Baaghi TV

Tag: سود

  • زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر برائے خزانہ اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کم از کم اجرت 32 ہزار روپے رکھی گئی ہے جو ادارے اس پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اور پرائیوٹ ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل کریں

    ان خیالات کا انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کم از کم اجرت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر کیا سرکاری اور نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،پیپلز پارٹی کے رہنما سید آغا رفیع اللہ نے قرارداد پیش کی کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ حکومت سرکاری محکموں اور چھوٹے نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم ازکم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدمات کرئے ۔وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے کہا کہ کم ازکم اجرت 32ہزار روپے ہوگئی ہے اس پر عمل کریں گے وفاق کی حد تک اس پر عمل کروائیں گے اور صوبوں سے بھی پوچھیں گے وہاں پر بھی اس پر عملدرآمد ہو رہاہے۔ اس قانون کا نفاذ سرکاری اداروں کے ساتھ پرائیویٹ اداروں پر بھی ہوتا ہے ۔قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

    خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں،وزیر قانون کا زرتاج گل سے مکالمہ
    پاکستان کے آبی حقوق پر جارحیت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس زرتاج گل نے پیش کیا ۔وزیرقانون نے کہاکہ بگلیہار ڈیم کیلئے معاملہ ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے پاس معاملہ گیا، دریائے راوی کے پانی پر استعمال کا حق بھارت کا ہے،زرتاج گل نے کہاکہ یہاں پر وزیر خارجہ کو ہونا چاہیے تاکہ مسئلے پر بات کرتے، بھارت کو ہم نے نوٹس بھجوانے تھے الٹا انہوں نے ہم بھجوادیئے، وزیر قانون نے کہا کہ خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں، حکومت کیوں بھارت کو اختیار دے گی،اس فورم پر ریکارڈ کے مطابق بات کرنی چاہیے بھارت اس ایگریمنٹ سے نکلنا چاہتا ہے تاکہ ہم پر جنگیں ہم پر مسلط کرے۔

    خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا ،وزیر خزانہ
    وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کس چیز پرتقریریں ہو رہی ہیں سود کے حوالے سے فیصلہ ہوچکا ہے پانچ سال کی معیاد بھی متعین ہے پچھلے سال متعدد بنک کنونشن برانچز اسلامک بینکنگ میں منتقل ہو چکی ہیں پرجوش تقریریں کس چیز پر ہو رہی ہیں اب میں اکانومی پر بات کرنا چاہتاپاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گےیہ ٹیکسز کا کام ہمیں کرنا پڑے گاسرکاری اداروں کا خسارہ بہت بڑھ گیا ہے یہ خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا سرکاری اداروں کے حوالے سے ہمیں لائحہ عمل طے کرنا ہوگا ملک میں زراعت اور آئی ٹی پر کام کرنے کی ضرورت ہے تقسیم کار کمپنیوں میں نقصان ہورہاہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے اپوزیشن لیڈر عمرایوب ہماری اس حوالے سے راہنمائی کریں عمرایواب پاور ڈویژن کے وزیر رہے ہیں ان کو لیکیجز کا پتہ ہے،

    ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سود اللہ اور اسکے رسول سے کھلی جنگ ہےیہ سود کی بنیاد پر اکانومی ہےمیں اللہ کی بات مانوں یا فنانس منسٹر کی بات مانوں،ہم دیکھ نہیں رہے، ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں، انڈیا سے جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں ہم اور ہم اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کر رہے ہیں،2022 میں سپریم کورٹ کا آرڈر آیا کہ پانچ سال میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہوگاسپریم کورٹ کا ابھی تک شریعت اییلٹ بنچ نہیں بنا کسی مفتی صاحب کو یہاں لائیں جو آکے بتائے کہ یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ نہیں آج ہم منافق ہیں، آج آصف علی زرداری پاکستان کے انتہائی مضبوط ترین شخصیت ہیں آصف زرداری کنگ بھی ہیں کنگ میکر بھی ہیں زرداری صاحب سے کہتے ہوں اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ ختم کروائیں ،آج زرداری صاحب یہ کریں تو کل وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہونگے،

    قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تحریک ایوان میں پیش کی اور کہا کہ بلوچستان صرف رقبے کے لحاظ سے نہیں پسماندگی کے اعتبار سے بھی سب سے بڑا صوبہ ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں خواتین کے لئے بہت سے اقدامات ہوئے، بی آئی ایس پی قانونی حیثیت رکھتا ہے، 9.3 ملین خاندانوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے،پروگرام کی خوبصورتی یہ ہے کہ خاتون کو خاندان کا سربراہ ظاہر کیا جاتا ہے، بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے اور ہیومن کیپٹل کی تعمیر کی ضرورت ہے،ہم اپنی ترجیحات کو درست کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے،

  • سعودی عرب کی فضائی کمپنی نے سوڈان کیلئے تمام پروازیں معطل کر دیں

    سعودی عرب کی فضائی کمپنی نے سوڈان کیلئے تمام پروازیں معطل کر دیں

    عرب لیگ نے بھی سوڈان کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے اورفریقین سے کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سوڈان میں فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز(آرایس ایف) کے درمیان جھڑپوں کے بعد تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

    سوڈانی فوج اورریپڈ ایکشن فورسز کے درمیان جھڑپیں،دونوں کا صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا …

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ہے کہ مملکت کو سوڈان میں فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جھڑپوں پر گہری تشویش لاحق ہےمملکت نے متحارب فریقوں سے ضبط وتحمل سے کام لینے پرزوردیا ہے اورلڑائی میں شریک فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلح تنازعات کے بجائے بات چیت کا انتخاب کریں۔

    متحدہ عرب امارات نے بھی سوڈان میں کشیدگی میں کمی اورتحمل کا مظاہرہ کرنے اور موجودہ بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

    زہریلی شراب پینے سے آٹھ افراد کی موت،24 ہسپتال منتقل

    دوسری جانب سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی السعودیہ نے سوڈان سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں تاحکم ثانی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    فضائی کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کا ایک طیارہ ہفتے کے روز سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔اس واقعے کے بعد فضائی کمپنی نے تمام پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔السعودیہ کا یہ طیارہ خرطوم سے الریاض کے لیے اڑان بھرنے کی تیاری کررہا تھا۔

    مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع

  • سینیٹ میں سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

    سینیٹ میں سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

    اسلام آباد: سینیٹ نے سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: سینیٹ میں رباء کے خاتمے سے متعلق قرارداد پیش ہوئی قرار داد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے پیش کی وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث بخش پاشا نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ملک کی اکنامی سود فری ہو ، حکومت سود کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے سینیٹ نے سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    کےالیکٹرک صارفین کیلئےفی یونٹ بجلی 6 روپےتک مہنگی ہو گی

    یاد رہے کہ حکومت نے شرعی عدالت کے سود کے خاتمے کے فیصلے کیخلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں سپریم کورٹ سے واپس لے لی ہیں۔ چیف جسٹس نے اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ہیں۔

    دوسری جانب سینیٹر مشتاق نے توشہ خانہ کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کا ترمیمی بل اور اردو کو بطور قومی زبان قرار دیے جانے کے حوالے سے ایک تحریک ایوان میں پیش کی-

    سینیٹ اجلاس کے دوران توشہ خانہ کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کا ترمیمی بل پیش کیے جانے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ توشہ خانہ سے متعلق ایک اور بل کمیٹی میں التوا کا شکار ہےکیوں نہ یہ ترمیمی بل بھی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیں؟۔بعد ازاں سینیٹ نے توشہ خانہ کی دیکھ بھال ،انتظام و انصرام ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی،درخواست پر مزید دلائل طلب

