Baaghi TV

Tag: سڑکیں

  • ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق رقم کے پی کے میں سڑکوں کی بحالی پر خرچ کی جائیگی،رقم دیہی علاقوں کو ملانے اور سیفٹی بڑھانے کیلیے خرچ کی جائے گی،رورل روڈز ڈویلپمنٹ پروجیکٹ سے 900 کلومیٹر دیہی سڑکیں اپ گریڈ کی جائیں گی،کے پی میں یہ سڑکیں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں، سڑکیں آبادی کو تعلیم صحت اور مارکیٹ تک رسائی دینے میں مدد دیں گی،روڈ ٹرانسپورٹ پاکستان میں سماجی ترقی کا اہم عنصر ہے، روڈ ٹرانسپورٹ پاکستان کے لوگوں کی لائف لائن ہے،اس منصوبے سے لوگوں کے سفری اوقات، کرایوں میں کمی ہوگی، منصوبے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے،

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کیا ملتان روڈ انٹر چینج کا افتتاح

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کیا ملتان روڈ انٹر چینج کا افتتاح

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کے سب سے بڑے ملتان روڈ انٹر چینج کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تکمیل کے بعد رنگ روڈسدرن لوپ 3 کا بھی باقاعدہ آغاز کیا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ایک ماہ کے لئے ایس ایل تھری پر ٹول ٹیکس معاف،شہری مفت سفر کرسکیں گے،
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ایس ایل فور پراجیکٹ کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اڈا پلاٹ سے ملتان روڈ انٹر چینج تک روڈ کا معائنہ کیا ،وزیر اعلی مریم نواز شریف نےلاہور رنگ روڈ کے ملتان روڈانٹر چینج کا بھی معائنہ کیا ،صوبائی وزیر مواصلات ملک صہیب احمد برتھ نے وزیر اعلی مریم نواز کو پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفننگ دی جس میں بتایا گیا کہ ایس ایل تھری ملتان روڈ انٹر چینج پنجاب کا سب سے بڑا انٹر چینج ہے ۔جنوب سے آنے والی ٹریفک8 کلومیٹر طویل لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ تھری پر چند منٹ میں ائیر پورٹ پہنچ سکے گی ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایس ایل تھری بننے سے شہر کی اندرونی روڈ پر رش کم ہوگا ۔ایس ایل تھری لاہور میں ٹریفک منیجمنٹ کیلئے بہت اہم ہے۔ٹھوکر اور کینال روڈ پر بھی ٹریفک رش کم ہوگا ۔وزیر اعلی مریم نواز شریف نے سیکرٹری تعمیرات و مواصلات اور ٹیم کی کاکردگی کو سراہا۔ سینیرصوبائی وزیر مریم اورنگزیب، ایم این اے افضل کھوکھر، معاون خصوصی ذیشان ملک،چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان ،ائی جی ڈاکٹر عثمان انور، کمشنر زید بن مقصود، ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر اور دیگر حکام نے شرکت کی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

    مسائل کا حل اور ترقی عوام کا حق ہے، کسی کا احسان نہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب
    قبل ازیں وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے رکنِ قومی اسمبلی شذرا منصب اور سابق ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ننکانہ صاحب اور گجرات کے ترقیاتی امور پر تبادلہِ خیال کیا گیا، ننکانہ صاحب اور گجرات کے پراجیکٹس پر گفتگو، عوامی مسائل سے آگاہ کیا،وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی،رکن قومی اسمبلی نے مہنگائی سے ریلیف کی کاوشوں پر وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کو خراجِ تحسین پیش کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح و بہبود کا ہر سیکٹر میری ترجیح ہے۔ عوام کے مسائل کا حل ہر صورت یقینی بنائیں گے۔ صوبے بھر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور لینڈ فل سائٹس قائم کی جائیں گی۔ مسائل کا حل اور ترقی عوام کا حق ہے، کسی کا احسان نہیں۔ صوبے بھر میں 2500 بنیادی مراکز صحت اور 300 دیہی مراکزِ صحت کی ری ویمپنگ کی جارہی ہے۔اضلاع کے ہسپتالوں میں کارڈیالوجی اور پیڈز کے جدید ترین یونٹ قائم کریں گے۔ہر ضلع میں علاج کی بہترین سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے تاکہ کسی کو علاج کے لیے دوسرے شہرمیں نہ جانے پڑے۔

