Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا پلیٹ فارم

  • ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    البانیہ کی حکومت نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک نوجوان طالب علم نے اپنے ساتھی کو چاقو کی وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ٹاک ٹاک تھی۔ جھگڑے کا آغاز ٹک ٹاک پر ہونے والی بحث سے ہوا تھا۔ البانوی حکومت نے ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے والدین اور اساتذہ کے ساتھ متعدد میٹنگز کیں۔ جس کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا گیا۔البانوی وزیر اعظم ادی رام نے اس حوالے سے کہا کہ ہم ایک سال کے لیے ٹک ٹاک کو مکمل بند کر رہے ہیں۔ اور اس پابندی کا آغاز سال نو سے ہو گا۔وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ٹک ٹاک حکام نے البانوی حکومت سے پابندی پر وضاحت طلب کر لی۔ اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ متاثرہ نوجوانوں کے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹس تھے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایلون مسک سے ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ کیا وہ ایک اوپن الگورتھم کا حامل آزادی اظہار کو تقویت دینے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم کریں گے جہاں پروپیگنڈہ کم سے کم ہو۔

    جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت


    جس کے جواب میں ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں انہوں نے ٹویٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا ایک نئے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے؟

    ایلون مسک کے اس ٹویٹ سے ایک دن قبل انہوں نے ٹوئٹر پر ایک پول میں صارفین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹوئٹر آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے؟ جس کے جواب میں 70 فیصد افراد کا جواب نفی میں تھا۔


    ایک صارف نے کہا کہ میری درخواست باقی ہے مسٹر مسک، براہ کرم ٹویٹر خریدیں اور اسے ایک آزاد تقریر کا پلیٹ فارم بنائیں جہاں صارف اپنا الگورتھم منتخب کر سکے۔

    امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    واضح رہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں ناکامی کی وجہ سے جمہوری قدروں کا ساتھ نہیں دے رہا۔

    فلسطینی علاقے نقب میں یہودیوں کی 10 نئی بستیوں کی تعمیر کا اسرائیلی منصوبہ

  • ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے صارفین پر بغیر رضامندی کسی کی تصاویر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کمپنی کی جانب سے عام صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ عام افراد کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683093436739588?s=20
    رپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے تحت وہ لوگ جو عوامی شخصیت(Public Figure) نہیں ہیں، ٹوئٹر سے ان کی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جنھیں ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کیا گیا ہو۔

    بیان کے مطابق اگرچہ ہر فرد میڈیا فائلز کو شیئر کرنے پر متاثر ہوسکتا ہے مگر اس کا اثر خواتین، سماجی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے افراد پر زیادہ ہوتا ہے۔

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683094581792771?s=20

    کمپنی نے بتایا کہ اگر کوئی صارف کسی تصویر یا ویڈیو کو رپورٹ کرتا ہے جس میں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹوئٹر کی جانب سے میڈیا فائلز کو ہٹا کر مختلف آپشنز کے تحت ایکشن لیا جائے گا ان اقدامات میں صارفین کے مواد کو ریپلائیز اور سرچ رزلٹس میں نیچے لایا جاسکتا ہے یا اس فرد کو ٹوئٹ ڈیلٹ کرنے کا کہا جائے گا۔

    ٹوئٹر کے پاس پالیسی کی خلاف ورزی پر صارفین کو ہمیشہ کے لیے معطل کرنے کا اختیار بھی ہوگا اس پالیسی میں کچھ استثنیٰ بھی ہے جیسے عوامی شخصیات کے پرائیویٹ میڈیا کو اس میں کور نہیں کیا جائے گا یا ایسی تصویر، ویڈیو کو ٹوئٹ میں شیئر کیا جائے گا جو عوامی مفاد میں ہوآسان الفاظ میں اگر وہ میڈیا فائلز اہم ہے تو ٹوئٹر کی جانب سے اسے پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جائے گا۔

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    کمپنی کی جانب سے مختلف عناصر جیسے ٹی وی یا اخبارات میں تصاویر کی موجودگی کو بھی مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا مگر کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر عوامی شخصیات یا دیگر افراد کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد ان کو ہراساں کرنا یا چپ کرانا ہوگا تو ٹوئٹر کی جانب سے ان فائلز کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

    ٹوئٹر میں کافی عرصے سے صارفین کی جانب سے دیگر افراد کی نجی تفصیلات جیسے رہائشی پتے، فون نمبر، شناختی دستاویزات یا مالیاتی تفصیلات پر پابندی عائد کررکھی ہےاب لوگوں کی نجی میڈیا فائلز کے حوالے سے پالیسی کا نفاذ 30 نومبر سے ہورہا ہے جس کا مقصد سیفٹی پالیسیوں کو انسانی حقوق کے معیار کے مطابق لانا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے نیٹ ورک پالیسی اور قوانین میں نئی پابندیاں سی ای او کی تبدیلی کے ایک دن بعد سامنےآئی ہیں۔

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