Baaghi TV

Tag: سڑک مرمت

  • سابق دور حکومت کے فنڈ پر تحقیقات کا مطالبہ

    سابق دور حکومت کے فنڈ پر تحقیقات کا مطالبہ

    قصور
    این اے 139 کے ایم این اے رانا محمد اسحاق خان کی درخواست پر وزیراعظم کی طرف سے پتوکی تا کنگن پور ون وے کارپٹ روڈ بنانے کا حکم جاری کر دیا گیا، قصور رائیونڈ روڈ کے علاقہ مکینوں کا سابقہ دور میں سڑک کی سپیشل مرمت کیلئے 4 کروڑ 20 لاکھ فنڈ جاری ہونے اور سڑک تاحال ویسی ہی ہونے پر تحقیقات کروانے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق این اے 139 قصور کے ایم این اے رانا محمد اسحاق خان کی درخواست پر وزیراعظم نے پتوکی تا کنگن پور روڈ کو ون وے کارپٹ روڈ بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے تاہم قصور رائیونڈ روڈ کے علاقہ مکینوں کا وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں فروری 2020 کو قصور رائیونڈ روڈ کی سپیشل مرمت کیلئے گورنمنٹ نے 4 کروڑ 20 لاکھ کا فنڈ جاری کیا تھا مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی بمشکل 20 لاکھ روپیہ لگا کر سڑک چند ایک گڑھے پر کئے گئے جو کہ دوبارہ پھر گڑھے بن چکے ہیں روڈ ویسے کا ویسے ہی ہے اور باقی پیسوں کا کچھ علم نہیں کہ کہاں خرچ ہوئے
    سڑک انتہائی ٹوٹی ہوئی ہے جس سے علاقہ مکین سخت پریشان ہیں اور آئے روز حادثات جنم لیتے رہتے ہیں
    علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کروائی جائیں کہ جاری ہونے والا فنڈ کہا گیا اور سڑک پر ابتک کتنا پیسہ خرچ ہوا ہے ؟
    نیز قصور رائیونڈ روڈ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ون وے کیا جائے کیونکہ اس سڑک پر ٹریفک انتہائی زیادہ ہے جس کے باعث بلاناغہ حادثات جنم لیتے رہتے ہیں

  • دس ماہ سے سڑک کی مرمت کا کام تاحال جاری

    دس ماہ سے سڑک کی مرمت کا کام تاحال جاری

    قصور
    نول سٹاپ پر سڑک کی مرمت کیلئے کئی دنوں سے کی گئی کھڈائی لوگوں کیلئے وبال جان
    لوگوں کا کہنا ہے جس رفتار سے کام ہو رہا ہے دس سالوں تک ہی گورنمنٹ اس کام کو نبٹا پائے گی
    تفصیلات کے مطابق قصور رائیونڈ روڈ پر واقع موضع نول میں کئی دن قبل سڑک کی مرمت کیلئے ایک سائیڈ کو اکھاڑ کر مٹی و پرانا پتھر نکالا گیا تھا جسے چند دنوں بعد دوبارہ پھر اسی مٹی و پتھر سے بھر دیا گیا تاہم کچھ گڑھے ابھی میں موجود ہیں جن میں پتھر نہیں ڈالا گیا جو بارش می برولت پانی سے بھر گئے ہیں جن کے باعث لوگوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے لوگ بمشکل گزر پاتے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے کام جاری ہے لگتا ہے کہ گورنمنٹ نے دس سالوں میں اس کام کو نبٹانے کا تہیہ کر رکھا ہے
    واضع رہے رواں برس فروری میں اس سڑک کی مرمت کیلئے فنڈ جاری ہوا تھا مگر اب تک سڑک پر مین اڈوں کو چھوڑ کر جو سڑک پر جو گڑھے پر کئے گئے تھے وہ دوبارہ گڑھے بن گئے ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے 10 ماہ سے آہستہ آہستہ کام کا سلسہ جاری ہے جس کے باعث موسم برسات میں یہ سڑک بارش کے پانی سے بھر جاتی ہے اور لوگوں کا گزرنا محال ہو جاتا ہے حتی لوگ اپنے پیاروں کے جنازے کو بھی کندھا دینے سے قاصر ہیں اور ٹرالیوں پر جنازے لے کر جانے پر مجبور ہیں
    لوگوں نے وزیراعلی،کمشنر لاہور ڈویژن سے نوٹس لے کر سڑک کی جلد سے جلد مرمت کا مطالبہ کیا ہے