  • پی ایس ایل میچز کے دوران سڑکوں کی بندش،سندھ ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست

    پی ایس ایل میچز کے دوران سڑکوں کی بندش،سندھ ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں پی ایس ایل میچز کے دوران سڑکوں کی بندش ،متعلقہ معاملے پر ایک اور درخواست دائر کردی گئی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسٹیڈیم کے قریب تعلیمی اداروں کی جانب سے سڑکوں کی بندش پر اعتراض اٹھا دیا گیا، سڑکوں کی بلاوجہ اورگھنٹوں بندش سے طلبا کاتعلیمی نقصان ہورہا ہے، میچ کے دوران سڑکوں کوبند کردیا جاتا ہے جس سے طلبا کوتعلیمی اداروں میں آنے جانے میں مشکلات ہوتی ہیں، عدالت نے معاملہ پر فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی،عدالت نے درخواست کو پہلی درخواست کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ دونوں درخواستوں پر ایک ساتھ آج دوبارہ سماعت ہوگی،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے گزشتہ روز پولیس کے اعلی حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،عدالت نے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کئے تھے

  • اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی)اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود
    حکمرانوں اور منتحب نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے چترال کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کی سڑکیں انسانوں کی سفر کے قابل نہیں ہیں، لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اگر مجھے موقع مل گیا تو چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ ان خیالات کا اظہار این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کی نشست کی امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کی جو جمیعت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر چترال سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    تحصیل تورکہو کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے عوامی اجتماعات سے اظہار خیال بھی کیا۔ ویر کوپ، شاہ گرام اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جے یو آئی کے کارکنوں نے شہر سے باہر آکر ان کا استقبال کیا اور انہیں قافلے کی شکل میں جلسہ گاہ تک لے گئیے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ صوبائی نشست حلقہ پی کے ون کے امیدوار حاجی شکیل ، سابقہ امیر شیر کریم شاہ اور دیگر کارکن بھی موجود تھے۔

    عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست کیلیے امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ جب میں نے چترال کے بالائی علاقوں کا سفر کیا تو یوں لگا کہ یہاں کے لوگ اب بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہاں نہ بجلی ہے ، نہ پینے کاصاف پانی اور نہ بہترین سڑکیں۔ اس سڑک پر چند کلومیٹر کے سفر طے کرنے پرکئی گھنٹے لگتے ہیں اور گاڑی بھی اتنا خراب ہوجاتی ہے کہ اسے پہچاننا مشکل ہوجاتاہے ۔

    انہوں نے کہا کہ چترال ایک سیاحتی علاقہ ہے جہاں قدرت نے بہت کچھ پیدا کیا ہے مگر بد قسمتی سے ماضی میں یہاں سے منتخب نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے حکمرانوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے نظر انداز کیا۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میرا فلاحی ادارہ پہلے سے چترال میں خیر سگالی کے کام کرتا ہے جس میں قدرتی آفات کی صورت میں میں متاثرین کے ساتھ امداد کرنا، مریضوں کا مفت علاج کروانا، فری میڈیکل کیمپ لگانا، غریبوں میں مفت راشن اور ضروری سامان تقسیم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اسی نشست کیلئے دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے میرے خلاف الیکشن کمیشن آپ پاکستان کے دفتر میں شکایت کی ہے کہ میں لوگوں کی مدد کرتا ہوں۔ مگر آٹھ فروری کے بعد بھی اگر میں یہ امدادی سرگرمیاں جاری رکھوں تو پھر کہاں درخواست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے خدمت کا موقع ملا اور آٹھ فروری کو لوگوں نے مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کا حق نہیں کھاؤں گا۔

    انہوں نے کہا کہ بعض لوگو مجھ پر تنقید کرتے ہیں کہ میں نے چترال میں اس سے پہلے اسلئے امدادی سامان تقسیم کیا تھا تاکہ میں یہاں سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہوجاؤں تو میرا ادارہ افغانستان، فلسطین، سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور دیگر ممالک میں بھی کام کرتاہے اور مصیبت کےوقت لوگوں کے ساتھ مالی طور پر امداد کرتا ہے وہاں سے میں کونسا الیکشن لڑرہاہوں۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ حالیہ انتحابات میں کامیابی کے بعد میرا ارادہ ہے کہ یہاں کے خواتین کیلئے دو سو دستکاری مراکز کھولوں اسی طرح یہاں کی سڑکیں، پل اور راستے بناؤں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ناقدین لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کررہے ہیں کہ میں الیکشن میں کامیابی کے بعد غائب ہوجاؤں گا۔ مگر یہاں سے نصرت بھٹو بھی تو کامیاب ہوئی تھی ۔ اب میں چترال سے کہیں نہیں جاؤں گا ،میں نے جغور میں اپنا ذاتی گھر خرید لیا اور یہاں اپنے ویلفیر ٹرسٹ کا دفتر بھی کھول دیا۔

    انہوں نے عوام پر زور دیا کہ آپ لوگ اپنے حقوق کیلئے صحیح اور ایماندار نمائندہ کامیاب کریں تاکہ وہ صرف اسمبلی میں بیٹھ کر تنخواہ نہ لے اور ڈسک بجانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ طلحہ محمود نے کہا کہ جب میں وزیر حج اور مذہبی امور تھا تو میں نے اربوں روپے حکومتی خزانے سے نکال کر حاجیوں کو واپس کیے جو ان سے زیادہ لیے گئے تھے۔

    اس موقع پر سابق امیر شیر کریم شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ماضی میں منتخب نمائندوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ شہزادہ افتحار الدین، مولانا عبدالاکبر چترالی دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتحب ہوئے مگر انہوں نے چترال کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔

    انہوں نے عبد الاکبر چترالی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے پانچ سال اسمبلی میں گزارے اپنی تنخواہ تو لیتا رہا مگر ووٹ لینے کے بعد لوگوں کو اپنا منہ بھی نہیں دکھایا اور اسمبلی ٹوٹنے کے بعد برائے نام افتتاح کرتے ہوئے اپنے نام کے بورڈ لگوائے مگر کام شروع نہ ہونے پر عوام نے ان بورڈوں کو بھی اکھاڑ کر پھینک دیا۔ تاہم جلسہ میں سابقہ ایم پی اے ہدایت الرحمان کو آنے نہیں دیا گیا کیونکہ پانچ سال بطور رکن صوبائی اسمبلی اس کی کارکردگی بھی نہایت مایوس کن تھی اسسلئے اسے جماعت کے اکابرین نے یہاں آنے سے منع کیا۔

    انتحابی مہم کا آخری جلسہ شاہ گرام میں منعقد ہوا جہاں سینیٹر طلحہ محمود نے برملا کہا کہ اگر غریبوں کی مدد کرنا، خواتین کو سلائی کڑہائی مشین دینا، مریضوں کا مفت علاج کرانا، یتیموں کو مفت تعلیم دینا وغیرہ جرم ہے تو میں یہ جرم کرتا رہوں گا اگر کسی میں دم ہے اور مجھے اس کام سے روک سکتے ہیں تو روک لے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں اگر عوام کو تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں تو یہاں کیوں نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لاہور کو بھی چترال کی طرح پسماندہ ہونا چاہیے بلکہ چترال کو بھی لاہور کی طرح ترقی یافتہ ہونا چاہیے جلسہ میں لوگوں نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسے ضرور کامیاب کریں گے تاکہ چترال میں بھی ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جاسکے۔

    جلسہ استاد الحدیث فتح الباری کے دعاییہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

  • سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    بارشوں اورسیلاب نے مواصلاتی نظام کو متاثر کیا ہے،شاہراہوں کی بحالی کے لیے این ایچ اے نے سر توڑ کوششیں کی ہیں،

    ترجمان این ایچ اے سہیل آفتاب کا کہنا ہے کہ این ایچ اے ماہرین تعمیرات متاثرہ علاقوں میں موجود رہے ہیں، سندھ میں این ایچ اے کا روڈ نیٹ ورک 2085 کلو میٹر ہے،انڈس ہائی وے این 55 کا 495 کلو میٹر کوٹری سے کشمور تک کا حصہ سندھ میں ہے،سیہون کے مقام پر 13 کلو میٹر کے حصہ پر سیلاب کا پانی موجود ہے ،سیہون پل کو نقصان پہنچنے کے باعث ٹریفک معطل ہے، دادو، میہڑکے درمیان 32 کلو میٹر کا حصہ سیلاب کی زد میں ہے، دادو تا مورو پل اور قاضی عامری پل کے ذریعے ٹریفک کو این 95 کی طرف موڑ دیا گیا ،دادو میہڑ سیکشن پر پانی کی سطح کم ہونے پر شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول رہے ہیں،

    قومی شاہراہ این 5 کا کراچی سے کوٹ سبزل تک کا 608 کلو میٹر حصہ سندھ میں ہے قومی شاہراہ این 5 کا کراچی سے کوٹ سبزل تک 23 مختلف مقامات پر پانی جمع ہے، قومی شاہراہ این 65 سکھر اور جیکب آباد سیکشن پر پانی جمع ہونے سے معمولی نقصان ہوا سکھر تا جیکب آباد سیکشن تریفک کے لیے کھول دیا گیا لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ شاہراہ پر پانی جمع ہے، سڑک ٹریفک کے لیے کھلی ہے، میرپور خاص اور عمر کوٹ کے درمیان 35 کلو میٹر حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے، میر پور خاص تا عمر کوٹ کے درمیان سڑک پر متبادل راستے سے ٹریفک جاری ہے بلوچستان ایم 8 گوادر سے لے کر خوشاب اور رتوڈھیرو تک جانے والی شاہراہ پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، بلوچستان ایم 8 کے ذریعے سندھ کو ملانے والی شاہراہ کو ون وے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر مواصلات مولانااسعد محمود کی ہدایت پر چیئرمین این ایچ اے کی دن رات کاوشوں سے ایم 8 سیکشن بحال کردیا گیا وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں تمام روڈ نیٹ ورکس بحال کرنے کی ہدایت کی تھی ایم 8 موٹروے سیکشن بحال ہونے سے گوادر، آواران، خضدار اور رتوڈیرو کیلئے ٹریفک بحال ہوگئی ہے ترجمان این ایچ اے نے کہا کہ ایم 8 موٹروے سیکشن کو مسافروں کی آسانی کیلئے فی الحال یکطرفہ کھولا گیا ہے

    سیلاب متاثرین کی بحالی،پنجاب حکومت اوردعوت اسلامی کا ملکر کام کرنے پر اتفاق

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ نقصان سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوا۔این ایف آر سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصانات ہوئے ہیں، ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز،ٹھٹھہ،بدین اور جیکب آباد کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںں .بلوچستان میں کوئٹہ،نصیرآباد،جعفرآباد،جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بولان،صحبت پور، لسبیلہ بھی شدید متاثر ہوئے۔کے پی میں دیر،سوات،چارسدہ،کوہستان،ٹانک،ڈی آئی خان شدید متاثرہ علاقے ہیں، پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز محصور افراد کو نکالنے کیلئے485 پروازیں کرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 پروازیں کی گئیں، 70 افراد کو بچایا گیا، جبکہ ہیلی کاپٹرز سے 29.9 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4424 پھنسے افراد کو نکالا جاچکا ہے، ریلیف کیمپس اور امدادی اشیا جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں147 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    284 کلیکشن پوائنٹس سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم ہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیا کو جمع اور آگے تقسیم کیا جارہا ہے۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ اب تک6 ہزار855 ٹن خوراک متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے، 1203 ضروری اشیا اور 45 لاکھ 97 ہزار569 ادویات متاثرین کو دی جاچکی ہیں ،متاثرہ علاقوں میں اب تک 250 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، طبی کیمپوں میں 1 لاکھ 2721 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے بھی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک بحریہ کے 2 ہیلی کاپٹروں نے سندھ کے علاقوں میں50 پروازیں کیں،این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے465 افراد کو بچایا،3505 کلو راشن اور 300 کلو ادویات تقسیم کیں،نیوی کی8 غوطہ خور ٹیموں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں26 غوطہ خور آپریشن کیے۔

    علاوہ ازیں نیوی نے56 میڈیکل کیمپس میں 38 ہزار 496 مریضوں کا علاج کیا گیا، 4 فلڈ ریلیف کیمپس،6 کلیکشن پوائنٹس اور2 خیمہ بستیاں لگائی ہیں۔این ایف آرسی سی نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور 90 پروازوں سے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین میں 4800 ٹینٹس، 2 لاکھ 16 ہزار4 کھانے کے پیکٹ، 2584 کلو راشن کے پیکٹ،1 لاکھ 96 ہزار677 لیٹر پانی، 19 ٹینٹ سٹی، 18ہزار441 لوگوں کو خوراک،خشک راشن اورطبی امداد دی۔این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے اب تک54 ریلیف کیمپ،44 میڈیکل کیمپس لگائے، میڈیکل کیمپس میں 46ہزار980 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ نے سندھ میں نوابشاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہاڑ، جیکب آباد، سیہون میں کام جاری رکے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں پاک فضائیہ سمگلی،قلعہ عبداللّٰہ اور قلعہ سیف اللّٰہ میں امداد پہنچا رہی ہے، راجن پور،ڈی جی خان،اسکردو، غذر، نلتر، گھانچے، نوشہرہ،چارسدہ،سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں مصروف عمل ہے۔

  • شہر دریا میں تبدیل،لوگوں کا شدید نقصان

    شہر دریا میں تبدیل،لوگوں کا شدید نقصان

    قصور
    دو روزہ برسات سے سارا قصور شہر دریا کا منظر پیش کرتا رہا،پانی لوگوں کے گھروں،دفتروں،دکانوں میں داخل ہونے سے کروڑوں روپیہ کا نقصان

    تفصیلات کے مطابق جمعرات سے جمعہ تک ہونے والی دو روزہ برسات کے باعث سارا قصور شہر دریا کا منظر پیش کرتا رہا
    کئی گھنٹے سڑکیں پانی کے باعث دریا میں تبدیل ہوئی رہیں
    برسات کا پانی لوگوں کے گھروں،دفتروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے شہریوں کی کروڑوں روپیہ کی اشیاء خراب ہو گئیں
    برسات ختم ہونے کے باوجود شہر کی بیشتر گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں
    شہریوں کو گلیوں بازاروں سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مون سون بارشوں کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان بھی موجود ہے

  • سڑکوں کی مرمت نا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا ،سردار فیصل

    سڑکوں کی مرمت نا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا ،سردار فیصل

    قصور
    سڑکوں کی مرمت نا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا،سردار فیصل اورنگزیب صدر عوام دوست اتحاد قصور و امیدوار برائے ڈپٹی میئر تحصیل قصور

    تفصیلات کے مطابق قصور کے معروف سیاستدان سردار فیصل اورنگزیب صدر عوام دوست اتحاد قصور اور امیدوار برائے ڈپٹی میئر تحصیل قصور نے کہا ہے کہ ضلع بھر کی تمام سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کے باعث لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور موجودہ دور حکومت میں دیگر ترقیاتی کاموں کی طرح سڑکوں کی تعمیر و مرمت بھی نہیں کی گئی جس سے موجودہ گورنمنٹ کی سخت نااہلی عیاں ہوتی ہے
    سڑکیں ٹوٹی ہونے کے باعث کسانوں کی سبزیاں و پھل منڈی تک وقت پر نہیں پہنچ پاتے جس سے کسانوں کو سخت خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذہ گورنمنٹ لوگوں اور کسانوں پر رحم کرے اور فی الفور گنڈا سنگھ تا حسین خانوالا ،کچہری چوک تا موضع سہجرہ اور کمال چشتی موڑ تا الہ آباد شہر تک سڑکوں کی مرمت کروائے بصورت دیگر سڑکوں کی مرمت نا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا
    تحریک اللہ اکبر پاکستان کے ٹکٹ ہولڈر سردار فیصل نے کہا کہ ہماری سیاست خدمت انسانیت ہے ہمارے نوجوان ہسپتالوں میں لوگوں کو خون اور کھانا فی سبیل اللہ مہیا کر رہے ہیں جبکہ ہماری جماعت بیوہ عورتوں کو راشن اور دیگر ضروریات زندگی فی سبیل اللہ مہیا کر رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ہم اقتدار میں آکر نوجوانوں کو پڑھنے کے خاص مواقع فراہم کرینگے تاکہ نوجوان نسل پڑھ لکھ کر ملک کا قیمتی اثاثہ ثابت ہو
    انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو نشہ اور بے راہروی سے بچا کر اسلام کی طرف لانا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کے اچھے کفیل بن کر مملکت پاکستان کے ذمہ دار شہری بن سکیں

  • شہر کے قریب درجنوں دیہات کی سڑکیں برباد

    شہر کے قریب درجنوں دیہات کی سڑکیں برباد

    قصور
    گزشتہ بارشوں کی وجہ سے قصور کے ملحقہ گاؤں بھیڈیاں کلاں،نول،قادی ونڈ،کھارا، کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں لوگوں کے لئے وبال جان بن گئیں

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ہوئیں برسات کے بعد قصور کے نزدیکی دیہات بھڈیاں کلاں،کھارا،نول،قادی ونڈ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں لوگوں کیلئے وچال جان بن گئی ہیں قصور کے قریبی گاؤں بھیڈیاں کلاں سے آگے مہالم کلاں کی بھی 200 میٹر سٹرک بہت خراب ہے جس پر سفر کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے
    مہالم کلاں سے آگے درجنوں گاوں ہیں جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ٹرک سبزیاں اور دیگر تجارتی سامان لے کر گزرتے ہیں
    سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کئی ٹرک پھنس جاتے ہیں جس سے ٹریفک بند ہوجاتی ہے اور تجارتی ٹرک لائنوں میں لگ جاتے ہیں

    اہلیان دیہات کی حکام بالا سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد سڑکوں کی مرمت کروائی جائے تا کہ تجارتی سر گرمیاں بھرپور طریقے سے بحال ہوں اور لوگ پریشانی سے بچ سکیں

  • گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند

    گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند

    گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے مقامی آبادی گھروں تک محصور ہوگئی ہے جبکہ بلوچستان کی وادی زیارت میں بھی برف باری کے بعد سردی میں اضافہ ہوگیا ہے زیارت سے ملحقہ علاقوں کے لیے رابطہ سڑکوں پر برف جم جانے سے سیاحتی مقامات پر ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق شہری اور سیاح سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں جبکہ متعلقہ عملہ غائب ہے۔

    سکول اور کالج میں طلبہ کو منشیات فروخت کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت زیارت میں منفی 10، قلات منفی 5 اور گوپس میں منفی 4 ریکارڈ کیا گیا اسی طرح کوئٹہ، استور اور اسکردو میں منفی 3، ہنزہ میں منفی 2، راولاکوٹ میں منفی1 اور لیہہ میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

    دوسری جانب پشاور،گھریلو اور کمرشل صارفین لکڑی جلانے پر مجبور،شہریو ں کومشکلات کاسامنا ہے پشاور، حیات آباد ،کوہاٹ روڈ،ورسک روڈ کےعلاقے میں گیس کا پریشر کم ہے جبکہ پشاور میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری پشاور،گلبہار اور رنگ روڈ کےعلاقے میں 12 گھنٹے سے گیس غائب ہے-

    ضمنی انتخاب: پنجاب میں الیکشن مشکل نہیں ہے، ہماری اپنی کمزوریاں ہیں ،آصف علی زرداری

    ادھر کراچی مین سوئی سدرن گیس کمپنی کو مطلوبہ مقدارمیں مشکلات کاسامنا ہے بلدیہ24کی مارکیٹ،سعیدآباد،جہان آباد،لیاری میں گیس پریشرمیں کمی کی وجہ سے گھریلو صارفین پریشانی کا شکار ہیں کراچی، سرجانی ٹاون، لانڈھی،کورنگی اوربلدیہ میں گیس پریشرکاسامنا ہے اورنگی ٹاون نمبر10اور11،نیوکراچی،نارتھ کراچی میں گیس پریشرکامسئلہ ہے،شیرشاہ،اردوبازار،سائٹ ایریا اوربنارس میں گیس پریشرمیں کمی کی شکایات کی جا رہی ہیں-

    ایس ایس جی سی ترجمان کے مطابق گیس لیکج کےباعث پریشرمطلوبہ مقدارمیں متعلقہ علاقوں تک نہیں پہنچتا،کراچی ،لائنیں مرمتی کام اورچوری کےباعث ٹوٹ چکی ہیں،پرانےعلاقوں میں لائنیں بوسیدہ اورلیکج کاشکار ہے-

    کوئٹہ: پولیس وین پردستی بم حملہ ،رحیم یار خان میں 4 خواتین کا بیہمانہ قتل،