Baaghi TV

Tag: سوریہ نمسکار

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    نئی دہلی:مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لاء بورڈ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مودی کی سربراہی میں 75ویں یوم آزادی کے موقع پر سکولوں میں ” سوریہ نمسکار”کا پروگرام منعقد کرنے کے مودی حکومت کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمان طلباء سے اس پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں کہاہے کہ سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کرنے کے مترادف ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے مسلمان طلباء سے کہاکہ ا س پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں ۔

    مودی حکومت کی ہدایات پر 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سوریہ نمسکار کا پروگرام بھارت بھرکے سکولوںمیں یکم سے سات جنوری تک منعقد کئے جارہے ہیں۔ خالد رحمانی نے کہا کہ مسلمان سورج کو بھگوان نہیں مانتے لہذا مسلم بچوں کو اس طرح کے پروگرام میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

    ادھربھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا سے ‘بلی بائی’نامی ایک ایپ کے ذریعے مسلمان خواتین کی آن لائن نیلامی کے گھنائونے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کنسرنڈ سٹیزنز کی طرف سے بھارت کے عوام سے اس سلسلے میں توثیق کیلئے ایک آن لائن خط جاری کیاگیا ۔ خط میں بھارتی چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ملک میں سلی ڈیلز اور بلی بائی جیسی آن لائن ایپس کے ذریعے مسلم خواتین کو غیر قانونی اور غیر آئینی طورپر بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے کا اذ خود نوٹس لیں ۔

    خط میں این وی رمنا سے مزید کہاگیا ہے کہ وہ ا ن گھنائونے واقعات کے سلسلے میں درج مقدمات کی تحقیقات کی خود نگرانی کریں اوران میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ خط میں چیف جسٹس سے متعلقہ حکام کو ٹویٹر اور گٹ حب جیسی سوشل میڈیا ایپس کا اقلیتی مسلمان خواتین کو بدنام کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے استعمال روکنے کی ہدایت کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔

    کنسرنڈ سٹیزنز نے چیف جسٹس سے متاثرہ خواتین کو مناسب معاوضے کی ادائیگی اور مناسب اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے فرقہ وارانہ نفرت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی فرقہ وارانہ نفرت اور خواتین کو بدنام کرنے گھنائونے واقعات سے خواتین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر خواتین کے حقوق کا تحفظ بھارتی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ۔

    واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ دنوں آن لائن ایپ ‘بلی بائی’ کے ذریعے حال ہی میں مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیاگیا ہے جبکہ گزشتہ سال جولائی میں ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ کے ذریعہ مسلم خواتین کی بولی لگائی گئی تھی۔