Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل

  • چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بھی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے اور انہوں نے اس بات کا اظہار ملٹری کورٹ سے متعلق کیس کے بینچ سے علیحد ہوتے وقت بھی کیا تھااب انہوں نے آج اپنےعہدے کا حلف اٹھانے کےبعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت کل بروز پیر کو ہو گی، کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا 14 رکنی فل کورٹ کرے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات سے متعلق ہے جسے پارلیمنٹ سے منظور کیا تھا تاہم سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر حکم امتناع دیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں، اور جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے حلف کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

    آئین کے مطابق چیف جسٹس اور 2 سینئر ججزسپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہوتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا ہے، اور اب جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل کاحصہ ہیں دوسری جانب جسٹس منیب اختر ججز تقرری کیلئےقائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئےہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصورعلی شاہ پہلے ہی کمیشن کا حصہ ہیں۔

    آئی ایم ایف کےایجنڈے کو پوری طاقت سےآگےبڑھایا جا رہا ہے،حافظ نعیم

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس اور4 سینئر ججزرکن ہوتے ہیں، جب کہ کمیشن کے دیگر ارکان میں ایک ریٹائرڈ جج، وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوتے ہیں پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوتا ہے۔

  • پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر دیا

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر دیا

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں نے عدالتی اصلاحات بل کے خلاف سماعت کے لیے بنائے گئے سپریم کورٹ کے بینچ کو مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : حکومت میں شامل جماعتوں کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر متنازع بینچ تشکیل دینے کا اقدام مسترد کردیا-

    ایف آئی اے نے بین الاقوامی منی لانڈرنگ کرنے والا نیٹ ورک پکڑ لیا

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ساکھ ختم کرنے اور انصاف کے آئینی عمل کو بے معنی کرنے کے مترادف ہےسپریم کورٹ کی تقسیم سے حکومت میں شامل جماعتوں کے مؤقف کی پھر تائید ہوئی-

    مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے کوئی جج بینچ میں شامل نہ کرنا بھی افسوسناک ہے، حکمران جماعتیں اس اقدام کو پارلیمان اور اس کے اختیار پر شب خون قرار دیتی ہیں پارلیمان کا اختیار چھیننے، اس کے دستوری دائرہ کار میں مداخلت کی کوشش کی مزاحمت کی جائےگی-

    لوئر دیرمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک

    اعلامیے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، متنازع بینچ کی تشکیل سے نیت اور ارادے کے علاوہ آنے والے فیصلے کا بھی واضح اظہار ہو جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں درخواستوں پر سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،ر جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق کے گھر پر نا معلوم افراد کا پٹرول بم …