Baaghi TV

Tag: سپیس

  • نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    لاہور:نور مقدم کو انصاف ۔ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے۔ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال ،اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹر پر سپیس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بیس جولائی کو نور مقدم کی لاش ملی ۔پاکستانی کمیونٹی نے احتجاج کیا جسٹس فار نور کر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا ۔ ظاہر جعفر گرفتار ہوا ۔ ظاہر جعفر کے برطانیہ میں جنسی ہراسگی کے کیس کی بھی تحقیقات کرنے کی بات کی گئی پچیس جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کیا گیا گارڈ کو بھی گرفتار کیا گیا تھراپی ورکس کے دفتر کو سیل کر دیا گیا۔ ظاہر جعفر نے قتل کا پولیس کے مطابق اعتراف کیا۔ 27 جولائی کو موبائل ریکور کیے گیے تحقیقاتی افسر کا کہنا تھا کہ موبائیل رہائشگاہ سے ملے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کی گئیں ۔ ظاہر جعفر کے پولی گراف ٹیسٹ ہویے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے کرداروں بارے بھی جانچا گیا۔ یکم اگست کو ملزم کا 14 روزہ جوڈیشیل ریمانڈ دیا گیا 15 اگست کو ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی عدالت نے لکھا کہ جرم کی حوصلہ افزائی کی۔ تھراپی ورکس کے عہدیداروں کو بھی مالک سمیت گرفتار کیا گیا 23 اگست کو تھراپی ورکس والوں کو ضمانت مل گئی ۔26 اگست کو نور کے والد نے ضمانت کی درخواست پر اپیل دائر کی ۔ پھر بیاں آیا تھراپی ورکس کی جانب سے کہ ظاہر شرابی تھا پاگل نہیں تھا ۔ فزیو تھراپی کے لیے ظاہر آیا تھا ۔ پولیس نے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں چالان جمع کروایا ۔ 13 ستمبر کو نور کے دوستوں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا ۔ پھر فرد جرم عائد کی گئی ۔ شوکت مقدم کا بیان اہم ہے عدالت سے درخواست کی ملزم کو پھانسی کی سزا دی جائے ۔ پہلے درندہ کہتا تھا کہ جیل میں نہ رکھو ۔ اب ڈرانا شروع کیا کبھی کرسی پر کبھی سٹریچر پر ۔ پاگل بننے کے ڈرامے کر رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت سی باتیں ایسی ہوئیں جس سے محسوس ہوا کہ بچانے والوں نے غلط سٹوریز فیڈ کروائیں ۔ مجھے کہا گیا کیونکہ ہم روز رپورٹنگ کر رہے تھے کہ غلط کر رہے ہو۔ لیگل نوٹس بھجوایا گیا مجھے ،میں نے وہ کیمرے سامنے پھاڑ دیا پھر آفر ہوئی کہ مل لو۔ وہ بہت ایکٹو ہیں ۔اور ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہے ۔قتل ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ۔ جب تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ اسلام آباد میں اسی طرح کے چار قتل ہوئے ۔ اسلام آباد اور اسکے گردونواح میں جو ہو رہا ہے بڑا سیریس مسئلہ ہے۔ سائبر کرائم کیوں اس پر چپ ہے

    سینیٹر سحر کامران نے سپیس میں کہا کہ اگر والدین ذمہ داری پوری کرتے تو یہ قتل نہ ہوتا ۔ ظاہر جعفر کے والدین نے ذمہ داری ادا نہیں کی ایک لڑکی کیوں گیوں اور کہاں گئی اگر کوئی کسی پر بھروسہ کرتا ہے تو یہ قتل کا جواز نہیں قتل ایک جرم ہے اسکی سزا ہونی چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قتل کے ایک ہفتے بعد بچی کی کردار کشی کے حوالہ سے مہم چلائی گئی وہ گھٹیا لوگ تھے جنہوں نے چلائی ہم کرایم کو برا نہیں کہہ رہے جواز تلاش کر رہے ہیں

    سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ لڑکی جانتی تھی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ سر تن سے جدا کر دیں اسکا مطلب رشتوں پر بھروسہ ختم کر دیں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن نہیں کر سکتے کیا ہم زمانہ جہالت میں جا رہے ہیں ۔کچھ بھی ہو قتل کا جواز نہیں اعتماد کو دھوکا دینا اس سے بھی بڑا جرم ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اولاد میں فرق کرنا چھوڑنا ہو گا لڑکوں کے لیے اور بات لڑکیوں کے لیے اور ایسے نہیں چلے گا

    سحرکامراں کا کہنا تھا کہ ہم جواز تلاش کرنے کے بجائے ملزم کو سزا دلوائیں جواز تلاش کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے ،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوسائٹی کو دیکھنا ہے

