہے گی۔ پیسکو کہ جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ٹرانسمیشن لائن کی سالانہ مرمت کی وجہ سے 132 کے وی جی ایس ایس امانکوٹ/مینگورہ، 132کے وی جی ایس ایس بریکوٹ، 132کے وی جی ایس ایس خوازہ خیلہ، 132کے وی جی ایس ایس مدین، 132کے وی جی ایس ایس بٹ خیلہ، 132کے وی جی ایس ایس چکدرہ،132کے وی جی ایس ایس تیمر گرہ/سادھو، 132 کے وی منڈہ،132 کے وی جی ایس ایس لال قلعہ، 66کے وی تیمر، 132 کے وی جی ایس ایس شانگلہ /بشام، 33کے وی تھا کوٹ اور 33کے وی پٹن سے بجلی کی فراہمی 20 سے 31جولائی 2023 کے درمیان مختلف تاریخوں کو صبح سات بجے سے دوپہربارہ تک معطل رہے گی۔

  • سوات تحصیل مٹہ میں بچوں نے مچھر مار دوائی کھا لی

    سوات تحصیل مٹہ میں بچوں نے مچھر مار دوائی کھا لی

    سوات تحصیل مٹہ کے علاقے گوالیرئی میں چھ بچوں نے زہریلی دوائی کھا لی،جس انکی حالت غیر ہو گئی، بچوں کو فوری طور پر مٹہ ہسپتال منتقل کردیاگیا ،ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ پولیس کے مطابق بچوں نے مچھروں کی دوائی غلطی سے کھالی تھی ،

  • سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 2 بچے جاں بحق

    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 2 بچے جاں بحق

    سوات مینگورہ کے علاقے وتکے گل آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 بچے دب گئے ہے، جن میں دو بچے جاں بحق ہو گئے، ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 میڈیکل و ڈیزاسٹر ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کردیا، پولیس، مقامی لوگوں اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے 2 بچوں کی لاشیں اور 2 زخمیوں کو نکال کر سیدوشریف اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جاں بحق اور زخمی بچوں کی عمریں 8 سے لے کر 12 سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