Baaghi TV

Tag: سٹیج

  • شوبز میں‌ شارٹ‌کٹ سے آنے والے جلد ہی آئوٹ بھی ہوجاتے ہیں خوشبو خان

    شوبز میں‌ شارٹ‌کٹ سے آنے والے جلد ہی آئوٹ بھی ہوجاتے ہیں خوشبو خان

    سٹیج اداکارہ خوشبو خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں‌سفارش سے آنے والے اگر اپنی صلاحیتں نہ منوا سکیں‌تو بہت جلد آئوٹ ہوجاتے ہیں . انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے سفارش سے اچھا بریک مل جاتا ہے لیکن اگر ٹیلنٹ ہو تو آپ لمبا چل سکتے ہیں ورنہ تو آپ پہلے ہی مرحلے میں‌کھیل سے باہر ہوجاتے ہیں. خوشبو خان نے مزید کہا کہ میں‌نے ہمیشہ محنت پر یقین رکھا اور آج تک دن رات محنت ہی کی ہے. میں آج جس بھی مقام پر ہوں وہ میں نے نہایت محنت کے ساتھ حاصل کیا ہے. میں‌نے کبھی شارٹ‌کٹ نہیں ڈھونڈے اور ویسے بھی کامیابی کے

    شارٹ‌کٹ نہیں‌ہوتے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ سٹیج پر اچھا ڈرامہ پیش کیا جا رہا ہے اور خصوصی طور پر لوگ جو دیکھنا چاہتے ہیں‌وہی دکھایا جا رہا ہے. کام کوئی بھی ہو اس میں‌ہر وقت بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے لیکن اگر توجہ ہی نہ دی جائے تو پھر کیا کیا جائے. انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ آج کا سٹیج ڈرامہ اچھا نہیں‌ہے آج کا ڈرامہ بہت اچھا ہے سب محنت سے کام کررہے ہیں. ایک سوال کے جواب میں خوشبو نے کہا کہ میں نے وہ کردار اور ڈرامے کئے ہیں‌جن میں‌مجھے لگتا ہےکہ کرنے کو کچھ ہے.

  • سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سکرپٹ اچھا ملا تو ڈرامے کروں گی مدیحہ شاہ

    سینئر اداکارہ مدیحہ شاہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ڈراموں سے دور نہیں ہوئی بس اٹھاراں برس پہلے سٹیج چھوڑ‌دیا تھا اور جب چھوڑا تو سوچ لیا تھا کہ سٹیج پر دوبارہ کام نہیں کرنا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میں نے حال ہی میں‌فلم کی ہے جس کا نام ہے رنگ عشقے دا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ میرا اس میں‌ کردار بہت اچھا ہے اور اس طرح کا کردار مجھے کافی عرصے کے بعد آفر ہوا. انہوں نے کہا کہ میری خاصی مصروفیت ہوتی ہے لیکن رنگ عشقے دا میں میرا کردار کافی مضبوط تھا اسلئے میں‌نے وقت نکالا. مجھے بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں بہت اچھی فلمیں بن رہی ہیں. مدیحہ شاہ نے مزید کہا کہ آج کل کی نوجوان نسل کافی ٹیلینٹڈ ہے رنگ عشقے دا میں نئے لڑکے

    لڑکیاں‌ہیں‌ سب کے ساتھ مجھے کام کرکے بہت مزاہ آیا کیونکہ سب نے بہت اچھا کام کیا. مدیحہ شاہ نے کہا کہ یہ وقت سینما انڈسٹری کے لئے بہت اچھا ہے. اب ہر طرح کی فلم بن رہی ہے ہر طرح کے موضوع کو فلموں میں‌زیر بحث لایا جارہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں بہت چوزی ہوں اور میں شروع سے ہی ایسی ہوں. میں‌نے ہمیشہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دی.

  • امان اللہ کی بیٹی نے والد کی یاد میں سوشل میڈیا پر کی ایک وڈیو شئیر

    امان اللہ کی بیٹی نے والد کی یاد میں سوشل میڈیا پر کی ایک وڈیو شئیر

    پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز حاصل کرنے والے اداکار امان اللہ نے سٹیج کی دنیا پر راج کیا. انہوں نے طویل عرصے تک سٹیج ڈرامہ کیا. امان اللہ کو پاکستان میں اسٹینڈ اپ کامیڈی کا بانی قرار دیا جاتا ہےامان ایک بڑی فین فالونگ پاکستان سمیت دنیا بھر میں رکھتے تھے. ان کی بیٹی زرگون نے حال ہی میں‌اپنے والد کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اپنے والد کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات دکھا رہی ہیں ان کی اس وڈیو کے بیک گراونڈ میں بالی وڈ کی فلم اگنی پت کا گانا او سیاں سنا جاسکتا ہے۔ زرگون کی جانب سے جاری کی گئی اس وڈیو کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے. وڈیو خاصی وائرل بھی ہو رہی ہے. یاد رہے کہ

