Baaghi TV

Tag: سپریم جوڈیشل کونسل

  • جسٹس اعجاز اسحاق خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    جسٹس اعجاز اسحاق خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق خان کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے، جس میں ان پر بدعنوانی، جانبداری اور آئینی حلف کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    ریفرنس وکیل محمد وقاص ملک کی جانب سے دائر کیا گیا، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز اسحاق نے ذاتی عناد اور تعصب کی بنیاد پر فیصلے دیے۔ مریم فیاض کیس میں تین سال تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا، جبکہ ’کٹ اینڈ ویلڈ گاڑیوں‘ کیس کا فیصلہ بھی غیر معمولی تاخیر سے سنایا گیا، جس سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا۔ریفرنس کے مطابق جسٹس اعجاز اسحاق نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالی، ساتھی ججوں کے ساتھ گروپ بندی کر کے عدالتی امور متاثر کیے اور چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کے خلاف محاذ آرائی کی۔

    مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بطور جج ایک پرائیویٹ لاء فرم بھی چلائی اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ گستاخی سے متعلق مقدمات کی کارروائی کو براہِ راست نشر کر کے اشتعال پھیلایا گیا، جبکہ وکیل ایمان مزاری کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے سیاسی مقاصد کے لیے عدلیہ کو استعمال کیا گیا۔الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز اسحاق نے فوج مخالف اور ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

    حزب اللہ کی سعودی عرب سے نئے باب کے آغاز اور مذاکرات کی پیشکش

    منموہن سنگھ مجھےکشمیر میں عدم تشدد تحریک کا بانی سمجھتے تھے۔ یاسین ملک

    خضدار میں سینیٹر آغا شازیب درانی کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ، 7 محافظ زخمی

    خیبر میں سی ٹی ڈی آپریشن، فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک

  • چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کیخلاف شکایات خارج

    چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کیخلاف شکایات خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور دیگر 2 ممبران نثار احمد اور شاہ محمد کے خلاف شکایات خارج کر دیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنا فیصلہ پبلک کردیا جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا، رکن الیکشن کمیشن نثار احمد اور رکن الیکشن کمیشن شاہ محمد کے خلاف 3 الگ الگ شکایات خارج کی گئی ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے 8 نومبر اور 13 دسمبر 2024 کو اجلاس ہوئے تھے، اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا تھا۔

    اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن کے 2 اراکین نثار احمد اور شاہ محمد کے خلاف شکایات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا،اعلامیے میں کہا گیا کہ دائرتین علیحدہ علیحدہ شکایات نمبرہائے 532/2021، 557/2022، 563/2022/ کا جائزہ لینے کے بعد شکایات کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو نتائج بُھگتنا پڑیں گے، ترجمان پاک فوج

    یاد رہے کہ 8 نومبر 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 10 شکایات ٹھوس ثبوت پیش نہ کیے جانے کی بنیاد پر خارج کر دی تھیں جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے ایگزیکٹیو کی جانب سے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے خط پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا تھااجلاس میں سینئر ترین جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی تھی، دوران اجلاس کونسل نے ایجنڈے میں شامل مختلف آئٹمز پر غور کیا گیا، کونسل نے رولز مرتب کرنے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    اسی طرح 13 دسمبر 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری پروسیجر میں ترامیم کے لیے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔

  • جسٹس مظاہر کیخلاف شکایات کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

    جسٹس مظاہر کیخلاف شکایات کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے خلاف شکایات کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 دسمبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا ہے اجلاس جمعرات کو ججز بلاک کانفرنس روم میں ڈھائی بجے ہوگا، سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے پانچوں ممبران کو نوٹس بھیج دیا ہے۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس پاکستان سمیت سپریم کورٹ کے ججز کو ایک اور خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ میں نے نومبر کے مہینے میں نو اور دسمبر میں دو ریکارڈ کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو تحریری درخواستیں دیں اس کے باوجود میری درخواست نہیں سنی گئی 11 دسمبر کو آدھی رات کے قریب سپریم جوڈیشل کونسل کے 14 دسمبر کے اجلاس کا نوٹس موصول ہوا، تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ سپریم کورٹ میں درخواستوں کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا گیا۔

    مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے دور بھگانے کا آسان گھریلو ٹوٹکا،ویڈیو

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جسٹس اعجاز الحسن کو جوابی خط

    سیاسی ایلیٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلا اس لیے سب بھگت رہا ہوں،جسٹس مظاہر علی اکبر …

  • جوڈیشل کونسل میں شکایات:جسٹس مظاہر نے  رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا

    جوڈیشل کونسل میں شکایات:جسٹس مظاہر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کوبھی بھجوادی جس میں کہا گیا ہےکہ میں نے2 آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکر رکھی ہیں، میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا، آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا،آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف ورزی ہےیہ آئینی درخواستیں 3 رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے

    ایک اور پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار

    جسٹس مظاہر نے جواب میں کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرارنے پوچھا میں اپنی درخواست کی پیروی چاہتاہوں یا نہیں؟ رجسٹرارکو اختیار نہیں کہ آئینی درخواست کے قابل سماعت ہونےکا فیصلہ کرے، قانون کےمطابق ججزکی 3 رکنی کمیٹی ہی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے، میرے وکیل نےکبھی نہیں کہا تھا کہ الزامات واضح ہونےکے بعد قانونی اعتراض نہیں کریں گے، میری سپریم کورٹ تعیناتی کی مخالفت والےاعتراض پرچیف جسٹس نے وضاحت کی تھی، چیف جسٹس کی وضاحت کے بعد صرف اس اعتراض سے دستبرداری اختیارکی تھی اور اعتراض واپس یہ سمجھ کرلیا تھاکہ جوڈیشل کونسل غلطی تسلیم کرتے ہوئے شوکاز واپس لےگی۔

    ‎سیاسی و جذباتی بیانات سے نہیں پالیسی اقدامات سے معیشت بحال ہوگی،شہباز شریف

    جسٹس مظاہر نے جواب میں استدعا کی ہےکہ 20 نومبرکو دائرپہلی آئینی درخواست کی بھرپورپیروی کروں گا، میرے خلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لیا جائے جب کہ جسٹس مظاہرنے رجسٹرار نوٹس کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی بھی استدعا کی ہے۔

    واضح رہےکہ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر کونسل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کررکھا ہے-

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی …

  • جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کوشوکاز نوٹس جاری

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کوشوکاز نوٹس جاری

    اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو تفصیلی شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف درج درخواست پر شکایت کنندہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت ہوا جس میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں سامنے آئے شواہد کی روشنی میں جسٹس مظاہر نقوی کو نوٹس جاری کیا گیا۔

    کایت کنندہ اور جسٹس مظاہر نقوی کے دلائل کو بغور جائزہ لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے 14 دن میں جواب طلب کرلیا اجلاس میں سامنے آئے شواہد کی روشنی میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، 14 روز کے بعد جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف مزید کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔

    پاکستان اور قزاخستان کے درمیان ریاستی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر …

    ذرائع کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس 4:1 کی اکثریت سے جاری کیا گیا چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس سردار طارق، جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس نعیم افغان نے شوکاز جاری کرنے کے حق میں رائے دی جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے شوکاز نوٹس جاری کرنے کی حمایت نہیں کی، شوکاز میں 10 معاملات پر جسٹس مظاہر نقوی سے وضاحت مانگی گئی ہے۔

    دوسری جانب جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواست بھی دائر کردی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے شوکاز میں اپنےخلاف شکایات کی تفصیل درج نہ ہونے پر اعتراض کیاتھا، کونسل نے مسلسل 3 دن جسٹس مظاہرنقوی کے خلاف شکایات اور ان کے اعتراضات کا جائزہ لیا۔

    وفاق تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے،نگران وزیراعظم کی ہدایت