    فاطمہ نے کہا کہ والدین کو بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے لڑکے کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں پڑھانے کا خواب دیکھتے ہیں لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے اسے پراے گھر جا کر رہنا ہے شادی کرنی ہے بجائے لڑکی کو تعلیم دی جایے یہ کہا جاتا ہے۔ ہمیں اس طرح معاشرے کو صحیح کرنا ہو گا تا کہ والدین لڑکے اور لڑکی میں فرق نہ کریں ایک جیسا سلوک کریں

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایسا کچھ ہوتا ہے تو لوگوں کی باتیں سن کر حیراں ہوتے ہیں بطور قوم اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا اور اپنے کردار کو دیکھنا ہو گا نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ عوام پھر انصاف اپنے ہاتھ میں لے لے۔ عادل قیوم کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کو متحرک کرنا ہو گا انکے پاس لمٹڈ فنڈ ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ درندے کو دو گھنٹے کے لیے پنجاب پولس کے حوالے کریں سب پاسورڈ بتا دے گا ۔ پندرہ سال میں تیزاب کے آٹھ ہزار کیسز پاکستان میں ہوئے، سزا ایک کو بھی نہیں ہوئی ۔ ایک لڑکی جو ٹھیک ہونے والی تھی اس نے ڈپریشن میں خودکشی کر لی اگر ہم قوانین نہیں بناتے اور عملدرآمد نہیں کرواتے تو سیریس ایشو ہیں ۔

    قصور ہمیشہ بچی کا نکالا جاتا ہے کیوں ۔ چولہے پھٹنے کے واقعات ہوتے مگر کسی کمپنی پر کوئی مقدمہ نہیں ہوا ہمیں خواتین کے حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھسیٹا گیا چار سال ہو گئے اسکو انصاف نہیں ملا اب علاقہ معززین نے تین چار لاکھ دلوانے کی بات کی ہے ۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نور مقدم کی جس وقت ڈیڈ باڈی آئی ایک لڑکی وہاں سیلفی بنا رہی تھی ہم کس طرف جا رہے ہیں میں ایک والد ہوں تین دن میں کھانا نہیں کھا سکا۔ ہمیں اسکو ٹیسٹ کیس بنانا ہے اور ملزم کو پھانسی دینی ہے پھر ہم مزید ٹریس کر سکتے ہیں مین چاہتا ہوں کہ نورمقدم کو انصاف دلوائیں ایک کو پھانسی ہو گئی دس اور بچیاں ب جائیں گی

    سینیٹر سحر کامران نے کہا قانون کی عملداری کی مہم بھی چلانی چاہیے میں سعودی عرب میں رہی وہاں ملزم کو فوری سزا ملتی قانون پر عمل نہیں ہوتا یہاں جب تک قانون پر عمل نہیں ہو گا کچھ نہیں ہو سکتا خواتین کے ساتھ واقعات ہوتے رہیں گے

    صحافی ہارون رشید کا کہنا تھا کہ اس ملزم کی پروفائلنگ ہونی چاہیے کہ اسکی زندگی دوستوں کے ساتھ کیسی رہی والدین کے ساتھ کیسی اسکے روئیے جو بھی جانچنا چاہیے ۔اس نے ایسا کیوں کیا اس پر بھی سوچنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب سب کچھ ہیں ویڈیو ہیں تو سزا کیوں نہیں دی جاتی ۔کتے قاتل تھے انکو فوری مار دیا جاتا ہے لیکن جس نے انسان کو قتل کیا اس کو سزا کیوں نہیں ۔ قوانین ہیں ان پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ قانون میں ایک ترمیم کرنی چاہیے ریپسٹ مرڈر کو سرعام پھانسی دینی چاہیے ۔ضیا دور میں ایک واقعہ ہوا تو واقعات ختم ہو گیے ۔ وکٹم شیمنگ کرنیوالوں کو بھی اندر کرنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر گھر کی ایک کہانی ہوتی تھی میرا بیٹا اور بیٹی ۔ تربیت کرنی چاہیے کراٹے سکھانے کی بجایے تربیت کرنی چاہیئے ۔ نورمقدم کو انصاف دلوانے کے لیے اتنا کریں کہ کوئی نہ بھولے۔ ہمیں قاتلوں اور اسکے جو سہولت کار ہیں ان سب کی تصاویر شیر ہوں تاکہ سوشل بائیکاٹ ہو انکا ہم ہاتھ نہیں اٹھا سکتے لیکن جس تقریب میں قاتل ہوں اسکا بائکاٹ تو کر سکتے ہیں

