Baaghi TV

Tag: سورج گرہن

  • رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج  ہو گا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہو گا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو یعنی آج ہو گا، اس گرہن کو رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے۔

    محکمۂ موسمیات کے مطابق رواں سال کا پہلا سورج گرہن ​پاکستان میں نظر نہیں آئے گا، ​رنگ آف فائر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گاسورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر ہو گا جبکہ شام 5 بج کر 12 منٹ پر گرہن اپنے عروج پر ہو گا، جس کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بج کر 28 منٹ پر ہو گا۔

    سورج گرہن افریقا اور جنوبی امریکا کے چند حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا، اس کے علاوہ ​بحرِ اوقیانوس، بحر الکاہل اور بحرِ ہند کے علاقوں میں بھی جزوی گرہن دکھائی دے گا رواں برس 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے۔

  • رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا۔

    اس گرہن کو رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے دوران چاند سورج کو اس طرح چھپائے گا کہ اس کا بیرونی حصہ ایسے دکھائی دے گا جیسے کوئی رِنگ یا چھلا ہو مگر اس رنگ آف فائر کا نظارہ پاکستان میں نہیں ہوگا مگر ٹائم اینڈ ڈیٹ نامی ویب سروس کی لائیو اسٹریم میں اسے دیکھنا ممکن ہوگا،صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا البتہ جنوبی امریکا اور جنوبی افریقا کے کچھ خطوں میں جزوی سورج گرہن کو دیکھا جاسکے گا باقی دنیا میں لوگ اس نظارے سے محروم رہیں گے۔

    اس گرہن کا آغاز 17 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر ایک منٹ پر ہوگا اور مکمل رنگ آف فائر صرف انٹار کٹیکا میں نظر آئے گا، البتہ چلی، ارجنٹینا اور جنوبی افریقا کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن ہوگا۔

    رِنگ آف فائر یا annular گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان اس وقت آتا ہے جب وہ ہمارے سیارے سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔چونکہ چاند زمین سے دور ہوتا ہے تو وہ مکمل طور پر سورج کو بلاک نہیں کرپاتا اور جو نظارہ دیکھنے میں آتا ہے اسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔

  • موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہو گا؟

    موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہو گا؟

    موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن، 2 اگست 2027 کو ہوگا۔

    دنیا بھر کے فلکیات کے شائقین اور سائنسدان ایک نایاب فلکیاتی مظہر کا انتظار کر رہے ہیں، جسے اس صدی کے سب سے شاندار اور طویل ترین سورج گرہنوں میں شمار کیا جا رہا ہے اس میں زمین، چاند اور سورج ایک ایسی نادر سیدھ میں آئیں گے کہ چاند، سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دے گا، جس سے کئی علاقوں میں دن تبدیل ہوکر رات کی طرح تاریک ہو جائے گا،موجودہ صدی کا یہ طویل ترین سورج گرہن، 2 اگست 2027 کو ہوگا۔

    سائنسدانوں کے مطابق، یہ گرہن اس لحاظ سے منفرد ہو گا کہ مصر کے تاریخی شہر ‘لکسر’ کے قریب یہ مکمل حالت 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک قائم رہے گی، جو اس صدی کے کسی بھی زمینی مقام پر سب سے لمبے دورانیے کا گرہن ہوگا،سورج گرہن کی مکمل لکیر (Path of Totality) جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے گزرے گی، ان میں اسپین کے کچھ علاقے، مراکش، الجزائر اور تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے علاقے شامل ہیں۔

    گرہن کی ابتدا مشرقی امریکا کے سمندر سے ہوگی اور یہ سفر تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر طے کر کے بحرِ احمر کے پار افریقہ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا،مکمل گرہن کے دوران آسمان یکایک مدھم پڑ جائے گا، جیسے سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل روشنی پھیلتی ہے، جانوروں میں غیر معمولی چپ سادھ لی جائے گی، پرندے گھونسلوں کا رخ کریں گے، اور ستارے و سیارے دن کے وقت نمایاں ہوں گے اس لمحے سورج کا کرونہ یعنی اُس کی بیرونی فضا، چاند کے گرد ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی کی صورت میں دکھائی دے گا، جو ایک دلکش منظر تخلیق کرے گا۔

