Baaghi TV

Tag: سویڈن

  • روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    کوپن ہیگن:روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :اطلاعات کے مطابق سویڈن نے کہاہے کہ روس کے جاسوس طیارے نے 4روسی لڑاکا طیاروں کے ہمراہ بحیرہ بالٹک پر مختصر دورانیے کے لیے سویڈن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جاری بیان کے مطابق روسی طیاروں نے سویڈن کے جنوب میں پرواز کی۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا کہ طیارے اجازت کے بغیر سویڈن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ ۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جبکہ یوکرین پر روسی فوج کشی جاری ہے اور روس یوکرین پر جلد از جلد قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹوں میں روسی عسکری طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور روسی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی میں اضافے کی اطلاعات دی جا رہی ہیں۔

    سویڈن فوج کا کہنا ہے کہ چار روسی لڑاکا طیاروں دو Su-27s اور دو Su-24s نے آج بحیرہ بالٹک پر ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔اب اگرروس نے کوئی ایسی غلطی کی تو روس کو سخت جواب دیا جائےگا

    ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان نے روس اور یوکرین تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو کہ سفارتکاری کی ناکامی کی عکاس ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے مطابق عوام کے حق خودارادیت، طاقت کے عدم استحکام یا استعمال کے خطرے، ریاستوں کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پرعزم ہے، پاکستان مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے حصول کو یکساں طور پر برقرار رکھنے کے حق میں ہےان کا مستقل اور عالمی سطح پر احترام کیا جانا چاہئے۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے روس اور یوکرین کے درمیان تازہ ترین صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی سفارتکاری سے فوجی تنازع کو ٹالا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کشیدگی میں کمی ، ازسر نو مذاکرات ، پائیدار بات چیت اور مسلسل سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ تشدد اور جانی نقصان سے بچنے کے ساتھ ساتھ فوجی ، سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کی بھی ضرورت ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اس حوالے سے مسلسل اشارہ دیا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کہیں بھی تنازعات سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت حالات کو معمول پر لانے اور دشمنی کے خاتمے کا موجب ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ کثیر الجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق تنازعہ کا سفارتی حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرہ علاقو ں میں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی تمام کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ حکومت پاکستان یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں اورطلبائ کی حفاظت اور بہبود کے حوالے سے سب سے زیادہ فکر مند ہے۔ ان میں سے اکثریت کو نکال لیا گیا ہے باقی بچنے والوں کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ اس حوالے سے یوکرین کے حکام کے ساتھ ساتھ پولینڈ، رومانیہ اور ہنگری کی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں۔

  • "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون” کو امریکہ میں افراتفری نہیں پھیلانے دیں گے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں، ہمارے پاس دنیا کی بہترین ویکسین، ادویات، سائنسدان ہیں اور ہم ہر روز کچھ نیا سیکھ رہے ہیں۔ ہم افراتفری نہیں پھیلنے دیں گے اور اس ویریئنٹ کے خلاف سائنسی اور علمی طریقے سے انتہائی تیزی کے ساتھ نمٹیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اومی کرون کے خلاف لڑنے کیلئےاتنے وسائل ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھے، ہمارے پاس پانچ سال تک کے بچوں کو لگنے والی ویکسین بھی موجود ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ اومی کرون کے بارے میں یہ نہیں پتہ کہ وہ کتنا اور کیسے پھیلتا ہے اور اس کے خلاف ویکسین کتنی موثر ہے تاہم اس وقت سائنسدان کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    دوسری جانب یورپی ممالک اسپین اور سویڈن میں عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے شہر میڈرڈ میں 51 سالہ شخص میں اومیکرون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے متاثرہ شخص 28 نومبر کو جنوبی افریقہ سے واپس اسپین پہنچا تھا۔

    دوسری جانب سویڈن کے صحت کے حکام نے بھی ملک میں اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقا سے واپس لوٹنے والے ایک شخص میں اومی کرون پایا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ کینیڈا میں دو اور برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے تین متاثرین سامنے آچکے ہیں برطانیہ میں ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے جبکہ بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کورونا کی نئی قسم کے متاثرین بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پائے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سے نیدرلینڈز آنے والے سینکڑوں مسافروں میں اومیکرون کی تشخیص کی گئی ہے۔

    احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کئی ممالک نے افریقی ملکوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاہم جنوبی افریقہ کے صدر نے سفری پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے لیے پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سفری پابندیاں لگانے کی بجائے صحت سے متعلق عالمی قوائد وضوابط پر عمل کیا جائے، سفری پابندیوں سے اومی کرون کے پھلاو کو روکنے میں کم مدد ملے گئی، جبکہ عوامی اور معاشی مسائل زیادہ بڑھیں گے۔

    ڈبلیو ایچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ میوٹیشنز والی قسم اومی کرون ممکنہ طور پر عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور اس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے جس کے کچھ خطوں میں تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    رپعرٹس کے مطابق عالمی ادارے نے بتایا کہ ابھی اومی کرون سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کے ویکسینز ہا سابقہ بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کے بارے جانچ پڑتال کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ ہفتے اومی کرون کے اولین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور اب عالمی ادارہ صحت نے اپنے 194 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ خطرات سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن کی رفتار بڑھائیں اور طبی سروسز کو مستحکم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