Baaghi TV

Tag: سول جج

  • کمسن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ملتوی

    کمسن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ملتوی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،کمسن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت 13 جنوری 2024 تک ملتوی کردی گئی ،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ ملزمہ صومیہ عاصم عدالت کے سامنے پیش ہوئیں ،کمسن ملازمہ رضوانہ کی والدہ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں،رضوانہ تشدد کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے کی ،ملزمہ صومیہ عاصم کے وکیل قاضی غلام دستگیر ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،

    سی سی ٹی وی فوٹیجز کی فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کرائی جاسکی ،گزشتہ سماعت پر ملزمہ سومیاعاصم کی جانب سے عدالت میں دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں ،سی ڈی آر فراہم کرنے کی درخواست پر بھی دلائل اگلی سماعت پر ہونگے،سی سی ٹی وی سے متعلق درخواست پرپراسیکیوشن کی جانب سے دلائل 13 جنوری کو طلب کر لئے گئے،عدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ ہسپتال سے ڈسچارج،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد

    گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ ہسپتال سے ڈسچارج،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد

    گھریلو تشدد کی شکار بچی رضوانہ کو 4 ماہ تک جنرل اسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ڈسچارج کرکے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد کردیا گیا ہے، رضوانہ نے صحتیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں، سب نے میرا بہت خیال رکھا ہے،ڈاکٹرز اور نرسز نے میرا بہت خیال رکھا ہے اب میری طبیعت بہتر ہو چکی ہے۔ نئی زندگی ملنے پر بہت خوش ہوں

    گھریلو تشدد کی شکار ہو کر لاہور جنرل ہسپتال میں 18ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد رو بصحت ہو کر رخصت ہونے پر رضوانہ کیلئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر کا منفرد اور شاندار اقدام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے رضوانہ کے لئے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے پر اُسے سکول بیگ، کتابوں، یونیفارم اور ضروریات زندگی پر مشتمل اشیاء کے تحائف دیے ہیں اور متاثرہ بچی کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ بھی رضوانہ کی تعلیم اور دیگر ضروریات کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچیاں ہم سب کی بیٹیاں ہیں اور اُن کے ساتھ معاشرے میں ایسے حادثات کا ہونا بلا شبہ افسوسناک امر ہے لیکن ضرورت اس اقدام کی ہے کہ ہم سب اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے رضوانہ جیسی بچیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کا بندوبست کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے معاشرے میں رضوانہ جیسی بچیاں خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں جس کے لئے علم کی شمع کا روشن ہونا بہت ضروری ہے اسی لیے رضوانہ کو کتابوں،سکول بیگ اور دیگر اشیاء کے تحائف دیے گئے ہیں تاکہ وہ خود کو معاشرے کا سود مند شہری بنا سکیں۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے مزید کہا کہ اس وقت معاشرے میں غربت کے باعث بڑھتی ہوئی چائلڈ لیبر میں بھی کمی لانے کی ضرورت ہے اور اُس کا بھی واحد راستہ یہی ہے کہ ہم کام کرنے والے بچوں کے ہاتھوں میں اوزار کی بجائے قلم دیں اور انہیں تعلیم کی طرف راغب کریں۔

    اس موقع پر پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے اٹھارہ ہفتے تک علاج کرنے والے ڈاکٹرز،نرسز اور طبی عملے کے لئے تعریفی سرٹیفکیٹس کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ رضوانہ صرف ایک مرض میں مبتلا نہیں تھی بلکہ اسے بیک وقت کئی بیماریاں اور خطرات لا حق تھے اورہسپتال انتظامیہ نے اس کیس کو چیلنج کے طور پر لیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی اور وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کی ہدایات کی روشنی میں ڈاکٹرز اور طبی عملے نے بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضوانہ کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جس پر یہ سارا عملہ مبارکباد کا مستحق ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہیلتھ پروفیشنلز نے دن رات اور سرکاری تعطیلات کے دوران بھی رضوانہ کی صحت یابی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے رکھی اور آج الحمد اللہ ہم اپنے مشن میں سرخرو ہوئے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں

    چئیرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے رضوانہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا۔چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر رضوانہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں لیا گیا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رضوانہ کی مکمل دیکھ بھال کی جائے گی۔ تشدد کا شکار رضوانہ کی تعلیم اور بہتر نگہداشت کے مکمل انتظامات کئے جائیں گے۔

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،کمسن گھریلوملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس کی سماعت ہوئی

    ملزمہ سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کو فرد جرم کی کاروائی کیلئے طلب کرلیاگیا۔کیس کی سماعت سول جج عمر شبیرکی عدالت نے کی۔ملزمہ سومیہ عاصم عدالت پیش نہ ہوئی جبکہ ملزمہ کے وکیل عدالت پیش ہوئے، پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ چالان رپورٹ عدالت جمع کرادی گئی ہے، جوفائل میں موجود ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان عارضی ہے حتمی نہیں ہے،لیکن ٹرائل شروع کرنے اور فردجرم کیلئے کافی ہے۔

    عدالت نے چالان نقول کی تقسیم کیلئے ملزمہ کو طلب کرلیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت9 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • دو ماہ گزر گئے،گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    دو ماہ گزر گئے،گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    دو ماہ گزر جانے کے باوجود گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • سول جج کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست پر اہم پیشرفت

    سول جج کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست پر اہم پیشرفت

    رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم حفیظ کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے پر عدالتی معاونین مقرر کردیے ،وزارت انسانی حقوق کے زریعے فیڈریشن کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،وزارت داخلہ نے کیا اقدامات کیے یا لیے جا سکتے ہیں، رپورٹ طلب کر لی گئی، چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،

    فیصل صدیقی ، زینب جنجوعہ ، مریم سلمان عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے ،شہری کی جانب سے دائر درخواست رٹ پٹیشن میں تبدیل کر دی گئی، عدالت نے کہا کہ درخواست میں لگائے الزامات سنجیدہ اقدامات کے متقاضی ہیں،درخواست میں الزامات چائلڈ لیبر کے خاتمے سے متعلق اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں، درخواست بالخصوص گھروں میں بچوں کو ملازم رکھنے سے روکنے پر سنجیدہ فکر وعمل کی دعوت دیتی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ،کیس کی سماعت ستمبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،

    دوسری جانب رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے،کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

    کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی گئی،

    اسلام آباد آباد کی سیشن کورٹ نے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض سول جج کی اہلیہ ملزمہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، سومیا عاصم اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے ایڈیشنل سیشن جج محمد ہارون نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی تھی

    دوسری جانب رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے،کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی۔

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا معاملہ، بچی نے اسلام آباد پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا

    اسلام آباد پولیس حکام نے کمسن بچی رضوانہ کا ہسپتال میں ہی بیان ریکارڈ کیا، رضوانہ نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی ساری آب بیتی سنا دی، رضوانہ نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ جج کی اہلیہ سومیہ عاصم مجھ پر روزانہ تشدد کرتی تھیں، مجھے ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں سمیت دیگر چیزوں سے مارا جاتا تھا، جج کی اہلیہ مجھے لاتیں، ٹھڈے بھی مارتی تھی، میرے بال پکڑ کر میرا سر دیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا، کمرے میں بند کر دیا جاتا اور کھانا بھی نہیں دیا جاتا، جج جب گھر والوں کے ساتھ باہر جاتے تو مجھے ایک ایک ہفتہ گھر میں بند رکھا جاتا،جج کی اہلیہ تشدد بارے گھر والوں سے ذکر نہ کرنے کا کہتیں اور دھمکاتیں،میرے زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں کراتے تھے،

    دوسری جانب وفاقی پولیس نے سول جج عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلے دوبارہ طلب کر لیا ،پولیس جے آئی ٹی کو جج کو شامل تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    علاوہ ازیں چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب سارہ احمد نے کہا کہ تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ کو صحتیابی کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے گا کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ محفوظ نہیں اور اس کو دوبارہ ملازمت پر رکھوا دیاجائے گا۔ وہ رضوانہ تشدد کیس سے متعلق کارروائی اورملک بھر میں بڑھتے ہوئے چائلڈ لیبر کے کیسز سے متعلق پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔ چئیرپرسن سارہ احمد کے ہمراہ معروف اداکارہ اور چائلڈ رائٹس ایکٹیویسٹ نادیہ جمیل اور سسٹینبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کوثر عباس بھی موجود تھے۔ سارہ احمد نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ اور فاطمہ کے لیے انصاف کا مطالبہ ہے۔ رضوانہ پر تشدد کے بعد سندھ میں معصوم بچی پر تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آگیا جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے کمسن بچیوں رضوانہ اور فاطمہ سمیت تمام گھریلو ملازمین پر تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ رضوانہ پر جتنا تشدد ہوا، اتنا تشدد کسی اور بچے پر نہیں دیکھا۔ اس کی تعلیم رہائش اور دیگر تمام ضروریات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے پوری کی جائیں گی۔