    ماہرین اسے فلکیاتی تحقیق کرنے والوں اور عوامی آگاہی کے لیے ایک قیمتی موقع قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس دوران شمسی فضا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور روشنی کی شدت پر تجربات کیے جا سکتے ہیں،پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بیشتر حصوں میں اس دن جزوی سورج گرہن نظر آئے گا یعنی سورج کا ایک حصہ چاند سے ڈھک جائے گا، جس کے نتیجے میں ہلکی تاریکی اور مدھم روشنی کا منظر بنے گا، البتہ مکمل گرہن کا نظارہ ان علاقوں میں ممکن نہیں ہوگا۔

    سورج گرہن کے دوران انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ شعاعیں آنکھ کے ریٹینا اور بینائی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لئے اسے ڈائریکٹ آنکھ سے دیکھنا کسی بھی بڑے نقصان سے دوچار کرسکتا ہے،ماہرین بھی بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اس کے لیے صرف آئی ایس او سے سند یافتہ حفاظتی چشمے (سولر ویِونگ گلاسز) استعمال کیے جائیں۔ عام دھوپ کے چشمے یا شیشہ استعمال کرنا قطعاً محفوظ نہیں ہے۔

    یہ سورج گرہن اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ اگلا طویل اور مکمل سورج گرہن اس کے تقریباً 17 سال بعد یعنی 2044 میں ہوگا، اس موقع پر سائنسی اور فلکیاتی تحقیق میں نئی راہیں تلاش کرنے کے مواقع بھی ہیں اور عام لوگوں کے لیے یہ ایک ایسا منظر ہوگا جو شاید انہیں زندگی میں صرف ایک بار دیکھنے کو ملے۔

  • رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات کو ہو گا تاہم یہ سورج گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا۔

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب کو ہو گا۔ لیکن یہ پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گاسورج گرہن کا آغاز 21 ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر ہو گا اور 22 ستمبر کو 12 بجکر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہو گاجزوی سورج گرہن کا اختتام رات 2 بجکر 55 منٹ پر ہو گا،پاکستان کے علاوہ پیسیفیک، اٹلانٹک، انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔

  • رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال کا دوسرا سورج گرہن کب ہو گا؟

    رواں سال 2025کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا ، پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔

    محکمہ موسمیات کلائمیٹ ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مطابق سال 2025 کے دوسرے سورج گرہن کا آغاز 21ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجکر 30 منٹ پر ہوگا اور 22 ستمبر کو رات 12 بجکر 42 منٹ پر سورج گرہن اپنے عروج پر ہوگا جزوی سورج گرہن کا اختتام رات 2 بجکر 55 منٹ پر ہوگا پیسیفیک، اٹلانٹک، انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں سورج گرہن دیکھا جاسکے گا،رواں سال کا دوسرا سورج گرہن بھی پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا ۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن کا دلکش نظارہ ہوا تھا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

  • صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

    صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

    اگست 2027 میں سورج کو لگنے والا مکمل سورج گرہن 21 ویں صدی کا سب سے طویل سورج گرہن ہوگا،جس سے 5ممالک اندھیرے میں ڈوب جائیں گے-

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ گرہن کم از کم 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک جاری رہے گا،یہ تاریخی گرہن 2 اگست 2027 کو بحرِ اوقیانوس یا اٹلانٹا اوشین سے شروع ہوگا اور آبنائے جبل الطارق (Strait of Gibraltar) تک پہنچے گا جنوبی اسپین، جبل الطارق اور شمالی افریقہ میں رہنے والے افراد کو اس شاندار فلکی مظہر کا بہترین نظارہ دیکھنے کو ملے گا،ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 90 ملین افراد اسے براہِ راست طور پر ’پاتھ آف ٹوٹیلیٹی‘ سے دیکھ سکیں گے، جو کہ اس کی وسعت اور اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ گرہن مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور مصر سے ہوتا ہوا سعودی عرب اور یمن کے کچھ علاقوں میں بھی دیکھا جا سکے گا، ان ممالک کے عوام کے لیے یہ ایک نایاب اور قابلِ دید لمحہ ہوگا، جہاں وہ آسمان پر چاند کی تاریکی میں چھپے سورج کو براہِ راست دیکھ سکیں گے آخرکار، یہ گرہن بحرِ ہند میں جا کر ختم ہوگایہ واقعہ 2009 کے بعد پہلا اتنا طویل مکمل سورج گرہن ہو گا اور اگلی بار ایسا گرہن 2114 میں نظر آنے کی توقع ہے-