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو27 اکتوبر کے کونسل اجلاس میں بھی شوکازجاری کیاگیا تھا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے تین ممبران کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 2 اہلکار شہید

  • جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت مسترد،جھوٹی ٹوئٹ کرنیوالے وکیل کیخلاف کارروائی پر غور

    جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت مسترد،جھوٹی ٹوئٹ کرنیوالے وکیل کیخلاف کارروائی پر غور

    اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی کہاکہ اور جھوٹی شکایت دائر کرنے پر شکایت کنندہ کے خلاف کیا کارروائی کی جائے اس معاملے پر بعد میں غور کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کونسل کے چیئرمین چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس سردار طارق مسعود کی استدعا پر جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور کارروائی میں شکایت کنندہ مسز آمنہ ملک کے بیان حلفی ان سے کیے جانے والے سوالات اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزی شواہد کو بھی رائے کے ساتھ پبلک کرنے کی ہدایت کی۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کی جاری کی گئی رائے میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ مسز آمنہ ملک کا بیان حلفی ریکارڈ کیا گیا اور ان سے سوال کیے گئے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ فاضل جج کے خلاف شکایت نہیں بنتی تھی رائے کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ وہ دستاویزی شواہد کے ساتھ پیش ہوں۔

    ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج ہوگی

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کونسل سے استدعا کی کہ جب کہ شکایت کنندہ نے شکایت کو جھوٹی شکایت تسلیم کر لیا ہے تو شکایت کنندہ اور اس جھوٹی شکایت کو ٹوئٹ کر کے انہیں بدنام کرنے کا اقدام کرنے والے اظہر صدیق کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے کونسل کی کارروائی اور تمام دستاویزی ثبوت عوام کے سامنے رکھے جائیں۔

    بجلی صارفین پر ایک اور اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری

    سپریم کورٹ رولز اور جسٹس طارق مسعود کی استدعا کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس طارق مسعود کی بریت کا حکم نامہ پبلک کرنے کا حکم دیا جبکہ اظہر صدیق کو 7 روز میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی کہ آیا انہوں نے جھوٹی شکایت ٹوئٹ کی یا نہیں اگر ایسا ہے تو کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے وہ اس ضمن میں 7 روز میں وضاحت پیش کریں۔

    اسرائیل ،غزہ میں عارضی جنگ بندی کے لیے رضا مند

  • سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی

    جسٹس منیب اختر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ,درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی ہے سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی تھی،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • عمران خان نے چیئرمین نیب  کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے چیئرمین نیب کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر دی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نذیر احمد نے یکم مئی کو چھٹی والے روز وارنٹس گرفتاری جاری کئے، چھٹی والے روز جاری کئے گئے وارنٹس کو 8روز تک چھپائے رکھا انکوائری کو انویسٹی گیشن میں بدلنے کا بھی نہیں بتایا گیا۔

    آج ہی بتائیں کہ بشری بی بی کیخلاف کتنے کیسز درج ہیں؟عدالت

    عمران خان کی جانب سے چئیرمین نیب کے خلاف درخواست آرٹیکل 209 اور نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 کے تحت دائرکی گئی ۔

    واضح رہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو آج طلب کرلیا،نیب نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے مرکزی ملزم عمران خان کو آج 11 بجے نیب راولپنڈی دفتر طلب کیا ہے۔

    عثمان بزدار،فرح گوگی اور بشری بی بی کے بیٹے سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ …

    چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب سوالنامے کے تمام سوالات کے جواب لانے کے ساتھ کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی،نیب نے عمران خان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبارہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں نیب نے بشری بی بی کو بھی آج طلب کیا ہےنیب نے بشری بی بی کوبطور گواہ نوٹسزجاری کیے۔ نیب کی جانب سےعدالت میں بتایا گیاکہ بشری بی بی کی گرفتاری نہیں چاہیئےبشری بی بی سےالقادر ٹرسٹ کی دستاویزات رجسٹریشن اور ایچ ای سی سے رجسٹریشن سمیت ملنے والے عطیات کی تفصیل بھی طلب کی گئیں ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا