Baaghi TV

Tag: سول جج

  • رضوانہ کے جسم پر 93 زخم،نشانات،کلی کو پھول بنائینگے،ڈاکٹر جاوید اکرم

    رضوانہ کے جسم پر 93 زخم،نشانات،کلی کو پھول بنائینگے،ڈاکٹر جاوید اکرم

    نگران وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ جج کے ہاتھوں مبینہ تشدد کی شکار بچی رضوانہ کے جسم پر 93 نشانات ہیں

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ رضوانہ کیس میں ابھی کئی پیچیدگیاں ہیں ،رضوانہ پرتشدد ایک دو دن سے نہیں بلکہ چھ ماہ سے ہو رہا تھا، اس حوالہ سے بھی سوال اٹھتا ہے کہ چھ ماہ تک رضوانہ کو اسکے گھر والوں نے کیوں نہیں پوچھا؟ اسکے جسم پر 93 زخم ہیں وہ بہت صبر والی کی، آج رضوانہ کی سرجری ہوئی، کمر پر 13 انچ کا زخم ہے،اسکی کمر کو چمٹوں سے جلایا گیا،ہم اس کلی کو پھول بنائیں گے میرے لیے چیلنج ہے رضوانہ کو وہ زندگی دوں جو اپنی بچیوں کو دے رہا ہوں

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم کی اہلیہ سومیا عاصم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ شائسہ کنڈی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے سومیا عاصم کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا ملزمہ سومیا عاصم کو گزشتہ روز ضمانت خارج ہونے پر عدالت کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی ،عدالت نے استفسار کیا کہ خاتون کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق قانون کیا ہے؟ پولیس حکام نے کہا کہ قتل میں ملوث ہو یا پھر ڈکیتی میں ملوث ہو تو ریمانڈ ہوتا ہے، تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے ،عدالت نے کہا کہ اس بات پر آپ کو جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی میڈیا میں کوریج مل رہی ہے ۔میں نے پاکستان کا قانون دیکھنا ہے کیا کہتا ہے ۔

    ملزمہ نے عدالت میں کہا کہ مجھے رات 11:30 تک ذہنی ٹرچر کیا گیا ہے۔ مجھے گھر لے گئے ہیں اس کے بعد ویمن تھانہ لے کر گئے ہیں ۔عدالت نے کہا کہ قانون خاتون ملزم کو صرف 2 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے،صرف اقدام قتل اور قتل کے مقدمات میں قانون خاتون ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے بچی کو دی جانے والی اجرت کے حوالے سے رسیدیں حاصل کرنی ہیں، وکیل صفائی نے کہا کہ ہمارے خلاف الزام ہے کہ بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی،بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی ہی نہیں، یہ الزام ہے،جج شائستہ خان کنڈی نے کہا کہ آپ نے اگر وڈیو ہی لینی ہے تو سیف سٹی سے وڈیو لے لیں، میں آپ کو میڈیا ہائپ کی بنیاد پر تو جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی،

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پرمبینہ تشدد کی ملزمہ روسٹرم پرآ گئیں اور کہا کہ میں ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں،میں ایک ماں ہوں، میرے تین بچے ہیں، اس طرح کا ٹارچر نہ کیا جائے، سومیا عاصم آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ انہوں نے رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے بلا کر مینٹل ٹارچر کیا ہے، تفتیشی افسر بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، تفتیشی افسر نے وضاحت کی اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے میڈم،

    ملزمہ سومیہ عاصم حفیظ نے سارا الزام میڈیا پر لگایا اورعدالت میں کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے ،میں ماں ہوں،میرے تین بچے ہیں، مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کررہے ہیں، مجھے پولیس کسٹڈی میں نہ دیں،

    فاضل جج شائستہ خان نے تفتیشی سے استفسار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ سومیا عاصم سے تفتیش کرنی ہے ابھی کل ہی ضمانت خارج ہوئی ہے بس اڈے سے ویڈیوز بھی لینی ہیں ،جج شائستہ خان نے ملازمہ رضوانہ کی حالت سے متعلق پوچھا جس پر ملزمہ کی بہن نے کہا کہ رضوانہ کی حالت اب کافی بہتر ہے انتہائی نگہداشت یونٹ سے نکال لیا گیا ہے جج شائستہ خان نے پوچھا آپ کون ہیں، جس پر جواب دیا کہ میں ملزمہ کی بہن ہوں ،پراسیکیوٹر وقاص نے دوران سماعت کہا کہ جسمانی ریمانڈ تو ملزمہ سومیا عاصم کی بہتری کیلئے ہے کوئی ثبوت دینا چاہیں تو پولیس کو دے سکتی ہیں ،عدالت نے ملزمہ سومیا عاصم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
    جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے فیصلہ سنایا ،پراسیکیوشن نے ملزمہ سومیا عاصم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی، عدالت نے ملزمہ سومیا عاصم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،عدالت نے 22 اگست کو ملزمہ سومیا عاصم کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی

    دوسری جانب رضوانہ تشدد کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں سول جج کی اہلیہ رضوانہ کو بس سٹاپ پر والدہ کو دے کر آتی ہیں، ملزمہ کے وکیل کے بیان کے برعکس سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کی تشویشناک حالت دیکھی جا سکتی ہے فوٹیج کے مطابق گاڑی سے اترنے کے بعد بچی والدہ کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے فوٹیج میں بس اسٹاپ پر بچی کی والدہ کو روتے دیکھا جا سکتا ہے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں ملزمہ صومیہ عاصم کو ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی سی سی پی او نے مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کے لئے ایس جے آئی ٹی قائم کی تھی۔مقدمے کی تفتیش میں تمام پہلوؤں کو مدنظررکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔قانون سب کے لئے برابر ہے، کسی کے ساتھ ناانصافی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے ملزمہ سومیا کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا ،جج فرخ فرید نے پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں، پریشر نہ لیں، تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے،

    عدالت نے ضمانت خارج کی تو ڈی آئی جی اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچ گئے ،جج فرخ فرید بلوچ نے کہا کہ ملزمہ کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں ،میرے لیے بھی مشکل ہے میرے کولیگ کی اہلیہ ہیں،لیکن جہاں انصاف کی بات ہو گی تو میں نے انصاف کرنا ہے،ملزمہ سومیا عاصم کے وکلا نے جج فرید فرید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 5 منٹ تک لے کر جا رہے ہیں،ڈی آئی جی شہزادہ بخاری نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ ملزمہ کو فوری طور پر گرفتار کریں کہیں جانے کی اجازت نہیں دینی ۔عدالت سے باہر نکلتے ہی پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا،

    مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی،والدہ رضوانہ
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں رضوانہ تشدد کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمسن بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی میری بچی بھوکی پیاسی رہی اسے کمروں میں بند رکھتے تھے،رضوانہ کی وکیل کا کہنا تھا کہ رضوانہ کی والدہ کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ کیس سے پیچھے نہیں ہٹی ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم نے ہی رضوانہ پر تشدد کیا ہے تشدد کا آلہ برآمد کرنا ضروری ہے اس لئے ملزمہ کی گرفتاری ضروری تھی اس کیس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس .سول جج کی اہلیہ ملزمہ سومیا عاصم کی درخواست ضمانت پر سماعت وقفہ کے بعد ہوئی ،ڈیوٹی جج ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے سماعت کی، ملزمہ عدالت کے سامنے پیش ہو گئی،پولیس نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت میں دس بجے تک کا وقفہ کردیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو جج نے استفسار کیا کہ ملزمہ سومیاعاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کدھر ہے؟ ملزمہ سومیاعاصم کو روسٹرم پر بلا لیاگیا، وکیل ملزمہ بھی پیش ہو گئے، اور کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنی بے گناہی کا اظہار کیا،ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیاعاصم نے تشدد نہیں کیا،سومیاعاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا،ڈھائی گھنٹے بچی بس اسٹاپ پر بیٹھی جو اس وقت اٹھ نہیں پارہی تھی، سومیاعاصم نے کم سن بچی کو اس کی ماں کو صحیح سلامت دیا، آج دوپہر کو جی آئی ٹی نے بچی کی ماں اور ڈرائیور کو بلایا ہوا ہے،شام تک انتظار کرلیا جائے تو بہتر ہوگا، جے آئی ٹی کی تفتیش مکمل ہو جائےگی،

    وکیلِ صفائی نے کہا کہ کیا سومیاعاصم کو جیل بھیجا ضروری ہے؟ پراسیکیوشن نے ملزمہ سومیاعاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کردی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم تو ہر حال میں شامل تفتیش ہونے کی پابند ہے، وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے تمام پہلوؤں پر تفتیش نہیں کی، کیا تفتیشی افسر نے وقوعہ کی وڈیو حاصل کی؟ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عبوری ضمانت کا کیس ہے آپ دلائل شروع کریں ،آپ کے دفاع میں جو بھی ثبوت ہیں وہ آپ تفتیش میں سامنے لا سکتے ہیں ،

    ملزمہ کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کے لیے یہ گراؤنڈ نہیں ، پراسیکوٹر نے کہا کہ ہماری اب تک تفتیش مکمل ہے، اب گرفتاری کے بعد تفتیش کرنی ہے ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں ویڈیو موجود ہے ویڈیو لیں ،کیا تفتیشی نے ویڈیو حاصل کی،بس سٹاپ پر تین گھنٹے کی ویڈیو موجود ہے،کل آخری دن ہے پھر وہ ویڈیو کا ڈیٹا ختم ہو جائے گا پھر کہا جائے گا کہ پتہ نہیں یہ اس کیمرے کی ویڈیو ہے یا نہیں ؟ عدالت نے تفتیشی کو ویڈیو لینے کی ہدایت کر دی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی کا کام دونوں سائیڈ سے ثبوت حاصل کرنا ہے،جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنا ممکن نہیں ،ملزمہ کے وکیل کی جانب سے ویڈیو یو ایس بی عدالت کے سامنے پیش کر دی گئی.

    رضوانہ تشدد کیس، آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے ؟ جج کا ملزمہ کے وکیل سے استفسار

    کمرہ عدالت میں بچی کی ویڈیو لگا دی گئی عدالت نے ملزمہ کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی، ملزمہ کے وکیل ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا ،عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی طرف سے فراہم کردہ ویڈیو دیکھی ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ویڈیو میں لڑکی اور اسکی ماں نظر آرہی ہے ، جج نے استفسار کیا کہ کیا لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ؟ وکیل ملزمہ نے کہا کہ جی لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ،یہ بہت بڑا بیان ہے کہ جج کی بیوی نے رضوانہ کو دھکا مارا حالانکہ ایسا کچھ نہیں ، عدالت نے کہا کہ ہم نے میڈیا کو نہیں بلکہ ایف آئی آر کو دیکھنا ہے ،جج نے ملزمہ کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے۔؟

    ملزمہ کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیو عدالت نے دیکھیں . وکیل ملزمہ نے کہا کہ مجھے بلیک میل کرکے پیسے بھی مانگے جتنے میں میں دے سکتا تھا دئیے ،وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے سرگودھا میں بس اسٹینڈ کی ویڈیو نہیں لی، ویڈیو میں دو کردار اور بھی ہیں جن کی ویڈیو مقامی ہوٹل سے ملی، عدالت سے پہلے سومیاعاصم کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیارپورٹ کے مطابق بچی ہسپتال 3 بجے صبح پہنچتی ہیں، یہ والی رپورٹ کہاں ہے؟ طبی رپورٹ کے مطابق 23 جولائی 5 بجے انجری ہوئی،پولیس کو کہا گیا کہ بچی اپنا بیان دینے کے حال میں نہیں،سرگودھا تک بچی بلکل ٹھیک گئی، کوئی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی، 3 بجے سرگودھا پہنچنے کے بعد طبی معائنے کی ضرورت کیسے اچانک پڑ گئی بچی کو،اگر گرفتاری کے بعد بھی ضمانت ملنی ہی ہے تو ملزمہ کو جیل نہیں بھیجنا چاہیے،قانون کے مطابق عورت کو ضمانت ضرور ملنی چاہیے، کیس میں حقائق مسخ کیے گئے،جے آئی ٹی کیوں بنی ہے؟ کیا مقصد ہے؟ ممبران کون ہیں؟ کیا جے آئی ٹی کے ممبران پولیس افسران ہیں؟ جب ممبران پولیس اہلکار نہیں تو جے آئی ٹی میں کون شامل ہے؟ جج فرخ فرید نے کہا کہ
    ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی کے سامنے دوپہر میں پیش ہوناہے، وکیل صفائی نے کہا کہ میں کس کس کے پاس جاؤں تا کہ اصل حقائق منظرعام پر آئیں،شفاف تفتیش کا مطلب ہی دونوں طرف سے حقائق کو منظرعام پر لانا ہوتا ہے،

    رضوانہ تشدد کیس، ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • گھریلو ملازمہ تشدد کیس،سول جج کی اہلیہ جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکی

    گھریلو ملازمہ تشدد کیس،سول جج کی اہلیہ جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکی

    اسلام باد: گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں نامزد سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہو گئیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئیں جہاں ان سے ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے متعلق سوالات کیے گئے سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کے پاس اپنی صفائی میں کوئی جواب نہیں تھا، جج کی اہلیہ سے بچی پرتشدد کی وجہ پوچھی گئی تو جواب میں انہوں نے الزامات کی بوچھاڑ کر دی-

    پولیس ذرائع کے مطابق جج کی اہلیہ نے کہا کہ بچی ہمارے گھر پر ملازمہ نہیں تھی نہ ہی کام کرتی تھی بلکہ بچی کو ہم نے تربیت کے لیے رکھا ہوا تھا، بچی کے والدین کو امداد کے طور پر اب تک 60 ہزار روپے بھیجے، پیسے اپنے شوہر عاصم حفیظ کے موبائل ایزی پیسہ سے بھیجے۔

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    سومیہ عاصم نے کہا کہ بچی پر کوئی تشدد نہیں کیا، اسے اسکن الرجی تھی، جج کی اہلیہ نے کہا بچی کے سر پر چوٹ کیسے لگی ہمیں نہیں معلوم، بچی آنکھوں اور جسم پرخارش کرتی رہتی تھی، بچی کو دوا لا کردی لیکن وہ دوا آنکھوں یا جلد پر نہیں لگاتی تھی، بچی کو ڈنڈے مارنے سے پھیپھڑوں کا انفیکشن تو نہیں ہونا تھا، بچی کا بازو ہمارے گھر سے ٹوٹا ہوا نہیں گیا۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر سول جج کی اہلیہ کسی سوال کے جواب میں مطمئن نہیں کر پائیں، سول جج کی اہلیہ کو دوبارہ جے آئی ٹی کے سامنے طلب کریں گے-

    ہزارہ ایکسپریس کی بوگیاں نوابشاہ کے قریب پٹری سے اتر گئیں،50 سے زائد افراد زخمی

  • تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کم سن ملازمہ تشدد کے کیس میں ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتارکی درخواست کی سماعت ہوئی ،

    سول جج کی اہلیہ اورمرکزی ملزمہ خود عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ متاثرہ کمسن ملازمہ کی جانب سے جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے ۔ جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے استفسار کیا کہ مرکزہ ملزمہ کا شناختی کارڈ کہاں ہے ؟ شناختی کارڈ لائیں تا کہ پہچا ن کر سکوں کہ یہی درخواست گزار ہیں ،سیشن عدالت نے ملزمہ کا اصل شناختی کارڈ عدالت میں جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا

    رضوانہ تشدد کیس میں جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی ضمانت منظورکر لی گئی،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم کی اسلام آباد کہچری سے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض 7 اگست تک ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے عبوری ضمانت منظور کر لی

    ملزمہ ضمانت ملنے پر عدالت سے روانہ ہو گئی، ملزمہ سے صحافیوں نے سوالات کئے تا ہم سومیہ عاصم کی جانب سے کسی بھی سوال کا جواب نہ دیا گیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس ،14 سالہ کم سن بچی پر جج کی اہلیہ کے بدترین تشدد کا معاملہ ،جج کی اہلیہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس سے رجوع کر لیا ،کیس کی سماعت کونسی عدالت میں ہوگی، ڈیوٹی جج کچھ ہی دیر میں فیصلہ کریں گی ،ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کے مقدمے میں قیاس آرائیوں نے گریز کرے،اسلام آباد کیپیٹل پولیس

    گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کے مقدمے میں قیاس آرائیوں نے گریز کرے،اسلام آباد کیپیٹل پولیس

    مختلف میڈیا چینلز پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں جج کی اہلیہ کے جانب سے یہ خبر چلائی جا رہی ہے کہ اس نے بچی پر تشدد کے کیس میں ہر قسم تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،تاہم اسلام آباد کیپٹل پولیس کی جانب سے اس خبر کی مکمل تردید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ مقدمہ کے متعلق تمام تر تفتیش قانون کے مطابق عمل میں لائی جارہی ہے۔ اورمقدمہ میں پیش رفت کے بارے ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی طرف سے آگاہ کیا جائے گا۔کچھ میڈیا چینلز قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں چلا رہے ہیں۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے یہ پیغام ٹوئیٹر پر شئیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتینش سے متعلق افواہوں پر کان مت دھریں۔قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔چائلڈ لیبر قانوناً جرم ہے. ایسے کسی بھی واقعہ کا کسی کو علم ہو تو پکار 15 پر پولیس کو اطلاع دیں۔
    واضح رہے کہ مختلف نیوز چینلز پر ذرائع سے سول جج کی اہلیہ نے اسلام آباد پولیس کو شامل تفتیش ہونےکی یقین دہانی کرادی۔اور آئندہ 2 روز میں سول جج کی اہلیہ اسلام آباد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گی جبکہ سول جج کی اہلیہ نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے رکھی ہے۔
    واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

  • اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد میں سول جج کی بیوی کی جانب سے گھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں نئی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کی جانب سےگھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کی ایف آئی آر میں وحشیانہ تشدد کرکے اعضا توڑنے کی دفعہ 328 اے شامل کر لی گئی ہے، اس سے پہلے ایف ائی آر میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت تھیں، دفعہ 328 اے میڈيکل رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی ہے۔
    اس سے پہلے اسلام آباد پولیس نے یہ مقدمہ صرف حبس بے جا میں رکھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا تھا، قانونی طور پر کمزور ایف آئی آر کی وجہ سے اسلام آباد کے سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ نے عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی تھی۔ واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    لاہور ہائیکورٹ: گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کا معاملہ ،عدالت نے سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    جسٹس فاروق حیدر نے سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے سومیہ عاصم کی یکم اگست تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور گرفتار کرنے روک دیا ،سومیہ عاصم کیخلاف اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ خوف کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، رضوانہ ہسپتال میں داخل ہے اور جب کوئی اسکے قریب آتا ہے تو وہ چیختی اور چلاتی ہے کہ مجھے نہ مارو، والدین قریب آتے ہیں تو وہ انکو دیکھ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کمسن بچی کے سر کے زخم میں کیڑے ہیں، سر کا انفکیشن آنکھوں میں اتر گیا ہے، گردے اور جگر بھی متاثر ہوئے ہیں،

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    سول جج کی اہلیہ کی جانب سے گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ ،وفاقی پولیس کی ٹیم متاثرہ بچی کے والدین سے ملنے لاہور روانہ ہوئی ہے،

    پولیس ٹیم والدین سے کیس کے حوالے سے مزید تفتیش کے سلسلے میں روانہ ہوئی، پولیس کی جانب سے گزشتہ روز سول جج کے آبائی گاؤں کی رہائشگاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا،پولیس کی جانب سے اسلام آباد، گوجرانوالہ اور آبائی گاؤں کی رہائش گاہوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے ،تینوں مقامات پر سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے، پولیس کی جانب سے ملزمہ کے موبائل نمبر کی بھی ٹریسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی،

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے، لاہور جنرل ہسپتال میں گھریلو تشدد کی زیر علاج بچی کی تازہ ترین صحت کی صورتحال بارے اجلاس ہوا.میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل پی جی ایم آئی کو تفصیلات سے آگاہ کیا ،ڈاکٹرز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بچی کو برین سرجری کی ضرورت نہیں، دماغی سوزش ادویات سے کنٹرول کر لی جائیں گی 15سالہ رضوانہ کے زخموں کی دن میں دو بار ڈریسنگ کی جاتی ہے

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • بچی پر تشدد کا واقعہ،علاج کیلئے 12 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    بچی پر تشدد کا واقعہ،علاج کیلئے 12 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 15سالہ رضوانہ لاہور جنرل ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے جہاں اُس کے تفصیلی علاج معالجے کیلئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پروفیسر جودت سلیم کی سربراہی میں پروفیسرز/سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل 12رکنی علیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو اس بچی کا طبی معائنہ کرنے کے علاوہ زخموں اور ضربات کا تعین کرے گا اور اس ضمن میں اپنی تفصیلی میڈیکل رپورٹ پیش کرے گا۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے خود بھی مضروبہ کی عیادت کی اور اُن کے لواحقین کو یقین دلایا کہ بچی کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے رضوانہ کے علاج کیلئے 12رکنی بورڈ قائم کر دیا ہے اور وہ ان تمام معاملات کی خود بھی نگرانی کریں گے تاکہ کم سن بچی کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید بتایا کہ میڈیکل بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچی کے طبی معائنے اور اُس کے علاج سے متعلق سفارشات جلد از جلد پیش کی جائیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ رضوانہ نامی بچی کوڈی ایچ کیو رہبر ہسپتال سرگودھا سے24 جولائی کو ریفر کیا گیا تھا جسے شام 4بجے کے قریب ایمرجنسی میں لایا گیاجبکہ ڈاکٹرز نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی تاکہ اس کی حالت بہتر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے علاج معالجے اور نگہداشت کے لئے طبی عملہ 24گھنٹے ڈیوٹی پر موجود ہے اور اسے تمام طبی سہولیات مفت بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا اور بچی کی جلد صحت یابی کے لئے بہترین سے بہترین ادویات فراہم کی جاتی رہیں گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل بورڈ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر جودت سلیم میڈیکل بورڈ کے کنوینئیر جبکہ پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر سید محمد خالد، پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر شہزاد حسین شاہ، ڈاکٹر محمد شبیر احمد، ڈاکٹر غیاث الحسن،ڈاکٹر رضوان فاروق، ڈاکٹر سعدیہ صدیقی، ڈاکٹر جعفر حسین،ڈاکٹر نادیہ اور محمد نعیم میڈیکل بورڈ میں شامل ہیں

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،