Baaghi TV

Tag: سپریم جوڈیشیل کونسل

  • جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع

    جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع کروا دی گئی،

    شکایت خیبر پختونخوا کے وکیل مرتضیٰ قریشی کی جانب سے جمع کروائی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ فاضل جج نے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں اپنے جونیئر اور من پسند افراد کی بھرتیاں کروائیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے خاندان کے مالی اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ 60 لاکھ ظاہر کی،حقیقت میں فاضل جج کے اثاثوں کی کل مالیت 1 ارب 87 کروڑ سے زائد ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے 182 کروڑ کے اثاثے ٹیکس بچانے کے لیے ظاہر نہیں کیے، جسٹس محسن اختر کیانی نے بیوی بچوں کے غیرملکی دوروں پر 6 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی، یہ اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان کا کوئی جج انہیں برداشت نہیں کر سکتا ہے،سپریم جوڈیشل کونسل جوڈیشل مس کنڈکٹ کا مرتکب ہونے پر جج کے خلاف انکوائری کرے، سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس محسن اختر کیانی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کرے،شکایت کے ساتھ اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے متاثرہ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو لکھا خط بھی لف کیا گیا ہے

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں، عدالت نے کہا کہ کیس میں مناسب حکم جاری کریں گے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی:2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی:2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد:چیف جسٹس کو مشترکہ خط جسٹس سردار طارق اور جسٹس منصورعلی شاہ نےتحریرکیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں فاضل جج صاحبان کی 5 خالی اسامیوں پر تعیناتی کےلیےجوڈیشل کمیشن کے رکن 2 جج صاحبان کا چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں ججز کی 5 خالی اسامیوں پر تعیناتی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں فاضل جج صاحبان کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کے رکن 2 جج صاحبان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط مشترکہ طور پر خط لکھا ہے۔

    چیف جسٹس کو مشترکہ خط جسٹس سردار طارق اور جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔ جس میں خالی اسامیوں پر فوری تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی اسامیاں فروری سے خالی ہونا شروع ہوئیں،سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ خالی اسامی پر تعیناتی 30 دن میں ہو، متعدد ملاقاتوں میں بھی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔

    سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اجلاس بلانے کیلئے 28 ستمبر کو خط لکھا تھا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اور 16 ججز ہوتے ہیں، اس وقت سپریم کورٹ میں 5 ججوں کی اسامیاں خالی ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ 30 فیصد کم استطاعت پر کیوں چل رہی ہے؟ خدشہ ہے کہ کہیں سپریم کورٹ غیر فعال ہی نہ ہو جائے۔

    جولائی کے اواخر میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا تھا تاہم اس میں ججز کے حوالے سے چیف جسٹسن کی تجاویز کو رد کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

    اجلاس کو ملتوی کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے تجویز دی تھی کہ جن کے نام سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لیے پیش کیے گئے تھے ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اجلاس کو مؤخر کر دیا جائے۔