Baaghi TV

Tag: سُپر نووا

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    واشنگٹن: ماہرین فلکیات نے زمین سے 1 لاکھ 68 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود زیر مطالعہ سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات کئے ہیں یہ معلومات ستاروں کے دھماکے سے پھٹنے کے متعلق مزید معموں کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: 1987 میں دریافت ہونے والے سُپر نووا ایس این 1987 اے کا مطالعہ سائنس دان پچھلی تین دہائیوں سے کر رہے ہیں سُپر نووا ستارے کا وہ طاقت ور دھماکا ہوتا ہے جو اس کی زندگی کے اختتام پر ہوتا ہےجب ستارہ 1987 میں عروج پر تھا، تو یہ تقریباً 400 سالوں میں زمین سے دیکھا جانے والا قریب ترین، روشن ترین سپرنووا تھا تاہم اب نئی سپر اسپیس ٹیلی سکوپ جیمز ویب ہمیں ایسی تفصیلات دکھا رہی ہے جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

    SN1987A بڑے میجیلانک کلاؤڈ میں ہم سے محض 170,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جو ہماری اپنی کہکشاں سے متصل ایک بونی کہکشاں ہے ماہرین فلکیات اس چیز سے متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک پیچیدہ منظر پیش کرتا ہے کہ جب بڑے ستارے اپنے دن ختم ہوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے-

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    ناسا کے مطابق تازہ ترین مشاہدوں میں سپر نووا کے مرکزی سانچے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ چابی کے سوراخ جیسا دِکھنے والا یہ سانچہ دبیز گیس سے اور دھماکے سے خارج ہونے والی گرد سے بھرا ہوا ہے

    محققین کے مطابق یہ گرد اتنی گاڑھی ہے کہ جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی اس کے پار نہیں دیکھ سکتی اور یہی چیز چابی کے سوراخ جیسی شکل کا سبب بھی ہے۔یہ شکل اطراف میں موجود روشن چھلے اور دو بیرونی چھلوں کے سبب بھی وجود میں آتی ہے۔

    اطراف میں موجود اکوئیٹوریل رِنگ سپرنووا سے ہزاروں سال قبل خارج ہونے والے مادے سے بنا ہے۔ اس چھلے میں روشن ہاٹ اسپاٹ بھی موجود ہیں جو سپر نووا سے خارج ہونے والی شاک ویو ٹکرانے کے سبب وجود میں آئے ہیں۔

    امریکا کا یوکرین کوڈیپلیٹڈ یورینیم گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ

    اس سپر نووا کا کئی سالوں تک ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور اسپٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے مطالعہ کیا گیا لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی غیر معمولی صلاحیتیں وہ پوشیدہ حقائق سامنے لے کر آئیں جو اس سے قبل نہیں آسکیں تھیں۔

  • 11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    سینٹیاگو: یورپین سدرن آبزرویٹری نے 11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری کردی جس میں چمکتی دمکتی گیس کے بے تحاشہ نقوش دکھائے گئے ہیں جو سپرنووا کے دوران خلا میں پھٹ گئے تھے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ویلا سُپر نووا کے نام سے جانے جانے والے اس شدید وقوعہ اور اس کے بعد کے اثرات کی تصویر چلی میں نصب پیرانل آبزرویٹری میں لگی ویری لارج ٹیلی اسکوپ نے لی تصویر کا ڈیٹا 2013 سے 2016 تک جمع کیا گیا تھا۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    اپنی زندگی کے چکر کے اختتام پر پھٹنے سے پہلے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ستارے کا کم از کم ہمارے سورج سے آٹھ گنا زیادہ وزن تھا۔ یہ ہماری کہکشاں میں زمین سے تقریباً 800 نوری سال کے فاصلے پر برج ویلا کی سمت میں واقع تھا نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)۔