    سینیٹر مشتاق احمد نے اردو کو بطور قومی زبان قرار دیئے جانے کے حوالے سے کہا کہ بابر اعظم کرکٹ کی دنیا کا ایک برانڈ ہے شعیب اختر کہتے ہیں بابر اعظم انگلش نہیں بول سکتا اس لیے وہ اسٹار نہیں بن سکا پاکستان کے آئین کے مطابق اُردو کو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہےسپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا فیصلہ کیااردو کو سرکاری زبان قرار دیا جائےتمام دفاتر میں اردو زبان رائج کی جائے۔ عدلیہ خود اپنے فیصلے اردو میں صادر کرے۔

    سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ میں منشیات پر مبنی مواد کی روک تھام کا ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کرلی پاکستان انسٹیوٹ برائے تحقیق اور رجسٹریشن کوالٹی ایشورینس بل 2023ء بھی سینیٹ سے منظور کرلیا گیا علاوہ ازیں سینیٹر مہر تاج روغانی نے سینیٹ میں حقوق اطفال کا ترمیمی بل 2023 پیش کیاجسےسینیٹ نےکمیٹی کےسپرد کردیاعلاوہ ازیں سینیٹ نےایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی بل بھی کمیٹی کے سپرد کردیا-

    دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

  • شرعی عدالت کے سود کے فیصلے کیخلاف اپیلیں خارج

    شرعی عدالت کے سود کے فیصلے کیخلاف اپیلیں خارج

    سپریم کورٹ نے شرعی عدالت کے سود کے فیصلے کیخلاف سٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں خارج کردی ہیں

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت وکیل سلمان اکرم راجہ سٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی طرف سے پیش ہوئے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں، سود خاتمہ کے فیصلے کیخلاف اپیلیں واپس لی جائیں اپیلوں کی واپسی کیلئے متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپیلیں واپس لینے کی متفرق درخواستیں منظور کرلیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال پاکستان نے چیمبر میں متفرق درخواستوں پر سماعت کی

    واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعلان کے مطابق سود کے خاتمے کے فیصلے کے لئے سپریم کورٹ میں دائراپیل واپس لے لی گئی ہے،وفاقی حکومت نے سود کے خاتمے کے شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جسے واپس لے لیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے خلاف اپیل زیر التواء ہے اپیل واپس لینے کی متفرق درخواست منظور کی جائے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جب سود کے خاتمے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کا اعلان کیا تھا تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے وزیر خزانہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا تھا، حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی نے اسے ریاست مدینہ کی جانب حقیقی قدم قرار دیا اوریوم تشکر بھی منایا،

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز

  • اقتدار میں آنا منزل نہیں،آگے بڑھنا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اقتدار میں آنا منزل نہیں،آگے بڑھنا ہے،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ،جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے خطبات میں واضح فرمایا تھا کہ اس ملک میں قرآن و سنت کا نفاذ ہوگا، اورہمارا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر ہوگا۔ہمیں پاکستان میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ بانی پاکستان کی فکر کے مطابق عمل درآمد کرنا ہوگا

    شہر قائد کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ضرورت امر کی ہےکہ پاکستان کی تاجر برادری اس سیمینار کا حصہ بنا، سود کا مسئلہ صرف مذہبی قوتوں کا مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے سب مسلمانوں کا ہے، آج کی تقریب بہت بڑی کاوش ہے،اقتدار میں آنا منزل نہیں ہے،اکابرین کی سود کے حوالہ سے جو آرا آئی ہیں اس حوالہ سے ہمیں انکو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھنا ہو گا، مشکل یہ ہے کہ جب حکومت میں آتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ منزل حاصل کر لی، تجربات کے ساتھ کہتا ہوں کہ پارلیمانی سیاست میں اقتدار میں آنا منزل نہیں یہ آگے بڑھنے کا ایک حصہ ہے

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ شرعی عدالت نے سود کیخلاف فیصلہ دیا ہے جس پر عملدرآمد کیلئے وزیر اعظم سے بات کی ہے اب قومی اور اجتماعی طور پر محنت کرنا ہوگی سود کا مسئلہ صرف مذہبی لوگوں کا نہیں سب کا ہے ہماری معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی اسحاق ڈار جیسے ہی واپس آئے ڈالر گھبرا کر نیچے آ گیا

  • پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور

    پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور

    پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور کرلیا
    ایم پی اے خدیجہ عمر نے دی پنجابProhibation آف انٹرسٹ آن پرائیویٹ لون بل 2022 پیش کیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کابل کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اوراللہ کے رسولؐ کے احکامات کی تعمیل میں پرائیویٹ طورپر سود کے کاروبار پر پابندی لگارہے ہیں۔سود کا کاروبار ایک لعنت ہے جسے اللہ کے رسولؐ نے بھی منع فرمایاہے۔سود کا کاروبار کرنے والوں کو روزقیامت کالے منہ کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔سودکے کاروبارپرپابندی کا کریڈٹ پورے ایوان اورخاص طورپرقائد عمران خان کو جاتا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ آج تمام ایوان،حکومت اور خاص طورپرعمران خان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتاہوں۔جو دین کا کام اس اسمبلی میں کیاگیا اس کی مثال نہیں ملتی۔دین کا کام جس شخص کے ہاتھوں ہورہا ہے اس کا نام عمران خان ہے۔دینی تعلیم کی مانیٹرنگ کا سلسلہ شروع کرنے پر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،سول ججز متعلقہ سکولوں میں جاکردینی تعلیم کی تحصیل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہناتھا کہ سکولوں میں طلباء کو سپارے بغیر کسی ہدیے کے فراہم کیے جائیں گے۔سب سے پہلے میٹرک اوراب بی اے تک تعلیم مفت کررہے ہیں،کتابیں بھی دیں گے۔گرائمر سکولوں میں بھی دین کے حوالے سے کام شروع کردیا ہے۔دینی تعلیم کے فیصلے کا کریڈٹ اوردعائیں ہر وقت ملتی رہیں گی۔دینی تعلیم دے کر نئی نسل کو بے راہروی سے بچانا چاہتے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچے ناقابل تسخیر نسل ہوں گے۔ملک کو ”پاکستان کا مطلب کیا،لا الہ الااللہ“ کی عملی تفسیرکاکام شروع ہوچکا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی اپ گریڈ اورادویات فری دیں گے۔ سابقہ دور میں ڈاکٹروں کی بھرتی اوردوائیوں کی فراہمی بجائے کمیشن طے ہوتے رہے۔ ایمرجنسی ڈاکٹرز کی تنخواہ تین گنا کررہے ہیں،آئندہ ہفتے تک نوکریوں سے پابندیاں اٹھارہے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ والے سانپ بن کر نوکریوں پر بیٹھے رہے۔ سابق دور میں نابینا افراد کو لاٹھیاں ماری گئیں،ہم نے گھر بلا کر چائے پلائی اورمعافی مانگی۔ نابینا افراد کا بند الاؤنس بحال کرکے 10ہزار تک کردیاہے۔ ٹیچرز کی تنخواہیں بھی بڑھائیں گے۔نابینا افراد کیلئے نہ صرف ٹیچر ٹریننگ پروگرام شروع کرینگے بلکہ ٹیچرز کی تعدابھی بڑھائیں گے۔ ارکان اسمبلی کو اتنے فنڈز دیں گے کہ ان کے حلقوں میں ڈویلپمنٹ نظر آئیگی اورنوکریاں پیدا ہونگی۔ رجسٹری کی فیس کو ایک فیصد کررہے ہیں۔ ہم نیک نیتی سے دین کا کام کررہے ہیں،پیسے کبھی کم نہیں ہوں گے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں سابق دور میں 100ارب کیش چھوڑ کرگیا،شہبازشریف نے پنجاب کو ایک ہزار ارب کا مقروض چھوڑا۔ ہم قانون کے مطابق گردن سے پکڑیں گے،یہ گرفت سے باہر نہیں آسکیں گے۔یہ معاشرے،صوبے اورقوم کو تقسیم کررہے ہیں۔ یہ لوگ خود کو مغل اعظم سمجھتے ہیں،مگر جان لیں اب مغل اعظم کے گوائیے باقی ہیں.

  • سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ آ گیا

    سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ آ گیا

    وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ سنا دیا

    ملک میں سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کیس کا فیصلہ وفاقی شرعی عدالت نے سنایا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں ،معاشی نظام سےسود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں، انٹرسٹ ایکٹ 1839 مکمل طورپرشریعت کیخلاف ہے سود کیلئےسہولت کاری کرنیوالے تمام قوانین اورشقیں غیرشرعی قرار دے دی گئیں اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اوراستحصال کیخلاف ہے، ملک سے ربا کا خاتمہ ہرصورت کرنا ہو گا، ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، بینکوں کاقرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، بینکوں کا ہرقسم کا انٹرسٹ رباہی کہلاتا ہے، قرض کسی بھی مدمیں لیا گیا ہواس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا

    وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام بینکوں کی جانب سےاصل رقم سے زائدرقم لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، حکومت کوہدایت دی جاتی ہے کہ انٹرسٹ کا لفظ ختم کرے، ربا مکمل طورپرہرصورت میں غلط ہے

    فیصلے میں کہا گیا کہ خلاف شریعت قرار دئیے گئے تمام قوانین یکم جون 2022سے ختم ہوجائیں گے ویسٹ پاکستان منی لانڈرایکٹ بھی خلاف شریعت قرار دیا گیا وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کوفیصلے پرعملدرآمد کیلئے 5 سال کا وقت دیا۔ عدالت نےا پنے فیصلے میں حکومت کو اندرون وبیرونی قرض سودسےپاک نظام کےتحت لینےکی ہدایت کی اور کہا کہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک سمیت عالمی اداروں سے لین دین سود سے پاک بنایا جائے ۔

    دوسری جانب وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے ربا کے کیس میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم ربا کیس میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں حکومت اورسٹیٹ بینک اس اہم فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے اوراس کے اطلاق کے عمل، اقدامات اورنظام الاوقات پر وفاقی شرعی عدالت سے رہنمائی لیں گے

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے تاریخی فیصلہ دیا، پوری قوم سودی نظام کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے حکومت جلد از جلد نظام کو عدالتی فیصلے کے مطابق کرے، اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو ہمار ا ہاتھ اور حکومت کا گریبان ہوگا امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فیصلے پر یوم تشکر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت نے پاکستان میں سود پر پابندی لگا دی ہے، عدالت نے حکومت کو پابند کیا کہ 5 سال میں معاشی قوانین اسلامی اصولوں کے مطابق بنائے، 1991 میں بھی شرعی عدالت نے پابندی کا فیصلہ کیا تھا، حکومت جلد سے جلد تمام سودی نظام کو اسلامی نظام کے مطابق کرے، حکومت کومجبور کریں گے کم ازکم وقت میں غیر اسلامی قوانین کوختم کر کے اسلامی قوانین نافذ کرے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

  • آئین کے مطابق جائزہ لیں کہ قانون شرعی ہے یا نہیں،چیف جسٹس شرعی عدالت

    آئین کے مطابق جائزہ لیں کہ قانون شرعی ہے یا نہیں،چیف جسٹس شرعی عدالت

    آئین کے مطابق جائزہ لیں کہ قانون شرعی ہے یا نہیں،چیف جسٹس شرعی عدالت

    وفاقی شرعی عدالت میں سود کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس شرعی عدالت نے کہا کہ سود کے قانون کا جائزہ ہمارے اختیار کے ساتھ ساتھ ہماری آئینی ذمہ داری بھی ہے،ہمارے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ درخواست گزار کی بات مان لیں،دوسرا یہ کہ آپ کے مطابق صرف خامیوں کی نشاندہی کریں،تیسرا یہ کہ آئین کے مطابق جائزہ لیں کہ قانون شرعی ہے یا نہیں،

    اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ تیسری صورت میں آپ کا فیصلہ محض علمی بحث کی حیثیت اختیار کر جائے گا،دوسری صورت میں آپ کی رائے بتدریج نافذ العمل ہو سکے گی،کیس کی سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی گئی

    واضح رہے کہ ماہ جون میں ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے سفارشات طلب کی تھیں، اسی حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی نے علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کرکے سفارشات وزیراعظم عمران خان کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا،اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سودی نظام کےخلاف جید علما کے ساتھ عیدالاضحیٰ کے بعد مشاورت کریں گے اور پھر اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے وزیراعظم کو دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عید الاضحٰی کے فوراً بعد مفتی تقی عثمانی سمیت دیگر جید علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ملک سے سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سودی نظام ختم کرکے کسی کو بھی کرسی پر بٹھادیں ملک ترقی کریگا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں سودی نظام ختم کرکے اسلامی بینکاری شروع کی جائے سودی نظام اللہ رسولؐ سے جنگ ہے اسی لئے ملک ترقی نہیں کرسکتا

    علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین معیشت قائد کے فرمان کو پڑھیں اللہ ورسول کے نام پر ملک بنایا تو نیا نظام بھی بناسکتے ہیں. اللہ پوچھے گا کہ اقتدارِ دیا میرانظام لایا کہ نہیں پوچھے گا. ختم نبوت پر مہر لگا یا اس میں بھٹو اور مفتی محمود کا بھی کردار ہے.اللہ سود کو ختم اور صدقہ کو بڑھتاہے.مسلمان حکمران کے معاملات دیکھے جاتے ہیں نماز روزہ نہیں دیکھا جاتاہے. سود اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ ہے. حضرت عمرؓ کا قانون مغرب میں لاگو ہے مغرب میں سود کے خلاف قانون سازی ہورہی ہے. وہ اسلامی بینکاری کی طرف آرہے ہیں. سودی نظام یہودیوں نے دنیا کو غلام بنانے کے لیے بنایاہے.ظلم کے خلاف ہم قاضی کے ساتھ ہوگئے تاکہ اس نظام کو ختم کریں ملک کلمہ پر چلے گا ترقی کے لیے اسلامی بینکاری کی طرف آنا ہوگا سودی نظام سے نکلنا ہوگا.

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    دہلی، جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پرہندو انتہا پسندوں نے کیا امام مسجد پر

    رام مندر کی تعمیر کیلئے انتہا پسند ہندو تنظیم نے مودی سے بڑا مطالبہ کر دیا

    مودی سرکار نے بنایا بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے خلاف خطرناک منصوبہ

    بی جے پی کی کامیابی کے بعد بھارت میں گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں پر تشدد

    سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کیس،اٹارنی جنرل نے کیا دعویٰ کر دیا؟

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

  • مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا انوکھامنصوبہ

    مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا انوکھامنصوبہ

    کراچی:مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا انوکھامنصوبہ ،اطلاعات کےمطابق مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں مزید ایک فیصد اضافہ کر دیا۔ جبکہ شرح سود 20 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    اس حوالے سے آج کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کےاعلامیے کے مطابق زرعی شعبے کی نمو مضبوط نظرآتی ہے اور معاشی نمو 4 سے 5 فیصد اندازے کی اوپری سطح کے قریب ہوگی، معاشی نمو کے اندازوں میں آج شرح سود کا اضافہ شامل کرلیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اومی کرون پر تاحال اس کی شدت کی معلومات کم ہے، کمیٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان نے وبا کی دیگر قسموں کا مقابلہ کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آج کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سابقہ اندازوں سے بلند، 4 فیصد رہے گا، قلیل مدت میں کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ بلند رہیں گے جبکہ مالی سال کی دوسری ششماہی میں عالمی قیمتیں معمول پر آنے سے یہ مرحلہ وار کم ہوگا۔

    اعلامیے کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بیرونی ترسیلات سے مکمل ادا ہورہا ہے، ادائیگی کیلئے زرمبادلہ ذخائر مالی سال کے دوران ضروری حد میں رہیں، عالمی قیمتوں اور مقامی طلب میں کمی زرمبادلہ ذخائر بڑھائیں گے۔ مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد ہوگی۔ مالی سال 2023میں مہنگائی کم ہوکر 5سے 7فی صد رہنے کا امکان ہے۔