    بیوہ خواتین سماج کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

    ماہرین فلکیات کے مطابق زمین، چاند اور سورج کی خاص ترتیب اس نایاب منظر کا سبب بنتی ہے جہاں دن کے وقت مکمل تاریکی چھا جاتی ہے فلکیاتی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سورج گرہن کو براہ راست آنکھوں سے دیکھنے سے گریز کریں اور صرف محفوظ چشموں یا فلٹرز کا استعمال کریں، ورنہ آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    سورج گرہن ایک ایسا فلکی مظہر ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے اور سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے، مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کا پورا چہرہ چھپ جاتا ہے اور آسمان پر اندھیرا چھا جاتا ہے،جیسے رات کا سماں ہو۔

    ایرانی پارلیمنٹ کا عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے پر غور

  • 2025 کا پہلا جزوی سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا

    2025 کا پہلا جزوی سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا

    2025 کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہو گا-

    باغی ٹی وی: یہ جزوی سورج گرہن یورپ، ایشیا، شمالی امریکا، جنوبی امریکا اور بحر اوقیانوس کے کچھ حصوں میں دیکھا جائے گاتاہم پاکستان اور بھارت میں اسے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا،رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 ستمبر کو ہوگا۔

    سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آجاتا ہےسورج گرہن کی 4 اقسام ہیں، مکمل، جزوی، رِنگ آف فائر یا annular اور ہائیبرڈ، ان کے ہونے کا انحصار متعدد عناصر جیسے زمین کے مدار میں چاند کی پوزیشن پر ہوتا ہے۔

    پشاور نجی بینک کی کیش وین لوٹنے والے ملزمان گرفتار

    مکمل سورج گرہن کے دوران چاند مکمل طور پر سورج کو کور کرلیتا ہے جبکہ جزوی گرہن کے دوران ایسا نہیں ہوتا،رِنگ آف فائر یا annular گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان اس وقت آتا ہے جب وہ ہمارے سیارے سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے، چونکہ چاند زمین سے دور ہوتا ہے تو وہ مکمل طور پر سورج کو بلاک نہیں کرپاتا اور جو نظارہ دیکھنے میں آتا ہے اسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے ہائبرڈ سورج گرہن سے مراد ایسا گرہن ہوتا ہے جو نہ تو جزوی ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل۔

    سائلین انصاف کے نظام کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں، چیف جسٹس

    یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ یہ سورج کو پوری طور پر چھپا لے، لیکن جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ دنیا سے دور ہوتا جاتا ہے اور پورے سورج کو نہیں چھپا پاتایعنی زمین کے کچھ حصوں پر مکمل سورج گرہن کا نظارہ ہوتا ہے جبکہ دیگر میں جزوی سورج گرہن نظر آتا ہے۔

    ایف آئی اے کا ملزم ارمغان کی حوالگی کیلئے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع

  • چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر

    چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر

    امریکی نجی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ لونر لینڈر نے چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کی ہے-

    باغی ٹی وی : 2 مارچ کو چاند پر اترنے والے اسپیس کرافٹ نے 14 مارچ کو سورج، زمین اور چاند کی ایک قطار میں اکٹھے ہونے کے موقع پر یہ تصویر کھینچی، کمپنی کی جانب سے اس تصویر کو جاری کیا گیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خلا میں سے سورج گرہن کا نظارہ کس طرح کا ہوتا ہے،لینڈر نے زمین کی جانب سے سورج کو بلاک کرنے اور اس کے بعد کے منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمارے بلیو گھوسٹ لینڈر کو چاند پر کام کرنے کے دوران اس منفرد مکمل سورج گرہن کی عکسبندی کرنے کا منفرد موقع ملا، یہ پہلی بار ہے جب کسی کمرشل کمپنی کا لینڈر چاند پر فعال ہے اور اس نے گرہن کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

    بیان میں مزید بتایا گیا کہ یہ تصاویر لینڈر کے ایکس انٹینا کے ذریعے ہم تک پہنچی تھیں، یہ ڈیوائس ڈیٹا اور تصاویر کو اسپیس کرافٹ بھیجنے کا کام کرتی ہےاس ڈیوائس نے اس وقت بھی کام کیا جب گھنٹوں طویل سورج گرہن کے باعث چاند پر مکمل تاریکی سے درجہ حرارت منفی 100 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوگیا تھا، جبکہ سورج کی روشنی نہ ہونے سے توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

  • سال 2025 میں سورج اور چاند کو کتنی بار گرہن لگے گا؟

    سال 2025 میں سورج اور چاند کو کتنی بار گرہن لگے گا؟

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سال 2025 میں دو سورج اوردو چاند گرہن ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح8:57 منٹ پر شروع ہوگا پاکستان میں دن ہونے کی وجہ سے چاندگرہن دکھائی نہیں دے گا جبکہ رواں سال کا دوسراجزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کو ہوگاچاند گرہن رات 8:28 منٹ پرشروع اور 1 بج کر 55 منٹ پراختتام پذیرہوگا،یہ چاند گرہن پاکستان سمیت،یورپ،ایشیاء،افریقا میں دکھا جا سکے گا۔

    پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آگیا

    محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگایہ سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا سال 2025 میں دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبرکے درمیان ہوگاپاکستان میں رات ہونے کی وجہ سے سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا، سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 30 منٹ پرشروع اور اختتام رات 2بج کر54منٹ پر ہوگا۔

    تربیت یافتہ پاکستانی پائلٹس کو ایکسپورٹ کرنے کا اعلان

    چاند گرہن کب ہوتا ہے؟

    چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے، جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا، چاند گرہن کبھی جزوی اور کبھی مکمل ہوتا ہے، چاند گرہن کا جزوی یا مکمل ہونا اس کی گردش پر منحصر ہے ناسا کے مطابق چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔

    کُرم کشیدگی: کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے

    سورج گرہن کب ہوتا ہے؟

    زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا چاند کا زمین سے جتنی مسافت کا راستہ ہے اُس سے 400 گنا زیادہ راستہ سورج اور چاند کے درمیان ہے اس لئے زمین سے سورج گرہن واضح طور پر نہیں دیکھا جاتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سورج گرہن کو پوری دنیا میں دیکھا جاسکے۔

    نئےسال کے پہلے روز سونے کی قیمت میں اضافہ

  • رواں سال آخری سورج گرہن آج،کتنے بجے شروع ہو گا

    رواں سال آخری سورج گرہن آج،کتنے بجے شروع ہو گا

    اسلام آباد: رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن آج رات شروع ہو گا جو پاکستان میں نہیں دیکھا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 2 اور 3 اکتوبر کی درمیانی شب سورج کو گرہن لگے گا مگرسورج گرہن کا مشاہدہ پاکستان میں نہیں کیا جاسکے گا سورج گرہن کا آغازآج پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجکر 43 منٹ پر ہوگا اور رات 2 بج کر 47 منٹ پر سورج گرہن ختم ہوگا، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سورج گرہن جنوبی اور شمالی امریکا ،پیسفک، اٹلانٹک اور انٹارکٹیکا میں دیکھا جاسکے گا،اس گرہن کو رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے دوران چاند سورج کو اس طرح چھپائے گا کہ اس کا بیرونی حصہ ایسے دکھائی دے گا جیسے کوئی رِنگ یا چھلا ہو۔

    ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکے،عملہ خوفزدہ

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    رِنگ آف فائر سے کیا مراد ہے؟
    رِنگ آف فائر یا annular گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان اس وقت آتا ہے جب وہ ہمارے سیارے سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہےچونکہ چاند زمین سے دور ہوتا ہے تو وہ مکمل طور پر سورج کو بلاک نہیں کرپاتا اور جو نظارہ دیکھنے میں آتا ہے اسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہےاگرچہ پاکستان میں سورج گرہن کو دیکھنا ممکن نہیں ہوگا مگر ٹائم اینڈ ڈیٹ نامی ویب سروس کی لائیو اسٹریم میں اسے دیکھنا ممکن ہوگااس سے قبل 8 اپریل میں مکمل سورج گرہن ہوا تھا،اس سورج گرہن کو مغربی یورپ، شمالی اور جنوبی امریکا میں دیکھا گیا تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے