Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ آف پاکستان

  • عدالتی امور ڈیجیٹلائز،سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز

    عدالتی امور ڈیجیٹلائز،سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں ای آفس سسٹم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔

    جاری اعلامیے کے مطابق لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور نیشنل آئی ٹی بورڈ کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے، جس کی تقریب میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور سپریم کورٹ کے ججز شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ بھی موجود تھیں۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ عدلیہ کے لیے اینالیٹیکل ڈیش بورڈ تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے مقدمات کے نمٹانے اور زیرِ التواء کیسز کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔

    مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا تمام فائل ورک اور دفتری امور ڈیجیٹلائز ہوں گے اور ججز کے لیے خصوصی کیس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس سے عدالتی نظام میں شفافیت اور بروقت انصاف کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے 2 آپریشنز، 13 دہشتگرد ہلاک

    تمیم اقبال بی سی بی الیکشن سے دستبردار، 15 امیدوار کاغذات واپس

    برطانیہ میں ایمی‌طوفان جمعہ اور ہفتہ کو ٹکرانے کا امکان

    جاسوسی الزام، اسرائیلی فوج نے دو کم عمر فلسطینی بچے گرفتار کر لیے

  • عمران توہین عدالت سمیت اہم کیسز سماعت کیلئے مقرر

    عمران توہین عدالت سمیت اہم کیسز سماعت کیلئے مقرر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان توہین عدالت کیس سمیت متعدد کیسز سماعت کیلئے مقرر ہو گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو کرے گا۔وفاقی حکومت کی جانب سے 25 مئی کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیس

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ 11 دسمبر کو سماعت کرے گا، درخواست شہری محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئیں، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 12 دسمبر کو سماعت کرے گا۔

    غیرقانونی افغان باشندوں کا کیس

    غیرقانونی افغان باشندوں کی بے دخلی کیخلاف دائر درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئیں، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 9 دسمبر کو سماعت کرے گا، افغان باشندوں کی واپسی کے نگران حکومت کے فیصلے کیخلاف فرحت اللہ بابر نے رجوع کیا تھا۔

    سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست

    سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، بانی تحریک انصاف نے 9 مئی سانحہ کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کرے گا، بانی تحریک انصاف نے درخواست میں سویلین کے ملٹری کورٹ ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمات کیخلاف کیس

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کیخلاف مقدمات کے اندراج کیخلاف درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کرے گا، سیمابیہ طاہر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    جیل منتقلی

    بانی تحریک انصاف کو اڈیالہ جیل سے خیبر پختونخوا جیل میں منتقل کرنے کی درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو سماعت کریگا، شہری قیوم خان نے سکیورٹی وجوہات پر عمران خان کی جیل سے منتقلی کی درخواست دائر کی تھی۔

    8 فروری انتخابات دھاندلی کیس

    8 فروری کے عام انتخابات میں دھاندلی کےخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست 11 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر ہو گئی، جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 11دسمبر کو سماعت کرے گا۔

    فون ٹیپنگ

    فون ٹپینگ کا 28 سالہ پرانا مقدمہ بھی سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 11 دسمبر کو سماعت کریگا، سپریم کورٹ میں فون ٹیپنگ کیلئے ڈیوائسز کی تنصیب کیخلاف 1996 سے مقدمہ زیر التوا تھا۔

  • جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس جمال مندوخیل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جب کہ بیرسٹر علی ظفر، فاروق نائیک اور پاکستان بار کے نمائندہ اختر حسین بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے اعلامیے میں بتایا کہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی رولز بنانے کے لئے قائم کمیٹی کا حصہ ہوں گے جب کہ کمیٹی کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن سمیت دو ریسرچ افسران کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کا عمل 21 دسمبر تک موخر کردیا گیا ہے، دونوں ہائی کورٹس کے لئے ججز کی نامزدگیاں دس دسمبر تک بھیجوائی جاسکتی ہیں۔

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    سرفراز دلبرداشتہ ،ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

  • الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم، لاپتہ افراد کی بازیابی، آئی پی پیز معاہدے اور قرضوں کی معافی کے خلاف دائر درخواستیں آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، رکن پاکستان بار اشتیاق احمد کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے معاملے پر الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم کے خلاف دائر کی گئی ہیں اور مذکورہ درخواستیں 4 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چھ رکنی آئینی بنچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مذکورہ درخواستوں پر اعتراضات عائد کر رکھے ہیں تاہم آئینی بینچ نے درخواستیں اور اعتراضات کے خلاف اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ۔یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا۔الیکشن ترمیمی ایکٹ کے تحت ترجیحی فہرستیں جمع کرانے اور سیاسی وابستگی برقرار رکھنے والے ہی مخصوص نشستوں کے حق دار ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومتی اتحاد کی جانب سے کی گئی اس ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔دوسری جانب آئینی بینچ نے پی ٹی آئی کی تارکین وطن کو ووٹ کو حق دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ دو دسمبر کو سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے،اسی طرح سپریم کورٹ میں آڈیوز لیک کیس دو دسمبر کو آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ 2 دسمبر کو سماعت کرے گا، رجسٹرار آفس نے بانی تحریک انصاف اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    شرجیل میمن کا یوم تاسیس پر پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا اعتراف
    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • آرمی چیف توسیع ، آڈیو لیکس کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    آرمی چیف توسیع ، آڈیو لیکس کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کردیں.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ 20 نومبر کو سماعت کرے گا،آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست محمود اختر نقوی نے دائر کر رکھی ہے،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ہوگا۔آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواست پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستیں صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکریٹری بار مقتدر اختر شبیر نے دائر کی ہوئی ہیں۔ان کے علاوہ وکیل حنیف راہی کی جانب سے بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔خیال رہے کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت 3 سے بڑھا کر 5 سال کے حوالے سے ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا۔قومی اسمبلی و سینیٹ سے آرمی چیف، ایئرچیف اور نیول چیف کی مدت ملازمت 3 سے 5 کرنے کے حوالے سے منظور ہونے والے بل پر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے دستخط کردئیے تھے۔ وفاقی کابینہ نے سروسز چیفس کی مدت ملازمت 5 سال کرنے کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی گئی تھی۔جس کے ذریعے تمام سروسز چیفس کی مدت بڑھا کر 5سال کرنے کی منظوری دیدی گئی تھی جبکہ پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت نے ججوں کی آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا جس کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے۔تحقیقاتی کمیشن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ سے نعیم اختر افغان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق بھی شامل تھے۔آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے تشکیل دئیے گئے کمیشن سے متعلق وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا۔

    شرجیل میمن کی کامیاب پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو مبارکباد

    کراچی پولیس کی کارروائی ، 2 منشیات فروش خواتین گرفتار

    ضمنی بلدیاتی الیکشن‘سندھ بھرمیں پیپلزپارٹی کامیاب

    غیرملکی کمپنی کی کراچی پورٹس پر ڈھائی کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

  • 26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    26ویں آئینی ترمیم ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

    حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جانے والی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے جہاں درخواست میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد انس نامی شہری نے وکیل عدنان خان کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عدالتی امورپر تجاویز دینے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے درخواست میں 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ادھر 26ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے۔عدالت عالیہ میں درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوں نے درخواست میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے اور اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئینی ترمیم کی سیکشن 8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیںدرخواست میں سکریٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکریٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔گزشتہ ماہ سے حکمران اتحاد آئینی ترامیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پارلیمان میں سیاسی جماعتوں سے بھرپور لابنگ کرنے میں مصروف تھا جہاں ان ترامیم میں بنیادی توجہ عدلیہ پر مرکوز تھی۔اس دوران کئی دن تک جاری مشاورت میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت کوشش کے باوجود بھی اس ترامیم کو ایوان میں سے منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔تنازع کی ایک بڑی وجہ ایک مجوزہ وفاقی آئینی عدالت تھی، جس کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور مولانا فضل الرحمٰن نے اس کے بجائے آئینی بینچ کے قیام کا مطالبہ کیا جسے بعدازاں مسودے کا حصہ بنا لیا گیا۔اس سلسلے میں فیصلہ کن پیشرفت گزشتہ ہفتے ہوئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں کامیاب رہے جنہوں نے ترامیم کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو قائل کیا۔اتوار کو بالآخر کابینہ سے 26ویں آئینی ترمیم کا پیکج منظور ہونے کے بعد اسے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔وزیر اعظم نے ترامیم کو منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس ارسال کیا جنہوں نے گزشتہ روز 26ویں آئینی ترمیم کے گزیٹ پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی۔ان ترامیم میں سب سے اہم بات چیف جسٹس کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے جہاں پہلے سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے تھے تاہم اب اسے تبدیل کردیا گیا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس کی تقرری سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کی جائے گی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی اس کا حتمی فیصلہ کر کے نام وزیر اعظم کو بھیجے گی۔اس کے حوالے سے ترامیم میں آئینی بینچز کے قیام کے ساتھ ساتھ ججوں کی کارکردگی اور فٹنس کو جانچنے کے حوالے سے شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

    آئینی ترمیم کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ، بُلند ترین سطح پر

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار