Baaghi TV

Tag: سٹیل مل

  • نجکاری کمیشن کی 5 برسوں میں کل آمدن 4,389 ملین ، اخراجات 1,992 ملین

    نجکاری کمیشن کی 5 برسوں میں کل آمدن 4,389 ملین ، اخراجات 1,992 ملین

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سینیٹر محمد طلال بدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    اس موقع پر سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سیکرٹری نجکاری اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز سیکرٹری نجکاری کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نجکاری سے ہونے والے اخراجات اور حاصل ہونے والی آمدنی پر بریفنگ سے ہوا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران کل آمدنی 4,389 ملین تھی جب کہ کل اخراجات 1,992 ملین تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے ان کمپنیوں کی فہرست کا تنقیدی جائزہ لیا جہاں لین دین میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ سیکرٹری نے وضاحت کی کہ نیشنل پاور پارک کمپنی کی حکومت نے نجکاری نہیں کی۔ اسی طرح پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری بولی دہندگان کی واپسی کی وجہ سے روک دی گئی تھی ، اسٹیل ملز کےلیے 3 سالوں میں فنانشل ایڈوائزر کو 12 کروڑ 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی،گزشتہ سال کابینہ نے اسٹیل ملز کو ڈی لسٹ کردیا تھا، اسٹیل ملز کی نجکاری نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ صرف ایک بڈر رہ گیا تھا۔ حکومت کا خیال تھا کہ ایک بڈر کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں رہے گا،بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جناح کنونشن سینٹر کو بھی نجکاری کی لسٹ سے نکال دیا گیا۔ اس پر فنانشل ایڈوائزر کو 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی۔ جناح کنونشن سینٹر کی نجکاری پر سی ڈی اے کے کچھ اعتراضات تھے۔

    مزید برآں، کمیٹی کے چیئرمین نے سفارش کی کہ نجکاری حکام آئندہ اجلاس میں مالیاتی تجزیہ کے ساتھ نجکاری ڈسکوز کے اخراجات کی تفصیلات فراہم کریں۔ چیئرمین نے پاور ڈویژن کو تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے بلانے اور نجکاری کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ بتانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ اکثر سیاسی مفادات کو کسی نہ کسی طریقے سے قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے اور اس کا انجام پاکستان کے حق میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر پی آئی اے یا سٹیل مل گرتی ہے تو نہ ملازمین کے مفادات کا تحفظ ہو گا اور نہ ہی پاکستان کے مفادات کا،

    اس کے علاوہ سیکرٹری نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی جاری نجکاری کے حوالے سے کمیٹی کو اپ ڈیٹ کیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پی آئی اے کے خریدار 5 بڈرز کو ایئرلائن کے 75 فیصد شیئرز دینے پر اتفاق کرلیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے نجکاری اجلاس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے آپریشنز کےلیے خریدار کو تقریباً 425 ارب روپے فوری سرمایہ کاری کرنا ہوگی، پی آئی اے کے آئندہ 3 برسوں کےلیے 500 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پی آئی اے خریداری میں 6 میں سے 3 کمپنیاں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں، پی آئی اے کی نجکاری یکم اکتوبر سے آگے نہیں بڑھائی جائے گی، پی آئی اے کی خریدار کمپنیوں کا ڈیو ڈیلیجنس پراسس مکمل نہ ہوا تو بڈنگ آگے کرنا ہوگی،چیئرمین نجکاری کمیٹی طلال چوہدری نے پی آئی اے کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فیصل آباد سے ملک کے دیگر شہروں کےلیے پی آئی اے کی کوئی پرواز نہ ہونا تشویشناک ہے۔

    سکریٹری نے کابینہ کے فیصلے کے بعد کئے گئے کارپوریٹ اور ریگولیٹری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیٹی کو 3 جون 2024 کو ہونے والی میٹنگ کے بارے میں آگاہ کیا، جہاں چھ دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کو پری کوالیفائی کیا گیا تھا: فلائی جناح لمیٹڈ، ایئر بلیو لمیٹڈ، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، ایک کنسورشیم جس کی سربراہی Y.B. ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ایک کنسورشیم جس کی قیادت پاک ایتھنول کر رہی ہے، اور ایک کنسورشیم جس کی قیادت بلیو ورلڈ سٹی کر رہی ہے۔

    سینیٹر محمد طلال نے اس بات پر زور دیا کہ پی آئی اے کا لین دین نجکاری کے مستقبل اور پاکستان کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت اس عمل کو ہر طرح سے مکمل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، اور اس کے بہترین کام پر نجکاری کمیشن کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کئی دہائیوں کے بعد یہ لین دین اگلے دو ماہ میں کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

    پی آئی اے نجکاری، ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے،سفارش

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز سے متعلقہ متعدد امور بشمول پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات، گزشتہ دس برسوں کے دوران حاصل ہونے والی آمدن اور اخراجات، گزشتہ دس برسوں کے دوران فارغ ہونے والے ملازمین کی تعداد اور ان کی گریڈ وائز تفصیلات، پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد اور ان پر آنے والے اخراجات بشمول تنخواہ و دیگر مراعات کے علاوہ پاکستان سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی سمیت اس نجکاری کرنے اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات اور ملازمین کے مستقبل سے متعلقہ امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے حوالے سے سی ایف او پاکستان سٹیل ملز محمد عارف شیخ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے کے ہیں جن میں سے 2.12 ارب کے اثاثہ جات منقولہ اور 858 ارب کے غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ منقولہ اثاثہ جات میں 1.45 ارب کی مشینری اور گاڑیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین کا تخمینہ 2021 میں لگایا گیا تھا اور کمپنی نے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق یہ تخمینہ لگوایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی 500 گاڑیاں ہیں جن میں بسیں، کاریں اور سیکورٹی وینز وغیرہ شامل ہیں جن میں سے 350 ورکنگ حالت میں ہیں اور باقی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ادارے کی 1500 ایکڑ زمین سی پیک میں استعمال ہو گی اور اس ادارے کی کل زمین 18 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے 8 ہزار ایکڑ پر رہائشی کالونیاں قائم ہیں باقی پر پلانٹ لگے ہیں۔ کمیٹی کو ادارے کے اثاثہ جات بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین622 ارب کی ہے جبکہ وہ زمین جو سرمایہ کاری کے لئے رکھی گئی ہے وہ 63 ارب کی ہے فیکٹری بلڈنگ کے اثاثہ جات 43 ارب کے ہیں نان فیکٹری بلڈنگ2 ارب کی ہے،2.2 ارب کی سٹرکیں، ریلوے ٹریک اور پلیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ریلوے ٹریک اور ریلوے انجن کی تفصیلات آئندہ اجلا س میں طلب کر لیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کی مالی سال 2022-23 میں آمدن 5.65 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا پلانٹ اور مشینری 115.7 ارب روپے کے ہیں۔ گیس اور بجلی انسٹالیشن 2.7 ارب کی ہے۔پانی، سیوریج سسٹم 1.99 ارب کا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 200 ملین گیلن فی ماہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ سیوریج سسٹم بہت بہتر ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 جون2024 کے بعد گیس سپلائی بند کر دی گی ہے۔ادارے کی آمدن کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2022-23 میں ادارے کی آمدن 5.65 ارب روپے تھی جس میں سے2.71ارب روپے سکریپ فروخت کر کے حاصل کی گئی جبکہ اخراجات 33.11 ارب روپے رہے،25ارب کا مالی سال 2022-23 میں خسارہ رہا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ، سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے
    انتظامی اخراجات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ لیبر کاسٹ2.1 ارب روپے کی ہے جو گزشتہ برس 2.9 ارب کی تھی اور اس سے قبل برس 4.9 ارب کی تھی۔ ادارے کو صرف6 ارب کی گرانٹ ملی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سے 104 ارب اور نیشنل بنک پاکستان سے 38 ارب کا قرض لیا گیا۔ 103 ارب کا مارک اپ ادا کر چکے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 13 جون2024 کو ساڑھے پانچ سو سے زائد ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے ان کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں 12 ہزار382 ملازمین ادارے سے فارغ ہو چکے ہیں جن میں سے 5701 ریٹائرڈ ہوئے،128 نکالے گئے،359 نے استعفیٰ دیا،39 میڈیکل گراؤنڈ پر گئے،397 سکیم کے تحت رضا کارانہ چھوڑ گئے،577 انتقال کر گئے وغیرہ شامل تھے۔ 12 ہزار382 ملازمین سے 4 ہزار588 افسران جبکہ 7794 ورکرز تھے۔پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ہے جن میں سے 166 افسران اور2120 ورکرز ہیں۔ 2286 ملازمین کی سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملازمین کو 32 ارب روپے کی تنخواہ ادا کی گئی اور گزشتہ 10 برسوں میں 7 ارب کی گیس ادارے میں استعمال کی گئی۔

    پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں سی ایف او عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں پاکستان سٹیل ملز کو جوائن کیا تب یہ مل تقریبا بند ہو چکی تھی صرف 36 فیصد کپیسٹی پر چل رہی تھی۔2000 سے2008 تک یہ ملز اوسطا 80 فیصد کپیسٹی کے ساتھ منافع دے رہی تھی۔ 2009 میں بین الاقوامی مسئلہ آیا جو دنیا کے بڑے بنکوں کی وجہ سے تھا۔30 جون2009 کو یہ ملز 36 فیصد کپیٹی پر آ گئی اور 26 ارب کا نقصان ہوا جس کی انکوائری نیب اور سپریم کورٹ دونوں نے کرائی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب کر لیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009 میں ادارے نے حکومت سے کمرشل قرض 15 فیصد پر حاصل کیا اور 6.5 ارب کی ایل سی کی ادائیگی کی۔ کم فنڈز کی وجہ سے پیداواری کپیٹی کم سے کم ہوتی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ادارے کے 27 ہزار ملازمین تھے جبکہ 2008 میں ملازمین کی تعداد 20 ہزار تھی اس وقت بھی ادارے کی ضرورت کل 7 ہزار ملازمین کی تھی۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2010 میں ساڑھے 4 ہزار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی حکومت نے ہدایا ت دیں۔ادارے کی جانب سے فنڈز کی کمی کا کہا گیا تو حکومت کی جانب سے فنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان ملازمین کا بوجھ ادارے پر 12 ارب روپے کا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اتنا منافع دینے والے ادارے کو مناسب حکمت عملی کے تحت چلانا چاہیے تھے ایک حکم نامے کے ذریعے اتنے ملازمین ریگولر کرنا ادارے کا تباہ کرنے کے مترادف تھا۔سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا گیا کہ حکومت کے حکم کے تحت کی گئی بھرتی غیر قانونی نہیں ہوتی۔

    سندھ حکومت 7 سو ایکڑ زمین پر نئی سٹیل مل بنائے گی
    سیکرٹری صنعت و پیدا وار نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نگران حکومت نے اس ادارے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ ترامیم کی تھیں۔مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں ہے حکومت اس کو سکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقصد میں استعمال میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور وفاقی کیبنٹ نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ زمین وفاق کی ہے یا سندھ حکومت کی اس کے لیز کاریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس زمین کو اسٹیٹ لینڈ کے طور پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی زمین کے دوسرے استعمال کے لئے صوبائی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کی زمین پر ایکسپورٹ پروموشن زون / صنعتی زون کے استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نگران صوبائی حکومت نے نگران وفاقی حکومت کو اس کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ موجودہ حکومت نے نگران حکومت کے فیصلے کو رویو کیا ہے۔ سندھ حکومت ایک نئی سٹیل ملز قائم کرے گی اگر سندھ حکومت نئی سٹیل ملز بناتی ہے تو 7 سو ایکڑ پر قائم کی جائے اور باقی پاکستان سیٹل ملز کے نام زمین رہے گی۔ سندھ کیبنٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اعلیٰ معیار کے لوہے کو سی کیٹگری کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر فروخت نہیں ہوا۔

    پاکستان سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے،یونین
    کمیٹی اجلاس میں سٹیل ملز سے تعلق رکھنے والے یونین کے نمائندے نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین 12 فیصد کے حقدار ہیں یا نہیں اور کیا یہ مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعداد شمار بتائے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں اور ایکسپورٹ پرومن زون کے لئے اس ادارے کی زمین استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ اس ادارے کا ابھی تک سی ای او کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ادارے کے بورڈ آف گورنر کا کیا اسٹیٹس ہے۔ ممبران بورڈ کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزرا پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ہم ہر طرح کی سہولت اور تعاون فراہم کریں گے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو اور عوام کی حالت میں بہتری آئے۔ وزرا کی موجود گی میں کمیٹی اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی ہو جاتا ہے۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ سٹیل ملز کی گیس بند نہیں کرنی چاہیے ورنہ پلانٹ چلانے کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکرٹری وزارت صنعت و پیدا وار پاکستان سٹیل ملز یونین کے نمائندوں سے ملیں اور معاملات کو بہتر بنائیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن، دنیش کمار، حسنہ بانو، سیف اللہ سرور خان نیازی، خلیل طاہر، محمد عبدالقادر اور دوست علی جیسر کے علاوہ سیکرٹری صنعت وپیدا وار، سی ایف او پاکستان سٹیل ملز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • پی آئی اے کے بعد کس کس کی نجکاری ہوگی؟ علیم خان نے بتا دیا