    نیلم کا کہنا تھا کہ مبشر لقمان نے جس طرح نور مقدم کو انصاف دلوانے کے لیے آواز اٹھائی خراج تحسین پیش کرتی ہوں ایک مجرم جو بیمار بھی نہیں اس کو سٹریچر پر کیوں لایا جاتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ ملزم بالکل ٹھیک ہے اسکو پراپر ڈریس پہنایا گیا تھا ملزم بخشی خانے تک ٹھیک آیا یہ ڈرامہ ہو رہا کسی نے چند پیسے کمائے ہوں گے ہم انصاف نہیں دے سکتے مگر آواز بلند کر سکتے ہیں انسانیت کا خیال آنا چاہیے ۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ثبوت کے باوجود کیس طول کیوں پکڑ رہا ہے جس طرح ازیت دی گئی مان نہیں سکتی کہ پڑوسیوں کو پتہ نہ چلا ہو گارڈز کو پتہ نہ چلا ہو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گارڈز کو پتہ تھا انہوں نے والدین کو فون کیا یہ ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا فکر نہ کرو ۔ان سب کو سزا ہونی چاہیے۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ عصمت آدم جی کو ضمانت کیسے مل گئی ؟ ثبوت ہونے کے باوجود ک…کیس لیٹ ہو رہا ایسا لگتا نہیں کہ کچھ ہو گا ۔انکھوں سے دیکھ رہے ہیں ملزم ٹھیک ہے عوام کو بیوقوف کیوں بنایا جا رہا ہے سٹریچر پر لا کر

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک میں چیک اینڈ بیلنس نہیں تھراپی ورکس کی کمپنی کا وہ پیسے بناتے ہیں لوگوں کو خراب کرتے ہیں ۔ میں کورٹ کی پروسیڈنگ پر ویڈیو کرتا ہوں رپورٹ کرتا ہوں ۔آج ہم سپیس کر رہے ہیں کیوںکہ ہم حق ہے اور انصاف کی امید رکھتے ہیں انصاف چاہتے ہیں

    وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اس میں دو رائے نہیں ۔مین آسٹریلیا میں ہون مبشر لقمان ہمارے آئیڈیل ہیں مدینہ کی ریاست اللہ کرے پاکستان بن جائے گا کہ غریب کو بھی انصاف مل سکے۔ بیرون ممالک میں انصاف سب کے لیے برابر ہے اسی لیے ترقی ہوئی پاکستان میں بھی جب تک انصاف کا نظام برابر نہیں ہو سکتا ملک ترقی نہیں کر سکتا

  • زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    لاہور:زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کا استعمال درست نہیں : پہلے حکمت عملی اورپھرخلوص نیت سے عملداری ضروری ہے:اطلاعات کے مطابق ٹویٹر کے سپیس فورم پرجہاں اوپن ڈسکشن ہوتی ہے اس فورم پرآج پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستانی معیشت کودرپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھے جوابات دیئے ،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میری اتنی عمر اور تجربہ ہے کہ کچھ باتوں کا پتہ ہے ۔ دو سیکٹرز ایسے ہیں پاکستان میں ایک بیک بون ہے دوسرا بچت پاکستان جب بنا تھا تو زراعت ہماری بہتر تھی ۔آج تک ہم نے کسی بھی حکومت نے یہ نہیں کوشش کی کہ اس کو ریسرچ کریں کہ 56 فیصد جو اسوقت تھی اسکو بہتر کریں ۔ہمارے پاس سرٹیفائیڈ بیج ہی نہیں ۔

    سپیس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ زراعت پر ہم نے محنت نہیں کی ۔زراعت کی ایک یونیورسٹی پاکستان میں وہ بھی یو ایس ایڈ سے بنی ۔ ہم کوشش کریں گے تو آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آئی ٹی میں ہم بہت پیچھے ہیں اسکو پروموٹ کرنا ہے تا کہ فاءدہ اٹھا سکیں ۔تیسری چیز پاکستان چائنہ کا فری ٹریڈ کا بہت پرانا کنٹریکٹ ہے اس میں بارہ سو آئٹم ہیں ابھی تک ہم 273 کور کر ہے ہمیں ہزار ایٹم کا پتہ ہی نہیں ۔ہماری حکومت میڈیا کی نالائقی ہے کہ ہم عوام کو بتا نہیں سکے کہ کیسے اور کس پر بزنس کرنا ہے

    اس خوبصورت معاشی سوچ وبچار کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب تک پاکستان میں سٹوڈںٹ یونین اور لوکل باڈیز بحال نہیں ہوتی جمہوریت میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ ان دونوں کو بحال اور ایکٹو کرنا ہو گا اس سے نئے لیڈر نکلیں گے ۔ منی لانڈرنگ کرپٹو کے تھرو ہو رہی ہے چند سال تک کرپٹو کئی چیزوں کو ری پلیس کرے گی ہم جتنا جلدی قانون بنائیں گے اتنا جلدی فایدہ اٹھا سکتے ہیں

    اس موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ زراعت میں بہت کچھ آتا ہے پنجاب میں وزیر رہا ہوں تو پنجاب کا مجھے زیادہ پتہ ہے اگلی بار مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کو بھی دعوت دین گے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات ملین جانور ذبح ہوتے ہیں ہر سال قربانی ہوتی ہمارے جانور ایکسپورٹ نہیں ہوتے ،چارہ اگانے کے لیے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں اگر ونڈہ دینا شروع کر دیں کہ حکومت فری دے تو پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔گوشت ایکسپورٹ کریں تو اسکا کتنا فائدہ ہے لیکن توجہ نہیں ہے

    مبشرلقمان نے پھر کہا کہ سیاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں کتنے انتظامات کیے پہلے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعد سیاحوں کو سہولیات دیں پھر فایدہ ہو گا ہم نے سیاحوں کو کوئی سہولیات نہیں دی ہوئی صرف ٹول ٹیکس لے کر خوش ہونے سے کوئی فایدہ نہیں

    ان بہت قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ اوورسیز والوں کو جس طرح ایئر پورٹ پر ٹریٹ کیا جاتا ہے لگ پتہ جاتا ہے جب تک بزنس مین کو اعتماد نہیں ہو گا کوئی بزنس نہیں کرے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احسن بھون کا انٹرویو کر رہا تھا ان سے پوچھا ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے تو اسکا کوئی امتحان نہیں جس کو ججز لگا دیا جائے ۔ میڈیا میں کسی کو اکانومی کی سینس ہی نہیں جنکو اکانومی کا پتہ ہے ایک شاہزیب خانزادہ ہے اور ایک شہزاد اقبال ۔یہ دونوں اچھا پروگرام کرتے ہیں رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی بار مہاتیر محمد کو پاکستان عمران خان نے انوائیٹ کیا تو عمران خان نے کافی شکایات کی کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی تو انہوں نے کہا کہ کرپشن اکانومی بہتر کرنے کا طریقہ ہے اسکو لیگل کر دیں جس کو جو دینا ہے پرمٹ کے پیسے ملیں گے بزنس سیو ہو گا تو اکانومی بہتر ہو گی

    اس حوالے سے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے چالیس سال میں کوئی لڑائی نہیں کی یہ اسکی کامیابی ہے انڈیا کو صرف اسکی حیثیت یاد کرواتا ہے امریکہ نے چالیس سال میں جنگیں کیں مریکہ کا وہ سٹیٹس نہیں جو چین کا ہے ۔ پالیسیز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ سبسڈیز غریب کو نہیں ملتی ۔ غریب کو ملنی چاہیے ۔ بجلی کا بل جھگی والے کا اور تین کنال والے کا سبسڈیز میں فرق کیوں نہیں ۔ تین مرلے سے کم والے گھر کو بجلی فری ملنی چاہیے

    مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا گالی دینے میں آزاد ہے میڈیا اس دن آزاد ہے جس دن کمرشل انٹرسٹ سے آزاد ہو گا جب تک ہم یہ پروگرام نہیں کر سکتے کہ دنیا کی کوئی کریم جلد گورا نہیں کر سکتی میڈیا آزاد نہیں ۔اسمبلی میں جب کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جایے آڈیو لیک ہو جائے کتابیں پھینکی جایے تو پھر میڈیا کیا کرے ۔ڈر لگ رہا ہے کسی کی عزت ہی نہیں رہی ۔ لوز ٹاک کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔جسدن میڈیا ریٹنگ اور اشتہار کو چھوڑ کر بات نہیں کرے گا میڈیا آزاد نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بے حیائی والے ڈرامہ کی ریٹنگ آتی ہے کشمیر پر ریٹنگ نہیں کیونکہ ریٹنگ ایجنسی سنگاپور کی ہے پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی بنانی پڑے گی ۔میڈیا پر مادر پدر آزادی بہت خوفناک ہے اس سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے

    مبشرلقمان نے اس موقع پر گفتگو کو سمیٹتےہوئے کہا کہ اچھے آئی ٹی کے لوگ نوکریوں میں نہیں آئیں گے حکومت کو ایسے لوگوں کو استعمال کرنا چاہیے اگر بل گیٹس پاکستان ہوتا تو میں میں ب حساب کتاب دے رہے ہوتے کہ کہان سے پیسہ ایا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔جمہوریت میں عوام ووٹ دیتی ہے اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن اداروں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ میرا رائیٹ ہے کہ میں خط لکھوں تو جواب ملے لیکن نہیں ملے گا یہ جمہوریت نہیں ۔