    سارہ احمد نے کہا کہ جب تک ملزمان کو سخت سے سخت سزا نہیں ملیگی تب تک ایسے کیسز کی روک تھام ممکن نہیں۔جب تک تمام ادارے اس پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتے تب تک ایسے کیسز ہوتے رہے گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کیسز میں ابھی تک مجرموں کو سزائیں نہیں ملی اور ایسے کیسز کے الگ سے کورٹ ہونے چاہئیں۔ہمارے قوانین میں سزائیں کم ہیں اس لیے سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ہم نے سوشل بائیکاٹ آف چائلڈ ایمپلائز کی مہم شروع کی جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ ایسے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں جنھوں نے بچوں کو ملازمت پر رکھا ہوا ہے۔ کمسن گھریلو ملازمین کو تشدد اور ظلم سے بچانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو تشدد اور ظلم کا شکار گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے رضوانہ تشدد کیس میں سو موٹو لینے کی درخواست کی ہے۔ چئیرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ گھریلو ملازمین کو موثر قانون سازی کے ذریعے تشدد سے بچایا جا سکتا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے تشدد کا شکار بچوں کو تعلیم کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا رہا ہے۔ میری سب سے درخواست ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ میں ہمارا ساتھ دیں۔ تشدد کا شکار گھریلو ملازمین کے بارے میں چائلڈ ہیلپ لائن 1121پر اطلاع دیں

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس بھی رضوانہ تشدد کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے بچی کو ملازمت پررکھوانے والے ٹھیکیدار کو شامل تفتیش کیا گیا ہے، رضوانہ کو ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان دینے سے معذرت کرلی ، اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم کے رکن پنجاب کے شہر سرگودھا میں بھی موجود ہیں جہاں رضوانہ کا گھر ہے، لاہور جہاں رضوانہ زیر علاج ہے وہاں بھی تفتیشی ٹیم کے رکن موجود ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • لاہورہائیکورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کواو ایس ڈی بنا دیا،نوٹیفکیشن جاری

    لاہورہائیکورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کواو ایس ڈی بنا دیا،نوٹیفکیشن جاری

    رضوانہ تشدد کیس،سول جج کو او ایس ڈی بنانے کے بعد تفتیش کی نئی راہ ہموار
    سول جج کی اہلیہ کا گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس،سول جج کو او ایس ڈی بنانے کے بعد تفتیش کی نئی راہ ہموار ہو گئی

    وفاقی پولیس نے سول جج عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلے دوبارہ طلب کر لیا ،پولیس جے آئی ٹی کو جج کو شامل تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    گھریلو ملازمہ کو تشدد بنانے کا معاملہ ،آئی جی اسلام آباد نے سول جج عاصم حفیظ کو شامل تفتیش کرنے کیے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو درخواست کردی ،آئی جی اسلام آباد نے استدعا کی کہ سول جج عاصم حفیظ کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہائیکورٹ اجازت دے .

    چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنا دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سول جج عاصم حفیظ کو او ایس ڈی بنانے کے حکم کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج کو راولپنڈی میں او ایس ڈی تعینات کیا ہے،انہیں 19 اگست سے قبل راولپنڈی میں چارج سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی۔

    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ زخموں کی صفائی اور گرافٹنگ ایک مشکل عمل ہے اوررضوانہ کی صحت بارے صوبائی وزیر صحت کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کرتے ہیں۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے کہا کہ رضوانہ کے سراورکمرکے زخم صاف کرکے پٹی کی گئی ہے اور پلیٹ لیٹس اور خون کی مقدار بہتر ہو چکی ہے-

    خیال رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لے کر آئی-

    لاطینی امریکہ میں دھماکا، 27 افراد ہلاک اور 59 زخمی

  • رضوانہ تشدد کیس، ملزمہ کی ضمانت بعد از گرفتاری مسترد

    رضوانہ تشدد کیس، ملزمہ کی ضمانت بعد از گرفتاری مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،کمسن بچی رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیاعاصم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،وکیلِ صفائی قاضی دستگیر اور مدعی وکیل فیصل جٹ عدالت پیش ہوئے،پراسیکیورٹر وقاص حرل اور متاثرہ بچی کے والدین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، مدعی کی جانب سے نئے وکیل کا وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا گیا،مدعی کی جانب سے فیصل جٹ نے وکالت نامہ جمع کروا دیا ،مدعی وکیل فیصل جٹ کا کہنا تھا کہ مجھے کچھ وقت چاہیے درخواستِ ضمانت دلائل تیار کرنے کے لیے، جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ نہیں، وقت کی ضرورت نہیں، آج ہی دلائل دینے ہیں، جج شائستہ کنڈی نے درخواستِ ضمانت پر دلائل دینے کی ہدایت کردی

    وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے، کچھ دستاویزات فراہم کرنے کے لیے درخواست دے رہا ہوں ،سرگودھا میں جو رات 3 بجے طبی معائنہ ہوا اس کی طبی رپورٹ چاہیے،سرگودھا والی طبی رپورٹ پڑھی جو ریکارڈ میں لگی ہوئی ہے،سرگودھا والی طبی رپورٹ کے مطابق سومیاعاصم کے خلاف دفعات میں اضافہ کیا گیا،عدالت نے استفسار کیا کہ بچی والدین کے حوالے کب ہوئی،وکیل صفائی نے کہا کہ سکائی وے اڈے پر 8 بجے 23 جولائی کو بچی کو والدین کے حوالے کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق بچی رات 3 بجے سرگودھا ڈی اہچ کیو ہسپتال پہنچتے ہیں ،رات 3 بجے کی ہسپتال پہنچنے پر میڈیکل رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی،بچی کے سر میں اگر کیڑے پڑے ہوتے تو وہ اپنا سر کھجاتی جب بچی حوالے کی نہ تو تشدد تھا اور نہ سر میں کیڑے تھے نہ پسلیاں ٹوٹی تھیں ۔

    وکیل صفائی نے بس اڈے پر بچی حوالگی کی ویڈیو عدالت میں پیش کر دی، بچی کی والدہ نے کہا کہ ڈرائیور نے دھمکی بھی دی ہم بڑے لوگ ہیں، میں ڈر گئی فورا، پراسیکیورٹر نے کہا کہ اپنی طرف سے سوچ بنا کر تو دلائل نہ دیں، جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ میں سب کچھ ریکارڈ پر لاؤں گی، یہاں صرف انصاف ہوگا، وکیلِ صفائی نے کہا کہ بقول رضوانہ کے تشدد 5 بجے ہوا، بس اڈے پر 8 بجے حوالے کیا گیا،

    وکیل ملزمہ نے کہا کہ اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو میں بچی بیٹھتی ہے پانی پیتی ہے ،بچی جب والدہ کے حوالے کی انہوں نے بچی کو چیک بھی نہیں کیا ،جج نے استفسار کیا کہ شروع میں والدہ کیسے بچی کو دیکھتی ، جج نے بچی کی والدہ سے استفسار کیا کہ کیا بچی اسکارف پہنتی ہے ؟والدہ متاثرہ بچی نے کہا کہ میری بچی اسکارف نہیں پہنتی یہ چھپانے کے لیے اسکارف پہنایا گیا ، وکیل ملزمہ نے کہا کہ ہماری گاڑی میں دس منٹ بچی کی والدہ بیٹھی رہی ، جج نے والدہ سے استفسار کیا کہ کسی کے ساتھ ظلم زیادتی نہیں کرنی چاہیے آپ سچ بتائیں ، بچی کی والدہ نے کہا کہ میری بچی اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی جج کی بیوی نے کہا یہ کام نہیں کرتی ،اس کے ڈرائیور نے مجھے دھمکی دی ،

    عدالت نے ملزمہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے ملزمہ سومیا عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی گئی

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس بھی رضوانہ تشدد کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے بچی کو ملازمت پررکھوانے والے ٹھیکیدار کو شامل تفتیش کیا گیا ہے، رضوانہ کو ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان دینے سے معذرت کرلی ، اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم کے رکن پنجاب کے شہر سرگودھا میں بھی موجود ہیں جہاں رضوانہ کا گھر ہے، لاہور جہاں رضوانہ زیر علاج ہے وہاں بھی تفتیشی ٹیم کے رکن موجود ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،