سوشل میڈیا ایپ ’ٹک ٹاک‘ نے بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق امریکی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے مقدمے میں امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق معاہدے کے تحت ٹک ٹاک فوری طور پر 300 ملین ڈالر ادا کرے گا جبکہ مزید 100 ملین ڈالر اس وقت ادا کیے جائیں گے جب ٹک ٹاک کے سابقہ ادارے میوزکلی کے خلاف جاری ایک سابقہ عدالتی رضامندی کے حکم کو ختم کرنے سے متعلق عدالتی کارروائی مکمل ہوجائے گی،یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ٹک ٹاک کے خلاف قانونی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔
ٹک ٹاک پر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے کا الزام بھی ہے امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ٹک ٹاک اور اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کے خلاف کارروائی بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق وفاقی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر کی گئی۔
محکمہ انصاف اور امریکی وفاقی تجارتی کمیشن نے 2024 میں مشترکہ طور پر ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ پلیٹ فارم نے لاکھوں بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع اور استعمال کیں اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے دوران ان کی حفاظت کو خطرے میں ڈالا۔
حکام کے مطابق ٹک ٹاک نے ایسے بچوں کو بھی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت دی جو مقررہ عمر سے کم تھے، جبکہ ‘کڈز موڈ’ کے ذریعے بنائے گئے بعض اکاؤنٹس سے بھی ای میل پتے سمیت دیگر ذاتی معلومات جمع کیے جانے کا الزام سامنے آیا،محکمہ انصاف نے اس تصفیے کو بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق قانون، چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ، کے تحت حاصل ہونے والی سب سے بڑی مالی وصولیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اس قانون کے تحت ویب سائٹس اور آن لائن خدمات 13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع نہیں کرسکتیں،ٹک ٹاک کے خلاف موجودہ کارروائی کا تعلق اس کے سابقہ پلیٹ فارم میوزکلی سے بھی جڑتا ہے امریکی حکام نے 2019 میں میوزکلی کے خلاف بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائٹ ڈانس نے 2017 میں میوزکلی کو خرید لیا تھا، جس کے بعد اسے ٹک ٹاک میں ضم کردیا گیا، موجودہ تصفیے میں بائٹ ڈانس کو بھی شامل کیا گیا ہے،بائٹ ڈانس کی ٹک ٹاک کے امریکی کاروبار میں 19.9 فیصد ملکیت ہے۔ ٹک ٹاک نے تصفیے کے اعلان پر فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکا میں ہونے والا یہ تصفیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک میں بچوں کی پرائیویسی اور آن لائن تحفظ کے معاملے پر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے خلاف نگرانی اور قانونی کارروائی میں اضافہ ہورہا ہے یورپی یونین نے 2024 میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں جولائی میں یورپی یونین نے ابتدائی طور پر الزام عائد کیا کہ ٹک ٹاک کی اکاؤنٹ سیٹنگز بچوں کو سائبر بُلنگ اور شکاری رویوں سمیت مختلف آن لائن خطرات سے مناسب تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔
یورپی حکام کے مطابق نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس اور ان کے مواد کی رسائی محدود ہونی چاہیے اور بچوں کے لیے مضبوط ترین حفاظتی نظام بطور ڈیفالٹ فعال ہونا چاہیے، نہ کہ اسے صارف کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے جبکہ برطانیہ کے مواصلاتی نگران ادارے آف کام نے بھی جولائی میں ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات شروع کیں تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا ٹک ٹاک برطانوی قانون کے تحت بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کررہا ہے یا نہیں۔