    پی آئی اے کے بعد کس کس کی نجکاری ہوگی؟ علیم خان نے بتا دیا

    وفاقی وزیر نجکاری وسرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے پرائیویٹائزیشن کے پانچ سالہ منصوبے پر میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کو التوا میں رکھنے سے قومی خزانے کو 850 ارب روپے کا نقصان ہوا

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ خسارے میں چلنے والے تمام منصوبوں کی تین مراحل میں تیزی سے نجکاری ہو رہی ہے،پرائیویٹائزیشن کا عمل صاف اور شفاف، میڈیا کو لائیو کوریج کی اجازت ہو گی، اونے پونے داموں ادارے نہیں بیچیں گے، زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کریں گے، نجکاری کا عمل مروجہ قوانین و ضوابط کے مطابق ہو رہا ہے،مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے، پی آئی اے، سٹیل مل اور ریکوڈک جیسے منصوبوں کی نجکاری منسوخ کر کے معیشت کو نقصان پہنچایا گیا،پی آئی اے کے بعد روز ویلٹ، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک کی بھی نجکاری ہوگی، اگلے مرحلے میں پاور جنریشن اور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی پرائیویٹائزیشن کا عمل ہوگا، سٹیٹ لائف کارپوریشن، زرعی ترقیاتی بینک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور پیکو بھی نجکاری فہرست میں شامل ہیں، تمام متعلقہ محکموں کو بھی آن بورڈ لیا ہے، نجکاری کا سارا عمل مربوط بنیادوں پر ہوگا

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات،سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کراچی ،حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں کام کر رہاہے، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے سالانہ 30 ارب خرچ کر رہے ہیں، کوئی بھی گھر کے باہر کچرا پھینکے گا اسے گرفتار کیا جائےگا,

    کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ملیر ایکسپریس وے پر اسٹیٹ آف دی آرٹ آٹیزم سینٹر بنانے جا رہی ہے جس کی منظوری 100 ایکڑ زمین کی صورت میں کابینہ نے دیدی ہے,پاکستان اسٹیل مل کوبند نہیں کیاجائیگا اورنہ پرائیویٹائزکیاجائےگا، اسٹیل مل زمین پر سندھ حکومت ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنانے جا رہی ہے، وفاق اور سندھ حکومت مل کر پاکستان اسٹیل مل کو چلائیں گے، اسٹیل مل کو اپنے قدموں پر اٹھائیں گے،سندھ حکومت کے اقدامات سے اسٹیل مل میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، پاکستان پیپلز پارٹی کا نعرا ہے روٹی کپڑا اور مکان اس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے حکومت سندھ ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے جا رہی ہے، اس میں لوئر گریڈ اسٹاف کو سستے دام پلاٹ دیں گے، جسکی ادائیگی قسطوں میں کی جائے گی

    شرجیل میمن کا مزیدکہنا تھا کہ سندھ بھر سے کچرا فوری بنیادوں پر اٹھایا جارہا ہے، جو بلڈر بھی گھر مسمار کرتا ہے وہ ملبہ سڑکوں پر پھینک دیتا ہے، اب جو ملبہ سڑکوں پر پھینکے گا اسے گرفتار کیا جائے گا، ایس ایچ او بھی نظر رکھیں کوئی بھی سڑک پر ملبہ پھینک رہا ہو اسے گرفتار کریں۔ سندھ میں کل 48 محکمے ہیں جن میں سے 16 محکموں کو ڈیجیٹلائز کرنے جارہے ہیں، سندھ میں ون سٹاپ شاپ کی منظوری دی گئی ہے،الیکٹریکل گاڑیوں کی رجسٹریشن کامسئلہ تھا،ای وی گاڑیاں اب باآسانی رجسٹرڈ کرواسکتے ہیں، ای وی گاڑی رجسٹریشن کے چارجز 1000 روپے ہیں، 50 ای وی بسیں لے کر آئے تھے، ٹرائل بیس پر چلائی تھیں، اس کی کابینہ نے منظوری دے دی بجٹ نے اجازت دی تو 8000 ای وی بسوں تک بھی جا سکتے ہیں۔

  • ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ گروپ آف کمپنیر، کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان میں جب معیشت کمزور، ہر آدمی پریشان، ڈالر کی اونچی اڑان، مہنگائی کا طوفان، ایسے میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے ٹریڈنگ کمپنی سے سٹیل مل تک کا اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو خوشخبری سنائی، 1975 سے ایک ٹریڈنگ کمپنی سے شروع ہونے والاہنزہ گروپ آف کمپنیر کا سفر جاری و ساری ہے،2002 میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے پاکستان میں پہلی شوگر مل قائم کی، اس کے بعد 2010 میں دوسری شوگر مل بھی بنائی، ہنزہ گروپ آف کمپنیز کے پاس چینی بنانے کے وسیع یونٹس ہیں ،گھی اور آئل بھی ہنزہ گروپ آف کمپنیز تیار کر رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی دو شوگر ملیں پنجاب کے اضلاع جھنگ اور فیصل آباد میں ہیں،جبکہ گھی کی مل ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں ہے،
    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے اب پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی پر حامل سٹیل مل بھی بنا لی ہے ، سٹیل میں جدید ترین مشینری استعمال کی جا رہی ہیں وہیں سکریپ منگوا کر سریا بھی خود ہی بنایا جاتا ہے اور سٹیل بھی بنائی جا رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیر کی مصنوعات انتہائی معیاری ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ کامیابی کی سیڑھیاں مسلسل چڑھ رہے ہیں،شوگر، گھی کی ملوں کے بعد سٹیل مل کا قیام،اس امر کا ثبوت ہے کہ ہنزہ گروپ آف کمپنیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار کر رہا ہے، نہ صرف شہریوں‌کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی و پلانٹ پر بنی سٹیل بھی بآسانی میسر ہو گی،معیار پر سمجھوتا نہ کرنا ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا وہ راز ہے جو اس کی کامیابی کا مقدر بن رہا ہے

    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    پاکستان کی قومی سٹیل مل، یعنی پاکستان سٹیل مل کراچی میں کب سے بند پڑی،وزیر نجکاری کہتے ہیں کہ پی آئی اے کی تو نجکاری کر رہے ہیں تا ہم سٹیل مل کی نہیں کر رہے کیونکہ سٹیل مل لینے کو کوئی تیار ہی نہیں، حالانکہ وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لئے ایک بڑی سٹیل مل کی ضرورت تھی جو پاکستان کی ضروریات کو پورا کرتی تا ہم قومی مل کو عرصہ دراز سے خسارے کا نام دے کر بند کیا گیا،اب ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی سٹیل مل پاکستان میں سٹیل کی مقامی ضروریات کو نہ صرف پورا کرے گی بلکہ کئی خاندانوں کو روزگار کے مواقع بھی دے گی.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ سٹیل میل کے پاس جدید ترین مینو فیکچرنگ پلانٹس ہیں،اعلیٰ ترین معیاری مصنوعات ہنزہ گروپ آف کمپنیز صارفین کو فراہم کر رہی ہے.ہنزہ سٹیل مل کی مصنوعات صارفین کی توقعات کے عین مطابق ہیں،تیاری کے مرحلے میں کوالٹی کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاتا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی جانب سے اعلی درجے کی اسٹیل مصنوعات کا ملک کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بننا، انکی انتھک محنت،لگن کا واضح ثبوت ہے
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز اپنے صارفین کی ترجیحات پر پورا اترنے میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ صارفین ہنزہ گروپ آف کمپنیز پر اعتماد کرتے ہیں،اسی اعتماد کے بدولت ٹریڈنگ گروپ سے گروپ آف کمپنیر تک کا سفر طے ہوا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا پاکستان کا معروف صنعتی گروپ بننے اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا ویژن رکھتاہے.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.