    امان اللہ آخری وقت میں گردوں اور پھیپڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور اسی حالت میں انتقال کر گئے تھے. امان اللہ کا جانا یقینا سٹیج کے لئے اور شوبز انڈسٹری کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا اور ایسا خلا ء تھا جو کہ کبھی پورا ہوا ہے نہ ہوا سکتا ہے. زرگون امان سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو بھی رہتی ہیں اور وہ خود بھی شوبز سے ہی منسلک ہیں‌گو کہ بہت زیادہ کام نہیں‌کررہی ہیں لیکن انہوں نے اپنے والدکی فیلڈ کو نہیں چھوڑا .

  • سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں  نسیم وکی

    سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں نسیم وکی

    گزشتہ روز نسیم وکی کی انڈین پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا” کی لاہور میں سکریننگ ہوئی، سکریینگ میں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات بالکل نہیں ہے کہ ڈرامہ شائقین سٹیج سے خفا ہو کر گھر بیٹھ گئے ہیں. ایک وقت تھا جب لاہور میں دو تین تھیٹر ہوا کرتے تھے آج ان کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کوئی چیز اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں جب نہ اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس میں سے نکلتے جاتے ہیں. تو بہت سارے آرٹسٹ سٹیج کرتے رہے اور بہت ساروں نے چھوڑ بھی دیا لیکن سٹیج آج

    تک چل رہا ہے اور لوگ اسے پسند کررہے ہیں. فیملیاں بھی بڑی تعداد میں آتی ہیں لہذا میں اس تاثر کی نفی کرتا ہوں کہ فیملیاں سٹیج کا رخ کرنا چھوڑ گئی ہیں. نسیم وکی نے ماں دا لاڈلا فلم کے حوالے سے کہا کہ اس فلم میں کام کرنے کا بہت مزہ آیا . میں‌نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں ایسا کام کروں کہ جس سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو، میرے مداح اس فلم کو دیکھ کر یقینا بہت زیادہ خوش ہوں گے. قیصر پیا کی یقینا یہ پہلی انڈین پنجابی فلم ہے انہوں نے بھی فلم میں بہت اچھا کردار ادا کیا ہے.

  • خوشبو سٹیج ڈراموں پر تنقید کرنے والوں پر برس پڑیں

    خوشبو سٹیج ڈراموں پر تنقید کرنے والوں پر برس پڑیں

    اداکارہ خوشبو نے فلموں کے بعد سٹیج کا رخ کیا جب وہ سٹیج کی طرف آئیں تو پھر فلموں میں کم ہی دکھائی دیں، بہت برسوں کے بعد اداکارہ سید نور کی فلم ”تیرے باجرے دی راکھی ”میں‌نظر آئیں. خوشبو نے بہت کم عرصے میں سٹیج پر اپنا الگ مقام بنا لیا. اداکارہ خوشبو نے حال میں ایک انٹرویو دیا اس میں وہ برس پڑیں سٹیج ڈراموں پر تنقید کرنے والوں پر انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں سٹیج ڈراموں کو اتنا ٹارگٹ کیا جاتا ہے.جس طرح کا منفی پراپگینڈا کیا جاتا ہے اس طرح کی کوئی بھی بات نہیں ہے. خوشبو نے کہا کہ جس طرح سے وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بدلتی ہیں اسی طرح سے سٹیج ڈرامے میں بھی تبدیلی آئی لیکن اس طرح کی تبدیلی نہیں آئی کہ طوفان ہی اٹھا دیا جائے. انہوں نے کہا کہ میں سٹیج ڈرامے کے خلاف ہونے والے منفی پراپگینڈے سے بہت پریشان ہوں ایسی ایسی باتیں

    سٹیج سے منسوب کر دی جاتی ہیں کہ بندہ سن کر سر پکڑ کر ہی بیٹھ جائے. اداکارہ نے مزید کہا کہ میں آج جس بھی مقام پر ہوں اس کو ھاصل کرنے کےلئے بہت محنت کی. زندگی کے کئی سال شوبز کو دینے کے بعد اس کام کے رموز و اوقاف سمجھ میں آئے ہیں. میں نے ہمیشہ دوسروں کے کام کو سراہا ان کی حوصلہ افزائی کی یہی توقع میں دوسروں سے اپنے لئے بھی کرتی ہوں. میں نے کام کے لئے چور راستے نہیں ڈھونڈے بلکہ مجھے میری قابلیت کی بنا پر کام ملا میرا یقین ہے کہ شارٹ کٹ ڈھونڈنے والوں کو ملنے والی کامیابی بھی شارٹ ہی ہوتی ہے.

  • شوبز میں کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری قبول کرنے کو تیار نہیں مدیحہ شاہ

    شوبز میں کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری قبول کرنے کو تیار نہیں مدیحہ شاہ

    مدیحہ شاہ کا شمار پاکستان کی ایسی اداکارائوں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے فلموں اور سٹیج ڈراموں میں‌کام کیا. مدیحہ شاہ نے نوے کی دہائی میں بڑے ہیروز کے ساتھ کام کیا.بعد ازاں انہوں نے سٹیج ڈراموں کا رخ کیا وہ الگ بات ہے کہ سٹیج ڈراموں پر ان کا ڈانس متنازعہ رہا ہے. مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میں نے شوبز سے بالکل بھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی نہ ہی میں نے کبھی کوئی ایسا اعلان کیا ہے . مجھے جب بھی کوئی اچھی فلم یا ڈرامہ آفر ہوتا ہے تو میں کرلیتی ہوں. مزید بھی اگر اچھی فلمیں یا ڈرامے آفر ہوئے تو ضرور کروں گی. اداکار کا کام اداکاری کرنا ہے وہ اس

    کو چھوڑ کر کہاں جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمارے شوبز میں جو ماحول ہے وہ ایسا ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی برتری کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کو عوام پسند کررہی ہو ہمیں بھی اسکو پسند کرنا چاہیے. اداکارہ نے مزید کہا کہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں تو آپ کے لئے اللہ تعالی آسانیاں کرتے ہیں.مدیحہ شاہ نے مزید یہ بھی کہا کہ انسان کا عمل اور اسکی زبان اسکے کردار کے بارے میں بتاتی ہے کہ کیسا ہے اس لئے کوشش کریں‌کہ جب بھی بولیں اچھا بولیں جو بھی کریں اچھا کریں.

  • میرا ریکارڈ ہے میں نے کبھی ذومعنی جملہ نہیں بولا امانت چن

    میرا ریکارڈ ہے میں نے کبھی ذومعنی جملہ نہیں بولا امانت چن

    امانت چن کا شمار سٹیج کے ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے جن کو لوگ دیکھنا سننا پسند کرتے ہیں. فیملیاں ان کا ڈرامہ دیکھنے کےلئے تھیٹر کا رخ کرتی رہی ہیں.حال ہی میں امانت چن نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میرا ریکارڈ ہے کہ میں نے کبھی زو معنی جملہ نہیں بولا نہ ہی میں ایسا کرکے داد وصول کرنے کے ھق میں ہوں. ضروری نہیں ہے کہ فحش جملے بول کر ہی سامنے والوں‌کی توجہ حآصل کی جائے. امانت چن نے کہا کہ میں جگت بازی کو پسند نہیں‌ کرتا ہے، ہمیشہ اپنے روز مرہ کے عام سٹائل کو سٹیج پر پیش کرتا ہوں. میں‌نے ہمیشہ وہ حرکت کی جو تہذیب کے دائرے میں‌ ہو. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سٹیج کی جو صورتحال ہے وہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے بہت ضروری ہے کہ ہم سب ملک کر اس کی بحالی کے لئے کام کریں تاکہ فیملیز پھر سے بہترین اینٹرٹینمنٹ کے لئے سٹیج کا رخ کریں.

    امانت چن نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کے پاس سیکھنے کے مواقع نہیں ہیں. امانت چن نے سٹیج کی صورتحال کو بہتر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے جب سٹیج پر کام کرنا شروع کیا تو اس وقت فیملیاں‌جوک در جوک سٹیج کا رخ کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں‌ہے.

  • مجھے کامیڈین ہونے پر فخر ہے افتخار ٹھاکر

    مجھے کامیڈین ہونے پر فخر ہے افتخار ٹھاکر

    سٹیج کے منجھے ہوئے اداکار افتخار ٹھاکر کہتے ہیں‌کہ مجھے فخر ہے کہ میں کامیڈی اداکار ہوں انہوں نے اپنے حال ہی میں ایک دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری وجہ سے لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹیں آتی ہیں اور میں ان کا سبب بنتا ہوں.لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے اسکو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں نہ ممکن ہے. افتخار ٹھاکر نے مزید کہا کہ سٹیج معاشرے کی اصلاح کا زریعہ بن سکتا ہے اور اس کے لئے ہمیں کوشش بھی کرنی چاہیے اچھے سکرپٹ پر مبنی کھیل یہاں‌پیش کئے جانے چاہیں. جو سکرپٹ لکھتے ہیں ان کو خاص کر ذمہ داری کا

    مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسا ہو نہیں رہا جس کی وجہ سے سٹیج اپنے اصل سے ہٹ گیا ہے. افتخار ٹھاکر یہ بات ایک بار نہیں بار بار کہہ چکے ہیں کہ سٹیج پر باقاعدہ طور پر ہدایتکار ہونا چاہیے جو ڈرامہ کو ڈائریکٹ کرے ایک اچھا سکرپٹ ہو صرف اداکاروں پر ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ جو دل میں آئے خود ہی بول لیں اسی رویے نے سٹیج کو زوال پذیر کیا ہے تاہم ہم کوششش میں ہیں کہ سٹیج کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے تاکہ ماضی کی طرح اب بھی فیملیاں یہاں کا رخ کریں. یار ہے کہ سہیل احمد جیسے فنکاروں نے سٹیج کو خیرباد اسی لئے کہا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہیں کر سکتے.

  • لاہور سے ڈرامہ  کراچی منتقل ہوجانا  تشویشناک  ہے مدیحہ شاہ

    لاہور سے ڈرامہ کراچی منتقل ہوجانا تشویشناک ہے مدیحہ شاہ

    سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے لاہور سے کراچی ڈرامہ منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. مدیحہ شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا لاہور میں ڈراموں اور فلموں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں لیکن اب یہ ساری رونقیں کراچی منتقل ہو گئی ہیں.ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کام سارا کا سارا کراچی منتقل ہو چکا ہے اور جو لوگ آرٹسٹ لاہور رہتے تھے وہ تقریبا کراچی منتقل ہو چکے ہیں جو تھوڑے رہ گئے ہیں وہ بھی وہاں جانے کی تیاریوں‌میں‌ہیں. مدیحہ شاہ نے اس انٹرویو

    میں‌یہ بھی واضح کیا ہے مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں کہ کراچی میں ڈرامہ کیوں بن رہا ہے اچھی بات ہے کام ہونا چاہیے اور فنکاروں کو کام ملنا چاہیے پھر وہ چاہے کراچی ہو یا لاہور. لیکن میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے یہ سوچیں کہ دوبارہ لاہور کو ڈراموں اور فلموں کا گڑھ کیسے بنایا جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں‌وہ تمام وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے لاہور ڈرامہ کراچی منتقل ہوا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کام اچھا ہو رہا ہے کوئی شک نہیں لیکن ہمارے ہاں جو پہلے کام ہو رہا تھا ہمیں وہی رونقیں یہاں‌دوبارہ دیکھنی ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل بیٹھ کر کوشش کرنی ہو گی.

  • سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کی رونقیں کب بحال ہوں گی کے افتخار ٹھاکر نے کر دیا بڑا دعوی

    سٹیج کے نامور اداکار افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ دو سال کے اندر اندر سٹیج کی حالت بہتر ہو جایگی اور فیملیاں بالکل پہلے کی طرح اسکا رخ کریں گی. اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کامیڈین افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج فحش رقص سے نہیں چل سکتا میں یہ بات مانتا ہوں اور اس طرح کے ڈانس بالکل غیر ضروری ہیں. سٹیج کی تباہی اس وقت ہوئی جب یہاں انویسٹر گھسا جہاں بھی انویسٹر گھسے گا اسکا حال یہ ہو گا جو سٹیج کا ہوا. اچھا کونٹینٹ ہی سٹیج کو بچا سکتا ہے جو لوگ اچھا کونٹینٹ بنائیں گے وہ تو بچ جائیں گے اور اسی انڈسٹری میں رہیں گے باقیوں کو یقینا گھر جانا پڑے گا .اگر اچھا کونٹینٹ سٹیج پر لایا جائے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ دو برس میں سٹیج کی حالت نہ صرف بدل جائیگی بلکہ فیملیاں اسکا رخ بھی کرنے لگیں گی.

    افتخار ٹھاکر نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں ٹیکلنکل اعتبار سے بہت زبردست ہیں مجھے بہت امید ہے کہ ہماری فلم کا ستارہ ایک بار پھر چمکے گا. اس وقت ہر کوئی اچھی کوشش کر رہا ہے بس فلم کو فلم سمجھنا چاہیے ، لاہور یا کراچی کی نہیں بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری کی فلم کہلائی جانی چاہیے، میں تو یہی کہوں گا کہ سب مل کر کام کریں. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ سٹیج پر کامیڈینز کی واپسی جو ہوئی ہے اس کا سہرا میں سہیل احمد کے سر رکھتا ہوں.