    سُپر نووا کے دوران ارتعاشی لہریں وجود میں آئیں جو اطراف میں موجود گیس سے ہوکر گزریں ان لہروں نے گیس کو دبایا او الجھے ہوئے دھاگوں کے مشابہ پیچیدہ نقوش بنائے گیس کی ان لپٹوں کو دھماکے سے خارج ہونے والی شدید توانائی نے گرمایا جس کی وجہ سے وہ روشن ہوئیں۔

    تصویر گیس کے بادلوں کودیکھا جا سکتا ہے جو ماہرین فلکیات کے استعمال کردہ فلٹرز میں گلابی اور نارنجی ٹینڈرلز کی طرح نظر آتے ہیں، جو ہمارے نظام شمسی سے تقریباً 600 گنا وسیع ہیں-

    یورپی سدرن آبزرویٹری (ESO) سے وابستہ ماہر فلکیات برونو لیبنڈگٹ نے کہا کہ فلمینٹری ڈھانچہ وہ گیس ہے جو سپرنووا کے دھماکے سے نکلی تھی، جس نے یہ نیبولا بنایا۔ ہم ستارے کے اندر کا مواد دیکھتے ہیں جب یہ خلا میں پھیلتا ہے۔جب گھنے پرزے ہوتے ہیں تو کچھ سپرنووا مادّہ آس پاس کی گیس کے ساتھ جھٹکا لگاتا ہے اور کچھ فلیمینٹری ڈھانچہ بناتا ہے یہ تصویر دھماکے کے 11,000 سال بعد سپرنووا کی باقیات کو دکھاتی ہے۔

    لیبنڈگٹ نےمزید کہا کہ زیادہ تر مواد جوچمکتا ہےوہ ہائیڈروجن ایٹموں کی وجہ سےہےجو پرجوش ہیں۔ اس طرح کی تصاویرکی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم براہ راست دیکھ سکتے ہیں کہ ستارے کے اندر کون سا مواد تھا، کئی ملین سالوں میں تعمیر ہونے والا مواد اب بے نقاب ہو گیا ہے اور لاکھوں سالوں میں ٹھنڈا ہو جائے گا جب تک کہ یہ بالآخر نئے ستاروں کی شکل اختیار کر لے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ سپرنووا بہت سے عناصر پیدا کرتے ہیں – کیلشیم یا آئرن – جسے ہم اپنے جسم میں لے جاتے ہیں۔ یہ ستاروں کے ارتقاء میں راستے کا ایک شاندار حصہ ہے۔

    ستارہ خود سپرنووا کے نتیجے میں ایک ناقابل یقین حد تک گھنے گھومنے والی چیز تک کم ہو گیا ہے جسے پلسر کہتے ہیں۔ پلسر ایک قسم کا نیوٹران ستارہ ہے – جو کہ سب سے زیادہ کمپیکٹ آسمانی اشیاء میں سے ایک ہے جو کہ موجود ہے۔ یہ ایک سیکنڈ میں 10 بار گھومتا ہے۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    امریکی خلائی ادارہ ناسا ویلا سُپر نووا کی باقیات کو ’ایک بڑے ستارے کے اختتامی دھماکے سے پھیلنے والے ملبے کے بادل‘ کے طور پر بیان کرتا ہے سُپر نووا تب وقوع پزیر ہوتا ہے جب ایک ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر پھٹتا ہے اور ملبہ اور ذرات خلاء میں پھیلا دیتا ہے۔

    جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے تو باہر کی جانب نکلتی دباؤ کی طاقت کم ہوتی جاتی ہے۔ جب یہ دباؤ انتہائی کم ہوجاتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس ستارے کی کششِ ثقل اپنا قبضہ جماتی ہے اور سیکنڈوں میں ستارہ پھٹ جاتا ہے۔

    ستارے کی بیرونی جانب موجود ہر ذرہ لاکھوں ڈگری پر تپ رہا ہوتا ہے اور وہ اطراف میں موجود گیس میں خارج ہوجاتا ہے جس سے قبلِ دید لپٹیں وجود میں آتی ہیں۔

    ویلا سُپر نووا کی یہ باقیات زمین سے 800 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں اور ان کو زمین کے قریب ترین سُپر نووا باقیات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت