Baaghi TV

Tag: سورج

  • سورج بیت اللہ کے عین اوپر ہو گا، قبلہ رخ کا تعین کیا جاسکے گا

    سورج بیت اللہ کے عین اوپر ہو گا، قبلہ رخ کا تعین کیا جاسکے گا

    سورج کل 28 مئی کو بیت اللہ کے عین اوپر سے گزرے گا اور اس دوران قبلہ رخ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

    فلکیاتی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ28 مئی 2025 کو، سورج دوپہر 12:18 بجے (مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق) خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا (یعنی پاکستانی وقت کے مطابق 2 بج کر 18 منٹ پر) اس نایاب فلکیاتی منظر کے دوران سورج عمودی طور پر کعبہ کے اوپر ہوگا، اس وقت دنیا بھر کے سایوں کا رخ بیت ا للہ کے مخالف سمت ہو گا، اس وقت پر سائے پر نشان لگا کر قبلہ رخ معلوم کیا جا سکتا ہے-

    سعودی عرب کی فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق، یہ منظر سال میں دو بار رونما ہوتا ہے، جب سورج کا زاویہ زمین کے ایسے مقام پر آجاتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہوتا ہے اس موقع پر دنیا کے کسی بھی مقام سے اگر سورج کو دیکھا جائے تو وہی سمت قبلہ کی ہوگی۔

    واضح رہے کہ رواں سال 2025 میں سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں، مساجد اور دیگر مقامات پر قبلہ کی درستگی کو یقینی بنائیں، دوبارہ سورج 16 جولائی کو بیت ا للہ کے اوپر سے گزرے گا۔

  • سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر ہونے والے طاقتور دھماکوں کی تصاویر جاری

    سورج پر حال ہی میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا ہے، جس کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے سورج پر ہونے والے دھماکوں کی تصاویر کو شئیر کیا گیا تھا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک انتہائی شدید گولڈن رنگ کی شعائیں نکل رہی ہیں، جمعے اور ہفتے کے روز سورج پر دو شدید دھماکے ہوئے ہیں، جن کی تصاویر ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، ان دھماکوں کے باعث برقی مقناطیسی توانائی کی لہریں زمین کی طرف آئی ہیں-
    https://x.com/NASASun/status/1789389072093360135
    ناسا کے مطابق سورج کی جانب سے 10 مئی کی رات 9 بج 23 منٹ پر 2 طاقتور سولر فلئیرز جاری کی گئی ہیں جبکہ دوسری مرتبہ صبح 7 بج کر 44 منٹ پر 11 مئی کو ہوئی،جسے ناسا کی جانب سے ایکس 5 اعشاریہ 8 اور ایکش 1 اعشاریہ 5 کی کلاس فلئیرز میں شمار کیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASASun/status/1789287437908271615
    آئرلینڈ کے میٹ آفس ائیران میٹ کی جانب سے تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں، جس میں ڈبلن شہر اور شینن ائیرپورٹ پر یہ روشنیاں دیکھی گئی تھیں،میٹ آفس کے ترجمان اسٹیفن ڈکسن کا کہنا تھا کہ کم دورانیے کی راتوں کے باعث یہ روشنیاں کم وقت کے لیے ہی وقوع پذیر ہوں گی

    روس کا یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ ،12 پاور گرڈز مکمل تباہ

    جبکہ جمعے کی رات کو اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور برطانیہ کے شمالی علاقوں میں دیکھی گئیں پیشگوئی کرتے ہوئے میٹ آفس نے بتایا کہ یہ صورتحال ہفتے کی رات تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ کہاں کہاں نظر آئیں گی، تاہم نیشنل اوشینک اینڈ اٹماسفیریک ایڈمنسٹریشن (نووا) کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ پہلے چند کورونل ماس اجیکشنز ہمارے سیارے کی جانب گامزن ہیں۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    چنئی:سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کا پہلا شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے مطابق اتوار کو 2:30 بجے، اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) نے آدتیہ L1 کو اگلے مدار میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا مشن کے دوران، ماریشس، بنگلورو، ایس ڈی ایس سی-ایس ایچ اے آر اور پورٹ بلیئر میں اسروکے گراؤنڈ اسٹیشنوں نے سیٹلائٹ کی نگرانی کی نیا مدار296 کلومیٹر ضرب 71767 کلومیٹر ہے اگلے چوتھے مدار میں داخل ہونے کے لئے 15 ستمبر کی صبح 2 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
    india
    واضح ہے کہ ہندوستان نے سورج اور خلا کا مطالعہ کرنے کے لیے 2 ستمبر کو اپنا پہلا سوریہ مشن آدتیہ ایل 1 شروع کیا تھایہ سوریہ مشن زمین کے سب سے قریب ترین ستارے کا مشاہدہ کرے گا اور سولر ونڈ جیسے خلا کے موسم کی خصوصیات کا مطالعہ کرے گا،آدتیہ ایل ون کو سورج کے قریب جانے کے لیے زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’لاگرینج ون‘ (Lagrange-1) پوائنٹ تک پہنچنا ہے،وہاں پہنچنے کے بعد یہ سورج کے گرد چکر لگانا شروع کرے گا جس دوران یہ سورج پر نظر رکھے گا یعنی سورج کا مطالعہ کرے گا،۔ انڈیا سے قبل امریکہ، روس اور یورپی خلائی ایجنسی اس قسم کی تحقیق کے لیے اپنے مشن بھیج چُکے ہیں۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    سابق امریکی سفیرپر دبئی کے امیر کیجانب سے ساس کو 60 ہزار ڈالر کے ہیرے …

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

  • زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    سائنسدانوں نے زمین کا وہ مقام دریافت کیا ہے، جہاں سورج کی روشنی سب سے زیادہ پڑتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار زہرہ جتنی ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: زہرہ نظام شمسی کا دوسرا اور ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ تصور کیا جاتا ہے اوراب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ دھوپ والی جگہ صحرائے اٹاکاما کا الٹیپلانو ہے، جو چلی میں اینڈیس پہاڑوں کے قریب ایک بنجر سطح مرتفع ہے جو زہرہ کی طرح سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔

    نیدرلینڈز کی خرونیگین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایاگیاکہ براعظم جنوبی امریکا کےمغربی ساحل پر کوہ انڈیز کے قریب صحرائے ایٹا کاما کے سطح مرتفع جو تقریباً 13,120 فٹ (4,000 میٹر بلندی پر زہرہ جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہےاس صحرا کو امریکا کی ڈیتھ ویلی سے 100 گنا زیادہ خشک اور بنجر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں صدیوں سے بارش نہیں ہوئی-

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    صحرائے اٹاکاما متعدد وجوہات کی بناء پر خاص ہے یہ زمین کا قدیم ترین صحرا ہے، قطبوں سے پرے خشک ترین اور ممکنہ طور پر رات کے آسمان کو دیکھنے کے لیے صاف ترین جگہ ہے۔ اس صحرا کا بیشترحصہ چلی میں واقع ہے جبکہ کچھ حصے پیرو، بولیویا اور ارجنٹینا میں موجود ہیں، مگر سائنسدانوں نے چلی کے علاقے میں تحقیق کی تھی یہاں تبت کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین سطح مرتفع موجود ہے اور وہاں موسم گرما (اس خطے میں موسم گرما جنوری سے مارچ تک ہوتا ہے) میں سورج کی روشنی کی توانائی یا ریڈی ایشن کی فی اسکوائر میٹر مقدار 2177 واٹس ریکارڈ کی گئی عموماً زمین کی فضا میں سورج کی روشنی کی ریڈی ایشن فی اسکوائر میٹر مقدار اوسطاً 1360 واٹس ہوتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ اس صحرا میں ریڈی ایشن کی شدت ایسی ہے جیسے آپ سیارہ زہرہ میں کھڑے ہوں ان کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف اس لیے حیران کن ہےکیونکہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورج سے 28 فیصد زیادہ قریب ہےاوسطاً اس سطح مرتفع میں 308 واٹس فی اسکوائر میٹر شمسی ریڈی ایشن موجود ہوتی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    محققین کے مطابق اس صحرا میں شمسی توانائی کے حصول کے مواقع وسطیٰ یورپ اور امریکا کے ایسٹ کوسٹ کے مقابلے میں اوسطاً دوگنا زیادہ ہیں اتنی زیادہ شمسی ریڈی ایشن خطرناک ہوتی ہےاورآپ کو جِلد کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےماضی میں سیٹلائیٹ ڈیٹا سے عندیہ ملا تھا کہ زمین پر سورج کی سب سے زیادہ روشنی اسی صحرا پر پڑتی ہے مگر اس تحقیق میں اس کی شدت اور ریڈی ایشن کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ناسا کے ایک ماحولیاتی سائنسدان سیجی کاٹو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جب شمسی شعاعیں فضا کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، تو یہ پانی کے بخارات کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے اور بادلوں اور ایروسولز کے ذریعے بکھر جاتی ہے تاہم، ایک بلندی وہ مقام جو پانی کے بخارات کی تہہ سے اوپر ہے اور اس میں کم بادل ہیں اور ایروسول لامحالہ زیادہ دھوپ حاصل کریں گے چلی کی دھوپ کی ایک اور وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریڈی ایشن کی بہت زیادہ شدت کو اس علاقے کے اوپر موجود بادلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ عموماً بادل سورج کی روشنی کو روک دیتے ہیں یا ان کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، مگر اس صحرا میں بادل بہت پتلے ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی پرکسی عدسے کی طرح کاکام کرتےہیں، یعنی سطح پرشمسی ریڈی ایشن کی شدت کو 80 فیصد بڑھا دیتے ہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ سورج کی بہت زیادہ روشنی، ریڈی ایشن اور شدید درجہ حرارت کےدرمیان فرق ہوتا ہےاس صحرا کاماحول کسی حد تک سرد ہے کیونکہ یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر ہے جبکہ بحر الکاہل کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس علاقے کا درجہ حرارت حد سے زیادہ نہیں بڑھتا۔

  • آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    مکہ: آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس کے باعث خانہ کعبہ کا سایہ ختم ہوجائےگا،اور قبلہ رخ کا تعین کرنا آسان ہوگا۔

    باغی ٹی وی : جدہ فلکیاتی کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہےکہ فلکیاتی حساب کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے اوپر 90 ڈگری کے زاویے پر ہوگا، اس صورت حال میں سورج خانہ کعبہ کے متوازی یعنی ایک ہی خط عمود پر آجاتا ہے جس کی وجہ سے خانہ کعبہ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا۔

    خلا سےمسجد الحرام کا روح پرور منظر،ویڈیو

    پاکستانی وقت کے مطابق دن کے 2 بج کر 26 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آئےگا سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے سے پوری دنیا کے مسلمان قبلے کی سمت کا درست تعین قطب نما کے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا آنا اہم واقعہ مانا جاتا ہے، خانہ کعبہ پر سورج سال میں 2 مرتبہ آتا ہے، جب سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوتا ہے تو خانہ کعبہ کا سایہ ختم ہوجاتا ہےماضی میں قبلے کی سمت متعین کرنے کا جدید ترین سائنٹیفک طریقہ میسر نہیں تھا، ماضی میں لوگ خانہ کعبہ پر سورج کا منظر دیکھ کر ہی قبلے کی جہت متعین کرتے تھے۔

    سعودی عرب اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات بحال، نئے سفیروں کے تقرر پر اتفاق

    قبلہ کی درست سمت کے تعین کیلئے آج مقررہ وقت پر زمین پر ایک چھڑی عمودی گاڑ دیں یا کسی عمارت کے کونے کا انتخاب کریں جیسے ہی یہ وقت آئے ، اس سایہ پر ایک خط کھینچ دیں اور اس خط پر عمود گرائیں، شمال سے جنوب کی جانب زاویہ قائمہ بنائیں، یہی قبلہ رخ ہوگا۔

    فلکیاتی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر ماجد ابو زہرہ کا کہنا تھا کہ خانہ کعبہ کے اوپر سورج نظر آنے کا واقعہ اس لیے پیش آتا ہے کیونکہ خانہ کعبہ خط استوا اور مدار السرطان کے درمیان واقع ہے گردش کے دوران مئی کے مہینے میں سورج خط استوا سے مدار السرطان کی طرف منتقل ہوتا ہے اور گردش کرتے ہوئے سورج خانہ کعبہ کے اوپر آ جاتا ہے۔

    پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل،مسلح افواج کا سائنسدانوں اور انجینئیرز کو خراج تحسین

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • سورج آج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا

    سورج آج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا

    28 مئی کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 18منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں حوطہ سدیر میں فلکیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ ہفتہ 28 مئی 2022 کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12 بجکر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے ٹھیک اوپر نظر آئے گا اس موقع پر قبلے کی سمت سائے کی جہت کے الٹی جانب ہوگی قبلے کی سمت کا درست تعین کیا جا سکے گا۔

    ملک بھر میں آج موسم کیسا رہے گا؟

    اس وقت دنیا بھرکے سایوں کارخ بیت اللہ کی سیدھ میں ہوگا جبکہ اس لمحے بیت اللہ کا سایہ نہیں ہوگا جس سے قبلہ رخ کا درست تعین کیا جا سکے گا 28 مئی کو مقررہ وقت پر زمین پر ایک چھڑی عمودا گاڑ دیں یا کسی عمارت کے کونے کا انتخاب کریں جیسے ہی یہ وقت آئے گا اس سایہ پر ایک خط کھینچ دیں اور اس خط پر عمود گرائیں شمال سے جنوب کی جانب زاویہ قائمہ بنائیں یہی قبلہ رخ ہوگا۔

    سوات، مینگورہ اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    رپورٹ کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے ٹھیک اوپر سال میں دو مرتبہ نظر آتا ہے ایک 28 مئی کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق 12 بجکر 18 منٹ پر اور دوسری بار 15 یا 16 جولائی کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12 بجکر 27 منٹ پرایسا ہوتا ہے-

    واضح رہے کہ قدیم زمانے میں جب قبلے کی سمت متعین کرنے کے لیے جدید ترین حساس آلات نہیں تھے تب لوگ اسی منظر کو دیکھ کر مساجد کا سنگ بنیاد رکھتے اور قبلے کی جہت متعین کیا کرتے تھے۔

    عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے،مریم نواز کا وزیراعظم کو مشورہ