Baaghi TV

Tag: سوگ

  • ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ منایا گیا، اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا اور آنجہانی ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر یوم سوگ منانے کی منظوری دی تھی، اور پیر کا دن پاکستان میں یوم سوگ کے طور پر منایا گیا۔

    وزارت خارجہ نے وزیر اعظم کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یوم سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو متعلقہ انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیر اعطم کی ہدایت پر سوگ کے موقع پر تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر محیط تھی وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی داعی تھیں۔آنجہانی ملکہ نے 1997 میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ نیک خواہشات کی وجہ سے پاکستانی قوم بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کی وفات پر افسردہ ہے۔ 70سال تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں جمعرات کو بیلمورل میں انتقال کر گئیں.

    الزبتھ1952 میں ملکہ بنیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی۔ان کی موت کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ اور دولتِ مشترکہ میں شامل 14ممالک کے سربراہ بن گئے ہیں۔ بادشاہ چارلس نے باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے بادشاہ کا منصب سنبھال لیا ہے اور ملکہ کنسورٹ کمیلا پارکر بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم محمد شہبازشریف ، چیئرمین سینیت اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جمعرات کو ملکہ الزبتھ کی وفات کے موقع پر ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جسے آنے والے وقتوں میں پر کرنا مشکل ہے ، وہ بہت چھوٹی عمر میں تخت نشین ہوئیں لیکن انہوں نے پختگی، کردار اور اعلی ترین عزم کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے حکمرانوں میں شامل ہوئیں۔

    صدر عارف علوی نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی ولولہ انگیز قائدانہ خوبیوں نے انہیں عظیم اور مہربان حکمران کے مرتبے تک پہنچایا جسے عالمی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرحومہ کے لئے دعا کی اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے احساسات شاہی خاندان کے افراد اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان ، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر انہیں گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ پاکستان ان کی وفات کے سوگ میں برطانیہ اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ شریک ہے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان ، عوام اور برطانوی حکومت سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ سپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے برطانوی ہائی کمیشن کا دورہکیا اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پراظہارافسوس کیا اور تعزیتی کتاب میں ملکہ کی زندگی سے وابستہ اہم پہلوں پر اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ سپیکرنے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال پر شاہی خاندان اور عوام سے اظہارہمدردیکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر مبنی تھی.

  • ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملکۂ برطانیہ کی وفات پر یومِ سوگ منانے کی منظوری دے دی۔

    اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کل پاکستان میں یومِ سوگ کے طور پر منایا جائے گا۔ملکہ برطانیہ کا تابوت آج بذریعہ سڑک ایڈنبرا پہنچایا جائیگا،وزارتِ خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ملکۂ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کابینہ ڈویژن کو یومِ سوگ سے متعلق انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر 8 ستمبر کو 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

    ملکہ کو پچھلے سال اکتوبر سے صحت کے مسائل کا سامنا تھا جس کے باعث انہیں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔الزبتھ دوم 6 فروری 1952ء سے 8 ستمبر 2022ء کو اپنی موت تک 70 سال اور 214 دن برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی

  • کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    الماتے :کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قزاقستان کی حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کو عام سوگ منایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر توکایف نے، حالیہ بدامنی میں تباہ ہونے والی سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کی فوری تعمیر نو کا حکم صادر کر دیا ہے۔

    قزاقستان کے صدر کے ترجمان کے مطابق صدر قاسم جامرت تاکایف نے حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کے روز عام سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر تاکایف نے حالیہ بدامنی مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور عوام کو اطمینان دلانے کی خاطر، ایک روزہ سوگ منانے کا فیصلہ، اعلی سطی اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں ملک کے اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ اور وزارت دفاع کے اعلی عہدیداران شریک تھے۔

    صدر تاکایف نے اس موقع پر حالیہ بدامنی کے دوران الماتی اور دیگر شہروں میں تباہ ہونے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا حکم بھی صادر کیا۔

    دوسری جانب قزاقستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ حالیہ بدامنی میں ملوث کم سے کم چار ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی بڑی تعداد کا تعلق الماتی سے بتایا جاتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں پیشتر کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دیگر شہروں کے مقابلے میں الماتی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    مظاہروں کے پرتشدد شکل اختیار کرجانے کے بعد ، سی ایس ٹی او ممالک کی امن فوج قزاقستان پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امن فوج کے آنے کے بعد قزاقستان کی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    قزاقستان میں ایل پی جی قیمتوں میں دوگنا اضافے کے بعد دو جنوری کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر توکایف نے ایل پی جی کی پرانی قیمت بحال کرنے سمیت دوسرے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

    ایران اور چین نے قزاقستان کے حالیہ واقعات میں بیرونی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چین نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک بار پھر قزاقستان میں انیس سو نوے جیسے رنگین انقلابات کا ڈرامہ دوبارہ رچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